غلام آزاد ہوئے ہیں، غلام ذہنیت نہیں

[ad_1]

ثاقب رحیم
امریکہ میں ہونے والے حالیہ بلوے انتہائی غیر اہم اور معمولی وجہ سے ظہور آئے۔ وجہ جو بتائی جاتی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ایک سیاہ فام جس کا نام جارج فلائیڈ تھا‘ نے ایک مسلمان دکاندار جس کا نام محمود ابو میالہ تھا جس کا تعلق فلسطین سے بتایا جاتا ہے ‘سے بیس ڈالر کی کوئی چیز خریدی۔ محمود ابو میالہ نے جارج پر اعتراض کیا کہ اس کا دیا ہوا 20 ڈالر کا نوٹ جعلی ہے۔ اس پر تو تو میں میں بڑھ گئی۔ جس پر محمود ابومیالہ نے فون کر کے پولیس کو بلا لیا۔ پولیس نے جارج پر تشدد کیا، اس کی گردن پر گھٹنہ رکھ کر دباﺅ ڈالا۔ جارج نے بہت کہا کہ اس کی سانس رک رہی ہے لیکن پولیس نے دباﺅ کم نہ کیا جس کی وجہ سے جارج مر گیا۔ بات بڑھی اور بیس ڈالر کے تنازع پر امریکہ بھر میں اور اس کے بعد چند اور ممالک میں بھی سیاہ فام افراد نے افراتفری برپا کر رکھی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ عدم برداشت اور خاص طور پر ہر الجھے ہوئے معاملے میں کسی مسلمان کا شامل ہونا تشویش کی بات ہے۔ مسلمانوں کی اخلاقیات اور ان کے بارے میں دنیا بھر میں پہلے بھی رائے بہت خراب ہے اور یہ تاثر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اس معاملے میں ہماری تاریخ بھی کچھ گواہی دیتی ہے جس نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم مسلمان اب عزت کے قابل نہیں رہے اور ہم نے خود ہی اپنی عزت نیلام کر کے غلامانہ ذہنیت کا طوق گلے میں ڈال لیا ہے۔
پروفیسر حسن عسکری جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکہ میں معلم ہیں‘ نے ایک سٹڈی کی عنوان تھا کہ ”اسلامی ممالک کتنے اسلامی اطوار پر کاربند ہیں “How Islamie are the Islamic Countries“ اس تحقیق پر اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ اسلامی ہدایات پر کس ملک میں سب سے زیادہ عمل کیا جا رہا ہے یا کس ملک میں اسلامی اقدار کی پابندی کی جاتی ہے۔ اس تحقیق نے ثابت کیاکہ بیشتر اسلامی ممالک میں اسلامی طرزِ زندگی یا قوانین نافذ ہی نہیں ہیں۔جن ممالک میں اسلامی تعلیمات اور قوانین کو زندگی گزارنے کے طور طریقوں میں شامل کیا گیا ہے وہاں عوام انہیں قوانین یا طرز حیات کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اس سرفہرست ترتیب سے مندرجہ ذیل ممالک ہیں۔
اول: نیوزی لینڈ، دوسرے نمبر پر لکسمبرگ، تیسرے نمبر پر آئرلینڈ، چوتھے پر آئس لینڈ، پانچویں نمبر پر فن لینڈ، چھٹے نمبر پر ڈنمارک، ساتویں نمبر پر کینیڈا۔ چونتیسویں نمبر پر ملائیشیا، اڑتالیسویں نمبرپر کویت، چونسٹھویں نمبر پر بحرین اور سعودی عرب کا نمبر اس گنتی میں ایک سو اکتیسواں ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے اسلامی ممالک میں ہم مسلمان صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں جبکہ ہمارا عملی اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں رہ گیا۔ ہمارے نزدیک اسلام صرف نماز، روزہ، زکوٰة اور حج ہی ہے باقی اخلاقی اور انسانی اقدار جن کا ماننا سب سے اہم ہے ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں رہ گیا۔ ہم دین کو صرف واعظ و نصیحت تک مانتے ہیں اور حج اس وقت کرتے ہیں جب ہم نو سو چوہے کھا چکے ہوتے ہیں۔ یعنی اعمال بد سے ہمارے اجسام سے تعفن اٹھنے لگتا ہے، اور حج کرنے کے بعد ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں۔ بالکل معصوم اور بے گناہ۔ ہم انسان کی انسان سے محبت اور خلوص اور اخلاق کے تعلق کو صرف پیسے کے ترازو میں تولتے ہیں۔ ہم اس کو دوست اور عزیز رکھتے ہیں جو مالدار ہے۔ غریب کو ہم بری طرح سے دھتکارتے ہیں۔
بعض چینی صنعتکار اور کاروباری حضرات ہم مسلمانوں کے بارے میں برملا کہتے ہیں کہ جو یہ مال خرید رہے ہوتے ہیں ،کہتے ہیں ان پر نمبر ون برانڈز کا ٹیگ لگا دیں اور جب ہم ان مسلمانوں کو کھانے کی دعوت دیں تو حلال کھانے کا تقاضہ کرتے ہیں۔ کمانا حرام اور ڈھونڈنا حلال ۔آفرین ہے ایسے مسلمانوں پر۔ ایک جاپانی تاجر کے مطابق اس نے تمام اسلامی اصول غیر اسلامی ممالک میں دیکھے جبکہ اسلامی قوانین اور اطوار مسلم ممالک میں کہیں نظر نہیں آتے بلکہ وہاں صرف حرام کی کمائی اور بے ایمانی سے روزگار کو ہوتے دیکھا۔ اگر ان امور کا ذکر مسلمانوں سے کیا جائے تو جواب ہوتا ہے۔ دین اسلام کے مطابق زندگی گزارنا ہمارے اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے جبکہ کاروبار دنیا داری ہے اور وہ دنیا کے اصولوں کے مطابق کرنا پڑتی ہے۔ یہ وہ منطق ہے جس نے عملی دینِ اسلام کو تقریباً اس دنیا سے ختم ہی کر دیا ہے اور تھوڑی بہت جو کسر ہے وہ مغربی طاقتیں جو اسلام دشمن ہیں آہستہ آہستہ ختم کرنے میں لگی ہوئی ہیں اور انجام نزدیک ہی نظر آتا ہے کہ اسلام کا حقیقی رخ اب کہیں نظر نہیں آتا۔
کاش ہمارے نصاب میں ہمارے عظیم اور پیارے نبی کی اخلاقی تعلیمات کو لازمی کر دیا جائے تا کہ قوم کی تعمیر بہترین اصولوں پر ہو۔ جیسے جاپان میں پہلے پانچ سال سکولوں میں کوئی کتاب یا پڑھنے والا نصاب نہیں ہوتا۔ وہاں اخلاقیات، تہذیب، تمدن، انسان کے انسان سے بہتر تعلقات کے اصول اور معاشرتی تعمیر و ترقی کے اصول اور مخلوقات سے تعلقات اور رویوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسی لئے وہاں کا معاشرہ انتہائی سلجھا ہوا اور متمدن اصولوں پر قائم ہے۔
ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم میں انسانیت، صبر، برداشت اور بھائی چارے والا کوئی جذبہ موجود نہیں ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں کہ
There is no enemy outside our soul, the real enemies live inside us. angar, pride, greed and hatred. avoid all of them and enjoy a peaceful life.
یہ بات جتنی کہنا آسان ہے اتنا ہی ہم مسلمانوں کیلئے اس پرعمل کرنا مشکل کیا ناممکن ہے۔ جس کا خمیازہ مسلمان ہر جگہ بھگت رہے ہیں۔ ہم مسلمانوں کو جلد از جلد اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ مغربی طاقتیں ہمیں ہرحال میں ختم کرنے کے درپے ہیں، اگر ہم غافل رہے تو انجام بھی برا ہو گا۔
ایک امریکی مصنفہ اور پروفیسرکرسچن فیئر جارج ٹاﺅن یونیورسٹی واشنگٹن میں پروفیسر ہیں ، اس نے 2014ءمیں اپنی ایک کتاب کے آخری صفحات جو لکھا وہ یوں ہے ”ہندوستان، امریکہ اوراسرائیل، پاکستان کو توڑنے کےلئے پانی کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں۔ مگر میں یہ کہوں گی کہ اگر پاکستان کو گرانا ہے تو پاک فوج کو گرانا ہو گا اور کسی کو اچھا لگے یا بُرا۔ یہ کبھی نہیں ہونے والا“۔ مزید لکھتی ہے۔ ”ایسا اس لئے نہیں ہونے والا کہ وہاں کی عوام افواج پاکستان سے محبت کے بارے میں جنونی ہے۔ وہ اپنی ذات کے بارے سو لفظ برداشت کر لیں گے مگر اپنی افواج کے بارے میں ایک لفظ نہیں برداشت کریں گے ایسی جنونیت پہلے کبھی نہیں دیکھی“۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہماری بہادر افواج کے بارے میں سب سے طاقتور ملک کی تجزیہ نگار اور تحقیق کار بھی اس امر کا اعتراف برملا کرتی ہے کہ پاکستان ناقابل شکست ہے۔ہماری فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے اور دنیا اس کی طاقت کو تسلیم کرتی ہے۔ آئیے ہم اپنی فوج کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ کوئی ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرا¿ت نہ کر سکے۔
غلام اقوام پر کیسی حکومت ہو سکتی ہے اس کا اظہار فیض احمد فیض نے بہت پہلے بہت پر اثر انداز میں یوں کہا تھا۔
چلتے ہیں دبے پاﺅں کوئی جاگ نہ جائے
غلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہے
ہوتی نہیں جو قوم حق بات پہ یکجا
اس قوم کا حاکم ہی بس ان کی سزا ہے
(کالم نگارسیاسی وسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo