فرانس، یوجین گرینڈ اور بالزاک | رؤف کلاسراعشق پر …

[ad_1]
فرانس، یوجین گرینڈ اور بالزاک | رؤف کلاسرا
عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالبؔ
کہ لگائے نہ لگے، اور بُجھائے نہ بنے
جب بی اے انگریزی ادب کے نصاب میں شامل ٹامس ہارڈی کے عظیم ٹریجک ناول Tess کو پڑھا تو سوچا تھا کہ شاید اس سے زیادہ انسانی رُوح کو پژمردہ کرنے والا ناول پھر کبھی نہ پڑھوں گا، لیکن سچائی، سوچ، محبت اور شوق پہ بھلا کہاں پہرے بٹھائے جا سکے ہیں۔ یوں مطالعہ کا شوق مجھے بالزاک کے اس عظیم ناول تک لے آیا جس کے ٹریجک انجام نے ایک بار پھر ہفتوں تک وہی کیفیت طاری کیے رکھی جو Tess کو پڑھ کر ہوئی تھی۔ Tess کی حالت زار اور اس معصوم مخلوق کے ٹریجک انجام نے مجھے قدرت کی ستم ظریفی پر احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا تھا خصوصاً جب ناول کے آخری صفحہ پر ٹامس ہارڈی ایک نئی نویلی صبح کے طلوع ہونے کا ذکر کرتا ہے، ایک ایسی صبح جو اپنے دامن میں ایک معصوم لڑکی کو پھانسی دے کر اُبھری ہے۔ خصوصاً ٹامس ہارڈی کے اس فقرے کا تو جواب ہی نہیں تھا:

"The President of the Immortals… had ended his support with Tess"

اس ایک فقرے میں ٹامس ہارڈی نے Fate and Chance کی اپنی تھیوری کو بڑی خوبصورتی سے سمو دیا ہے۔ یوجین بھی Tess کی طرح ایک پیاری، خوبصورت اور قابل محبت معصوم مخلوق ہے جو ایک بے انصاف بدبختی کے ہاتھوں آخر کار تباہی کا شکار ہوتی ہے۔ اس انجام سے ایک فطری سا سوال ذہن میں سر اُٹھاتا ہے، کیا بالزاک بھی ہارڈی کی طرح ایک ایسے خدا کے وجود کی طرف اشارہ کر رہا تھا جو بے بس انسانوں کے ساتھ مسلسل بلی چوہے کا کھیل کھیلتا رہتا ہے اور جیسے ہی بلی چوہے کے ساتھ کھیل کر تھکنے لگتی ہے اور چوہا اسے مزید مسرت بہم پہنچانے میں ناکام رہتا ہے اور اس کے نزدیک چوہے کا وجود بے کار اور بے معنی ہو جاتا ہے تو وہ اسے ہڑپ کر لیتی ہے۔
تو کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خدا بھی انسان کو دُکھوں، اذیتوں اور مصیبتوں کے جال میں پھنسا کر اسے تنہا تڑپنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور خود اس کا تماشا دیکھتا رہتا ہے اور جونہی وہ انسان مزید اذیت جھیلنے کے قابل نہیں رہتا تو موت کا فرشتہ بھیج کر اس کا خاتمہ کر دیتا ہے۔
تو خدا اذیت پسند ہے؟
یہ وہ سوال ہے جس پر بحث ہو سکتی ہے۔ دستویفسکی کے عظیم ناول ”ذلتوں کے مارے لوگ“ کی نیلی جو چھوٹی سی بچی ہے اور جس میں زمانے نے اِتنی سختیاں بھر دی ہیں کہ وہ اذیت پسند بن گئی ہے۔ وہ دوسروں کو اذیت تو دے نہیں سکتی خود کو ہی دیتی رہتی ہے لیکن خدا کو یہ سہولت ضرور میسر ہے کہ وہ دوسروں کو اذیت میں ڈالنے پر قدرت رکھتا ہے۔ یوں ہر انسان اس کی تقدیر کا غلام بن کر ایک کٹھ پتلی کی طرح ناچتا رہتا ہے۔
بالزاک کے ناول میں ایک بات بڑی نمایاں اور اہم ہے کہ اس کی کہانیوں اور کرداروں کا پس منظر پیرس ہے یہ خوبی چارلز ڈکنز کے ناولز میں بھی ملتی ہے جہاں لندن کو مرکزی اہمیت ملی ہوئی ہے۔ بالزاک نے ایک دفعہ دعویٰ کیا تھا کہ جو کام نپولین اپنی تلوار سے سر انجام نہیں دے سکتا تھا وہ میں اپنے قلم سے سر انجام دوں گا۔ بالزاک نے ساری عمر انتہائی محنت اور مشقت کرتے گزاری۔ وہ دراصل اپنے تمام ناولز میں اپنے وقت کی تاریخ رقم کر رہا تھا اور یہ اس کی شعوری کوشش بھی تھی کہ وہ اپنے سارے ناولز کا ایک دوسرے سے ناتا ضرور پیدا کرے اور اپنی اس کوشش میں وہ کامیاب بھی رہا ہے۔
حرص اور لالچ وہ برائیاں ہیں جو ہر وقت ہر انسان کے ساتھ رہتی ہے لیکن بالزاک کے دور میں اس لفظ نے نئے معنی اختیار کر لیے تھے۔ چرچ کی سختیاں اور دقیانوسی سماجی نظام کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ ہر شخص ہر قیمت پر طاقت حاصل کرنا چاہتا تھا کیوں کہ ہر شخص کے ذہن میں نپولین بننے کا جنون سما گیا تھا اور ہر ایک آدمی نپولین کے ایک عام سپاہی سے فرانس کے بادشاہ تک کے سفر کی کہانی کو آنکھوں میں سجائے پھرتا ”اگر نپولین ایک عام سپاہی سے بادشاہ بن سکتا ہے تو پھر ہم کیوں نہیں ایسا کر سکتے“ یہی وہ فقرہ تھا جو فرانس میں زبان زد عام تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنے اس خواب کی تعبیر ملنے کی توقع بھی تھی اور یہی توقع اور اندھی اُمید اسے وحشی بنا رہی تھی۔
سازش جو کبھی شاہی دربار تک محدود تھی اب پورے ملک میں پھیل چکی تھی کیوں کہ اب ہر شخص اعلیٰ عہدے تک پہنچنے کا خواہاں تھا اور یہ عہدہ ملنا کوئی ناممکن بات نہ تھی بشرطیکہ گھر میں دولت کے اَنبار لگے ہوئے ہوں اور اس سے بڑھ کر ان بڑے لوگوں سے تعلقات ہوں جو اعلیٰ منزل تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہوں۔ ہر شخص کی صرف ایک ہی لالچ تھی جس کا نام دولت تھا کیوںکہ دولت کے دوسرے معنی طاقت کے تھے اور اس دور میں طاقت ہی سب کچھ تھی۔ دولت کا حصول بھی کوئی ناممکن بات نہ تھی بشرطیکہ فرانس کا شہری ہر وقت مسلسل اپنے ذہن کو بیدار رکھے اور اپنے ہمسائے سے قبل کسی بھی موقع کا فائدہ اُٹھانے کے لیے تیار رہے۔ دولت جو کردار اب ہمارے جدید معاشرے میں ادا کر رہی ہے اس نے یہ کردار اسی وقت ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ بالزاک کا وہ معاشرہ جدید معاشرے کی طرح دولت کے حصول کی سفاکانہ دوڑ میں شریک ہو گیا تھا۔ ڈارون کی جدید تھیوری نے انسان کو کرہ ارض پر دوسرے تمام جانوروں سے افضل و برتر اس لیے بھی ثابت کر دیا تھا کہ "Survival of the Fittest" کی اس وحشیانہ جنگ میں فتح انسان نما جانور کی ہوئی تھی۔ یوں جدید دور کے ان وحشی کرداروں کی جھلک بالزاک کے اس ناول میں بخوبی محسوس کی جا سکتی ہے۔
دولت اور طاقت کا حصول کسی بھی قیمت پر اس ناول کا مرکزی خیال ہو سکتے ہیں۔ بالزاک کے اکثر ناولز اعلیٰ خواہشات سے بھرے لوگوں، مہم جوئوں، تابناک مستقبل تعمیر کرنے کے خواب دیکھنے والوں، سوچ و بچار کرنے والے اذہان، بینکرز، سرمایہ دار، ساہو کاروں اور ہر قسم کے کنجوسوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ بالزاک نے ان کرداروں کو اپنے عظیم قلم کی نوک سے امر کر دیا۔ وہ اپنے ہر اچھے بُرے کردار سے محبّت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا ہر کردار لافانی ہو گیا ہے۔ بالزاک دنیائے ادب کے ان چند ادیبوں میں سے ایک ہے جنھوں نے ایسے خبطی کرداروں کو جو معاشرے میں ہر قیمت پر مقام بنانے کی سعی میں لگے ہوئے ہیں اپنے قلم کا رنگ دیا۔ بالزاک اپنے کرداروں کو تخلیق کرتے وقت گھنٹوں ان کے ساتھ بیٹھا بند کمرے میں باتیں کرتا رہا۔
ایک دفعہ بالزاک مسلسل کئی دن تک اپنے کمرے میں بند بیٹھ کر ”یوجین گرینڈ“ لکھتا رہا ایک دن اس کا ایک دوست اس سے ملنے آیا اور بالزاک کو بتایا کہ ان کا ایک اور مشترکہ دوست سخت بیمار اور مرنے کے قریب تھا۔ اس نے بالزاک کو تجویز دی کہ ان دونوں کو اپنے دوست کی تیمارداری کے لیے جانا چاہیے بالزاک چند لمحے سوچتا رہا اور پھر بولا اے دوست موت تو برحق ہے۔ پہلے مجھے یہ بتائو کہ یوجین کی شادی کس سے ہو گی؟
بالزاک کی ایک اور بڑی خوبی ہے کہ وہ اپنے اخلاقی مقصد کو ہرگز نہیں چھپاتا۔ وہ دکھاتا ہے کہ اس کے ایسے کردار اپنے ساتھ ساتھ، حکومت، معاشرے اور اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، لیکن بالزاک عموماً ایسے کرداروں سے ہمدردی کرتا ہے جن سے ہم نفرت کرتے ہیں۔ وہ طاقت و دولت حاصل کرنے کے خواہاں جنونیوں سے بھی محبت کرتا ہے۔ وہ ان کی کمزوریوں سے ایک عام انسان کی طرح نفرت نہیں کرتا۔ وہ اپنے کرداروں کو جیسے ہے ویسے پیش کرتا ہے نہ کہ انھیں جیسے ہونا چاہیے۔ بعض دفعہ تو ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے وہ اپنے اخلاقی مقصد کی خود ہی نفی کر رہا ہو۔
دولت کمانا ایک بُرا کھیل ہے اور اس کھیل کے جو بُرے اثرات انسان پر پڑتے ہیں بالزاک اس کی باریک باریک تفصیلات ہمیں بتاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دولت کمانے کے گُر ایک رومانس کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ اگرچہ سفاکی بھی تو رومانس کا حصہ ہے۔
دولت ایک طاقت ہے اور سب سے بڑھ کر اس کا بے رحمانہ تعاقب ہر وقت انسانی ذہن کو مسلسل آگ کی بھٹی پر جلاتا رہتا ہے اور اسے کہیں آرام نہیں لینے دیتا۔ جب کہ بالزاک کے ایسے جنونی کنجوس کے نزدیک سونا ایک طلسم ہے، ایک جادو اور سحر ہے جس کے نام میں بھی اس کی شکل کی طرح کشش اور چمک ہے جو ہر وقت اسے چندھیائے رکھتی ہے۔ یوں کنجوس کی آنکھوں سے ہر وقت سنہری شعاعیں لپکتی رہتی ہیں۔
اسی ناول میں انقلابِ فرانس کے بعد جو لہریں چل رہی ہیں اب ان کا رُخ فرانس کے مضافاتی قصبوں کی طرف بھی ہو گیا ہے۔ ہم ان طاقتوں اور جذبات کو محسوس کر رہے ہیں جو اس سارے پس منظر میں موجودہ سماجی منظر کو تبدیل کر رہے ہیں۔ گرینڈ کی دولت کی بنیاد انقلاب کے بعد آرسٹوکریٹک کلاس کی جائدادوں کی تباہی سے پڑی ہے اور اس جائداد میں اضافہ وہ ری پبلیکن آرمی کو شراب فروخت کرکے کرتا ہے اور اسے کافی عرصے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری کرنے سے رقم کے خزانے میں اضافہ ہوتا ہے اور اس دولت کو کھیت کی فصل کی طرح موسم پر انحصار بھی نہیں کرنا پڑتا۔ حالاںکہ اس کی بیوی کے دادا اور اس کی اپنی دادی نے ساری عمر اپنی رقم چھپا کر رکھی کیوںکہ ان کے نزدیک سرمایہ کاری دولت کا ضیاع تھی کیوںکہ اس سارے عمل میں اس کی باگیں کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہیں لیکن گرینڈ نئے خیالات اور نئے دور کا بندہ ہے۔ وہ سرمایہ کاری کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے۔
اس سارے ناول میں سونے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے اور یہ سونا ہر قیمت پر ہماری نظروں کے سامنے رہتا ہے۔ یہ سونا گرینڈ کے سٹرانگ روم میں تہہ در تہہ پڑا ہے۔ یا پھر رات کے اندھیرے میں گرینڈ اسے خچر پر لاد کر نیٹس قصبے فروخت کرنے جا رہا ہے۔ چارلس اپنے چچا سے ملنے آتا ہے تو بھی اس کے سامان میں سونے کی جیولری پائی جاتی ہے۔ یوجین کا خزانہ بھی سونے کے سکوں سے چمک دمک رہا ہے اور سکوں پر کنندہ قدیم تحریریں گرینڈ کو ہر بار نئی خوشی دیتی ہیں۔ اس طرح چارلس جب انڈیز کے سفر سے لوٹ کر آتا ہے تو بھی اپنے ساتھ سونے کے بنڈل لاتا ہے یوں ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جب تمام تجارت ایک شاندار مہم کے برابر تصور ہوتی تھی۔
دولت حاصل کرنے کی ہوس معاشرے کے دوسرے طبقات میں بھی پائی جاتی ہے مثلاً کروچاٹس اور گراسنز خاندان، تمام کاروباری دُنیا، پیرس کی فیشن ایبل دنیا اور سب سے بڑھ کر چارلس گرینڈ۔ صرف مادام گرینڈ، یوجین اپنے تاریک گھر میں سازشیوں کے ٹولوں سے پرے ہیں جو انھیں گھیرا ڈالے ہوئے ہیں اور یہ سازشی اور لالچی ٹولا یوجین جیسی اکلوتی امیر وارث کے رشتے کی غرض سے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے کیوںکہ اس طرح وہ معاشرے میں باآسانی راتوں رات امیر بن کر اپنی جگہ اور اپنا مقام بنا سکتے ہیں اور دولت کے حصول کا مطلب سیاسی طاقت اور سیاسی طاقت کا مطلب عروج اور عروج کا مطلب نپولین ہے۔ مثلاً ناول کے اختتام سے پہلے ڈی بان فانز یوجین سے شادی کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور جونہی وہ مرتا ہے پھر نئے سرے سے نئے گروپ یوجین کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اس بار یہ نیا جال ایک نئے شکاری فروڈی فانڈ فیملی نے بچھایا ہے اور ناول کے اختتام پر بالزاک یہ افسوس ناک تبصرہ کرتا ہے کہ اب لوگ یوجین کے پاس محض اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ یہ یوجین کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا کہ حقیقی محبت، پیار اور خوشیوں کے بدلے اسے سونے کی سنہری چمک نصیب ہو گی جس سے اسے قطعاً کوئی غرض یا دلچسپی نہیں۔ جو لوگ اس کی بیٹھک میں ہر شام آکر محفل سجاتے ہیں، تاش کھیلتے ہیں اور اس کی خوشامد کر کے خوش ہوتے ہیں، اس سے تو یوں لگتا ہے کہ یوجین ایک انسان نہیں بلکہ رقم کے تھیلوں سے بنی کوئی دولت کی دیوی ہے جسے ایک تخت پر بٹھا دیا گیا ہے اور سب اس کی پوجا کر رہے ہیں۔ اس سارے منظر میں صرف بوڑھی نائے نن اور اس کا غریب شوہر ہی ایسے لوگ ہیں جن کے دلوں میں پیسے کی بجائے محبت دھڑکتی ہے۔
وسط نومبر 1819ء کی ایک مخصوص شام جب موسم خزاں میں پہلی بار گرینڈ کے گھر آگ جلائی گئی ہے ہمارا تعارف گرینڈ فیملی کے سرکل سے ہوتا ہے۔ آج یوجین کی 23 ویں سالگرہ ہے اور سب لوگ سالگرہ کی خوشیوں میں شریک ہیں اور پہلی بار اس کی شادی کا ذکر چھڑتا ہے۔ اسی وقت پیرس سے یوجین کاایک کزن آن ٹپکتا ہے اور اس کی آمد کے ساتھ ہی ٹریجڈی کمر باندھ کر اپنے ایکشن کی تکمیل کے لیے تیار ہو جاتی ہے اور آنے والے چار دنوں میں ٹریجڈی کا پلاٹ مکمل ہو جاتا ہے اور اس کے بعد کے حالات ان چار دنوں پر ایک طرح سے رواں تبصرہ ہی کہلا سکتے ہیں اور یہ حالات ایک سال تک چلتے رہتے ہیں۔
یوجین پہلی ہی نظر میں پیرس سے آئے ہوئے اپنے کزن سے محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ اگلی صبح یوجین کا باپ انتہائی حقارت سے یوجین اور چارلس کی شادی کے امکان کو بھی مسترد کر دیتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی چارلس کے باپ کے دیوالیہ ہونے اور خودکشی کرنے کی خبر بھی ملتی ہے۔ یوں چارلس جیسا رومانٹک ہیرو اچانک ایک ہی لمحے میں ہیرو سے زیرو بن جاتا ہے اور سب گھر کی ہمدردیاں اس کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔
یہاں بالزاک اپنی مخصوص ٹیکنیک کو بروئے کار لے آتا ہے۔ یہ بالزاک کا اپنا انداز ہے کہ وہ اپنے کرداروں کی گہرائی میں ان کرداروں پر روشنی ڈالتا ہے۔ وہ پہلے ان کرداروں کو ایک دوسرے کی نظروں سے جانچتا ہے پھر اپنا تبصرہ پیش کرتا ہے۔ وہ یوجین کو چارلس کی محبت میں گرفتار ہونے دیتا ہے لیکن اس بات کو بھی وہیں واضح کر دیتا ہے کہ چارلس کی محبت عارضی اور وقتی ہے جب کہ یوجین کے اندر جس محبت کا بیج پھوٹا ہے وہ آنے والے دنوں میں اس کے لیے ایک روگ بنے گا۔ ان چار دنوں میں چارلس اپنی نئی صورت حال سے سمجھوتا کر لیتا ہے اور ایسٹ انڈیز جاکر اپنی قسمت نئے سرے سے تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے جب کہ یوجین اب اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ گرینڈ دوسری طرف اپنی رقم سرمایہ کاری میں لگانے کا پروگرام بنا چکا ہے اور ساتھ میں اپنے بھائی کے ساہوکاروں کے ساتھ ہاتھ کھیلنے کا پروگرام بھی تشکیل دے رہا ہے۔ یہاں وہ لوک دانش (Folk Wisdom) کا ایک اعلیٰ نمایندہ ہے۔
ان چار دنوں میں ہم ہر کردار کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ رہتے ہیں، حتیٰ کہ رات کا کافی حصہ بھی ان کے ساتھ گزرتا ہے۔ یوجین کے ساتھ چارلس کی چیخیں سنتے ہیں، دوسری رات یوجین چیخ سن کر اپنے کزن کے کمرے میں دوڑ کر جاتی ہے، یوجین آدھی رات کو اپنے باپ کو سونے سمیت نیٹس قصبےکے لیے روانہ ہوتے دیکھتی ہے۔ یوجین چارلس کے خطوط پڑھتی ہے اور اسے تیسرے روز اپنے سارے سونے کے سکے دے دیتی ہے۔ یوجین ہر لمحے کو اپنی محبت سے امر بنانا چاہتی ہے۔ یوجین کے لیے محبت سب کچھ ہے لیکن جو لوگ اس کی زندگیوں کے مالک بن گئے ہیں وہ سونے کی چمک سے متاثر ہیں۔ خدا کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ کتاب کے آخر تک یوجین کی جھولی خوشیوں، محبت اور حقیقی پیار سے خالی رہتی ہے، لیکن خدا ہے کہ اس کی گود میں مزید سونا اور دولت پھینکے جا رہا ہے۔ ویسے بڑا عجیب سا تضاد ہے کہ جو کردار دولت کے لیے مرے جا رہے ہیں ان کے پاس کچھ نہیں اور جسے محبت چاہیے اسے دولت دے دی گئی ہے جس کی اسے ضرورت نہیں اور فطرت کا یہی تضاد ٹریجڈی کو جنم دیتا ہے۔
بنیادی طور پر اس کہانی میں ”رومانوی باغ“ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں کہانی کے کئی مناظر رونما ہوتے ہیں۔ اس باغ میں کہانی کے کئی اہم واقعات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ گرینڈ کے شعر میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی بازگشت یہاں ضرور آتی ہے۔ اکثر و بیشتر یوجین کھڑکی میں کھڑے ہوکر باغ میں پتوں کے گرنے کی عجیب سی آواز سنتی رہتی ہے۔ جب اس کی ماں بستر مرگ پر پڑی ہوئی ہے وہ کھڑکی میں سے باغ کو گھورتی رہتی ہے۔ اس باغ میں سے چارلس کی دل کو ہلا دینے والی سسکیاں ابھرتی ہیں جب گرینڈ اسے اس کے باپ کی موت کی خبر سناتا ہے۔ اس باغ میں برسوں تک تنہا بینچ پر بیٹھ کر یوجین اپنے محبوب کی واپسی کا انتظار کرتی رہتی ہے۔ اسی باغ میں نائے نن کی مسرت بھری وہ چیخ ابھری جب وہ چارلس کا خط لے کر نمودار ہوتی ہے۔ نائے نن کی یہ چیخ یوجین کے دلی جذبات کی نمایندگی کرتی ہے اور اس کے جواب میں بھی اس کی گہرائی کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ چارلس کو بھی ہمیشہ یہ باغ یاد رہنا تھا کہ یہیں اس نے اپنی تباہی کی خبر سنی تھی اور یہیں بیٹھ کر اس نے محبت کرنے کی ”کوشش“ کی تھی۔
اگرچہ ماں باپ کی موت کے بعد یوجین تنہا ہے اور اس پرانے گھر میں رہنے کا کوئی جواز بھی نہیں بنتا لیکن ناقابل تسخیر Nostalgiaاور Ties اسے اس گھر میں رہنے پر مجبور کیے ہوئے ہیں۔ اب تو اس کی حیاتی کا دارو مدار بھی اسی تعلق پر ہے۔
چارلس کے ایسٹ انڈیز روانہ ہو جانے کے بعد ہم گرینڈ کے پرانے گھر لوٹ آتے ہیں جہاں تین خواتین برسوں سے ایک ہی ڈگر پر زندگی گزار رہی ہیں لیکن اب ان تینوں عورتوں کے درمیان چارلس ایک نیا تعلق اور واسطہ پیدا کر گیا ہے اب وہ تینوں ایک ”راز محبت“ میں شریک ہیں اور پھر نئے سال کے آغاز پر یک دم گرینڈ دریافت کرتا ہے کہ یوجین اپنا سونا اپنے کزن چارلس کو دے چکی ہے۔ محبت کے جذبات اور مسلسل ٹینشن نے یوجین کو بھی ایک طاقت ور اور دلیر لڑکی بنا دیا ہے۔ محبت نے اسے طاقت اور اظہار دے دیا ہے۔ یوں گرینڈ سونے سے محبت کرتا ہے اور یوجین چارلس سے۔ دونوں محبتوں کی انتہا تک پہنچے ہوئے ہیں اور یہی انتہا انھیں ایک روز ایک دوسرے کے مدمقابل لے آتی ہے۔ دونوں اپنی اپنی محبتوں پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اور کئی ماہ بعد دونوں باپ بیٹی پھر ایک دوسرے کے مدمقابل آ جاتے ہیں جب گرینڈ چارلس کے دیے ہوئے ڈریسنگ کیس کے سونے پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے لیکن اس بار یوجین بھی چاقو سے مسلح ہے۔ گرینڈ ڈریسنگ کیس سے ہر قیمت پر سونا اکھاڑنا چاہتا ہے جب کہ یوجین خود کو چاقو سے مارنے کے لیے تلی کھڑی ہے اگر اس کا باپ ایسی حرکت کرتا ہے۔ یہ تو یقینی سی بات ہے کہ بالزاک کو اس جنگ میں گرینڈ سے ہمدردی تھی اور وہ گرینڈ کی حمایت کرتا ہے۔ بالزاک کے نزدیک انقلاب کے بڑے اثرات میں سے ایک اثر یہ بھی ہوا تھا کہ معاشرے میں جاری خاندانی اقدار بری طرح مجروح ہوئی تھیں اور خاندان جو معاشرے کا ایک یونٹ تھا اسے شدید خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ خاندان اب ایک ہجوم کی شکل اختیار کر گیا تھا جس کے ممبران ہر وقت ایک دوسرے پر شک کرتے رہتے تھے اور باہمی ہم آہنگی ختم ہوکر رہ گئی تھی اور ہر شخص اپنے خود غرضانہ ذاتی مقاصد کے لیے ایک ”ڈوئیل“ لڑ رہا تھا اور اس لڑائی نے فرانسیسی معاشرے کو کھوکھلا کرکے اس کی جڑیں تک اکھاڑ پھینکی تھیں اور بدقسمتی سے یہ سب خواہشیں معاشرے کی ترقی اور روح کے برعکس تھیں۔ یوں فرد اور معاشرہ الٹ سمتوں میں سفر کر رہے تھے۔ معاشرے سے Parental Authority ختم ہونے کا مطلب معاشرے سے اہم عنصر کا غائب ہونا تھا اور بالزاک کے چند ناولز اس تباہی اور اس کے بھیانک اثرات کو ظاہر کرتے ہیں اور یہاں تو ایک بیٹی اپنے باپ کے خلاف کھڑی ہوگئی تھی اور اس کی اتھارٹی کو چیلنج کر رہی تھی اور یہ کہہ رہی تھی کہ وہ اپنی دولت کے ساتھ وہی کچھ کرے گی جو اِس کا جی چاہے گا۔
یہ بات تو بالزاک کے نزدیک طے ہے کہ دونوں باپ بیٹی کے جذبات کے نتائج معاشرے کی اقدار کے دشمن ہیں اور دونوں جب ایک دوسرے کے جذبات کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر یہ جذبات مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔
لیکن یہاں بالزاک جنریشن گیپ کی طاقت کو نظر انداز کر رہا ہے اور یہ گیپ ویسے بھی ہمارے انسانی معاشرے میں فطری سی بات ہے کیوںکہ ہر معاشرہ ہر وقت تنزلی یا ترقی کی طرف سفر کرتا رہتا ہے۔ ہرنیا لمحہ گزرے لمحے سے بالکل مختلف ہوتا ہے اور یہ فرق اس دور کی ہر نسل پر اس کے تجربوں اور مشاہدات کی بنیاد پر مختلف ہوتا ہے۔ والدین اور ان کی اولاد کی پرورش، سوچ، تجربات، زماں و مکاں، ترجیحات، پسند و ناپسند میں ایک فطری سا فرق ہوتا ہے اور یہی فرق انسانی زندگی کا سبب بھی ہے اگر سب لوگ ایک ہی ڈگر، ایک ہی سوچ اور رواج پرچلنا شروع ہو جائیں تو ارتقائی عمل وہیں رک جائے گا اور ماں باپ اسی اہم نکتے کو بھول جاتے ہیں کہ ہر دور، ہر عمر اور ہر زمانے کے اپنے اپنے رنگ ہوتے ہیں اگر وہ شخص، ہر دور میں اپنے آبائو اجداد جیسی اقدار، روایات اور حرکتوں کو کاپی کرتا ہے تو پھر معاشرہ جمود کا شکار ہوگا۔ ماں باپ کا یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ ذاتی پسند و ناپسند اپنی اولاد پر لادنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہیں سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں ایک پیدا ہونے والے بچے کو پہلے سے متعین قوانین، اخلاقیات کے نظام کے تحت زندگی گزارنی ہوتی ہے اور یوں اس ماحول میں تخلیق ناممکن ہو جاتی ہے اور بچہ ایک نقال بن کر رہ جاتا ہے۔
ڈسپلن ہی تخلیق کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
اسی لیے ہماری ہمدردیاں یوجین کے محبت بھرے جذبات کے ساتھ ہیں۔ اس کے اندر پھوٹنے والی محبت کی نئی کرن نے یوجین کو ایک عام لڑکی سے ایک پختہ، سنجیدہ، ہوشیار اور گہری خاتون میں بدل دیا ہے۔ اس کے خیالات و احساسات میں پختگی اور گہرائی نے جنم لے لیا ہے۔ اس کے خیالات اور عمل قید سے آزاد ہوگئے ہیں اور یہ آزادی دھیرے دھیرے اس کی تباہی کا سبب بننے لگتی ہے اور وہ بےچاری چارلس کی محبت میں تنہا ہوکر باغ میں اس جگہ آ بیٹھتی ہے جہاں ان دونوں نے جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھیں اور ہم بالزاک کے چارلس کی شخصیت اور کردار پر تبصرہ کے بعد دھیرے دھیرے ذہنی طور پر تیار ہو جاتے ہیں کہ چارلس کا کردار اپنے اندر بہت سی کمزوریاں لیے ہوئے ہے اور ہمیں یہ احساس ہونے لگا ہے کہ آخر چارلس اسے ایک دن بھول جائے گا۔
یوں آنے والے برسوں میں حالات تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مادام گرینڈ کی موت، یوجین پر گرینڈ کا اپنے سارے ”رازوں“ کا انکشاف وغیرہ۔ اس طرح پانچ برس گزر جاتے ہیں اور یوجین اور گرینڈ کی ساکت اور جمود بھری زندگی کا ہر دن اپنے گزرے ہوئے کل سے قطعاً مختلف نہیں۔ زندگی اسی پرانی ڈگر پر بوڑھے بیل کی طرح پگ ڈنڈی پر اپنی منزل سے ناآشنا گھسٹ رہی ہے اور جب گرینڈ روتا ہے تو ایک رات یوجین جو پچھلے سات برسوں سے اپنے محبوب کا انتظار کر رہی ہے آخر تھوڑی سی مایوسی بھری حسرت سے کہتی ہے۔
”نائے نن آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس نے سات برسوں میں مجھے ایک خط بھی نہیں لکھا۔“
وقت دھیرے دھیرے سُوئی کی سُست رفتار گھڑیوں کی طرح گزرتا ہے۔ گرینڈ کی جتنی رفتار سے صلاحیتوں اور جسمانی طاقت میں کمی آ رہی ہے، حرص اور لالچ اسی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ یوجین کی محبت اب محبت سے بڑھ کر ”جنون“ کی شکل اختیار کر گئی ہے اور یہ جنون خود اس کی ذات کو چاٹ رہا ہے اور اس کا یہ جنون مسلسل ڈیس گراسنز اور کروچاٹس فیملیوں کے لیے نقصان اور گھاٹے کا سبب بن رہا ہے۔
آخر ایک روز چارلس کا زہریلا خط یوجین کو ملتا ہے اور ان گزرے برسوں کی اذیت، سختی اور تکلیفوں نے یوجین کےاعصاب کو مضبوط بنا دیا ہے اوریوجین کو فیصلہ کرنے میں دیر ہی نہیں لگتی۔ اب وہ ڈری سہمی لڑکی نہیں رہی جسے چارلس چھوڑ کر گیا تھا۔ ایک عام شخص کے نزدیک یوجین کا جذباتی ہوکر چارلس کے باپ کے ساہوکاروں کو ادائیگی کرنے کا فیصلہ اور فیاضی لمحاتی جذبات کا نتیجہ ہے جسے کسی بھی حالت میں نہیں سراہا جا سکتا اور بالزاک کے لیے یہ بڑا خوبصورت موقع ہے کہ وہ چارلس اور یوجین کے برسوں پر محیط تعلقات کو یک لخت ختم کر دے اور ساتھ میں ساہوکاروں کا معاملہ بھی فوراً نمٹا دیا گیا ہے اور جو آخری گفتگو چارلس اور ڈی بان نانز کے درمیان ہوتی ہے وہ چارلس کی شخصیت کو قاری کے اوپر مکمل کھول دیتی ہے۔ اب یوجین کو اپنے ”تابناک مستقبل“ سے قطعاً کوئی اُمید نہیں رہی اور نہ ہی اسے یہ اب خیال ہے کہ آخر ڈی بان فانز کو کون سی چیز اس کی طرف مسلسل اتنے سالوں سے اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ یوجین فوراً فیصلہ اور اس پر عمل بھی کرتی ہے اور سارے فیصلے کرنے کے بعد وہ اپنی بربادی پر آنسو بہانے بیٹھ جاتی ہے۔ یہ کہانی کے آخری صفحات ہیں۔ یوجین اب خدا کی طرف مڑتی ہے۔ اب خدا اس کی تعبیر بن گیا ہے اور یوجین اپنے باپ کی برسوں کی کمائی کو عام لوگوں کی فلاح کے لیے خرچ کرتی ہے، لیکن وہ جن لوگوں کے لیے یہ سب کچھ کر رہی ہے ان کے دلوں میں یوجین سے زیادہ سونے کی محبت نے گھر بنائے ہوئے ہیں۔
یوجین اور اس کی ماں کے لیے مذہب محبت کی غیرضروری طاقت اور عقیدت کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ ان دونوں کے نزدیک مذہب کا مطلب چرچ کے بنائے ہوئے دقیانوسی اُصولوں کی مکمل تابعداری کرنا ہے، چرچ کے پادری کی اندھا دھند تابعداری کرنا ہے۔ اس سے قطعاً انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیسا ہے اور کیوں ہے۔ انھیں بس خدا کی خوشنودی سے غرض ہے، جو خدا کی زمین پر نیک بن کر رہنے کے خواہاں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جب موت کا لمحہ قریب آئے تو ان کی روحیں پاکیزگی سے چمک رہی ہوں نہ کہ گناہوں سے لتھڑی پڑی ہوں اور آسمان کی طرف سفر کرتے ہوئے ان کی روح انتہائی ہلکی اور مطمئن ہو۔
اس ناول میں چرچ کے نمائندوں کا کردار ہمارے معاشرے کے مولوی کی طرح گھنائونا ہے مثلاً ایسے کروچاٹ کو ملاحظہ فرمائیں یا پھر ایک اور گروپ کی طرف سے بھیجے گئے پادری کے کردار پر غور کریں۔ ایک گھنائونا کردار جو یوجین کے پاس جاکر اسے شادی پر قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی لمحے اسے بھیجا جاتا ہے جب یوجین انتہائی جذباتی بحران اور شکست و ریخت کا شکار ہے۔ اس ناول میں پادری کا کردار چرچ سے ہٹ کر معاشرے کے اور طبقات میں غیر ضروری طور پر دخیل سا ہوگیا ہے اور اسی طرح ہمیں چرچ کے زوال کی بھی داستان رقم ملتی ہے۔
بالزاک دراصل ہر اس معاشرے کی تصویر کشی کررہا تھا جہاں مرد کو ہر بات میں برتری ہے اوراسی معاشرے میں ہمیشہ عورت مرد کی محکوم ہوتی ہے اور مادام گرینڈ، یوجین، نائے نن اسی استحصال کی خوبصورت مثال ہیں۔ جب گرینڈ یوجین سے ناراض ہوتا ہے تو ہمارے پاکستانی مرد کی طرح اپنی بیٹی کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر اس نے اپنے باپ کے گھر رہنا ہے تو پھر اسے وہی کچھ کرنا ہوگا جو اس کا باپ چاہے گا اور یہ جاگیردارانہ سوچ کو ظاہر کرتا ہے اور میرے خیال میں ہر مرد ہمارے معاشرے میں اسی سائیکی اور سوچ کا نمائندہ ہے۔ مرد نے عورت سے اس کی آزادی، ہنسی، قہقہے، کہیں آنے جانے کی آزادی، اپنی مرضی منشا سب کچھ چھین لیا ہے اسے چاردیواری میں مقید کر دیا ہے اور خود دوسروں کی ماں بہن کے شکار پر نکل گیا ہے لیکن وہ عورت سے اس کی ایک چیز نہیں چھین سکا۔ وہ ہے اس کا دل… اس کی محبت… وہ جسے چاہے دے اور جسے چاہے نہ دے اور کیسا ستم ہے کہ مرد چاہتا ہے کہ وہ محبت بھی اس سے پوچھ کرکرے اور جب عورت محبت کرلیتی ہے تو پھر بھی وہ مرد کی محتاج ہوتی ہے کہ وہ اس کی محبت، اپنی کمٹمنٹ کی لاج رکھتا ہے کہ نہیں اور مرد کا جب جی چاہتا ہے وہ ’’کاروباری شادی‘‘ کر لیتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسی شادیاں عام ہیں اور بالزاک کی عظمت کو سلام کرنا پڑتا ہے کہ اس نے آج سے ڈیڑھ سو سال قبل فرانسیسی معاشرے کو ننگا نہیں کیا تھا بلکہ وہ ہمارے آج کے پاکستانی معاشرے کا نقاب بھی اتار رہا ہے۔ یہاں بھی عورت کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ وہ آج بھی اپنے باپ کے سفر میں اس کی مرضی پر چلنے کی پابند ہے۔ آج بھی کئی چارلس یوجین سے محبت کرتے ہیں لیکن پھر بھول جاتے ہیں اور یوجین ہمیشہ جلتی رہتی ہے۔ جنگ اخبار کی ایک خبر کے مطابق پاکستانی بیوروکریسی کے ساڑھے پانچ ہزار افسران میں سے ساڑھے چار ہزار افسران کی شادیاں اس طرح ”کاروباری“ ہوئی ہیں جو اعلیٰ سیاسی اور کاروباری خاندانوں میں ہوئی ہیں اور ہوتی رہیں گی یہاں بھی… ”چارلس“ پیدا ہو رہے ہیں۔
یوں بالزاک ہر دور اور ہر معاشرے کا ادیب ہے اور یہی عظمت اسے دنیائے ادب کا بڑا ادیب بناتی ہے۔ بالزاک کو پڑھنے کا اپنا ایک مزہ ہے لیکن اسے ترجمہ کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ میں ترجمہ کے معیار پر ہرگز دعویٰ نہیں کروں گا کیوںکہ بالزاک ایسا دعویٰ نہیں کرنے دیتا۔ بالزاک کے دوسرے ناولز بھی میرے زیر ترجمہ ہیں کیوںکہ بالزاک جس سفاکی سے معاشرے کو ننگا کرتا ہے وہ اور ادیب نہیں کر سکتا۔
مجھے نہیں پتا اس ناول کو پڑھتے ہوئے آپ نے کیا محسوس کیا ہے۔ آپ کے آنسو نکلے ہیں یا نہیں لیکن پہلے اس ناول کو پڑھتے اور پھر اس کا ترجمہ کرتے ہوئے میرے اپنے گال ہر بار گیلے ضرور ہوئے ہیں۔

— with ‎بک کارنر جہلم‎ and Rauf Klasra.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2797511890479326

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo