نوبل یافتہ ترک ادیب اورحان پاموک کا آج 68 واں یوم …

[ad_1]

نوبل یافتہ ترک ادیب اورحان پاموک کا آج 68 واں یوم پیدائش ہے۔۔ اس موقع پر " آصف فرخی صاحب " کی مرتب کردہ کتاب " ناول کا نیا فن " سے اورحان پاموک کی ایک تحریر احباب کی نظر :
•••••

ایک صفحے کی کہانی۔۔!!
اورحان پاموک۔۔۔
مترجم : آصف فرخی

سات برس اور بائیس برس کی عمر کے درمیان، میں مصور بننا چاہتا تھا، اور اس خیال کے بارے میں بے حد پرجوش تھا۔۔ پھر کسی نامعلوم وجہ کی بناء پر میں نے اسے ترک کر دیا، جو شاید میں نے اپنی تازہ کتاب میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو کچھ عرصے قبل ترکی میں شائع ہوئی ہے۔۔ میں نے مصوری چھوڑ دی اور ناول لکھنے لگا۔۔

پینتیس سال کی عمر میں، جب میں نے اپنے آپ کو ایک ناول نگار کے طور پر مستحکم کر لیا تو میں نے اپنے آپ سے کہا کہ کسی دن میں مصوروں کے بارے میں ناول لکھوں گا۔۔ ابتدا میں، میں نے محض ایک مصور کے بارے میں لکھنے کا سوچا، سماجی سائنسی کتاب، یہ اس طرح کی ہوگئی جسے مونوگراف کہا جاتا ہے، یا پھر سوانحی ناول جو اصلی یا خیالی مصور پر مبنی ہوگا۔۔ پھر میں نے یہ بدل دیا، شاید اس احساس کے تحت کہ کسی ایک مصوّر کی کہانی اسلامی یا غیر مغربی مصوروں، ان کے اسالیب، غیر اسالیب، یا غیر موجود موجود اسالیب کو سمجھنے کے لئے کافی حد تک نمائندہ نہ ہوگئی۔۔ مجھے احساس ہوا کہ کسی اٹیلیئر atelier یا نقوش خانہ۔۔۔ مصوروں کا ایک ایسا گروہ جنہوں نے ایک دوسرے کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے اور شاید ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ڈرامائی تبدیلی لا رہے ہیں۔۔ زیادہ دلچسپ ہوگئی۔۔ سو یوں، جیسا کہ میں ہمیشہ کرتا آتا ہوں، میں نے اسے زیادہ پھیلا ہوا ناول بنا دیا۔۔ میرا نام سرخ ہے۔۔ ہر طرف سے کہانیاں آکر اس میں جڑنے لگیں۔۔ جیسا کہ عموماً ہوا کرتا ہے۔۔

کتاب کے ڈھانچے کے بارے میں ایک بات یہ ہے کہ میرے کردار بولتے ہیں۔۔ یہ ایک تاریخی ناول ہے، مگر یہ بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔۔ ایک سادہ لوح سے، جن کا منشا یہ ہوتا ہے کہ ناول نگار کہانی سنا رہا ہے اور قاری جوں کا توں اس پر یقین کر لیتا ہے۔۔ دوسرے والے زیادہ میری طرح کے ہیں۔۔ مابعد جدید تجرباتی تاریخی ناول جو ناول نگار کی آگہی کو کہانی کے اندر داخل کرتا ہے اور اس لئے جب ہم کہانی پڑھتے ہیں، تو ہم اس حقیقت سے واقف ہوتے ہیں کہ یہ روایتی معنوں میں ایک کہانی بھی ہے، اور تاریخ کی ایسی تعمیر نو جو شاید نظریاتی طور پر ناقابل حصول ہے اور ناقابلِ پیمائش۔۔

جو کہانی میں آپ کو سننا چاہتا ہوں، اس میں میرے مصوروں سے کہا گیا ہے کہ " وقت مصوری " پر تبصرہ کریں۔۔ " وقت اور مصوری " نام کے ایک حصے سے، یہ مصوروں کے درمیان ایک قسم کا شاہی مقابلہ ہے، اور سب، قرونِ وسطٰی سے متعلق تو ہیں ہی، ان مسائل کے بارے میں نظریاتی باتیں نہیں کرتے بلکہ کہانی سناتے ہیں۔۔ یہ کہانیاں، جن میں سے اکثر میں نے خود اختراع کی ہیں، بعض مرتبہ قرون وسطی کے اسلامی صوفی متون سے چرائی ہیں اور ان کے ساتھ کھیل کیا ہے، ان کے ہنر کی عکاس ہیں۔۔

میں آپ کو ایک صفحے کی کہانی سناؤں گا۔۔ یہ میرے لئے ایک چیلنج تھا کہ ایک صفحے کے اندر کہانی سنا دوں، مگر میں نے بھی بے ایمانی کی۔۔ میں نے لمبا کاغذ خریدا اور باریک حروف میں لکھا۔۔ جب اس کا ترجمہ ہوا تو یہ متن طویل ہوگیا، جیسا کہ ترجمے اکثر ہوجایا کرتے ہیں۔۔ یہ کہانی ڈیڑھ صفحے کی کہانی بن گئی۔۔ لیکن بہرحال ترجمہ کرتے وقت سارے پہلوؤں کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔۔ اگر آپ تمام نزاکتیں ملحوظ خاطر رکھیں گئے تو یہ ترجمہ کی طوالت بڑھتی جائے گئی۔۔ آپ کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے، انتخاب کا فیصلہ۔۔

اس کتاب کے ذریعے میں یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ قرون وسطیٰ کے اسلامی مصور کیا کرتے تھے۔۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ وہی چیزیں کر رہے تھے جو یہاں پر مغل مصور کر رہے تھے، سترہویں صدی کے آغاز پر، درحقیقت، اس ناول کے انجام پر، جب نشاتہ ثانیہ کے بعد کی مغربی مصوری کا اثر اس ثقافتی فضا پر پوری طاقت کے ساتھ محسوس کیا جاتا ہے جسے میں بیان کر رہا ہوں، بعض مصور ایک ہی حل سوچ سکے : وہ یہ کہ آگرہ آئیں جہاں روایتی مغل مصوری اس وقت تک زندہ تھی۔۔

اب میں کہانی شروع کروں گا :

ایک دفعہ کا ذکر ہے، بہت زیادہ دن نہیں ہوئے مگر حال کی بات بھی نہیں کہ ہر شے، باقی ہر شے کی نقالی کرتی تھی اور بڑھاپا اور موت نہ ہوتا تو آدمی کو وقت کے گزرنے کا علم بھی نہ ہوتا۔۔ ہاں، جب دنیاوی اقلیم متواتر انہیں تصویروں اور کہانیوں کے ذریعے پیش کی جارہی تھی گویا وقت کا بہاؤ ہی نہیں، فاخر شاہ چھوٹی سی فوج نے صلاح الدین خان کے سپاہیوں کو شکست دے دی۔۔

یہ کہانی سولہویں صدی کے استنبول میں واقع ہے اور یہ ان کے بارے میں ہے جنہیں آج ہم ایرانی مصور کہیں گئے۔۔ ان کے لئے فارس یا استنبول مسلہ نہیں ہے۔۔۔ یہ ایک روایتی کہانی ہے۔۔

جب فتح مند فاخر شاہ نے صلاح الدین خان کو گرفتار کر لیا اور اذیت دے کر ہلاک کر دیا تو اپنی حکمرانی کا ادعا کرنے کے لئے، رواج کے مطابق، اس کا پہلا فرضیہ یہ تھا کہ مفتوح خان کے کتب خانے اور حرم سرا کا دورہ کرے۔۔ کتب خانے میں صلاح الدین خان کا تجربہ کار جلد ساز مرحوم بادشاہ کی تمام کتابوں کا ورق ورق کر رہا تھا اور صفحوں کی ترتیب بدلتے ہوئے نئی کتابیں ترتیب دینے لگا۔۔

قرون وسطی میں مصور کتابیں، خاص طور پر اسلامی دنیا میں، بہت امتیاز کا موجب تھیں۔۔ اکثر و بیشتر وہ پڑھنے کے لئے تیار نہیں کی جاتی تھیں۔۔ وہ دیکھنے کی چیز ہوتی تھیں۔۔ وہ لوگوں کو موجودہ حکمران کے بارے میں اطلاع فراہم کیا کرتی تھیں۔۔ مثال کے طور پر نئے سکے ڈھالنے سے یہ اندازہ ہوسکتا تھا کہ اب فاخر شاہ اقتدار میں ہے، وہ سکے ڈھال رہا ہے یا کتابیں تیار کر رہا ہے۔۔۔ مگر ایک عمدہ، گراں قدر کتاب کی تیاری میں برسوں لگتے ہیں۔۔ علماء کے مطابق، اکثر یہ ہوتا تھا کہ بادشاہ، ان بادشاہوں اور شہزادوں کی کتابوں کی جلدیں کھلوا دیا کرتے تھے کہ جن کو وہ جنگ میں شکست دئے دیتے تھے، عمدہ ترین مصور اوراق چن لیتے، کاتبوں کو حکم دیتے کہ چند صفحے لکھ دیں، خاص طور پر خاتمہ کتاب کی عبارت کے لئے اور پھر کتاب کو یوں پیش کرتے گویا وہ ان کے اقتدار یا طاقت کی نشانی ہو۔۔۔

اس کے کاتبوں نے " ہمہ وقت فاتح صلاح الدین خاں " کے خطاب کو " فاتح فاخر شاہ " سے بدل دیا اور اس کے مصور مرحوم صلاح الدین خان کو بدلنے میں جٹ گئے، جو بڑی ہنر مندی کے ساتھ مسودوں کے سب سے خوبصورت صفحوں پر تصویروں میں ظاہر تھا۔۔ جو اس لمحے کے ساتھ لوگوں کے حافظے سے اترنے لگا رھا تھا، اس کی جگہ اس سے کم عمر فاخر شاہ کی تصویر بنانے لگے۔۔

حرم سرا میں داخل ہوکر فاخر شاہ کو وہاں موجود سب سے زیادہ حسین عورت کو تلاش کرنے میں مشکل نہ ہوئی لیکن اپنے آپ کو اس پر مسلط کرنے کے بجائے، کہ وہ کتابوں اور فنونِ لطیفہ میں ڈوبہ ہوا نفیس آدمی تھا، اس کا دل جیتنے کا ارادہ کیا اور اس عرض سے گفتگو چھیڑ دی۔۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نریمن سلطان نے، مرحوم صلاح الدین خان کے حسیناؤں کے جھرمٹ کا درخشاں ستارہ تھی، اس کی آب دیدہ ملکہ تھی۔۔ فاخر شاہ سے بس ایک درخواست کی :

" کہ لیلی مجنوں کی داستان میں اس کے شوہر کی شباہت کو، کہ جس میں لیلی کو نریمن سلطان اور مجنوں کو صلاح الدین خان کے طور پر مصور کیا گیا تھا، تبدیل نہ کیا جائے۔۔ کم از کم اس ایک صحفے میں، اس نے اصرار کیا، وہ لافانی زندگی جو اس کے شوہر نے برسوں کی مدت میں کتابوں کے زریعے حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، اس سے محروم نہ ہوسکے۔۔ "

فتح مند فاخر شاہ نے دلیری کے ساتھ یہ سادہ سی درخواست قبول کر لی اور اس کے کتاب سازوں نے اس ایک تصویر کو یوں ہی چھوڑ دیا، جس پر فاخر شاہ نے نریمن سلطان کا فوری طور پر وصل حاصل کیا اور وہ تھوڑی مدت میں، ماضی کی ہولناکی کو بھلا کر ایک دوسرے سے حقیقتاً محبت کرنے لگئے۔۔۔

پھر بھی فاخر شاہ لیلی و مجنوں کے مسودے میں اس تصویر کو بھلا نہ سکا۔۔ نہیں، یہ رقابت نہیں تھی جو اسے بے چین رکھتی یا یہ امر کہ اس کی بیوی کی تصویر اس کے پرانے شوہر کے ساتھ بنائی گئی ہے۔۔ جو چیز اس کا دل چھلنی کئے ڈالتی تھی وہ یہ تھی :

چونکہ اس شاندار کتاب کی پرانی حکایت میں اس کی تصریر نہیں بنائی گئی ہے۔۔ اس لئے وہ اپنی بیوی کے ساتھ لافانی لوگوں کے درجے میں شامل نہیں ہوسکے گا۔۔ شک کا سانپ پانچ برس تک فاخر شاہ کو ڈستا رہا اور آخر کار نریمن کے وصل کثیر کی ایک پر مسرت رات کے بعد، شمع دان ہاتھ میں لئے وہ چوروں کی طرح کتب خانے میں داخل ہوا، لیلی و مجنوں کی کتاب کھولی اور نریمن کے مرحوم شوہر کے چہرے کے اوپر اپنا چہرہ بنا ڈالا۔۔

بہت سے شہزادگان کی طرح جن کو مصوری اور نقاشی کا شوق ہوتا ہے، وہ بھی مصوری میں اتائی تھا اور اپنی شبہہ خوبی کے ساتھ نہ بنا سکا۔۔ صبح کے وقت جب کتب خانے کے نگران نے تحریف کے شبے میں کتاب کو کھولا اور صلاح الدین خان کی جگہ کوئی اور صورت دیکھی جو نریمن کے سے چہرے والی لیلی کے پہلو میں ایستادہ تھی تو اسے فاخر شاہ سمجھنے کے بجائے اس نے یہ اعلان کر ڈالا کہ فاخر شاہ کا جانی دشمن، نوجوان اور خوب رو عبداللہ شاہ ہے۔۔ اس افواہ نے فاخر شاہ کے سپاہیوں کو اکسایا اور عبداللہ کے حوصلے بلند ہوئے کہ وہ پڑوسی ملک کا نوجوان اور پرجوش حکمران تھا اور پہلی مہم جوئی کے دروان فاخر شاہ کو شکست دی، گرفتار کیا اور قتل کر ڈالا، اور یوں اپنی حکمرانی کو اپنے دشمن کے کتب خانے اور حرم سرا پر قائم کیا اور ہمیشہ حسین نریمن کا نیا شوہر بن گیا۔۔۔!!

•••••

انتخاب و ٹائپنگ: احمد بلال


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2785902334973615

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo