ہماری اخلاقی اقدار کہاں گئیں

[ad_1]

چوہدری ریاض مسعود
کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے معاشرے میں پائی جانیوالی اخلاقی اقدار ہمیشہ سے ہی بے حد اہمیت کی حامل رہی ہیں، اصول ، قانون، ضابطے، قاعدے ، عدل و انصاف، امن و سکون ، ترقی و خوشحالی، قومی ذمہ داری ، حقوق و فرائض جیسے نادر الفاظ یقینا ایک مہذب معاشرے میں ہی پروان چڑھتے ہیں، لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنیوالی اس مملکت میں ہماری روشن اخلاقی اقدار ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں، قیام پاکستان سے لیکر اب تک سیاسی اور ذاتی مفادات کی جنگ مسلسل جاری ہے، جس کی وجہ سے یہاں سیاسی اور معاشی استحکام نہیں آسکا، ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے خود کفالت اور خود انحصاری ہم سے روٹھ کر نہ جانے کہاں چھپی بیٹھی ہے اور اہم اپنی نادانیوں ، کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے اربوں روپے کے بھاری قرضے تلے دبے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی مالی معاشی اور انتظامی پالیسیاں بھی عالمی مالیاتی اداروں کی ڈکٹیشن پر ہی تربیت دیتے ہیں اور پھر اپنی نام نہاد دانائی اور حکمت عملی کو سچ ثابت کرنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں، یقینا جھوٹ ایک ایسی بیماری ہے جو اخلاقی اقدار کے تناور درخت کو اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے، یہ جانتے ہوئے بھی ہم اور ہمارے حکمران ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں، حکومت اور عوام اپنی اپنی سطح پر اخلاقی اقدار کا حلیہ بگاڑنے میں مصروف عمل ہیں، ہماری عوام اپنے اپنے حق کیلئے تو آواز اٹھاتی ہے لیکن فرائض اداکرنے میں کوتاہی کی مرتکب ہورہی ہے، ہمارا تاجر تجارت تو کرنا چاہتا ہے، لیکن ملاوٹ ناجائز منافع خوری ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کو چھوڑنے پر تیار نہیں، گھٹیا مال بیچنا اور کم تولنا گناہ نہیں عقلمندی سمجھی جانے لگی ہے، اس وقت پاکستان سمیت پوری دنیا میں کرونا وائرس نے تباہی پھیلائی ہوئی ہے، پاکستان میں بھی اب تک کرونا متاثرین کی تعداد تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار کے لگ بھگ ہوچکی ہے اور اس میں ابھی اوسطاً 4سے 5ہزار کا روزانہ اضافہ بھی ہورہاہے، اب تک کرونا وائرس سے ملک بھر میں ماسک، سیناٹائزر مہنگے اور وینٹی لیٹرز کے کرائے بھی بڑھ چکے ہیں، اس خطرناک صورتحال میں بھی ہم نے اپنے طور طریقے نہیں بدلے، تمام اخلاقی او سماجی برائیاں بدرجہ اتم ہم میں موجود ہیں، ظلم و زیادتی ،ناانصافی ، لوٹ مار، رشوت، منافع خوری، ملاوٹ ، فضول خرچی، دھوکہ دہی، قانون شکنی، فرائض سے کوتاہی ، جھوٹ اور بے ایمانی ہم میں رچ بس چکی ہے۔
اسلامی تعلیمات اور اسلام کے روشن الفاظ ، اتحاد، اتفاق، صبر، ایثار، احساس، انصاف ، قربانی ، جذبہ ، ہمت ، حوصلہ، جرا¾ت ، بہادری، شجاعت، نیکی، بھلائی، خیروبرکت، ایمانی حرارت، جذبہ جہاد ہماری روزمرہ کی زندگی سے عنقا ہوچکے ہیں، ہم من حیث القوم یہ بات بھول چکے ہیں کہ پاکستان 27رمضان المبارک 14اگست 1947 کو صرف اور صرف اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیاتھا، اور برصغیر کے مسلمانوں نے اس عظیم مقصد کے حصول کیلئے حضرت قائداعظم ؒ کی قیادت میں بے مثال جانی و مالی قربانیاں دی تھیں، کس قدر افسوس کی بات ہے کہ 72سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ہم اللہ تعالیٰ سے کیا گیا اپنا وعدہ ”اسلامی مملکت کا قیام “ پورا نہیں کرسکے، جس کی سزا ہم مسلسل بھگت رہے ہیں، اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں ہمارا دنیا میں آنا، زندگی گزارنے کا مقصد اور اپنے اشرف المخلوقات ہونے کے عظیم مقام کو ثابت کرنے کیلئے احکامات الٰہی کی پابندی اور نبی اکرم کی سنت پر عمل کرنا بھی شامل ہے، قرآن پاک ہمارے لئے رشد و ہدایت کا ایک ایسا منبع ہے جو ہمیں صراط المستقیم پر چلانے کیلئے رہنمائی فراہم کرتا ہے ، لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم نے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی بجائے اسے صرف نعروں کی حد تک رکھا اور یہ یقینا اسلامی احکامات اور اسلامی اخلاقی اقدار سے روگردانی ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر بگاڑ اور انتشار کی سی کیفیت ہے، اخلاق ، احساس اور کردار کا بیڑا غرق ہوچکا ہے، چھوٹوں سے محبت و شفقت اور بڑوں کا ادب و احترام مفقود ہوچکا ہے،حقیقت یہ ہے کہ ہم زکوٰة ، صدقہ و خیرات بھی دکھاوے کیلئے دیتے ہیں، رشوت اور حرام کی کمائی سے لوگ اپنے سٹیٹس کو اوپر کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ، اور پھر دل کھول کر حرام کی کمائی سے دکھاوے کیلئے فضول خرچی کرکے یقینا اپنے لئے جہنم ہی کماتے ہیں، دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کو بمشکل دو وقت کی روٹی میسر آتی ہے لیکن حکومت اور عوام دونوں ہی انکی مدد کرنے کی اپنی اخلاقی ذمہ داریوں سے کوتاہی کرتے ہیں ، ایک طرف لوگوں کو اپنا سرچھپانے کیلئے چھت بھی میسر نہیں لیکن دوسری طرف عالیشان اور پر تعش رہائشگاہیں غریبوں کے سینے پر مونگ دلنے کے برابر ہیں، غریب عوام اپنے حق او رانصاف کے حصول کیلئے دربدر ٹھوکریں کھارہے ہیں، لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ، ہمارے اس معاشرے میں یہ کہاوت عام ہے کہ ”دادامقدمہ کریگا تو پوتا بھگتے گا“ ایک زمانہ تھا جب ہمارے اس معاشرے میں بزرگوں کی بہت اہمیت اور عزت تھی، گھروالے تو ایک طرف رہے سب انکی دلی طور پر عزت کرتے تھے، ان سے اپنی روزمرہ زندگی اور مسال کے بارے میں مشورے لیتے تھے، لیکن اب وہ زمانے کہاں، اخلاقی اقدار کہاں، دکھ کی بات ہے کہ اب تو یورپ کی طرح بڑے بڑے شہروں میں اولڈ ہاو¿س کھل چکے ہیں جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے،آب حیران ہونگے کہ اس مہنگائی کے دورر میں کارخانوں اور کمرشل اداروں سے ریٹائرڈ ہونے والے بزرگ پنشنروں کی بڑھاپے کی پنشن صرف 6500روپے ماہوار ہے جو انہیں حکومت پاکستان کا ایک ادارہ ای او بی آئی اداکرتا ہے، ان بوڑھے بزرگوں کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظلم و زیادتی اور ناانصافی ہوسکتی ہے، یہی حال سرکاری اداروں سے ریٹائر ہونے والے بزرگ پنشنروں کی ہے ، انکی پنشن اس قدر قلیل ہے کہ وہ اپنے علاج کیلئے ادویات خریدنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے، آپ حیران ہونگے کہ حکومت کا اپنا پاکستان ٹیلی ویژن عرصہ دراز سے اپنے پنشنروں کیساتھ ناانصافی کررہاہے، حکومت پاکستان نے مالی سال 2018-19 اور مالی سال 2019-20میں تمام پنشنروں کی پنشن میں دس دس فیصد سالانہ اضافہ کیاتھا جو پی ٹی وی کے پنشنروں کے سوا سب کو مل چکا ہے، لیکن اس قومی ادارے کے پنشنرز ابھی تک اس سے محروم ہیں، ایک جائزے کے مطابق 2006سے 2020تک کے 13سالوں کے دوران اس ادارے کے پنشنرز کی پنشن میں صرف چھ بار اضافہ ہوا ہے جبکہ سات بار انتظامیہ نے انہیں انکے جائز حق سے محروم کیا ہے، اس طرح کی ناانصافیاں ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔
یہ سچ ہے کہ معاشرے میں ہمارے تین اساتذہ ہیں، والدین، امام مسجد اور سکول کا استاد، لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہر ایک نے اپنی اپنی ذمہ داریاں اداکرنے میں کوتاہی کی ہے جس کے منفی اثرات آج ہمارے معاشرے میں دیکھے جاسکتے ہیں، ہمار تعلیمی نظام اور نصاب قیام پاکستان کے مقاصد کو کسی صورت میں بھی فروغ نہیں دیتا، ہماری پرائمری سے سکینڈری سطح تک کے درسی کتب سے مشاہیر اسلام ، اسلامی تاریخ، تحریک پاکستان ، دوقومی نظریے ، اتحاد ،ایمان ، اتفاق، جہاد کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان کے رہنماو¿ں پر مضامین کو خاموشی سے نکالا جارہاہے، تاکہ نئی نسل کو اسلامی تعلیمات اور اپنے اسلاف کے کارناموں و خدمات سے بے بہرہ کیا جاسکے، یہ ایک سوچی سمجھی سازش نہیں تو اور کیا ہے۔
ملک میں یورپی کلچر کی تشہیر اور اسکا فروغ ہماری اسلامی تہذیب اور معاشرتی زندگی کو بری طرح متاثر کررہاہے، بے ڈھنگا فیشن، طاو¿س ورباب کی محفلیں، منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان اور دکھاوے کی خیرات ہمیں کسی گہرے گڑھے کی طرف دھکیل رہی ہے۔
روشن خیالی کی آڑ میں ہم اپنی اخلاقی اقدار کو خود اپنے ہی ہاتھوں سے پامال کررہے ہیں، آج کل جھوٹ کو جھوٹ اور برائی کو برائی نہ سمجھنا ہماری دانشمندی کہلاتی ہے، کرپشن، دھوکہ، فریب، فراڈ اور کسی حق مارنا گناہ کی بجائے کامیاب حکمت عملی تصور کی جاتی ہے، نہ جانے ہم اسلامی تعلیمات کو کیوں فراموش کیے جارہے ہیں، مسجدیں ویران ہورہی ہیں ،قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی بجائے انہیں ریشمی غلافوں میں لپیٹ کر طاقوں ،الماریوں میں سجایا بلکہ بند کردیاگیاہے، علمائے کرام معاشرے کی اصلاح کا فریضہ سرانجام دینے کی بجائے سیاست سیات کھیل رہے ہیں، ہمارے حکمران بھی عوام کے ساتھ ہر معاملے میں جھوٹ بول رہے ہیں، جھوٹے دعوے، وعدے، نعرے روز کا معمول بن چکے ہیں، کرونا وائرس کی اس خطرناک اور جان لیوا وباءمیں بھی ہمارے طور طریقے نہیں بدلے، ہمیں دوسروں کی آنکھ میں بال تک تو صاف نظر آتا ہے ، لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا، نہ جانے ہم کب سدھریں گے۔ کب اپنی اصلاح کرینگے، اخلاقی اقدار کو روندنے کی روش کب ترک کرینگے۔آپ گناہوں سے سچی توبہ تو کریں اللہ آپ کے ہر کام میں برکت ڈال دینگے، آگے بڑھیے اور اللہ کے سامنے جھک جائیں، سجدہ ریز ہو جائیں ، اللہ سبحانہ ہم پر اپنی رحمتوں برکتوں اور نعمتوں کی بارش کردیگا، انشاءاللہ ۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo