اس نا انصافی کا خاتمہ کریں!

[ad_1]

انجینئر افتخار چودھری
ہمارے ہاں پسے اور مسلے ہوئے لوگوں کی کمی نہیںہے۔ پاکستان کے کونے کونے سے احتجاج اور چیخیں سنتے رہتے ہیں ۔ کبھی ینگ ڈاکٹرز جنہیں دھکا دے کر کرونا کے سامنے ایسے پھینک دیا جاتا ہے جس طرح بھوکے شیر کے سامنے کوئی شخص۔ہزار بار لکھا گیا سیکڑوں بار کہا گیا اور پھر کہیں جا کر ان کی سنی گئی۔ خبر ملی ہے کہ بظاہر موت کے منہ میں جانے والوں کو اچھا معاوضہ ملے گا۔لیکن آج میں بات کرنے والا ہوں پاکستانی پروفیشنل طبقے کا‘ جن کے ہاتھ میں ڈگری بھی ہے اور ہنر بھی اور ان کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ بھی ہے۔میٹرک کے بعد تین سالہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کرنے والوں کا دکھ، اس کے بعد چار سالہ بی ٹیک آنرز کرنے والوں کا دکھڑا ۔یہ کیا چاہتے ہیں، آزادی بالکل اس طرح کی آزادی جو جبر و استبداد کے شکنجے میں پھنسے ہوئے لوگ چاہتے ہیں ۔ان کی قسمت کا فیصلہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ہاتھ میں ہے ۔سائنس پڑھنے والے ان انجینئرز سے انہیں بالکل بھی گلہ نہیں لیکن یہ خود اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہیں جینے دیا جائے۔یہ لوگ سات سال ٹیکنیکل انجینئرنگ پڑھتے ہیں جب یہ ڈپلومہ کےلئے ٹیکنیکل کالج جاتے ہیں تو پہلے سال ہی سے انجینئرنگ نصاب پڑھتے ہیں دوسرا تیسرا سال تو ان کا مختلف لیبارٹریوں میں گزرتا ہے۔ الیکٹریکل اور الیکٹرانکس کی فیلڈ میں عملی کام کرتے ہیں، ویلڈنگ کرتے ہیں، فونڈری کا تجربہ کرتے ہیں، اگر آٹو پڑھتے ہیں تو عملی طور پر تعلیم کے ساتھ تجربہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد تو چار سال انہیں جان لڑانا پڑتی ہے تب کہیں جا کر وہ بی ٹیک مکمل کرتے ہیں۔ مگر دکھ یہ ہے کہ ان لوگوں کی ایک ٹیکنالوجی کونسل ہے جو پاکستان انجینئرنگ کونسل کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ہائر ایجو کیشن کمیشن کے پاس اس کا ایکٹ گئے بھی مہینوں ہو گئے ہیں لیکن وہ اسے سینٹ میں نہیں جانے دے رہی اس میں ان کا سیلری سٹرکچر اور جاب کی نوعیت کے حوالے سے سب کچھ موجود ہے۔
1974 ءمیں بیچلر آف ٹیکنالوجی کا اجراءکیا گیا ۔یہ پیپلز پارٹی کے دور کا ایک سنہری کارنامہ تھا ۔اس وقت بھی انجینئرنگ یونیورسٹی کی طلباءیونین اس کی مخالفت کر رہی تھی۔پولی ٹیکنیک لاہور میں جب میں نے اسلامی جمعیت طلبہ کی بنیاد رکھ تو اس میں نعیم سرویا اور اکمل جاوید میرے معاون تھے وہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے صدر اور جنرل سیکرٹری تھے ۔بعد میں، میں نے اپنے کالج کا الیکشن جیتا تو ان کے دل نرم ہوئے ۔یوں انجینئرنگ یونیورسٹی کے نمائندوں نے بی ٹیک کی مخالفت نہ کی۔ یہ ایک تاریخی بات ہے جس کا تذکرہ آج ضروری تھا۔یہ ایک ٹیکنیکل تعلیم تھی اور اس کے بارے میں سوچا گیا کہ پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک فنی مہارت کے حامل طلباءمیدان میں نہ آئیں ۔کسی کو یاد ہو کے نہ یاد ہو، ایشیا کا سب سے بڑا پولی ٹیکنیک راولپنڈی میں بنایا گیا جو بعد میں ضیاءدور میں فوجیا لیا گیا کہ یہاں ہنگامے ہوتے ہیں ۔جاپان نے پولی ٹیکنیک اداروں کے قیام میں بڑی مدد دی۔جاپانیوں کا خیال تھا کہ جب تک ہمارے صارف ممالک میں فنی تعلیم سے آراستہ نوجوان نہیں ہوں گے اس وقت تک ہماری مصنوعات کو ترویج نہیں ملے گی۔اور آپ نے دیکھا کہ صرف ڈپلومہ انجینئرز نے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی پاکستان کو نام کما کر دیا ۔آپ حیران ہوں گے کہ میں جب ہنڈائی موٹرز کا نیشنل سروس منیجر تھا ہنڈائی کوریا میں جو دنیا بھر کے فنی ماہرین کا مقابلہ ہوا، اس میں پہلی تین میں سے دو پوزیشنیں پاکستانی ڈپلومہ انجینئر ز نے جیتیں۔اسی طرح جو بی ٹیک انجینئرز سات سال پڑھ کر میدان میں آئے انہوں نے بھی کمال دکھائے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ نیشنل ٹیکنالوجی کونسل آزاد اور خود مختار ادارہ نہیں ہے۔یہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے نیچے دبا ہوا ہے جو اسے سانس بھی نہیں لینے دے رہی۔یہاں مقابلہ بی ایس سی انجینئر اور بی ایس ٹیک کا نہیں ہے۔ دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی مختلف شعبے ہیں ۔ایک پاکستان ہی ایسا ملک ہے جہاں ٹیکنالوجی کو سائنس گریجوایٹس کے نیچے کر دیا گیا ہے جو ہر موقع پر انہیں زچ کر رہے ہیں۔ اس دن سکھر سے ایک شخص کا فون آیا اس کا کہنا تھا ہمارے سر پر پیچھے جانے کی تلوار لٹکی ہوئی ہے ہمیں فیلڈ سے ہٹا کر دفتروں میں لگا دیا گیا ہے۔حیرانگی کی بات ہے کہ ایک ٹیکنیکل کوالیفائڈ شخص دفتر میں کلرکی کر رہا ہے اور نان ٹیکنیکل فیلڈ جاب کر رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں اس نا انصافی کو ختم ہونا چاہئے اور اس کے لئے میں ان سطور کی وساطت سے وفاقی وزیر شفقت محمود سے کہوں گا کہ آپ پہلے بھی ان لوگوں سے مل چکے ہیں اب بھی مل لیں اور مسئلے کو حل کریں ۔یہ لوگ پچھلے دنوں سڑکوں پر تھے۔ مجھے سی ڈی اے کے اہم ذمہ دار ڈپلومہ انجینئر چودھری طارق نے دعوت بھی دی تھی کہ آپ ایچ ای سی کے باہر مظاہرے میں شریک ہوں ۔میں نہیں جا سکا اس کی بنیادی وجہ تھی کہ بطور حکومتی پارٹی کے ایک ذمہ دار کے میرا جانا بنتا بھی نہیں تھا لیکن وہاں انہیں کسی افسر نے لولی پاپ دے کر روانہ کر دیا۔ وزیر تعلیم شفقت محمود سے بھی ان کی ملاقات ہوئی ہے ،وہاں بھی مایوسی کے سوا ان کے حصے میں کچھ نہیں آیا۔میں سوچتا ہوں کیا ہم نے مخالفت خریدنے کے لئے حکومت لی ہے۔اس دن وہ ایک سی این رونے لگا اور اس نے کہا لگتا ہے ہمیں اب گریڈ انیس سے نیچے گریڈ سولہ میں لایا جائے گا۔خیر یہ تو میرے ہوتے ہوئے ناممکن ہے۔اس حکومت کے قیام اور نئے پاکستان کے قیام کے لئے جو کوششیں کی ہیں مجھے اس کےلئے کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔
یہ لاکھوں لوگ ہیں، ان کی فیملیز کی تعداد شامل کر کے لاکھ نہیں لاکھوں بنتے ہیں۔سچ پوچھئے جب ہم کامیاب نوجوان پروگرام کی بات کرتے ہیں ہنر مند پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں تو جو ہنر مندی کی تعلیم لے کر آئے ہوئے مارکیٹ میں موجود ہیں ان کے ساتھ یہ ظالمانہ سلوک کرکے اپنے ہی نعرے کی نفی کر رہے رہیں۔ انجینئرنگ ٹیکنالوجسٹس کا کوئی سروس سٹرکچر نہیں ہے اس کو منظوری ہونا چاہئے، یہ بل سینیٹ میں پیش ہونے کے لئے تیار ہے مگر اس پر پاکستان انجینئرنگ کونسل قابض ہو کر بیٹھی ہوئی ہے۔ان انجینئرٹیکنالوجسٹ کو معاشرے میں ہم نے کیا دیا ہے؟کیا یہ سات سال پڑھنے والے چھ سال پڑھنے والوں سے کم تر ہیں؟جی ہاں ہیں اور اس وقت انہیں اس بد سلوکی کا سامنا ہے ۔ان لوگوں کو گریڈ سترہ میں لیا جائے ،پورا سروس سٹرکچر تیار ہے، اسے سینٹ میں لایا جائے ۔میں نے قائد ایوان ڈاکٹر وسیم شہزاد سے بھی بات کی ہے۔ میں اپنے دیگر ساتھیوں اور دوستوں سے بھی ملتمس ہوں کہ آگے چل کر ہم پچاس لاکھ گھر بنانے جا رہے ہیں کیا ہمیں ان ٹیکنیکل تعلیم یافتہ لوگوں کی ضرورت نہیں ؟ انجینئر ارشد داد ان کی سنیں ان کا ہاتھ پکڑیں کیا سارے اچھے کام پیپلز پارٹی کے کھاتے ہی جائیں گے۔آج مرحوم عبدالحفیظ پیرزادہ کا خوبصورت چہرہ سامنے آ گیا جنہوں نے اس کو منظور کیا تھا ۔ چودھری شفقت محمودبھی یہ کام کرکے تاریخ میں اپنا نام زندہ کر لیں۔ فیڈرل اور صوبائی پبلک سروس کمیشن میں لا کر ان کو جابز دی جائیں۔ پاکستان میں جو یونیورسٹیز ہیں یہاں ایم ایس اور پی ایچ ڈی ٹیکنالوجی کا اجراءکیا جائے۔
آپ حیران ہوں گے کہ پاکستان کی انجینئرنگ یونیورسٹیز میں ڈپلومہ انجینئرز جو میٹرک کے بعد تین سال پڑھ کر جاتے ہیں انہیں ایف ایس سی کے برابر نہیں گردانا جاتا ،اگر مانا بھی جاتا ہے تو انہیں بیس فی صد کوٹہ ملتا ہے جبکہ ٹیکنالوجی میں اب ایف ایس سی کو چالیس فی صد کوٹہ دیا گیا ہے اور آئے روز یہ بڑھتا رہتا ہے۔ پاکستان انجینئرز کونسل ہے کیا‘ اس کے الیکشن شائد آپ کو علم نہیں ایم این اے ایم پی اے سے دس گناہ زیادہ قیمتی ہیں۔ ایک ووٹ کی قیمت اب لاکھوں میں چلی گئی ہے اور شنید ہے اس کا آڈٹ بھی نہیں ہوتا ۔
ایک جانب عمران خان وزیر اعظم ہوتے ہوئے اپنے اخراجات پر کنٹرول کئے ہوئے ہیں دوسری جانب ایک پاکستان انجینئرنگ کونسل ان کے ان اقدامات کا مذاق اڑا رہی ہے۔ جناب وزیر تعلیم صاحب میری ذاتی رائے ہے کہ ہم عمران خان کے سپاہی ان کی زندگی آسان بنائیں۔ اچھا نہیں لگتا کہ یہ لاکھوں لوگ اسلام آباد آ کر سڑکوں پر بیٹھ کر ہمارا تمسخر اڑائیں۔ اس سے پہلے کہ معاملہ بگڑے ہمیں ان کو سننا چاہئے ،اس دن بیٹی کی دوست فاطمہ بھی اس طرح کا رونا رہی تھی کہ آن لائن امتحان میں وہ بچے کیسے شریک ہوں گے جہاں فور جی ہے ہی نہیں؟یہ کس قدر بنیادی سوال ہے کہ ہم کشمیر گلگت بلتستان اور دور دراز کے لوگوں کو دلوں سے دور کر رہے ہیں۔ہم انشاءاللہ ان چیلنجز سے نبٹیں گے۔ ان کے مسائل حل کر کے ان کا بازو تھام کر یہ ہماری قوت ہیں۔ یہی بات فواد چودھری سے اس دن کہی تھی یہی شفقت بھائی سے کہہ رہا ہوں کہ اس سے پہلے یہ چیزیں ہمارے ہاتھوں سے نکل کر حفیظ پیرزادئی لوگوں کے پاس جائے ہمیں اس کا حل ڈھونڈنا ہو گا۔میں آپ کا بھائی ہونے کے ناطے ان مضطرب لوگوں کو لے کر آپ کے پاس کب آﺅں؟۔
(پنجاب حکومت کے ترجمان ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo