وزیراعظم صاحب یہ عذاب لاک ڈاﺅن سے نہیں ٹلے گا

[ad_1]

پیارے پڑھنے والے اللہ ہماری قوم پر رحم کرے اور میں تو کب سے لکھ رہا ہوں کہ کرونا بیماری نہیں اللہ کی طرف سے عذاب ہے یوں لگتا ہے جیسے اللہ پاک کی ذات جسے ہم ہمیشہ رحمن اور رحیم بولتے ہیں اور نماز کی ہر آیت میں بھی اُسے دہرایا جاتا ہے کہ ذات بابرکات شاید ہم سے ناراض ہے گزشتہ ماہ بھی میں نے اپنے اسی سلسلہ تحریر میں تحریر کیا تھا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے کہ دنیا کی امیر ترین اور دولت مند ترین قوموں پر یہ عذاب نازل ہوا اور مثالوں کی خاطر میں نے قرآن پاک کی آیات کا حوالہ دیا تھا جن میں اسلام کی آمد سے پہلے بھی اللہ ناراض ہوا اور اس مثال میں قوم لوط کا حوالہ بھی دیا تھا اور قرآن پاک کی آیات کا تذکرہ بھی کیا تھا کہ مردوں کی مردوں سے بدکاری اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ اللہ کے دو فرشتے انسانی شکل میں حضرت لوطؑ کے پاس آئے تو ان کی قوم کے لوگوں نے ہدایت کا راستہ اپنانے کی بجائے حضرت لوطؑ سے یہ مطالبہ کیا کہ انہیں بھی ہمارے حوالے کر دو اس امر پر اللہ کے حکم سے ان پر عذاب نازل ہوا اور ان کی بستیوں کی بستیاں برباد کر دی گئیں میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ آج کی سرمایہ دارانہ جمہوریت جس کے پوری دنیا میں گن گائے جاتے ہیں اس کے تحت دنیا کے کتنے ملکوں میں منتخب پارلیمنٹوں نے مرد کی مرد سے شادی کو قانونی تسلیم کیا ہے اور ان میں امریکہ سمیت یورپ کے بہت سے ممالک شامل ہیں۔ خدا کی ذات اول و آخر بااختیار ہے وہ برداشت کرتا ہے اور جب کوئی بُرائی انتہا کو چُھو لیتی ہے تو پھر اس کا عذاب نازل ہوتا ہے ساری دنیا کی سائنس دھڑی رہ گئی۔ میڈیکل کے لوگ بے بس ہیں‘ احتیاطی تدابیر سے اس کو روکا تو جا سکتا ہے اور وقتی طور پر اس میں کمی ہو سکتی ہے مگر امریکہ سمیت جن ملکوں میں لوگوں کو گھروں میں بند کرکے انہیں باہر آنے سے روکا گیا اور 6فٹ کے سماجی فاصلے نے ساری دنیا کو اُلٹ پلٹ کر دیا وہاں بھی نیویارک کی طرح جہاں جہاں کمی آئی تھی کہا جا رہا ہے کہ اگست ستمبر میں کرونا کی نئی لہر آئے گی‘ دنیا بھر کی معیشت تباہ ہوگی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سپین کے فلو کی طرح اموات ہیں کہ بڑھتی چلی جا رہی ہیں جن ملکوں کی معیشت مضبوط ترین تھی انہوں نے تو لوگوں کو گھروں میں بٹھا کر بغیر کسی کام کے انکم ٹیکس کاغذات کے حوالے سے ماہانہ آمدنی کا 80فیصد بطور گزارا الاﺅنس دے دیا مگر ہماری طرح جن ملکوں میں 25فیصد سے زیادہ لوگ خطِ غربت سے نیچے ہیں وہ اپنے لوگوں کو گھروں میں بٹھا کر 80فیصد انکم کے برابر فری الاﺅنس کیسے دے سکتے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ آج پاکستان میں عارضی لاک ڈاﺅن کھولنے کے بعد جس طرح کرونا بیماروں کی تعداد بڑھی ہے اور جیسے ہمارے سامنے اور ہمارے دائیں بائیں کرونا سے اموات میں روزانہ گھنٹوں کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے تو وزیراعظم عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ شاید دوبارہ لاک ڈاﺅن لگانا پڑے بالکل ٹھیک جناب والا لیکن کیا لاک ڈاﺅن آخری حل ہے کیا یہ کرونا کے خاتمے کی خوشخبری ہے۔ اللہ کی طرف سے اصل عذاب تو یہ ہے کہ بازار بند‘ دفتر بند‘ فیکٹری بند‘ کام کاج بند‘ الیکشن ملتوی‘ اسمبلیاں بند‘ لوگوں کا ایک دوسرے سے ملنا بند‘ پہلے آپ کا دفتر سے کاروبار کی جگہ سے فیکٹری اور کھیت کے کام سے علیحدگی پر زور اور آخر میں جب کمزور ہوتی ہوئی معیشت دم توڑ دے گی اور لوگ بھیگ مانگنے کیلئے باہر نکلیں گے یا لوٹ مار کرنے کیلئے تو پھر کیا ہو گا‘ سیاست بند‘ کاروبار بند‘ دفتر بند‘ فیکٹری بند‘ کاشت کاری بند تو جناب والا کیا اس کا کوئی علاج ہے اور کیا جو ویکسین اب تک ایجاد نہیں ہو رہی اور دنیا کے مختلف ملکوں میں جہاں کرونا کی ویکسین پر تجربات ہو رہے ہیں حضور والا وہاں بھی یہ کہا گیا ہے کہ جلدی سے جلدی اگر کوئی ویکسین کامیاب ہو بھی گئی تو اس کے دنیا بھر کے بازاروں میں آنے کیلئے کم از کم ایک سال کا وقت درکار ہو گا اس ایک سال میں کون زندہ رہے گا اور کون اس دوسری دنیا میں چلا جائے گا جس کی اطلاع دنیا بھر کے مذاہب نے خدا تعالیٰ نے اپنے پیغام میں دی تھی اگر کوئی اسے مانتا ہے اور اگر کوئی نہیں مانتا لامذہب ہے یا آج یورپ اور امریکہ کی طرح دنیا کے سب سے بڑے مذاہب عیسائیت کی طرح اپنے راستے سے ہٹ چکی ہے حالانکہ ان کے ہاں بھی پادری ہفتے میں ایک دن ایسی ہی باتیں گرجا گھروں میں لوگوں کو سناتے ہیں تو بتائیں کہ جو نہیں جانتے یا اللہ کی ذات پر یقین نہیں رکھتے تو اس کی ذات تو بے پرواہ ہے وہ تو بے نیاز ہے نہیں مانتے تو نہ مانو مگر اس وائرس کو تو مان رہے ہو جس کا علاج تم ڈھونڈتے پھرتے ہو مگر جو مل نہیں رہا نہ ماننے والا اللہ کی ذات سے انکاری یا ہم جیسے گناہ گاروں کی طرح اللہ کی ذات کو ماننے والا مگر اس کے فرمودات کو نظرانداز کرنے والا ہم بھی اپنے گناہوں کے باوجود اور بے عملیوں کے باوجود اتنا تو مانتے ہیں اتنی دعا تو کرتے ہیں کہ یااللہ ہمارے عقیدے کے مطابق موت برحق ہے جو شخص اس دنیا میں آیا اور جس بچے کی پیدائش کے بعد اس کے کان میں اذان دے کر یہ بتایا گیا کہ رب کا شکر ادا کرو بھائی تو مسلمان کے گھر پیدا ہوا ہے ہم بھی اتنی دعا تو ضرور مانگتے ہیں کہ یااللہ ہم پر رحم کر ہمیں بخش دے اس عذاب الٰہی کا رُخ پھیر دے جس طرح یہ تیرا حکم تھا کہ ساری دنیا میں کرونا آیا لیکن 18ملکوں میں اس کا نشان تک نہیں اور وہ محفوظ ہیں کیا یہ بات اس کا ثبوت نہیں کہ یہ تو خدا کا حکم ہے یہ عذاب تو اللہ کی طرف سے آیا ہے ایک وائرس جو جرثومے کی طرح نظر بھی نہیں آتا اور جس کی موجودگی کا صرف اس کی کارکردگی سے اندازہ ہوتا ہے اور جس کا ٹیسٹ بھی ہمارے ملک میں 100میںسے دو تین لوگوں سے زیادہ نہیں ہو سکا مگر یہ اللہ کا عذاب نہیں تو پھر کیا ہے۔
اس لئے میرے محترم وزیراعظم عمران خان میرے دوست‘ میرے بھائی‘ میرے پرانے ساتھی جو مناسب سمجھ میں آتا ہے کر لو لیکن میری دانست میں ہمارے ملک کے معاشی حالات مکمل لاک ڈاﺅن کی اجازت نہیں دیتے‘ 22کروڑ کی آبادی میں سے آپ نے بڑی ہمت کی کہ بیروزگاروں کی فوری مدد کیلئے ایک کروڑ 25لاکھ افراد کیلئے 12ہزار کی یکمشت امداد کا بندوبست کر دیا‘ اللہ آپ کو اور ہمت دے مگر گنتی تو گنتی ہوتی ہے۔ یہ 22کروڑ میں سے آپ کے حساب کے مطابق بھی ایک کروڑ 25لاکھ کو امداد مل گئی مگر ایک خاندان کے اوسطاً 5افراد بھی ہیں تو 12ہزار سے کتنے دن چلیں گے اور پھر باقی کے بیس کروڑ 70لاکھ افراد کا کیا بنے گا جن کی جمع پونجی رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہے اور کچھ کی ہو چکی ہے۔
اس لئے پیارے وزیراعظم محترم ہر وقت آپکے ہاتھ میں تو تسبیح نظر آتی ہے جس میں تو ظاہر ہے کہ آپ جو کچھ بھی پڑھتے ہونگے اس میں اللہ کا نام ہی ہو گا مگر یہ ملک جو پہلے ہی لوٹا جا چکا ہے اور آپ اپنے وعدوں کے مطابق اور الیکشن سے پہلے کی تقریروں کے حساب سے ان میں سے کسی ایک سے بھی لوٹ کا مال واپس لاکر خزانے میں جمع نہیں کروا سکے اور نہ اس رقم میں سے پچھلے برسوں میں لئے جانے والے غیرملکی قرضے واپس کر سکے بلکہ اس غریب ملک کو چلانے کیلئے آپکی حکومت کو اور قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔ ان حالات میں جبکہ بڑے بڑے ملکوں کی اپنی معیشت تباہ ہو رہی ہے‘ عرب کے ریت کے پہاڑوں اور صحراﺅں میں سے جو تیل نکلتا تھا اور جس کی وجہ سے عربی ساری دنیا میں شان سے پھرتے تھے اب تو ان کی معیشت بھی ڈانوا ڈول ہو رہی ہے کہ تیل کی قیمتیں کم اور ان کی دولت سکڑ رہی ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ‘ روس‘ جرمنی اور فرانس جیسے ملکوں کے بجٹ ختم ہو رہے ہیں اور اندازہ لگایا جاتا ہے کہ جب تک کرونا ختم نہیں ہو گا تو بھی اس کے اثرات ختم ہونے میں کئی سال لگ جائیں گے مگر خان صاحب یہ کرونا کے خلاف ویکسین بھی اللہ ہی کے حکم سے کارآمد ہو سکتی ہے اس لئے میں حیران ہو کہ ساری دنیا تو کم و بیش لامذہب ہو چکی ہے مکہ مدینہ میں رہنے والے بھی خاموش ہیں مگر ہمیں کس نے منع کیا ہے کہ لاک ڈاﺅن اور احتیاطی تدابیر پر تو بحثیں کرو مگر اس آفت پر جو قدرت نے بھیجی ہوئی ہے خاتمے کیلئے خود اس کی ذات سے رجوع نہ کرو میں آپ کو یاد کروانا چاہتا ہوں کہ جس مدینے کی ریاست کا آپ بار بار ذکر کرتے ہو اس کے بعد بھی برسوں تک نماز کی امامت حکمران کرتا تھا جمعہ کی نماز پر خطاب خلیفہ وقت اور مختلف شہروں میں اس کے نائبین کرتے تھے خروج یعنی بغاوت کا حکم اس وقت تھا جب حکمران نماز پڑھنا چھوڑے دے اس لئے میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ ہماری محترم خالہ شوکت خانم جس کے ہاتھ سے میں کئی بار چائے پی چکا ہوں جب وہ حیات تھیں اور آپ اپنی ٹانگ کے آپریشن کیلئے برطانیہ میں تھے میں ان کا واسطہ دے کر آپ سے کہتا ہوں کہ جو بھی کرنا ہے کرو اللہ تمہیں کامیاب کرے مگر اصل کام کی طرف آﺅ‘ سرکاری طور پر اعلان کر دو کہ یوم توبہ کس دن منایا جائے گا پورا پاکستان اپنے اپنے گھر پر افراد خانہ سمیت اور ہماری درس گاہوں‘ مساجد‘ دفتروں اور اداروں میں فوجی اور سول کب اللہ کے حضور گڑگڑا کر توبہ کریں گے اور اللہ سے اس عذاب سے ٹلنے کی دعا کریں گے‘ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے پتہ نہیں جو جملے میں لکھوا چکا ہوں مسلمان کے اعتقاد کے مطابق یہ سطریں بھی مکمل کروا سکوں یا اس سے پہلے اللہ کی طرف سے بلاوا آ جائے جس طرح مجھ سے پہلے میرے بڑے آپ کے بڑے پورے پاکستان کے بڑے اور ساری دنیا کے اللہ کو ماننے والے یا اس کے وجود سے منکر لوگوں کے بڑے اس دنیا سے رخصت ہو گئے تو کس نے ان کا دامن پکڑ لیا اب تو دل سے یہی دعا نکلتی ہے یا اللہ اگر ہمارا وقت پورا ہو بھی جاتا ہے تو اللہ میت کے شرعی غسل کے بعد جنازے والی موت دے اس لئے میں نہ صرف سطریں لکھوا رہا ہوں بلکہ یہ ہدایت کر رہا ہوں کہ جب یہ کالم چھپ جائے تو اس خط کی ایک نقل سرکاری طور پر وزیراعظم ہاﺅس کو بھیج دی جائے۔ میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ آپ تک یہ خط پہنچ بھی جائے گا یا نہیں لیکن یقین جانیں یہ کوئی درخواست نہیں ہے مشورہ ہے اور میں نے نہ صرف لکھا ہے بلکہ چھپوایا ہے یعنی اس کے ہزاروں لاکھوں گواہ موجود ہوں گے اور اللہ کی بارگاہ میں میرے کندھوں پر بیٹھے ہوئے فرشتے اس کی گواہی دیں گے اور جب میں مرنے کے بعد اپنے گناہوں کے گٹھر کے ساتھ پُل صراط پر سے گزرنے کی کوشش کر رہا ہوں گا تو میرے نامہ اعمال میں یہ بات موجود ہو گی کہ میں نے اپنے ملک کے حکمران تک یہ بات پہنچا دی تھی کہ یہ اللہ کا عذاب ہے ایک نہیں سو دفعہ لاک ڈاﺅن کرو اور جو احتیاطی تدابیر سمجھ میں آتی ہے اس پر عمل کرو اور مگر میں رسمی بات نہیں کر رہا اللہ شاہد ہے میں لفاظی سے کام نہیں لے رہا کسی کے سامنے نمبر نہیں بنا رہا میں اسلام کے نام پر بننے والے ملک کے منتخب حکمران کی توجہ اس طرف دلوا رہا ہوں کہ آپ سمیت اس ملک کے ہر فرد و بشر کو اللہ کے حضور التجا کرنے کی طرف دعوت دو‘ عمران خان یہ اللہ کا عذاب ہے کہ بندہ بندے سے نہ ملے‘ ہاتھ سے ہاتھ نہ ملائے‘ دنیا بھر کی تجارت سیاست اور معیشت بے بس ہو چکی اس لئے ایک ہی ذات ہے جس کے سامنے کیا حکمران اور کیا رعایا آپ پورے ملک کو کال دو ٹیلی ویژن اور اخبارات میں اعلان کرو وقت مقرر کرو اور جس وقت آپ اپنے گھر میں ہماری محترم بھابھی اور اہل خانہ کے ساتھ اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہو گے تو وقت اور تاریخ کا اعلان کر دینا پاکستان کے کروڑوں لوگوں کی طرح یہ گہنگار بھی اپنے دفتر میں ہر شہر کے ساتھیوں کے ہمراہ اللہ کی بارگاہ میں سر جھکائے گا اور جب اتنی زبانوں پر استغفار کا ذکرہو گا جب اتنے لوگ اللہ سے فریاد کریں گے بلکہ میرا مشورہ اور درخواست ہے کہ مسلمان ملکوں کے سربراہوں کو لکھو کہ وہ بھی اس وقت اسی دن اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوں ہماری آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو ہماری سنجیدگی کی دلیل ہوں گے اور دو نماز نفل کے بعد توبہ استغفار کے بعد رحم کی درخواست اس امر کا ثبوت ہو گا کہ وہ جس نے ہمیں بھیجا ہے وہ جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور جس نے اس دنیا مں بھیجا ہے اور جس کے پاس ہم نے لوٹ کر جانا ہے اس کی ذات خود گواہی دے گی کوئی بات نہیں جو دنیا میں آئے ہیں تو واپس جانا ہے مگر یہ مشترکہ توبہ اور رحم کی اپیل اللہ کی بارگاہ میں داخل ہو جائے اللہ کے حکم سے اگر بچ گئے تو بھی اور اگر اللہ نے بلا لیا تو مسلمان کی حیثیت سے ہم میں سے ہر ایک کا ایمان ہے کہ اصل زندگی وہ ہے جو موجودہ زندگی کے بعد شروع ہو گی اللہ ہماری توبہ قبول فرمائے ہمیں اس عذاب سے نجات دلائے اور اگر اس ذات کو کچھ اور منظور ہے تو بھی اگلی زندگی میں تو ہماری دعا ہماری طرف سے توبہ کے عمل کے ساتھ یہ نفلی عبادت قبول ہو جائے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں قرآن حکیم کی آیت کے مطابق وہ سب کچھ مل جائے گا جس کا وعدہ کیا گیا تھا (ترجمہ :اے اللہ ہمیں دنیا میں اچھائی اور بہتری سے نواز اور آخرت میں بھی اچھائی اور بہتری سے ہمکنار کر اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا)
عمران خان صاحب یہ کرونا بھی اللہ کی طرف سے ایک عذاب ہے اور یہ کسی دنیاوی تدبیر سے ختم نہیں ہو گا جب تک اللہ کا حکم سامنے نہیں آئے گا وہ جو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے اس کے سامنے مل کر ایک ہی وقت پر اعلان کرکے سر تو جھکائیں۔
استغفار کریں توبہ کریں دعا تو مانگیں شاید رحمت خداوندی کو جوش آ جائے اور وہ ہم جیسے گنہگاروں کی جھولی میں بھی فتح و نصرت کے پھول ڈال دے۔
٭٭٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo