درخت اپنے دکھ اور اپنی خوشیاں کہاں لکھتے ہیں؟ درخ…

[ad_1]
درخت اپنے دکھ اور اپنی خوشیاں کہاں لکھتے ہیں؟

درخت
(Bäume / Hermann Hesse)
ہَیرمان ہَیسے کی فکری مشاہدات پر مبنی ایک شاہکار تحریر
درخت میرے لیے ہمیشہ ہی سے میرا سب سے زیادہ تعاقب کرنے والے مبلغ رہے ہیں۔ وہ اقوام اور خاندانوں کے درمیان رہتے ہوں، جنگلوں میں یا جُھنڈ بنا کر، میں ان کی عزت کرتا ہوں۔ لیکن اگر وہ کہیں اکیلے کھڑے ہوں، تو میں ان کی اور بھی زیادہ تکریم کرتا ہوں۔ وہ تنہا لوگوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان آباد کاروں کی طرح نہیں جو کسی نہ کسی کمزوری کی وجہ سے کہیں دور چلے جاتے ہیں، بلکہ بڑے اور تنہا مگر منفرد انسانوں کی طرح، جیسے بیتھوون اور نِطشے۔ ان کے بالائی حصوں میں دنیا اپنی گھن گرج کے ساتھ موجود ہوتی ہے، ان کی جڑیں لامتناہی میں آرام کرتی رہتی ہیں۔ درخت اکیلے بھی ہوں تو خود کو اپنے اکیلے پن میں گم نہیں ہوتے دیتے، بلکہ وہ تو اپنی زندگی کی تمام تر توانائیاں استعمال کرتے ہوئے صرف ایک ہی کوشش کرتے ہیں: اپنے، اپنے اندر رہنے والے قانون پر عمل درآمد، اپنے وجود میں توسیع کی کوشش، اپنی ذات کے اظہار کی کاوش۔
کسی خوبصورت اور توانا درخت سے زیادہ مقدس کوئی چیز، اس سے زیادہ مثالی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں۔ جب کسی درخت کو آری سے کاٹ دیا جاتا ہے اور وہ اپنا ننگا جان لیوا زخم سورج کو دکھا رہا ہوتا ہے، تو اسی سورج کی روشنی میں اس کے کٹے ہوئے، اس کی قبر کا کتبہ بن جانے والے، چپٹے تنے کی ہموار سطح پر کوئی بھی اس کی پوری تاریخ پڑھ سکتا ہے: ہر سال بنتے رہنے کی وجہ سے وہاں نظر آنے والے دائروں اور اس درخت کی نشو و نما کی شاہد باقیات میں ہی اس کی ساری جدوجہد، سارے دکھ، تمام امراض، سبھی خوشیاں اور کامیابیاں صاف صاف لکھے ہوئے ملتے ہیں، سال جو مختصر تھے، سال جن میں ہریالی عروج پر تھی، وہ حملے جن کے باوجود وہ درخت زندہ رہا تھا اور وہ طوفان بھی جو اسے گرانے میں ناکام رہے تھے، سب کچھ۔
یہ بات تو ہر کسان کا نوجوان لڑکا تک بھی جانتا ہے کہ سخت ترین، اعلیٰ ترین معیار کی لکڑی وہی ہوتی ہے، جس میں ہر سال بننے والے دائروں کا باہمی فاصلہ کم سے کم ہو۔ یہ بھی کہ اونچے پہاڑوں پر اور ہمیشہ پائے جانے والے خطرات میں ہی وہ تنے نشو و نما پاتے ہیں، جو کسی بھی طور تباہ نہیں کیے جا سکتے، جو توانا ترین ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ مثالی حیثیت کے مالک بھی۔ درخت حرمت کدے ہوتے ہیں۔ جو کوئی بھی ان سے بات کرنا، انہیں توجہ سے سننا جانتا ہے، وہ سچائی جان جاتا ہے۔ درخت اسباق اور نسخوں کی تلقین نہیں کرتے، وہ ہر بےفکرے انسان کو زندگی کے قدیم ترین ضابطے کی تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔
ہر درخت بولتا ہے: مجھ میں ایک بیج ہے، ایک چنگاری، ایک خیال جو پوشیدہ ہے۔ میں ابدی زندگی سی پھوٹنے والی زندگی ہوں۔ ابدی ماں نے میری صورت میں جو کاوش کی، میرا جو سانچہ بنایا، ویسا صرف ایک ہی بار کیا جا سکتا تھا۔ میرا وجود بھی بہت منفرد ہے اور میری جلد پر موجود نسیں بھی، میری سب سے اونچی شاخوں پر پتے جو چھوٹے سے چھوٹا کھیل بھی کھیلتے ہیں، وہ بھی انتہائی منفرد ہوتا ہے، اور میری چھال پر موجود کسی پرانے زخم کا چھوٹے سے چھوٹا نشان بھی۔ یہی تو میرا کام ہے کہ اسی متنوع انفرادیت کے ساتھ، جو کچھ ابدی ہے، میں اسے ایک شکل دے کر دکھا بھی دوں۔
ہر درخت بولتا ہے: اعتماد ہی میری طاقت ہے۔ میں اپنے اجداد کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، میں اپنے ان ہزاروں بچوں کے بارے میں بھی لاعلم ہوں جو ہر سال میرے وجود سے جنم لیتے ہیں۔ میرے بیج کا ایک راز ہے اور میں آخر تک اس راز کے ساتھ زندہ رہتا ہوں، مجھے اور کسی بھی بات پر کوئی تشویش نہیں ہوتی۔ مجھے یہ یقین رہتا ہے کہ خدا میرے اندر ہے۔ مجھے یہ یقین بھی رہتا ہے کہ مجھے ایک باحرمت کام سونپا گیا ہے۔ میرا زندہ رہنا اسی یقین کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔
جب ہم اداس ہوتے ہیں اور زندگی کو اچھی طرح برداشت نہیں کر سکتے، تب کوئی درخت ہم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہہ سکتا ہے: چپ رہو! چپ رہو! میری طرف دیکھو! زندہ رہنا آسان نہیں ہے، زندہ رہنا مشکل نہیں ہے۔ یہ بچگانہ خیالات ہیں۔ اپنے اندر خدا کو بولنے دو، اس لیے خاموش رہو۔ تم خوف زدہ ہو، اس لیے کہ تمہارا رستہ تمہیں ماں اور وطن سے دور لے جا رہا ہے۔ لیکن ہر قدم اور ہر دن تو تمہیں دوبارہ ماں کے قریب لاتا جا رہا ہے۔ وطن یہاں وہاں نہیں ہوتا۔ وطن تو تمہارے اندر ہوتا ہے، یا پھر کہیں بھی نہیں۔
جب میں شام کے وقت تیز ہوا میں شور مچاتے درختوں کی آوازیں سنتا ہوں، تو پیادہ روی کی شدید خواہش میرے دل کو چیر دیتی ہے۔ اگر ان آوازوں کو خاموشی سے اور دیر تک سنا جائے، تو پیادہ روی کی اس شدید خواہش کا مرکزی عنصر اور منطق خود کو آشکار کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ بظاہر لگتا ہے، یہ خواہش دکھوں سے دور چلے جانے کی چاہ نہیں ہوتی۔ یہ تو وطن کی تلاش کی تڑپ ہوتی ہے، ماں کی یادوں کی خواہش، زندگی میں نئی تماثیل کی خواہش۔ وہی گھر تک پہنچاتی ہے۔ ہر رستہ گھر کو ہی جاتا ہے، ہر قدم پیدائش ہے، ہر قدم موت، ہر قبر ماں ہوتی ہے۔
جب ہم اپنے ہی بچگانہ خیالات سے ڈرنے لگتے ہیں، تو شام کے وقت درخت ہوا میں شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ درختوں کے خیالات طویل ہوتے ہیں، پرسکون اور لمبی سانسوں والے، ویسے ہی جیسے ان کی زندگی بھی ہم سے طویل تر ہوتی ہے۔ جب تک ہم ان کی بات نہیں سنتے، وہ ہم سے زیادہ سمجھ دار ہوتے ہیں۔ لیکن جب ہم درختوں کی باتیں سننا سیکھ جاتے ہیں، تو پھر ہمارے خیالات کے اسی اختصار، تیزی، اور اسی بچوں کی سے پھرتی کو ایسی خوشی ملتی ہے، جس کی کوئی مثال موجود ہی نہیں۔ جو توجہ سے درختوں کی باتیں سننا سیکھ لے، وہ پھر مزید یہ خواہش نہیں کرتا کہ وہ خود بھی کوئی درخت ہوتا۔ وہ اور کچھ بھی بننے کی خواہش نہیں کرتا، سوائے اس کے جو وہ ہوتا ہے۔ وہی وطن ہے۔ وہی خوشی ہے۔

(مصنف: ہَیرمان ہَیسے، جرمن سے اردو ترجمہ: مقبول ملک، بون ، جرمنی)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2791526457744536

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo