کیا عجیب قصہ ہے، موت بھی تجارت ہے!

[ad_1]

علی سخن ور
ہم اپنی موت کے بارے میں عموماً کبھی نہیں سوچتے، حادثہ ہوگا تو دوسروں کے ساتھ، کرونا کا حملہ ہوگا تو دوسروں پر، چھت گرے گی تو دوسروں کی اور بس الٹے گی تو دوسروں کی، ہم خود کو کبھی کسی خوفناک یا تباہ کن منظر کا حصہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ہم نے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا کہ ایک روز ہمیں بھی تابوت میں لیٹ کر لوگوں کے کندھوں پر سوار ہوکر قبرستان تک جانا ہوگا، لوگ واپس آجائیں گے، ہم ساتھ نہیں ہوں گے۔ سچ پوچھیں اگر ہم خود کو دن میں ایک بار قبرستان کی طرف رواں دواں اس تابوت میں لیٹا ہوا محسوس کرلیں تو اس معاشرے کے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہوجائیں گے۔سردست صورت حال یہ ہے کہ کرونا لوگوں کو نگل رہا ہے۔ امریکا، برطانیہ، اٹلی، سپین اور ایران سے آنے والی خبریں اب خود ہمارے دیس میں ہمارے آس پاس جنم لے رہی ہیں۔ ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل، پولیس والے، تاجر، حکمران، اپوزیشن غرض مرنے والوں کی فہرست میں ہر شعبہ زندگی کی نمائندگی موجود ہے۔ معلوم نہیں اگلا نشانہ کون ہو لیکن ذخیرہ اندوزی، بد دیانتی، چور بازاری، لوٹ مار، حق تلفی، سب کچھ پہلے کی طرح جاری ہے۔ارد گرد میتوں کا ڈھیر بھی ان بے خوف لوگوں کو راہ راست پر لانے میں ناکام رہا۔ حفاظتی ماسک کی چور بازاری سے شروع ہونے والا سفر جان بچانے والی دواﺅں کی کئی سو گنا زیادہ قیمت پر فروخت سے ہوتا ہوا پرائیویٹ ہسپتالوں کی راہداریوں تک پہنچ گیا ہے۔قبرستان اور تجوریاں دونوں کے بھرنے کا عمل جاری ہے۔ لوگ لوگوں کا گلا کاٹ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو کاروبار کر رہے ہیں۔
پاکستان میں پٹرول کے موجودہ بحران کو ہی دیکھ لیں جس کی بنیاد پر سوشل میڈیا صبح و شام حکومت کو بدنام کرنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی کھپت کم ہونے سے تیل کی قیمتیں انتہائی کم سطح پر آگئیں۔حکومت نے قیمتوں کی اس کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کرنے کےلئے قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا۔پہلے تو انفرادی سطح پر پیٹرول پمپ والوں نے ذخیرہ شدہ تیل کی فروخت کو اس امید پر روکنے کی کوشش کی کہ شاید اس طرح حکومت پر تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافے کےلئے دباﺅ ڈالا جاسکے، کچھ مقامات پر مبینہ طور پر پمپ مالکان کی رضامندی سے مین مارکیٹوں سے ہٹ کر بنی ہوئی ایجنسیوں کو بلیک میں تیل سپلائی کردیا گیا۔پھر سرکاری تیل کمپنی کے سوا جتنی بھی پرائیویٹ تیل کمپنیاں ہیں انہوں نے اپنے ڈیلرز کو سپلائی روک دی۔اگرچہ اس طرح کی عوام دشمن سرگرمیوں کو روکنے کےلئے سسٹم پہلے ہی سے اپنی جگہ موجود تھا لیکن سسٹم چلانے والے آنکھوں پر مفادات کی چادر ڈالے سوتے رہے۔انفرادی سطح کی یہ بد دیانتی، ہمارے قومی اداروں اور ہماری قومی شناخت دونوں کو ہی انتہائی خوفناک انداز میں متاثر کر رہی ہے۔لیکن اس سب کے باوجود ہم نیوزی لینڈ کی طرح کرونا کے خلاف جنگ میں کامیابی کا خواب بھی مل جل کر دیکھ رہے ہیں۔
ملکی اداروں کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں ہے، معاملات کی بگڑتی ہوئی صورت حال ہر جگہ ایک سی نظر آئے گی۔ایک اخباری خبر کے مطابق، ریلوے کی خراب اقتصادی حالت کے باعث غیر ضروری عملے کو کم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔واقفان حال کا کہنا ہے اگر کرونا اور دیگر عوامل کے باعث ٹرینیوں کی آمدو رفت یونہی نیم معطل رہی توملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بن جائے گی۔ویسے کرونا تو ایک عارضی جواز ہے ، ورنہ خبروں کے مطابق اس سے پہلے بھی ٹکٹوں کی بلیک، قلیوں کے ذریعے ایک متبادل سیٹ بکنگ سسٹم، کارگو کے ذریعے بھیجے جانے والے پیک سامان کا کھلی ہوئی حالت میں منزل تک پہنچنا، بوگیوں میں خراب پنکھے، فیوز لائیٹیں،ناکارہ ائر کنڈیشنگ نظام، ڈائیننگ کار سے غیر معیاری اور بے انتہا مہنگے کھانے کی فراہمی، پلیٹ فارمز پر لگے سٹالز پر تیس روپے کی چیز ستر روپے میں بیچنے کا عمل، ٹرین کے واش رومز سے ٹونٹیوں کا غائب ہونا، ٹرانسپورٹرز کی مبینہ مشاورت سے ٹرینوں کے سٹاپ اور ٹائم تبدیل کرنا اور افسران کی ان تمام معاملات سے ارادی چشم پوشی، عام تھی۔ اس سب کا براہ راست نقصان اب سب کو سہنا ہوگا۔ موٹر ویز نے ویسے بھی فاصلوں کو گھٹا دیا۔ ملتان سے راولپنڈی کا سفر موٹر وے کے ذریعے تقریباً ساڑھے چھ گھنٹے میں طے ہورہا ہے جبکہ یہی فاصلہ ٹرین کے ذریعے آج بھی گیارہ سے بارہ گھنٹے میں مکمل ہورہا ہے۔ راستے میں ٹرین لیٹ ہوجائے تو تو دو تین گھنٹے مزید بڑھ جاتے ہیں۔خود ہی بتائیے کہ ان حالات میں ریل سے سفر کرنے والوں کی تعداد کتنی رہ جائے گی۔ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی چاہئے۔
پی ٹی وی پر بھی ایک نظر ڈال لیں تو کڑوا سچ یہ کہ پندرہ بیس برس پہلے دنیا کے بہترین چینلز میں شمار ہونے والے پی ٹی وی کے ناظرین ہمارے ملک میں کم رہ گئے ہیںتوباہر کی دنیا میں کون دیکھے گا۔ ایک دور میں بہترین ڈرامے، اعلیٰ ترین گیت اور عمدہ ترین معلوماتی پروگرام پیش کرنے والا پی ٹی وی آج چینلز کی دوڑ میں کہیں دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ وہ تو بھلا ہو ترکی ڈرامے ارتغرل غازی کا ‘کہ ا س نے ایک بار پھر لوگوں کو پی ٹی وی کی طرف مائل کیا۔ اس ڈرامے کا ایک فائدہ تو یہ ہواہے کہ پی ٹی وی میں زندگی کی رمق پیدا ہوئی ہے، دوسرا فائدہ یہ کہ ہمارے نوجوانوں کو مسلمانوں کی تاریخ اور اپنے آباﺅ اجداد کی جدوجہد سے آشنا ہونے کا موقع ملا ہے۔ماضی میں کھوئے رہنے اور ماضی سے رابطہ رکھنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ماضی سے رابطہ زندگی کی کامیابی کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔کبھی اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے، سوچیے، آج سے دس بارہ سال پہلے آپ کے خاندان میں ، محلے میں ، دفتر میں، مارکیٹ میں کون کون سے لوگ تھے جو اب دنیا میں نہیں ہیں، آج سے بارہ پندرہ سال بعد کے منظر سے غائب ہونے والوں کی فہرست میں ہمارا آپ کا نام بھی ہوسکتا ہے۔سنبھل جائیے، ابھی تک گیند آپ کے اور ہمارے کورٹ میں ہے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo