کراما زوف برادران دوستوفسکی ترجمہ شاہد حمید ایک …

[ad_1]

کراما زوف برادران دوستوفسکی ترجمہ شاہد حمید

ایک ضخیم مگر قابلِ قدر ناول

تبصرہ : بینا صدیقی

روسی مصنف دوستوفسکی میرے پسندیدہ ترین مصنفین میں شامل ہے۔

دوستوفسکی نے انسانی نفسیات کے گہرے مشاہدے کے بعد انتہائی دلچسپ اور آسان طریقے سے

یہ نفسیاتی پرتیں اپنے قاری کے سامنے کھولی ہیں۔

جرم وسزا ، ذلتوں کے مارے لوگ اور ایڈیٹ جیسے شاہکار ناولوں کے بعد جب دوستوفسکی کا

ضخیم ترین ناول ‘برادر کرامازوف‘ کا اردو ترجمہ جناب شاہد حمید صاحب کا کارنامہ میرے ہاتھ آیا ۔

جو کہ ایک نایاب ناول ہے کیونکہ یہ ١٣٠٠ سے زائد صفحات کا ناول ہے اور اس کو تخلیقات پبلشرز نے شائع کیا تھا۔۔۔ اتنے ضخیم ناول کو ری پرنٹ کرنے کی ہمت اس کے بعد کسی پبلشر کو نہ ہوسکی۔

میں نے اس ناول کو نہ صرف انتہائی دلچسپ پایا بلکہ یہ انسانی نفسیات کے ایسے ایسے راز کھولتی ہے جو خود ہمارے اندر کنڈلی مارے کسی گہرے اندھیرے میں چھپے بیٹھے ہیں اور یہ جملے پڑھ کے ہم سوچتے ہیں خود ہمارے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔ہم بھی تو کبھی کبھی اتنے ہی بُرے ہوجاتے ہیں۔

کہانی:

کہانی کا مرکزی پلاٹ کراما زوف گھرانے کے گرد گھومتا ہے۔ کراما زوف ایک بڑی عمر کا مگر لامذہب اور عیاش شخص ہے۔ اس کے تین بیٹے ایوان، متیا اور ایلوشا ہیں۔

ایوان باپ کی طرح عیاش ہے ۔۔۔متیا مست ملنگ اور چھوٹا والا ایلوشا سب سے الگ طبیعت کا ہے۔

کرامازوف برادران کی ماں ایک سیدھی سادی عورت تھی جس پہ ان کا باپ بہت ظلم وستم کرتا تھا تو وہ معصوم عورت ہسٹیریا کا شکار ہوگئی۔۔۔اور نفسیاتی مریضہ بنا کے کونے میں دھکیل دی گئی۔

چھوٹا بیٹا ایلوشا اسی دن سے باپ سے نفرت کرنے لگا تھا۔ باقی دو بھائیوں کو ماں سے غرض تھی نہ باپ سے ۔۔۔ایک کو دولت اور دوسرے کو اپنی آزاد لاابالی زندگی سے مطلب تھا۔

ایلوشا پاگل ماں کو کھانا کھلاتا ہے تو ماں اسے خوب تھپڑمارتی ، چٹکیاں کاٹتی اور گھونسے مارتی ہے مگر وہ ماں کی محبت میں مار کھاتا اور ماں اس سے وعدہ لیتی کہ وہ ہر نوالے کے بدلے ایک تھپڑ کھائے گا۔۔۔۔ماں کے ساتھ بیٹے کی محبت کا یہ بڑا ہی انوکھا انداز دوستوفسکی ہی دکھا سکتا تھا۔

ماں کی موت ایلوشا کو باپ سے اتنا برگشتہ کردیتی ہے کہ وہ گھر چھوڑ کے ایک چرچ کے پادری کے ہاں چلا جاتا ہے اور یوں مکمل لامذہب لادین کراما زوف گھرانے کا سب سے چھوٹا چشم و چراغ دین کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔

باپ کراما زوف اور بڑا بھائی ایوان ایک ہی عورت کے دامِ فریب میں الجھ جاتے ہیں جو ایک طوائف ہے۔

باپ بیٹا اس عورت کی وجہ سے ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔۔۔۔

وہ فریبی عورت دونوں کو دھوکا دے رہی ہے۔

ایلوشا سے ایک اپاہج لڑکی جو پادری کے پاس دعا کرانے آتی ہے ایلسے محبت کرنے لگتی ہے مگر ایلوشا اس کو کوئی رسپانس نہیں دیتا۔

ادھر کرامازوف باپ اپنے کمرے میں مردہ پایا جاتا ہے

قتل کے الزام میں تینوں بھائیوں کو عدالت میں بلایا جاتا ہے

کیونکہ باپ کی لمبی چوڑی جائیداد کی خاطر تینوں کراما زوف میں سے کوئی بھی اس کو قتل کرسکتا تھا

یہاں عدالت کی بہت ہی طویل کارروائی جو لمبی لمبی تقاریر پہ مبنی ہے۔۔۔قاری کو ذرا بور کرتی ہے۔

لیکن ان ہی تقاریر میں لادینیت اور عقا ئد پہ بحث شروع ہوتی ہے

جس میں ایلوشا سب کو قائل کرتا ہے

آخر مٰیں منجھلے بھائی کو جیل اور بڑا بھائی ایوان ماں کی طرح ذہنی مریض بن جاتا ہے

اور ہمارا ہیرو ایلوشا جنگلوں میں ایک پرسکون زندگی تلاشنے نکل جاتا ہے۔

جائزہ:

بنیادی طور پہ بہت دلچسپ کہانی ہے۔ جس کے تانے بانے بہت ہی چابکدستی سے بنے گئے ہیں

تینوں بھائیوں کے کردار بہت ہی نفاست سے تیار کئے گئے ہیں

کہ تینوں کی علیحدہ علیحدہ شخصیت قاری کے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے

روس جیسے لامذہب معاشرے پہ ایلوشا کی زبانی گہرا طنز کیا گیا ہے

لوگوں کی خود غرضی ، بے حسی اور لاپروائی پہ ایسی تنقید کی گئی ہے جو سیدھی دل کو لگتی ہے کیونکہ یہ تمام برائیاں اب پاکستانی معاشرے میں بھی پائی جاتی ہیں۔

ترجمہ :

ترجمہ بے حد سلیس اور رواں اردو میں ہے۔۔۔قاری کہیں بھی اٹکتا نہیں ہے۔ شاہد حمید صاحب اس شاہکار کو اردو زبان میں مہیا کرکے اردو پہ احسان کر گئے ہیں کیونکہ اردو میں ایسے ضخٰیم تراجم کم کم ہی ملتے ہیں۔۔۔۔ایسا ضخیم دوسرا ترجمہ ٹالسٹائی کا وار اینڈ پیس ہے وہ بھی جناب شاہد حمید کی مہربانی سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے ۔

منفی پہلو:

ناول کا واحد منفی پہلو اس کی طوالت اور انتہائی لمبی لمبی تقاریر ہیں۔۔۔ان میں جہاں انتہائی فکر انگیز جملوں کے موتی ملتے ہیں وہیں غیر ضروری طوالت اور موضوع کی تکرار قاری کو بوریت میں مبتلا کردیتے ہیں۔

مجموعی طور پہ کرامازوف برادران ایک شاہکار ناول ہے جو پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے اور اس کو سوچنے پہ مجبور کر دیتا ہے۔

مثبت پہلو:

اس ناول میں مذہب کو ایک الجھے ہوئے اور مسائل سے بھرے ہوئے معاشرے کے حل کے طور پہ مذہب کو پیش کیا گیا ہے۔

دوسری طرف اس ناول میں معاشرے کی بے حسی، دولت کی ہوس، خود غرضی کی دوڑ اور رشتوں کی بے حسی کے بارے میں جو کچھ کہا گیا اس سے ایک پاکستانی قاری مکمل طور پہ ریلیٹ کر سکتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں بھی یہ تمام برائیاں عام ہوچکی ہیں ۔۔۔

اس ناول کو پڑھتے ہوئے یہ احساس نہیں ہوتا کہ کسی کوہِ قاف کی کہانی پڑھ رہے ہیں

سب جیتے جاگتے انسان ہیں

جو شاید ہمارے ارد گرد بھی پائے جاتے ہوں۔

جناب شاہد حمید صاحب کی اللہ مغفرت فرمائے جنہوں نے یہ شاہکار ہماری زبان میں منتقل کرکے ہم تک پہنچایا اور اردو کے دامن کو اس عظیم خزانے سے مالا ما ل کیا۔

مصنف: فیودر دوستوئفسکی

ملک: روس

اردو مترجم : شاہد حمید

پبلشر: تخلیقات پبلشرز

ضخامت: ١٧٠٠ صفحات (اصل ناول ١٣٠٠ صفحات باقی حواشی اور دوستوفسکی کے بارے میں تبصرے)

تحریر و تبصرہ:

بینا صدیقی

کراچی، پاکستان

— with Imran Ahmad Khan and 5 others.


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2553617051535479

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo