“ میرا داغستان " میرا رسول حمزہ تو…

[ad_1]

“ میرا داغستان "
میرا رسول حمزہ توف
منیرفراز

میں اگر آپ سے کہوں کہ وہ ١٩٢٣ء میں سویت یونین کی ریاست داغستان کی سرسبز وادی آوار میں پیدا ہوا اور ٢٠٠٣ء میں ماسکو میں انتقال کر گیا اور اِن درمیان کے ٨٠ سالوں میں اُس نے کتابیں پڑھیں، کتابیں تخلیق کیں اور محبت، امن اور انقلاب کی سینکڑوں نظمیں لکھیں تو آپ کہیں گے کہ یہ سب کچھ تو ہم نے اس کے بارے میں لکھے گئے سینکڑوں مضامین میں پڑھ رکھا ہے ۔ لیکن اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ میں ایک ایسے نوجوان سے ملا ہوں جو درمیان کے ٨٠ سالوں میں کتابیں لکھنے اور پڑھنے والے رسول حمزہ توف کو گھوڑا بنا کر اس کی پیٹھ پر سواری کر چکا ہے تو آپ ضرور میری طرف متوجہ ہوں گے ۔
گہرے سبز روشن آنکھوں والا یہ حیدر حمزہ توف میرے سامنے بیٹھا تھا اور میں ان آنکھوں کو دیکھ رہا تھا جن آنکھوں نے داغستان کی گلیوں، پہاڑوں اور سرسبز وادیوں میں رسول حمزہ توف کو چلتے پھرتے دیکھا تھا ۔
یہ ہوٹل کراؤن پلازہ کا وسیع ہال تھا اور آج یہاں چین کے قومی دن کے حوالے سے سفارتخانہ چین نے ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں بیشتر ممالک کے سفارت کار اور صحافی مدعو تھے میں بھی انگلی سے کپڑوں پر لہو لگا کر شہیدوں میں شامل تھا ۔ مجھے میرے ساتھی کامریڈ جاوید احمد، جو ایسی سفارتی نوعیت کی تقریبات کے اہم کردار ہیں، نے بطور خاص یہ کہہ کر مدعو کیا تھا کہ آج کی اس تقریب میں تمہاری ملاقات محبت کے شاعر رسول حمزہ توف، جن کاذکر ہم اکثر کرتے رہتے ہیں، کے پوتے حیدر حمزہ توف سے کرائی جاسکتی ہے جو ان دنوں کویت میں رشین فیڈریشن کے سفارتخانہ میں بطور ڈپٹی ہیڈ آف مشن تعینات ہیں ۔ میرے لئے یہ خبر راحت کا سامان تھی، نعمتِ غیر مترقبہ تھی۔ رسول حمزہ توف کی کتاب "میرا داغستان" نثر کی ایسی خوبصورت سوانح عمری ہے جسے پڑھ کر آپ رسول حمزہ توف کے عشق میں گرفتار ہو جاتے ہیں میں نے جب یہ کتاب پڑھی تو میرے دل میں اول رسول حمزہ کی محبت پیدا ہوئی اور پھر میرا دل چاہا کہ رسول حمزہ توف جن گلیوں میں پھرتا تھا ان گلیوں کی خاک چھو لوں ۔ اس دور کے لوگوں کے رویے اور اپنے شعری رجحان کا ذکر کچھ ایسے لطیف پیرائے میں کیا ہے کہ میں رسول حمزہ توف کےان مجسموں کو بھی چھونا چاہتا ہوں جو داغستان کی شاہراؤں پر ایستادہ ہیں، میں رسول حمزہ توف کی نظموں کو گملوں کیاریوں میں بونا چاہتا ہوں تاکہ یہاں سے محبت کی کونپلیں پھوٹیں جوسارے عالم کو معطر کر دیں۔
آپ ایک بار "میرا داغستان" پڑھ لیں، آپ بھی وہی کہیں گے جو میں کہہ رہا ہوں ۔
حیدر حمزہ توف سے ملاقات ہوئی تو ہم الگ ایک کونے میں بیٹھ کر رسول حمزہ کی باتیں کرنے لگے وہ رسول حمزہ سے میری جذباتی وابستگی کو سمجھ رہا تھا وہ پوری سنجیدگی سے میرے سوالوں کے جواب دینے لگا ۔ میں نے اسے رسول حمزہ توف کی مشہورِ زمانہ نظم، بزبان اردو، سنائی اور اس کا مفہوم سمجھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ یہ نظم آوار یا روسی زبان میں سنا سکتا ہے جس زبان میں کہ یہ تخلیق ہوئی؟ آپ وہ نظم پڑھ لیجئے جو غالباً مستنصر حسین تارڑ نے اردو میں ترجمہ کی ہے، پھر ہم آگے بات کریں گے

اگر ایک ہزار لوگ تمہاری محبت میں مبتلا ہیں تو
رسول حمزہ توف ان میں سے ایک ہوگا
اگر ایک سو لوگ تمہاری محبت میں مبتلا ہیں تو
رسول حمزہ توف ظاہر ہے ان میں شامل ہو گا
اگر دس لوگ تمہاری محبت میں مبتلا ہیں تو
رسول حمزہ توف ان میں سے ایک ہو گا
اور اگر صرف ایک مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہے
تو وہ رسول حمزہ توف کے سواء کون ہو سکتا ہے
اور اگر تم تنہا ہو اکیلی ہو
اور کوئی تمہاری محبت میں مبتلا نہیں
تو یقین کر لینا کہ کہیں بلند پہاڑوں میں
رسول حمزہ توف مر گیا ہے

نظم سن کر حیدر حمزہ توف مسکرایا، اس نے نظم اپنے ذہن میں تازہ کرنے کے لئے آنکھیں بند کیں جیسے کوئی صدا کار کسی فرمائشی گیت سنانے سے پہلے گلا کھنکارتا ہے اور پھر وہ ایک ایسے لہجے میں نظم پڑھنے لگا جیسے اردو حرفِ تہجی کے بہت سارے ض غ ت اور ف کسی صحرائی اونٹ کے گلے میں لٹکتی گھنٹیوں کے ساتھ باندھ دیئے جائیں اور پھر صحرا میں صدائے جرس کی بازگشت پھیل جائے ، اس کا انداز بالکل ہم جیسا تھا جیسے ہم کوئی اردو نظم پڑھتے ہوئے جھومنے لگتے ہیں اور نظم کے اُن لفظوں پر زور دیتے ہیں جو شعر میں مفہوم پیدا کرتے ہیں ۔ حیدر حمزہ کہنے لگا کہ اس سے ملنے والے جو لوگ رسول حمزہ توف کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں وہ اس نظم کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں یہ نظم بہت سے لوگوں کے دلوں میں بسی ہوئی ہے اور میں یہ جان کر خوش ہوتا ہوں کہ رسول حمزہ کس طرح لوگوں کے دلوں میں بسنے والے خیالات کی شاعری کرتا تھا ۔ ہمارے فیض صاحب نے بھی رسول حمزہ کے افکار سے فیض اٹھایا اور ان کی متعدد نظمیں ترجمہ کیں ہیں جن کا ذکر میں حیدر حمزہ سے کرنا چاہتا تھا جیسا کہ

اُس نے جب بولنا نہ سیکھا تھا
اُس کی ہر بات میں سمجھتا تھا
اب وہ شاعر بنا ہے، نامِ خدا
لیکن افسوس کوئی بات اُس کی
میرے پلے ذرا نہیں پڑتی
یا
آج سے بارہ برس پہلے بڑا بھائی مرا
اسٹلین گراڈ کی جنگاہ میں کام آیا تھا
میری ماں اب بھی لئے پھرتی ہے پہلو میں یہ غم
جب سے اب تک ہے وہی تن پہ ردائے ماتم
اور اس دکھ سے مری آنکھ کا گوشہ تر یے
اب مری عمر بڑے بھائی سے کچھ بڑھ کر ہے

لیکن اُس وقت باوجود کوشش کے مجھے فیض کی کوئی نظم یاد نہ آئی البتہ وہ فیض کو جانتا تھا اور فیض کی انقلابی شاعری سے بے حد متاثر بھی تھا ۔ میں نے اُس سے کہا کہ اگر تم سے یہ پوچھا جائے کہ رسول حمزہ توف کی سب سے بڑی خوبی کیا تھی تو تم کیا کہو گے؟ حیدر حمزہ نے کہا وہ محدود خوبیوں والی شخصیت نہیں تھے وہ ہمہ جہت فنکار تھے لیکن پھر بھی اگر کسی ایک صفت کا ذکر کرنا ہو تو میں کہوں گا کہ میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا کہ وہ کسی مقام پر کسی کتاب کے بغیر بیٹھے ہوں یا وہ کچھ لکھ نہ رہے ہوں ۔ وہ یخ بستہ سردیوں میں روسی کوٹ، مفلر اور مخصوص داغستانی اونی ٹوپی، جو اٌن کا ٹریڈ مارک تھا، پہنے گھر کے قریب ایک اونچے ٹیلے پر چلے جاتے یا ایک سرسبز کھائی میں گھاس پر بیٹھ کر کتابیں پڑھتے وہ فطرت سے عشق کرتے تھے اِن خاموش وادیوں کی آوازیں سنا کرتے اور جب وہ لوٹ کر واپس آتے تو ان کے پاس اپنے لکھے ہوئے کئی بے ترتیب ورق ہوتے جنہیں وہ میز کی درازوں میں رکھ دیتے ۔ حیدر نے کہا اُن کی ایک بڑی خوبی اپنی زمین سے محبت تھی وہ اگر کسی ضروری کام سے داغستان سے باہر جاتے تو واپسی کے لئے بیقرار رہتے کبھی ان کا بیرون شہر دورانیہ طویل ہوجاتا تو وہ خطوط کے ذریعے درختوں، پودوں اور وادی کی ان چیزوں کا نام لے کر ان کا حال پوچھتے جن سے انہیں شدید قسم کا عشق تھا ۔ پھر وہ اپنی زبان اور کلچر سے بہت محبت کرتے تھے انہوں نے اپنی زبان میں لکھا اور اپنے رہن سہن اور روز مرہ سے داغستان کی تہذیب مرنے نہیں دی ۔ حیدر حمزہ کی سبز آنکھوں میں ایک زندگی سے بھرپور چمک پیدا ہوئی جب اس نے بتایا کہ کسی ملک کا سربراہ، وزیر یا سفارتکار ایسا نہیں تھا جو اُس وقت کی سویت یونین کے سرکاری دورہ پر آیا ہو اور رسول حمزہ توف کو داغستان میں مل کر نہ گیا ہو، حیدر کہنے لگا، میں اگر اُن کا پوتا نہ بھی ہوتا تو مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ رسول حمزہ توف کی خدمات اور انقلابی رجحانات کی شاعری اس حد تک قابلِ رشک ہے کہ اس کے مجسمے داغستان کی سڑکوں اور گلیوں میں نصب کر دئیے جائیں۔ حیدر حمزہ کہنے لگا میں اپنی اُس کیفیت کا اظہار نہیں کرسکتا جب میں داغستان گھومتے ہوئے اپنے دادا کے مجسمے شہر کی سڑکوں پر نصب دیکھتا ہوں لوگوں کو اُن سے عجیب قسم کی محبت تھی جیسے کسی مذہبی پیشوا سے اس کے ماننے والوں کو ہوتی ہے لوگ ملتے وقت اُن کے ہاتھ چومتے تھے اور وہ ان عقیدت مندوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ جاتا تھا ۔ میں جب بہت چھوٹا تھا، حیدر حمزہ کہنے لگا، تو میری ماں، جو اُن کے خاندان کی نہیں تھی، مجھے بتاتی تھی کہ آوار وادی کے لوگ اُن سے ملنے کے آرزو مند ہوتے تھے اور تُو ایسا خوش بخت تھا کہ اُن کی پیٹھ پر چڑھ جاتا تھا ۔ حیدر حمزہ کی آنکھیں کچھ بھیگ گئیں اور اُس نے کہا، ہاں میں خوش بخت تو ہوں کہ میری آنکھوں نے رسول حمزہ توف کو زندگی گزارتے دیکھا اور میرے ہاتھوں میں اس کے ہاتھ کا شیریں لمس پنہاں ہے ۔ حیدر حمزہ نے کہا میرا پردادا، یعنی رسول حمزہ توف کا باپ بھی شاعر تھا اور رسول حمزہ نے یہ شعری رجحان اپنے باپ ہی سے مستعار لیا تھا رسول حمزہ کا باپ علاقائی سطح تک جانا گیا اور اس نے ماسکو تک کا سفر کیا لیکن رسول حمزہ توف نے ساری دنیا کا سفر کیا وہ انقلابی رہنماؤں سے ملا اور اُس کی شاعری آوار کی گلیوں،وادیوں، داغستان کی شاہراہوں، ماسکو کے بازاروں سے ہوتی ہوئی پورے کرہ ارض پر پھیل گئی۔ کیا میں خوش بخت نہیں کہ میں نے ایسے شخص کی پیٹھ پر سواری کی ہے ۔
رسول حمزہ توف کا پوتا حیدر حمزہ توف چائے پینے لگا۔

اب اگر آپ رسول حمزہ توف کے بارے میں کچھ اور روایتی باتیں جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کن لوگوں سے ملا، کن مشاہیر کی کتابوں کے تراجم کئے، ریڈیو اور تھیٹر کے لئے کیا کام کیا، قومی، علاقائی سلامتی کے لئے کیسے گیت اور رزمیہ نظمیں لکھیں، محبت کے کیسے کیسے گیت گائے یا وہ گورکی کے قائم کردہ انسٹیٹیوٹ میں کس سن میں پڑھتا رہا ہے اور اسے سویت یونین کے کون کون سے بڑے ایوارڈ ملے ہیں تو آپ وہ سینکڑوں مضامین پڑھ لیجئے جو اس کے بارے میں لکھے گئے ہیں اور جن میں کہا گیا ہے کہ وہ ١٩٢٣ء میں سویت یونین کی ریاست داغستان کی سرسبز وادی آوار میں پیدا ہوا اور ٢٠٠٣ء میں ماسکو میں انتقال کر گیا ۔

تصاویر :
١ حیدر حمزہ توف، ڈپٹی ہیڈ آف مشن رشین فیڈریشن، کویت
٢ سینئر کرنل چانگ گی، ڈیفنس اتاشی سفارت خانہ چین، کویت




بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2794924977404684

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo