اِس وقت یہ بات اہم نہیں کہ اگر سیّدہ نسیم ہمدانی ہ…

[ad_1]

اِس وقت یہ بات اہم نہیں کہ اگر سیّدہ نسیم ہمدانی ہمارے درویش صفت محمد حَسن عسکری کا دِل نہ توڑتیں تو بُڈھا گوریو اور سرد ویراں گھر کے بعد بالزاک کے وہ ناول بھی ترجمہ ہو جاتے جو اب رؤف کلاسرا اپنی سابقہ کلاس فیلو فریال کی محبت میں سرشار ہو کے اور اپنے بڑے بھائی آئی سرجن ڈاکٹر نعیم کلاسرا کی وصیت کی تکمیل میں کئے جا رہے ہیں۔
رؤف نے لکھا ہے کہ زکریا یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں اس نے داخلہ لیا تو پہلے دن ٹیچر نے پوچھا کسی نے انگریزی کی کوئی کتاب/ناول بھی پڑھ رکھا ہے؟ اور رؤف نے وار اینڈ پیس کا نام لیا تو اُستادِ محترم نے عینک اُتار کے کہا are you sure مجھے یقین ہے کہ یہ ڈاکٹر خواجہ امتیاز علی مرحوم ہوں گے۔ کیونکہ مظہر سعید کاظمی نوجوانوں کا دل نہیں توڑتے تھے اور ڈاکٹر شمس الدین مرحوم کا فیلڈ فکشن نہیں تھا۔
تب عسکری صاحب نے لکھا تھا کہ فرانسیسی زبان پیچیدہ اور تہہ دار محسوسات کے اِظہار پر جس طرح قادر ہے وہ ہُنر ابھی اّردو زبان کے پاس نہیں سو رؤف کے اصل اُستاد ڈاکٹر نعیم کلاسرا نے کہا کہ مرکب اور پیچیدہ فقرے کا ترجمہ دو دو تین تین جملوں میں کرو سو رؤف نے بہت رواں اور عام فہم زبان میں نہ صرف Eugenie Grandet کا ترجمہ انگریزی میں کر دیا بلکہ فرانس، یوجین گرینڈ اور بالزاک کے عنوان سے ایک عمدہ تنقیدی نوٹ بھی شامل کر دیا ہے۔ اس کے ترجمے میں سرائیکی کی شیرینی بھی شامل ہو گئی ہے جیسے ”منی منائی صداقت، شودی میری دھی لیکن عظیم بالزاک کے دِل میں سونے چاندی کی محبّت میں اپنے بیوی بچوں کی زندگی اجیرن کرنے والوں کے خلاف جو نفرت تھی اسے رومانوی خفگی کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔
علاوہ ازیں دو ایک مقامات دیکھئے
آپ ہر کاروباری شخص کو اپنے دروازے کے قریب ایک لکڑی کے پھٹے پر بیٹھا ہوا پائیں گے جو اپنے انگوٹھے کو خواہ مخواہ گھماتا رہتا ہے۔ انگور اُگانے والے زمین دار لکڑی کے تاجر سُود خور عام کاروباری حضرات سب کے سب سورج کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں وہ خوف زدہ ہو کر سوتے ہیں کہ کہیں صبح سویرے یہ نہ سُن لیں کہ رات بھر برف گِرتی رہی وہ بارش سے ڈرتے ہیں ہوا اور خُشکی سے بھی بس ایسا موسم چاہتے ہیں جو ان کی مرضی پر چلتا ہو۔
رؤف کلاسرا نے اس ناول کے انجام کو شاید اس لیے المناک کہا ہے کہ ہیروئن کی شادی آدھے پونے ہیرو سے نہیں ہوئی، حالانکہ خسیس باپ کی دولت نیک دل ہیروئن کو ملتی ہے تو ایک دو عادتیں اس کی اپنے باپ سے ملنے لگ جاتی ہیں۔ سو وہ اپنے بزرگ شوہر کو قائل کرتی ہے کہ بچے پیدا کرنے کا خیال بھی دل میں نہ لائے ناول کے آخر میں جہاں ہیروئن بوڑھے لوگوں کے لئے گھر، عوامی لائبریری یا چرچ کی نگرانی کے سکولوں کے قیام پر خرچ کرتی ہے تو گمان گذرتا ہے کہ اپنے آبائی قصبے میں جو رؤف بعض کم ظرفوں کی مزاحمت کے باوجود فلاحی کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اسکی خاطر بالزاک کے ناول میں کچھ ”اصلاحی تصرف“ تو نہیں کر لیا۔ یہ کتاب بہت خوبصورتی سے بک کارنر جہلم نے شائع کی ہے۔

ڈاکٹر انوار احمد
Dr Anwaar Ahmad


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2794285164135332

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo