کرونا‘حکومت کیلئے چیلنج | Khabrain Group Pakistan

[ad_1]

وزیر احمد جوگیزئی
بات یہ ہے کہ پاکستان ایک بد قسمت ملک ہے تمام وسائل کے ہوتے ہوئے بھی مشکلات کا شکار ہے ،پاکستان کے کے پاس تمام وسائل مو جود ہیں۔ پاکستان کے پاس زمین بھی ہے اور پانی بھی چار موسم بھی ہیں اور انسانی وسائل بھی اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نو جوانوں کی بڑی تعداد پر مشتمل آبادی کا حامل ملک ہے جو کہ ملک کا بہت بڑا اثاثہ ہے ۔لیکن بات یہی ہے کہ ان تمام چیزوں کے با وجود پاکستان قوموں کی صف میں بہت پیچھے کھڑا ہو ا نظر آتا ہے ۔ہم نے بطور قوم ہر نئے آنے والے کو خوش آمدید کہا ،مگر کسی حکمران نے پاکستانی عوام کی بہتری پر توجہ نہیں دی ۔اور عوام کی توقعات کوئی بھی حکمران پوری نہیں کر سکا ۔مثال کے طور پر جب ایوب خان نے اقتدار سنبھالا تو اس ملک کی بساط ہی پلٹ گئی ،ہم نے بطور قوم ایک نئے راستے پر سفر شروع کر دیا ۔اور اس دور میں جب تجربہ کا ر اور ہنر مند سیاست دانوں اور بیو رو کریٹس کو ڈس کریڈٹ کیا گیا تو ہماری ریاست ایک بہت ہی غلط سمت میں چل پڑی ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ملک کے انتظامی ڈھانچے کو تباہ کیا ۔اور اس دن کے بعد سے آج تک ملک میں جتنی بھی حکومتیں آ ئی ہیں وہ سٹاپ گیپ ارینجمنٹ کے تحت آ ئی ہیں ۔اور انھوں نے اس ملک اور اس ریاست کے اصل مسائل پر کام کرنے کی بجائے صرف اور صرف خود نمائی پر ہی توجہ دی ہے اس لے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔قانون اور آ ئین کی حکمرانی کی طرف بھی کو ئی تو جہ نہیں دی گئی۔
پاکستان بنا تھا کہ وہ مسلم دنیا کی جمہوری طرز حکمرانی میں اسلام کی رہنمائی کرے گا ۔لیکن افسوس صد افسوس کہ یہ خواب دیکھنے والوں کو ہمارے حکمرانوں نے شرمندہ کر دیا اور ہم اس خواب سے آج بہت دور کھڑے ہیں ۔بہر حال پاکستان کی سرزمین میں اور پاکستانی قوم میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو کہ ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں میں موجود ہیں لیکن آگے بڑھنے کے لیے ہمیں رہنمائی چاہیے ۔لیکن ہمارے حکمرانوں کے پلے تو خو دنمائی اور خود ستائشی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ہمارے موجودہ حکمران سوشل ورک کے حوالے سے بہت کامیاب رہے ہیں ۔انھوں نے صحت اور تعلیم کے شعبے میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں اور بہت کامیاب ہو ئے لیکن سیاست کے میدان میں ان کو صرف اور صرف کنگ میکر کے طور پر ہونا چاہیے تھا نہ کہ کنگ کے طورپرملک چلانا بہت سی خوبیاں مانگتا ہے جو کہ ان میں نہیں ہیں ملک چلانے کے لیے صرف صحت مند ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے دانش مندی فہم و فراست اور سیاسی تدبر سمیت کئی صفات کا ہونا ضروری ہے ۔
ہم ایک جمہوری ملک ہیں لیکن ہماری حکمران جماعت ملک چلانے میں ناکام نظر آتی ہے ۔پارلیمان کو چلانے میں یکساں ناکام ہو چکی ہے بلکہ پارلیمان کو چلانے میں سنجیدہ ہی نہیں دکھائی دیتی ۔جمہوری حکومتوں کا محور پا رلیمان ہوا کرتا ہے اور پارلیمان کو اہمیت دینے سے ہی جمہوری حکومتوں کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے ۔پارلیمنٹ کی اہمیت بھی اسی وقت بڑھتی ہے جب وزیر اعظم از خود پارلیمان کے اجلاسوں میں شامل رہتے ہیں ۔پارلیمان کے ذریعے ہی امور مملکت چلانے سے ہی ریاست کو درست انداز میں چلایا جا سکتا ہے ۔
آجکل چونکہ کرونا وائرس کے فتنے کے باعث حالات مختلف ہیں اس لیے شاید پارلیمان میں وہ جوش و جذبہ نہ ہو لیکن وزیر اعظم چاہے تو پارلیمان کو اہمیت دے کر مسائل حل کیے جا سکتے ہیں ۔مثال کے طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی اس کمی کے بعد ملک میں پیٹرول نا پید ہو گیا ۔اس کمی کا فائدہ نہ ہی عوام کو ہوا ہے اور نہ ہی حکومت کو ۔بلکہ غیر ضروری طور پر اس کرونا کے ما حول میں پیٹرول پمپوں پر عوام کا رش لگا دیا گیا ہے ۔اور عوام کو کرونا وائرس کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے ۔اس سے تو بہتر تھا کہ حکومت پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرنے کی بجائے اس پیسے سے عوام کو کرونا وائرس کے حوالے سے صحت کی سہو لیات فراہم کرتی ۔اس سے عوام کا بھلا بھی ہو جاتا اور اب پیٹرول نہ ملنے کی وجہ سے جو ہمیں ٹی وی سکرینز پر جو عوام کی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے یہ بھی نہ سنائی دے رہی ہو تی ۔اور شاید اگر یہ رقم جو کہ اربوں روپے کی بنتی ہے اگر کرونا کے مریضوں کے علاج معالجے میں استعمال کی جا تی تو آج عالمی ادارہ صحت کو خط بھی نہیں لکھنا پڑتا ۔لیکن اس حکومت کا کیا جائے جو کہ کسی بھی معاملے پر کسی کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے اور صرف اپنا راگ ہی لوگوں کو سناتی ہے ۔اس وبا سے بڑی آفت اور کوئی ہو نہیں سکتی اس وبا نے جو دنیا بھر میں حال کر دیا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے ۔پاکستان کو بھی قدرت نے اس وبا کی صورت میں موقع دیا تھا کہ متحد ہو جا ئیں اپنے آپس کے اختلافات کو بالا ئے طاق رکھ دیا جائے اور یکسوہو کر اس مسئلہ کا مقابلہ کیا جائے لیکن ان بد ترین حالات کے با وجود حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلانے میں نا کام ہو گئی ۔
سندھ حکومت نے کرونا کے خا تمے کے حوالے سے قابل قدر کو ششیں ضرور کیں لیکن ان کو ششوں کو بھی وفاقی حکومت کی جانب سے منفی انداز میں لیا گیا ۔دنیا نے کرونا وائرس کا حل لاک ڈاﺅن کی صورت میں نکالا ہے اور اگر دیکھا جائے تو دنیا کے بڑے لیڈران نے اپنی اپنی قوموں سے ایک خطاب کیا اور اپنے عوام کو کرونا کی صورتحال بتائی اور اس کے بعد ان کو دوبارہ قوم سے بات کرنے کی ضرورت نہیں پڑی لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں وزیر اعظم صاحب روزانہ عوام سے بات کرتے ہیں اور اس کے باوجود کرونا ہمارے ملک میں قابو سے باہر نکل گیا ہے ،اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے بھی ہمارے نام کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے ہیں ۔اب اس صورتحال پر قابو پانا وفاقی حکومت کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo