قائداعظم نے قریبی ساتھیوں کی تربیت کیسے کی تھی

[ad_1]

ہر چند نادر مثالیں
پیارے پڑھنے والے کرپشن سے داغدار اس ملک کے اکثر سیاستدانوں کے مقابلے میں ضروری معلوم ہوتا ہے یہ دیکھیں کہ قائداعظم کے قریبی ساتھیوں کا کردار کس قدر دیانتدارانہ تھا خود قائد پاکستان کے بانی تھے لیکن آج پاکستان میں ان کے خاندان سمیت نہ کسی کی مل ہے نہ زمین جائیداد اور نہ بینک بیلنس قائداعظم کی مالی حالت کافی مضبوط تھی جو انہوں نے محنت کر کے وکالت سے اور سٹاک ایکسچینج سے کمائی تھی لیکن آج انہیں تو چھوڑیں محترمہ فاطمہ جناح اور ان کے کسی عزیز رشتہ دار کا کوئی کاروبار یا زمین جائیداد دکھا دیں ان کے قریبی ساتھی لیاقت علی خان مرحوم تھے جنہیں عرف عام میں قائد ملت کہا جاتا ہے۔ متحدہ ہندوستان میں مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے پاکستان بننے کے بعد وزیراعظم بنے اور راولپنڈی کے جلسہ عام میں انہیں گولی مار دی گئی اور وہ شہید ملت ہو گئے لیگی قائدین آج بھی پاکستان میں ان کی کوئی جائیداد دکھا دیں کوئی مل، کوئی کاروبار حالانکہ وہ ایک چھوٹی سی ریاست کے نواب خاندان سے تعلق رکھتے تھے مہاجروں کو بے تحاشا زمین اور جائیدادیں الاٹ کرنے والے قائد ملت نے اپنے لئے کیا رکھا کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائے ان کی بیگم جو خواتین کی تنظیم اپوا کی چیئرمین تھیں ان کے پاس رہنے کو اپنا گھر تک نہ تھا میں خود کراچی میں نوائے وقت کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھا تو کئی مرتبہ ان کے گھر گیا میری کوشش تھی کچھ نشستوں میں ان یادداشتوں پر مشتمل طویل انٹرویو کر سکوں تین کمرے کا ایک سادہ سا سرکاری گھر تھا جس کی بیرونی چار دیواری تک نہ تھی ڈرائنگ روم میں پرانے صوفے پڑے تھے وہ خود جب مجھے ملیں انتہائی پرانی ساڑھیوں میں باوقار نظر آئیں دولت اور آسائش کا کوئی نشان نظر نہ آیا میں نے اپنی کتاب میں بھی لکھا ہے کہ انہیں لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد غالباً ہالینڈ میں سفیر بنایا گیا تھا سب مورخ یہی لکھتے ہیں کہ وہاں ملکہ سے ان کی دوستی ہو گئی ایک دن تاش کھیل رہی تھیں کہ ملکہ نے شرط لگائی کہ اگر میں ہار گئی تو اپنا ذاتی مکان آپ کے نام کر دوں گی اتفاق سے ملکہ ہار گئی اور انہوں نے پوچھا اپنے کاغذات دو تا کہ میں اپنا گھر آپ کے نام رجسٹری کروا سکوں اللہ اللہ کیا لوگ تھے تحریک پاکستان میں قائداعظم اور فاطمہ جناح کے ساتھ گاندھی، نہرو، ماﺅنٹ بیٹن اور دوسرے لیڈروں کے ساتھ تصویروں میں نظر آنے والی رعنا لیاقت علی خان نے کہا مجھے نہیں چاہئے پاکستان کے نام اندراج کروا دو اللہ جانتا ہے اور آج بھی لوگ اس کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ پاکستان کا سفارتخانہ آج کل جس عمارت میں ہے یہ وہی گھر ہے جو رعنا لیاقت علی خان ملکہ سے شرط میں جیتی تھی اور جس کی ملکیت پاکستان کے نام کروا دی گئی۔ آج کل توشہ خانے سے غیر ملکی شخصیات کی طرف سے ملنے والے تحفے الم غلم کئے گئے اس کا کیس عدالت میں شروع ہے اور ایک رعنا لیاقت علی خان تھیں کہ دوسرے ملک میں سے تحفہ نہیں بلکہ شرط میں جیتی ہوئی کوٹھی پاکستان کے نام لگوا دی نوازشریف، آصف زرداری سے یوسف رضا گیلانی تک انہیں اس گھر کا واقعہ بتانا چاہئے کہ سارے ثبوت موجود ہیں کہ وہ چاہتی تو کم از کم ایک یورپی ملک کے دارالحکومت میں یہ گھر تو رکھ لیتیں لندن کے فلیٹوں والے صاحب بھی غور فرمائیں کہ پاکستان مسلم لیگ کے قائداعظم کے ساتھیوں نے کس کردار کا مظاہرہ کیا تھا اور بعد کی مسلم لیگ کے لیڈروں نے کیا گل کھلائے۔
چوہدری محمد علی پاکستان بنا تو سیکرٹری جنرل تھے جس کی حیثیت پورے ملک میں وہی ہوتی ہے جو آج کل صوبے کے چیف سیکرٹری کی ہے بعد میں وہ وزیرخزانہ بنے۔ بی اے تک میرے اپنے والد کے کلاس فیلو تھے۔ پاکستان بننے کے بعد میری مرحوم والدہ ان کے سرکاری واجبات کہ وہ تحصیل دار اور بعد میں اسسٹنٹ کمشنر بنے تھے اور جو دفتروں میں لٹک رہے تھے لینے میرے بڑے بھائی ڈاکٹر بقا محمد کے ساتھ جب وہ چھوٹے تھے بہاولنگر سے کراچی گئی بھی تھیں اور وزیرخزانہ کی حیثیت سے چودھری محمد علی سے ان کے گھر پر ملی تھیں وہ قصہ سنایا کرتی تھیں کہ چودھری صاحب نے اپنے پرانے کلاس فیلو چودھری جان محمد (مرحوم) کے نام کی بڑی عزت کی اور کہا آپ میرے گھر پر ہفتہ دس دن کے لئے رک جائیں میں سارے کاغذات منگوا کر مرحوم کی گریجویٹی وغیرہ دلوا دوں گا میری والدہ نے کہا کہ وہ مرحوم آغا بدردین سابق سپیکر سندھ اسمبلی کے گھر ٹھہری ہوئی ہیں جو گڑھی یاسین میں جو ضلع شکار پور کی تحصیل ہے وہاں میرے والد مرحوم کے پڑوسی اور دوست تھے جو روزانہ شام کو ان کی شاندار لائبریری میں جایا کرتے تھے، چودھری محمد علی نے 8 دن میں والد صاحب کے تمام واجبات کا کیس بنوا دیا اور میری والدہ دوسری بار ان کے گھر گئیں اور شکریہ ادا کیا چودھری محمد علی بعد میں وزیراعظم بنے جو شخص حکومت کا سیکرٹری جنرل، وزیرخزانہ اور وزیراعظم رہا ہو یہ قائداعظم کی تربیت کا اثر تھا کہ نہ کوئی الاٹمنٹ نہ کوئی فیکٹری نہ کوئی جائیداد ان کے ایک بیٹے خالد انور نوازشریف کے وزیرقانون بھی رہے وکالت کرتے تھے مگر ان کا دامن بھی ہمیشہ صاف ستھرا رہا۔ چودھری محمد علی کو میں لاہور میں لارنس روڈ پر میں کرایہ کے مکان میں ملا وہ نظام اسلام پارٹی کے صدر بھی تھے۔ انتہائی سادگی اور کفایت شعاری سے زندگی کے بقیہ دن بسر کر رہے تھے مشرقی بنگال کے وزیراعلیٰ حسین شہیدسہروردی پاکستان آئے تو یہاں وزیراعظم بھی بنے اور بعد میں ایوبی دور میں وزیرخارجہ بھی رہے نہایت ذہین اور پاکستان میں اپوزیشن کے بانی تھے مگر نہ کوئی گھر نہ جائیداد ایک بیٹی تھی بیگم اختر سلیمان جو گرومندر کراچی کے ایک پرانے وضع کے گھر میں رہتی تھی ان کی بیٹی یعنی سہروردی کی نواسی شاہدہ جمیل پاکستان کی وزیر قانون بھی رہیں جو میرے دوست چوہدری جمیل جن کا تعلق پنجاب سے تھا کی بیگم تھی دونوں میاں بیوی وکیل تھے مگر ان کے پاس بھی لوٹ مار کا کچھ نہ تھا۔
حسین شہید سہروردی کی طرح قائداعظم کے ساتھی آئی آئی چندریگر بھی پاکستان کے وزیراعظم رہے مگر ان کا دامن بھی کسی الائش سے پاک رہا۔ قائداعظم کے ایک ذاتی دوست اصفہانی کراچی کے معروف بزنس مین تھے پاکستان بنا تو انہوں نے واشنگٹن میں اپنی ذاتی کوٹھی قائداعظم کے حوالے کر دی جس میں پاکستان کا سفارتخانہ قائم ہوا اور موجودہ سفارتخانے کی نئی عمارت بننے تک پاکستان کا سفارتخانہ اصفہانی صاحب کے گھر میں ہی ہوتا تھا میں خود اس گھر میں کئی مرتبہ گیا ہوں لاہور میں ڈیوس روڈ پر مسلم لیگ کا دفتر ہے یہ جس کوٹھی میں ہے وہ مشرقی پاکستان کے سیاستدان مرحوم فضل القادر چوہدری کی کوٹھی تھی جو انہوں نے مسلم لیگ کو وقف کر دی۔
کچھ پنجاب کے سیاستدانوں کا ذکر ہو جائے افتخار ممدوٹ جن کی کوٹھی میں ڈیوس روڈ پر قائداعظم ٹھہرا کرتے تھے اور جو پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے ان کی نہ کوئی لوٹ مار نہ کوئی دوسرا قصہ۔ میاں ممتاز دولتانہ بھی پنجاب کے سیاستدان تھے وہ بھی وزیراعلیٰ رہے وہاڑی کے زمیندار تھے تہمینہ دولتانہ انہی کے خاندان سے ہے دولتانہ صاحب کی سیاسی مخالفتیں اپنی جگہ پر انہوں نے روزنامہ نوائے وقت جو میرے دوست عارف نظامی کے والد حمید نظامی مرحوم کی ملکیت تھا کو ایک زمانے میں زبردستی بند بھی کر دیا تھا روزنامہ جنگ میں ملازمت کے دوران جب میں جنگ فورم کا انچارج تھا تو دولتانہ صاحب کے گھر بہت جاتا تھا۔ فیروز سنز مال روڈ پر کتابوں کی سب سے بڑی دکان ہوا کرتی تھی۔ ان کے منتظمین کا کہنا تھا کہ علم دوستی کے حوالے سے آخری عمر تک دولتانہ صاحب کی فرمائش ہوتی تھی کہ ہر اچھی کتاب جو فیروز سنز چھاپے یا باہر سے منگواتے انہیں پہنچا دی جائے۔ چودھری محمد حسین چٹھہ شیخوپورہ کے معروف خاندان کے سیاستدان تھے میں ان کے گھر بہت جاتا تھا اور پرانے قصے سننے کا بھی بہت شوق تھا چٹھہ صاحب کے بیٹے نعیم چٹھہ وزیر بھی رہے مگر خاندانی شرافت اور ایماندداری کا یہ عالم تھا کہ چٹھہ صاحب میرے بڑے تھے مگر جب کبھی لاہور آتے تو کہتے تم مجھے ملنے شیخوپورہ آتے ہو لہٰذا میں تمہارے گھر ضرور آﺅں گا 9 لنک شادمان روڈ پر میں ایک پرانی کوٹھی میں رہتا تھا جو کرائے پر تھی سردیوں کے موسم میں خاص طور پر چٹھہ صاحب آتے تو باہر بہت بڑے صحن میں باغیچے میں بیٹھ جاتے اور اصرار کرتے کہ یہیں کرسیاں منگوا لو۔
غرض کس کس کا نام لوں قائداعظم کے چار سال تک پی اے رہنے والے اپنے دوست کے ایچ خورشید کا بطور خاص ذکر کروں گا 1943ءسے 1948ءتک وہ قائداعظم کے پی اے رہے قیام پاکستان کے بعد قائداعظم نے انہیں ایک مشن پر سری نگر بھیجا جہاں انہیں قید کر لیا گیا قائد کی وفات کے بعد مادر ملت کی ذاتی کوششوں سے انہیں ہندوستانی حکومت سے چھڑوایا گیا پاکستان آئے تو کچھ عرصہ بعد ایوب خانی دور میں وہ آزاد کشمیر کے صدر بھی بنے مجھ سے عمر میں بہت بڑے تھے لیکن میرا زندگی بھر ان سے بہت پیار رہا میں نے قائداعظم پر بہت ضخیم کتاب اورایک سال تک پاکستان ٹیلی ویژن پر روزانہ 5 منٹ قائد کی زندگی سے ایک واقعہ بھی سنایا ہے جو مستند کتابوں سے لیا جاتا تھا انہی واقعات کو مرتب کر کے میں نے کتاب کی شکل دی اور اس میں بڑے نامور اور مستند لوگوں کی زبانی قائد کی زندگی کے واقعات ہیں مجھے قائداعظم سے عشق کی حد تک پیار ہے اور میں خورشید صاحب کے پاس اتنی زیادہ مرتبہ گیا ہوں کہ ان کے گھر کے لوگوں سے عمر بھر میری شناسائی رہی ان کی بیگم ثریا خورشید حیات ہیں جو خورشید صاحب کے ساتھ ایک عرصہ مادر ملت کے گھر پر رہی تھیں خورشید صاحب گورنر جنرل پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے پی اے تھے اور بعد میں خود بھی آزاد کشمیر کے صدر رہے قائداعظم کے وعدے کے مطابق اپنے ذاتی خرچے پر مادر ملت نے انہیں لندن بار ایٹ لاءکیلئے بھجوایا تھا۔ خورشید صاحب پریکٹس کرتے تھے نوجوانی میں قائد کے پی اے بنے ان کی دیانتداری کا عالم یہ تھا کہ وہ چاہتے تو آدھا پاکستان الاٹ کروا لیتے کشمیر کی سیاست کرتے اور آخری دور تک جموں و کشمیر لبریشن لیگ کے صدر رہے مگر ان کے پاس پورے پاکستان میں رہنے کے لئے کوئی گھر نہ تھا عمر بھر کرائے کے مکان میں رہے انہوں نے 38 ملتان روڈ والی کوٹھی خالی کی تو میں نے انہی سے کہہ کر اپنے دوست اقبال ملک کے والد صاحب سے کرائے پر لے لی خورشید صاحب وہاں سے ریس کورس روڈ پر کسی ایک بڑی کوٹھی کی چھوٹی انیکسی میں منتقل ہو گئے وہ بھی کرائے پر تھی ایک پرانی اوپن ریکارڈ ان کے پاس ہوتی تھی وہ لاہور ہائیکورٹ میں پریکٹس کرتے تھے مگر کشمیر کی سیاست کی وجہ سے زیادہ وقت نہیں دے سکتے تھے اس لئے بڑی سادگی اور کفایت شعاری کی زندگی بسر کرتے تھے مادر ملت کے الیکشن میں ایوب خان کے مقابلے میں چیف پولنگ ایجنٹ بھی رہے انہیں جب کوئی کشمیری تحفے میں بٹیر بھیجتا تو مجھے خاص طور پر 38 ملتان روڈ بلواتے جہاں بعد میں میرا گھر اور صحافت کا دفتر بنا خود وہ بمشکل ایک بٹیر کھاتے مگر مجھے اصرار کرتے کہ تم نوجوان آدمی کم از کم چار بٹیر میرے سامنے کھاﺅ زندگی کا آخری سفر یوں کیا کہ کار خراب تھی کہ میرپور آزاد کشمیر سے ویگن میں بیٹھے راستے میں دل کا دورہ پڑا اور فوت ہو گئے جیب کے کاغذات سے لوگوں نے معلوم کیا کہ یہ تو سابق صدر آزاد کشمیر اور قائداعظم کے سیکرٹری کے ایچ خورشید ہے میں ان کے بھائی شاہد کی بارات میں اپنی بیوی یاسمین کے ساتھ مظفر آباد آزاد کشمیر بھی گیا ان کی بیٹی یاسمین پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتی تھیں تو روزانہ اپنے گھر سے مال روڈ تک میل ڈیڑھ میل کا سفر پیدل چل کر طے کرتی تھیں مال روڈ سے بس ملتی ثریا خورشید کے بھائی معروف صحافی خالد حسن پاکستان ٹائمز کے علاوہ واشنگٹن میں نیوز ایجنسی کے سربراہ بھی رہے اور بعد میں خبریں کے نمائندہ بھی بنے یہ پورا خاندان انتہائی باکردار اور ایماندار ہے انہوں نے بار بار کی درخواست کے باوجود متعدد حکمرانوں سے معذرت کی اور کوئی رہائشی پلاٹ بھی نہیں لیا زمین جائیداد اور وراثت میں قائد کے جانثار ساتھیوں میں سے شائد ہی کوئی ایسا ہو جس کی اولاد بھی سیاست میں ایم پی اے یا ایم این اے یا کسی سرکاری عہدے پر فائز ہو خورشید صاحب تو عمر بھر میرے لئے آئیڈیل شخصیت رہے اور میری شاید کبھی کوئی ملاقات 3,2 گھنٹے سے کم ہوتی ہو اخبار کے لئے کمپنی بنائی تو بھی خورشید صاحب نے اس کے کاغذ تیار کئے آزاد کشمیر جو لوٹ مار کا گھر سمجھا جاتا تھا اور جہاں کی لکڑی بیچ کر آدھے سیاستدان کروڑ پتی بن گئے یہ قائداعظم کی تربیت کا اثر تھا کہ خورشید صاحب نے ساری زندگی سادگی اور دیانت داری سے گزار دی۔
ایک آخری بات ملتان میں ہمارے ریذیڈنٹ ایڈیٹر میاں غفار کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں کی کرپشن کا ذکر چھیڑا تو انہوں نے اپنے والد اور پرانے مسلم لیگی علم دار قریشی کا ذکر کیا گیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ ایوب خان نے ایک بڑا ظلم یہ کیا ایبڈو کے قانون کی بنیاد پر اکثر پرانے سیاستدانوں کو سیاست کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ اور جو اہل قرار پائے ان کی لوٹ مار کی داستانیں آپ کے سامنے ہیں ان ایبڈو زدہ سیاستدانوں میں قائداعظم کے بہت سے قریبی ساتھی بھی نااہل قرار دے دیئے گئے اور ایوب خان کے 10 سال میں ان کی اکثریت فوت ہو گئی یا اس قابل نہ رہی کہ سیاست کر سکے گیلانی صاحب کا کہنا ہے کہ ایوب نے پرانے اور نیک نام سیاستدانو ںکو زیرو کرنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن قائداعظم کے ساتھیوں کی داستانیں آپ کو سندھ، پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں آج بھی پرانے تذکروں میں ملیں گی جن کی نیک نامی اور دیانتداری کے قصے ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔
٭٭٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo