”خبرےں“.. ہمارے بھی ہےں مہرباں کےسے کےسے (11)

[ad_1]

میاںغفاراحمد
معمول کی میٹنگ کے لئے صبح ساڑھے 10بجے ”خبریں“ لاہور آفس پہنچا تو استقبالیہ پر بیٹھے نوجوان نے بتایا کہ یہ بوڑھی اماں صبح سے انتظار کررہی ہے اور ضیاصاحب سے ملنا چاہتی ہے۔ اس کے 12سالہ پوتے کو پولیس نے آوارہ گردی کے الزام میں گرفتار کیا ہوا ہے اور جب بھی اس کو عدالت لے جاتے ہیں‘ پیشی پڑ جاتی ہے۔ کل پھر اس کے پوتے کی پیشی ہے۔ بوڑھی اماں نے بتایا کہ میرا پوتا یتیم ہے اور پھیری لگاکر چنے بیچتا ہے۔ اسی دوران چیف ایڈیٹر ”خبریں“ جناب ضیاشاہد بھی دفتر آگئے اور انہوں نے کہا کہ کل ماڈل ٹاﺅن کچہری پہنچ کر اس بچے کی ضمانت کا انتظام کریں۔ اس وقت غالباً چودھری طالب حسین اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاﺅن ہوا کرتے تھے اور ماڈل ٹاﺅن میں تحصیل کورٹس اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے ماڈل ٹاﺅن والے محلات کے عقب میں ہوتی تھی‘ اب بھی وہیں ہےں البتہ نوازشریف نے وہاں سے جاتی امراءمےں محل بنا لےا ہے۔ ہفتے میں ایک یا دو بار نوازشریف لاہور آتے تو ایئرپورٹ سے ماڈل ٹاﺅن تک لاہور کی ساری سڑکیں بلاک کردی جاتی تھیں اور ماڈل ٹاﺅن اور کینٹ کے اسسٹنٹ کمشنرز پروٹوکول ڈیوٹی پر ہوتے تھے۔ ”خبریں“ ٹیم ماڈل ٹاﺅن کچہری پہنچی تو پتہ چلا کہ اسسٹنٹ کمشنر موجود نہیں ہیں اور ڈپٹی کمشنر آفس گئے ہوئے ہیں جبکہ 12سالہ ملزم جس کا نام یاد نہیںآرہا اسے 12کے قریب عادی ملزمان کے ہمراہ ہتھکڑیوں کی ایک لڑی میں پرویا ہوا تھا۔ اسسٹنٹ کمشنر کی غیرموجودگی میں ریڈر تاریخ ڈال رہا تھا۔ یاد رہے کہ اس دور میں مجسٹریسی نظام ہوتا تھا اور اکثر اختیارات مجسٹریٹ حضرات اسسٹنٹ کمشنرز وڈپٹی کمشنرز کے پاس ہوتے تھے جو اب عدلیہ کو منتقل ہوگئے ہیں۔
ابھی میں ریڈر سے تکرار ہی کررہا تھا کہ اچانک پتہ چلا کہ اسسٹنٹ کمشنر چودھری طالب حسین آفس آئے ہیں اور واپس نکل رہے ہیں کہ انہوں نے ایئرپورٹ پر نوازشریف کو پروٹوکول دینا ہے۔ میں بھاگ کر عقبی جانب گیا تو اسسٹنٹ کمشنر کا ڈرائیور دروازہ کھول کر انہیں بٹھا چکا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ دوسری طرف سے آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا‘ میں بھاگ کر ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا۔ چودھری طالب حسین پہلے تو تھوڑا گھبرائے‘ میں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ ایک بچہ کئی ماہ سے آوارہ گردی کے الزام میں بند ہے‘ آپ کے پروٹوکول ڈیوٹیوں کی وجہ سے پیشی پڑجاتی ہے‘ اس کی رہائی نہیں ہورہی‘ آپ پھر جارہے ہیں اور پیشی ڈالی جارہی ہے‘ آپ کے چند منٹ لگیں گے اور بچے کی رہائی ہوجائے گی۔ میری بات سُن کر وہ طوعاً وکرہاً جیپ سے اُترے‘ اپنے کمرے میں جاکر بیٹھے اور ریڈر کو بلایا۔ اس بچے کو 50روپے جرمانہ ادا کرکے رہائی کے روبکار جاری کردیئے‘ پھر 50روپے بھی انہوں نے اپنی جیب سے ادا کئے اور جیپ میں بیٹھ کر چلے گئے۔ اگلے روز وہ بچہ اپنی بوڑھی دادی کے ساتھ روزنامہ ”خبریں“ کے دفتر آیا اور دیر تک رو رو کر جیل میں ہونے والے واقعات سے آگاہ کرتا رہا جنہیں تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے حالانکہ وہ جیل کے بچوں والی بیرک میں تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ باہر نکل کر پھر چنے بیچوگے؟ اس کا جواب سُن کر میں سٹپٹا گیا۔ وہ بولا میں 6ماہ تک چیف وارڈن کی ٹانگیں اور کندھے دباتا رہا ہوں‘ اب مجھے مالش کرنے کا ہُنر آگیا ہے‘ اب میں شاید مالش کیا کروں گا‘ اس کے علاوہ اس نے جو پھر بتایا وہ لکھنے کے قابل نہیں ہے۔
گوجرانوالہ کی تحصیل وزیرآباد سے ایک خاتون ایمبولینس میں 4سانس لیتے گوشت پوست کے بھاری بھرکم گوشت کے لوتھڑے لے کر ”خبریں“ دفتر آگئی۔ میں نے ان چاروں بھائیوں کے لئے لوتھڑے کا لفظ اس لئے لکھا کیونکہ ان کی نہ ٹانگیں اور نہ ہی ہاتھ تھے۔وہ بمشکل گھوم کر کروٹ لے سکتے تھے۔ نہ اپنے ہاتھ سے کچھ کھا سکتے تھے اور نہ کچھ صاف کرسکتے تھے۔ عجیب تکلیف دہ اور اذیت ناک منظر تھا۔ ”خبریں“ دفتر کے باہر 5محل روڈ پر ”خبریں“ کے پختہ فرش پر یہ 4لوتھڑے زمین پر پڑے تھے اور انہیں لانے والی ایک ان کی والدہ اور ایک ان کا ماموں تھا جبکہ ان کا والد فوت ہوچکا تھا۔ اس خاتون نے بتایا کہ میرے چاروں بچے آپ کے سامنے ہیں‘ میرے علاقے کے بدمعاشوں نے ہم سے چھت چھین لی ہے‘ ہم جھگی میں پڑے ہوئے ہیں‘ اسسٹنٹ کمشنر وزیرآباد اور پولیس سمیت کوئی بھی ہماری مدد کو تیار نہیں۔
جناب ضیاشاہد کو ان کے کمرے میں جاکر ساری بات بتائی۔ وہ فوری طور پر کاپی پنسل ہاتھ میں پکڑ کر دفتر سے باہر نکل آئے‘ ان بچوں کو دیکھ کر انہیں اتنا شدید کرب ہوا کہ انہوں نے اس خاتون کا ایڈریس لیا‘ ہمیں خبر بنانے کا حکم دیا اور خود آئی جی سمیت تمام اربابِ اختیار کا ضمیر جھنجھوڑنے میں لگ گئے۔ پھر انہوں نے اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے پرنسپل سیکرٹری کو بھی بتایا اور فوری مداخلت کی درخواست کی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر وزیرآباد کے نمائندے نے خبر بھیجی کہ اس عورت کا قبضہ مافیا سے گھر چھڑواکر اس کا سامان گھر میں رکھوا دیا گیا ہے۔ الحمدﷲ! ”خبریں“ کے توسط سے ایک بے سہارا کو سہارا مل گیا۔
لاہور کے علاقے بادامی باغ کی ایک بچی نے انتہائی درد بھرا خط چیف ایڈیٹر ”خبریں“ کے نام لکھا اور بتایا کہ اس کا والد فوت ہوچکا ہے‘ والدہ معذور ہے‘ 2سال قبل وہ اپنی بڑی بہن کے ہاں بچے کی پیدائش کے موقع پر اس کے گھر کام کاج کے لئے آئی‘ بچے کی پیدائش کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا وہ شدید بیمار ہوکر چارپائی پر لگ گئی اور اسے بھی والدہ کی طرح جوڑوں کی بیماری لگ گئی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کے بہنوئی کا ایک کمرے کا گھر ہے اور وہ روزانہ میری بہن کے سامنے میرے ساتھ جنسی تشدد کرتا ہے۔ اس تشدد کے نتیجے میں میرا ایک بچہ بھی پیدا ہوچکا ہے جسے میری بہن نے اپنا ظاہر کرکے گود لے لیا ہے۔ خط پر جناب ضیاصاحب نے رپورٹرز کی ڈیوٹی تصدیق کے لئے لگائی اور خود بذریعہ وکیل ہائیکورٹ سے بیلف کے لئے درخواست دے دی۔ اس وقت پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والی جسٹس طلعت یعقوب صاحبہ نے فوری طور پر بیلف کے ذریعے بچی برآمد کروائی۔ (ر) نامی بچی کو جب ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا تو اس نے بتایا کہ خط اس نے نہیں لکھا لیکن خط میں لکھی گئی ایک ایک بات بالکل درست ہے۔ اس کی بات سُن کر عدالت میں وکلاءسمیت کئی لوگ آبدےدہ ہو گئے۔ بچی نے عدالت میں ہاتھ جوڑتے ہوئے جسٹس طلعت یعقوب سے کہا کہ ”باجی! میری بہن دا گھر اُجڑ جائے گا‘ اونوں اس حالت اِچ کون رکھے گا“؟ باجی! میرے بہنوئی نوں معاف کردیو“۔ عدالت میں ہر طرف خاموشی تھی۔ تیزی سے چلتی ٹائپ مشین رُک گئی اور جسٹس طلعت یعقوب کی یہ حالت تھی کہ ”کاٹو تو خون نہیں“ ۔ وہ انتہائی بے چارگی میں اس بچی کی طرف دیکھتی جارہی تھیں کہ وہ حکم دیں تو کیا دیں۔
عدالت کے روبرو اس بچی کا ایک ایک جملہ ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اخلاقی اقدار کو کچوکے لگارہا تھا۔ عدالت نے اسے ایک دن کے لئے دارالامان بھیج دیا۔ ”خبریں“ نے اس کی تفصیلات شائع کیں تو اگلے روز عدالت میں اس بچی کا چھوٹا بھائی اور بڑی بہن پہنچ گئے کہ ان کی بھی غیرت جاگ چکی تھی اور وہ بہن کو لینے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ عدالت نے بچی کو اس کی بہن کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کئے اور بچی کی خواہش کے مطابق اس کے بہنوئی کے خلاف کارروائی کرنے کا معاملہ اس سے معافی نامہ لکھواکر ختم کردیا کہ وہ اپنی اہلیہ کو تنگ نہیں کرے گا اور یوں ”روزنامہ ”خبریں“ مظلوم کی آواز کو لبیک کہنے کے حوالے سے ایک اور ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوگیا۔ (جاری ہے)
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo