عرضِ مترجم | رؤف کلاسرا Rauf Klasra مجھے یاد پڑتا…

[ad_1]

عرضِ مترجم | رؤف کلاسرا Rauf Klasra

مجھے یاد پڑتا ہے پہلی دفعہ میں نے جس کہانی کو انگریزی سے اُردو میں ڈھالنے کا سوچا تو اس وقت میں لیہ کالج میں تھرڈ ایئر کا طالب علم تھا اور انگریزی ادب کی کلاس پڑھتا تھا۔ انگریزی لٹریچر کے اُستاد پروفیسر شبیر نئیر نے ایک دن باتوں باتوں میں یونانی ڈراما نگار سوفوکلیز کے لکھے ہوئے ڈرامے ایڈی پس بادشاہ کی کہانی سنائی تو اشتیاق جاگ پڑا۔ لائبریری سے وہ ڈراما نکلوا کر پڑھنا شروع کیا تو دل چاہا اس کا ترجمہ اُردو میں کروں تا کہ مزید لوگ اس خوبصورت ڈرامے کو پڑھ سکیں۔ مجھے یہ بھی پتا نہیں تھا اگر ترجمہ کر بھی لیا تو ایک طالب علم کیسے اور کہاں سے اسے چھپوائے گا اور کون ایک طالب علم کے اس ترجمے کو معیاری سمجھ کر چھاپ دے گا۔ لیہ میں تو کوئی پبلشنگ ہاؤس بھی نہیں تھا۔ لاہور میں سب پبلشنگ ادارے تھے اور لاہور تک میری رسائی نہ تھی، ہوتی تو بھی کس نے مجھے سنجیدہ لینا تھا۔

اُردو لکھنے پڑھنے سے دلچسپی پیدا کرنے میں سلیم بھائی کا بڑا رول تھا جن کی وجہ سے گاؤں گھر پر سب رسائل اور اخبارات ہمارے بچپن سے ہی آتے تھے۔ خیر ڈھائی ہزار برس پرانے بادشاہ ایڈی پس کے ڈرامے نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ پھر میں نے ان کے تحریر کردہ مزید ڈرامے پڑھے۔ دیگر یونانی ڈراما نگاروں کو بھی پڑھا جس میں یوری پیڈیز اور اسکائی لس کے ڈرامے شامل تھے۔ انہی دنوں چار یونانی ڈراموں کا اُردو میں ترجمہ کیا، جیسے ماریو پوزو نے لکھا تھا اگر وہ دستویفسکی کا شہرہ آفاق ناول ”برادرز کرامازوف“ نہ پڑھتا تو وہ کبھی ادیب نہ بنتا۔ اس طرح میں بھی کہہ سکتا ہوں اگر میں ایڈی پس کا ڈراما نہ پڑھتا تو میں بھی مترجم بننے کا نہ سوچتا۔

ان چار یونانی ڈراموں کا مسودہ بڑے عرصے تک میرے پاس رہا بلکہ جب ملتان یونیورسٹی پہنچا تو بھی وہ مسودہ میرے پاس تھا۔ اُردو ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر انوار احمد صاحب نے ترجمے پر ایک نظر ڈالی اور حوصلہ افزائی بھی کی۔ اس کے بعد میں دربدر ہوتا رہا اور اب مجھے نہیں یاد رہا ان چار تراجم کا مسودہ کہاں گم ہو گیا۔ کالج کے دنوں میں ہی ترجمے کا شوق ہو گیا تھا۔ لیہ کالج کے دنوں میں ہی ناول نگار سڈنی شیلڈن کے ناول "Sands of Times" کا بھی ترجمہ شروع کیا جو لیہ کے ہفتہ وار اخبار میں چھپنے لگا جسے مشہور صحافی انجم صحرائی نکالتے تھے۔ وہ سلسلہ کب ٹوٹا وہ یاد نہیں۔

یوں ترجمے کی ٹھرک پیدا ہو گئی۔ جو چیز پڑھ کر مجھے اچھی لگتی دل چاہتا اس کا ترجمہ کروں۔ اب مجھے نہیں پتا میرے تراجم کا کیا معیار تھا۔ وہ اچھے تھے یا بُرے۔ بس ایک جنون تھا۔ خیر بہاولپور میں اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر نعیم کلاسرا کے ہاں جب ٹھہرنا شروع کیا تو میرا Taste بہتر ہونا شروع ہوا۔ مجھے یاد ہے بی اے کا امتحان دے کر ان کے پاس بہاولپور چھٹیوں پر گیا تو انہوں نے مجھے لیوٹالسٹائی کا شہرہ آفاق ناول "War and Peace" تھما دیا کہ اسے ان گرمیوں کی چھٹیوں میں پڑھو۔ وہ تین ماہ میں نے ناول پڑھتے گزارے اور جس دن ملتان یونیورسٹی کی ایم اے انگریزی کی کلاس کا پہلا دن تھا اور تعارف ہو رہا تھا تو پروفیسر صاحب نے پوچھا، ”کس کس نے کیا کچھ پڑھ رکھا ہے؟“ میں نے بتایا، "War and Peace" ابھی ختم کیا ہے تو انہوں نے آنکھوں سے عینک اُتاری اور مجھے غور سے دیکھ کر کہا، ”برخوردار دوبارہ بتانا!“
میں نے پھر بتایا تو بولے:
War and Peace…?
Are you sure you have read…?

پروفیسر صاحب نے مشکوک نظروں سے دیکھا اور یقین انہیں بھی نہیں آیا تھا۔ میرے یار دوست بعد میں میرا مذاق اُڑاتے کہ موصوف نے "War and Peace" پڑھا ہوا ہے۔ آخر دوستوں کے مذاق سے بچنے کے لیے میں انکاری ہو گیا اور اعتراف کر لیا تم لوگ ٹھیک کہتے ہو ایسے ہی بڑھک ماری تھی تا کہ کلاس کو متاثر کر سکوں، پھر کہیں جا کر میری جان چھوٹی تھی۔

خیر نوے کی دہائی میں لاہور میں میرے گزرے دنوں نے میرے ترجمہ کرنے کے جنون کو ہوا دی۔ لاہور میں بیروزگاری کے دنوں میں اپنے دوست شعیب بٹھل کے ساتھ سارا دن کسی اخبار کی نوکری تلاش کرتا اور شام کو کوٹھا پنڈ کے فلیٹ میں بیٹھ کر ترجمے کرتا جنہیں خان پور کا عبیداللہ ٹائپ کرتا۔ انہی دنوں میں نے ماریو پوزو کے ناول "The Godfather" کا ترجمہ کیا۔ پانامہ کیس میں جسٹس کھوسہ کے ”گاڈ فادر“ کے ذکر پر وہ ناول پھر دوبارہ خبروں میں آ گیا۔ انہی دنوں وکٹر ہیوگو کے شہرہ آفاق ناول "Les Miserable" کا ترجمہ شروع کیا اور سو ڈیرھ سو صفحات تک پہنچا تھا کہ چھوٹ گیا۔ پھر درمیان میں ایک اور شاہکار ناول "Roots" کا ترجمہ شروع کیا۔ اس کے دو ڈھائی سو صفحات مکمل کیے اور وہ نامکمل رہ گیا کہ جرنلزم میں زیادہ وقت دینا پڑ رہا تھا۔

نعیم بھائی کی محفل میں مجھے فرنچ اور رُوسی ادیبوں کو پڑھنے کا موقع ملا۔ نعیم بھائی خود اچھے لکھاری اور مترجم تھے۔ نعیم بھائی کو جن دو ادیبوں نے بہت متاثر کیا ان میں بالزاک Honoré de Balzac کے بعد گیبریل گارشیا مارکیز Gabriel García Márquez تھے۔ انہوں نے بالزاک کی کہانیوں کا سرائیکی زبان میں بھی ترجمہ کیا جو اُن کے کمرے کی الماری میں پڑے پڑے کہیں گم ہو گئیں۔ تاہم انہوں نے گارشیا کے مشہور ناول "One Hundred Years of Solitude" کا ”تنہائی کے سو سال“ کے نام سے اُردو میں ترجمہ کیا۔

میں جب بھی ان سے ملنے بہاولپور جاتا تو ایک ہی بات کرتے ”یار کہیں سے بالزاک کا مکمل سیٹ نہیں مل سکتا؟“ بالزاک نے ہیومین کامیڈی کے نام سے ناولوں کی ایک سیریز شروع کی تھی اور تین درجن کے قریب بڑے چھوٹے ناولز لکھے تھے۔ ایک دفعہ لندن گیا ہوا تھا اور وہیں صفدر عباس بھائی کو نعیم بھائی کی فرمائش بتائی۔ ہم دونوں کمپیوٹر پر بیٹھ گئے۔ نیٹ پر ڈھونڈتے ڈھونڈتے پتا چلا امریکا میں ایک پبلشر کے پاس بالزاک کے مکمل ناولز کا سیٹ موجود ہے جو شاید 1914ء میں چھپا تھا۔ اس سیٹ کی قیمت پانچ سو برطانوی پاؤنڈز کے قریب بنتی تھی اور شاید سو پونڈ کا پوسٹل خرچہ تھا کیونکہ ان چونتیس ناولز کا وزن بھی کافی تھا۔ خیر میں نے فوراً آن لائن ادائیگی کی۔ کچھ دنوں بعد وہ بڑا باکس مجھے لندن مل گیا۔ وہ باکس بغیر کھولے اسلام آباد گھر لے آیا۔ میری بیوی کہنے لگی اس باکس کو اب بس کے ذریعے نعیم بھائی کو بھجوا دو۔ میں نے کہا پگلی کیا بات کرتی ہے۔ بالزاک صاحب بس کے سامان میں جائیں گے؟ خدانخواستہ کہیں یہ خزانہ راستے میں گُم ہو گیا تو تمہیں اندازہ نہیں ساری عمر خود کو معاف نہیں کر پاؤں گا۔ میں نے یہ سب کچھ بس پر بھیجنا تھا تو اتنے تکلّف کی کیا ضرورت تھی؟ وہ بولی پھر؟

میں نے کہا میں خود بالزاک صاحب کو لے کر بہاولپور جاؤں گا۔ میں نعیم بھائی کے وہ تاثرات دیکھنا چاہتا ہوں جو بالزاک کا پورا سیٹ دیکھ کر ہوں گے۔ یہ سب محنت اس لمحے کے لیے تو کی ہے۔ میں نے اگلے دن گاڑی نکالی۔ بالزاک کے ناولز کا مکمل پیک باکس فرنٹ سیٹ پر رکھا اور رات گئے بہاولپور پہنچا۔ مجھے دیکھ کر حیران ہوئے کیونکہ میں نے انہیں نہیں بتایا تھا کہ میں آ رہا ہوں۔ جاتے ہی باکس اُٹھا کر ان کے سامنے رکھا اور کہا، ”بتائیں اس میں کیا ہے؟“

وہ کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر اچانک ان کا چہرہ کِھل اُٹھا اور بولے، ”لگتا ہے تم بالزاک کا سیٹ لے آئے ہو۔“ میں ایک سائیڈ پر بیٹھ گیا اور وہ مجھے بھول گئے۔ انہوں نے کچن سے چھری نکالی۔ باکس کھولا اور جو بے پناہ خوشی ان کے چہرے پر دیکھی وہ میری زندگی کا بہترین لمحہ تھا۔ وہ مجھے بھول گئے۔ بالزاک کے ایک ایک ناول کو باکس سے نکالتے اور اس کو ہاتھوں میں لے کر ٹٹولتے، کچھ دیر کچھ صفحات پڑھتے رہتے اور پھر ایک طرف احترام سے رکھ کر دوسرا ناول نکالتے۔ پوری رات وہ یہی کام کرتے رہے۔

آخر میں نے کہا، ”سرکار مجھے بھوک لگی ہے کچھ کھلا دیں۔“ تو وہ چونک پڑے اور کہا ہاں کچھ کرتے ہیں اور پھر بالزاک میں گُم ہو گئے۔ تب میں نے بالزاک کو پڑھنا شروع کیا تو مجھے اندازہ ہوا نعیم بھائی اس کے رومانس میں کیوں پاگل تھے۔ میں نے بالزاک کے دو ناولز کا ترجمہ کرنے کی ٹھان لی۔ ”یوجین گرینڈ“ اور ”سنہری آنکھوں والی لڑکی“

بالزاک کو ترجمہ کرنا آسان کام نہیں۔ وہ لمبے فقرے لکھتا ہے اور ایک سین میں تفصیل بہت ہوتی ہے۔ نعیم بھائی سے پوچھا طویل فقروں کو کیسے ترجمہ کیا جائے؟ اگر ایسے ہی ترجمہ کر دیا تو قاری کا سانس پھول جائے گا۔ انہوں نے مجھے ترجمے کا ایک اصول سمجھایا کہ فقرہ لمبا ہے تو اسے توڑ کر چھوٹا کر دو اور لفظی ترجمے پر زیادہ انحصار مت کرو۔ میں نے دیگر ادیبوں کے بھی تراجم کیے لیکن مجھے کہنے دیں کہ سب سے مشکل مجھے بالزاک ہی لگا۔ ایک بڑا ادیب اور بڑا لکھاری جس نے صرف اکاون سال (1799-1850) عمر پائی لیکن وہ کچھ لکھ دیا کہ آج اس کی موت کے 170 سال بعد بھی اس کا نام دُنیا کے بڑے ادیبوں میں شمار ہوتا ہے۔

بالزاک نے اپنی یہ بات پوری کر کے دکھائی کہ جو کام نپولین اپنی تلوار سے نہیں کرسکا وہ میں اپنے قلم سے کروں گا۔ بالزاک نے فرانسیسی لٹریچر میں نیا رُجحان دیا اور انسانوں کا بے رحمی سے پوسٹ مارٹم کیا۔ اس نے ایسے کردار تخلیق کیے جو آج بھی آپ کو اپنے اردگرد چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ وہ کردار صرف انیسویں صدی کے فرانسیسی معاشرے میں موجود نہیں تھے بلکہ وہ ہمیں آج کے معاشرے میں بھی ملیں گے۔ جب آپ اس ناول ”یوجین گرینڈ“ کو ختم کریں گے تو آپ کو اچانک احساس ہو گا یہ ناول فرانسیسی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے کرداروں پر لکھا گیا ہے۔ کسی بھی ادیب کی یہی عظمت ہوتی ہے کہ وہ ہر دَور اور معاشرے میں پڑھا جاتا ہے اور ہر کسی کو لگتا ہے وہ ناول ان پر ہی لکھا گیا ہے۔ بالزاک کو کسی بھی زبان میں ڈھالنا آسان کام نہیں۔ مجھے نہیں پتا میں کس حد تک اس میں کامیاب ہوا ہوں اس لیے اگر آپ کو کہیں غلطیاں نظر آئیں تو وہ سب میری ہیں۔

میں شاہد حمید صاحب، گگن شاہد اور امر شاہد کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے یہ ناول دوبارہ چھاپنے کا بندوبست کیا اور یقین کریں خُوب کیا ہے۔ جہلم میں بیٹھ کر جس معیار کی کتابیں وہ چھاپ رہے ہیں اس پر جہلم کے لوگ بجا طور پر ان کے کام پر فخر کر سکتے ہیں۔ جہلم کی پہچان جہاں گلزارؔ صاحب جیسے بڑے لوگ ہیں وہیں اب بک کارنر جہلم بھی اس پوٹھوہار کے تاریخی شہر کی پہچان ہے۔ ان قابل احترام باپ بیٹوں نے جس طرح بالزاک کے اس شاندار ناول کو چھاپنے پر محنت کی ہے یقین کریں بالزاک کی رُوح خوش ہو گی۔

میرے نعیم بھائی آج زندہ ہوتے تو وہ بھی بہت خوش ہوتے کیونکہ انہیں اگر کسی ادیب سے پیار تھا، عشق تھا تو وہ بالزاک تھا۔ بالزاک کے بعد انہیں گیبرئل گارشیا مارکیز سے عشق ہوا تھا۔ میرے بس میں ہوتا تو جس دن ہم صرف باون برس کی عمر میں انہیں آسمان سے برستی بارش کے درمیان اپنے دُور دراز گاؤں کے قبرستان کی اُداس شام دفن کر رہے تھے تو میں ان کی قبر میں بالزاک کے لندن سے لائے گئے ناولز کا مکمل سیٹ، گارشیا کے ناولز اور اَن گنت سگریٹ کے پیکٹس بھی ساتھ رکھوا دیتا۔

رؤف کلاسرا
مئی 2020ء
اسلام آباد

Rauf Klasra | Rauf Klasra
Publisher : Book Corner Showroom

— with Rauf Klasra.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2786745398222642

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo