زندگی کم نہ تھی میں نے جینا کیا دیر سے ہی شروع ب…

[ad_1]

زندگی کم نہ تھی

میں نے جینا کیا دیر سے ہی شروع

بچپنے سے عجب خوف و مایوسی میری نگاہوں میں گھر کر چکے تھے کہ اسکول جاتے ہوئے اپنے بستے کو سینے لگا کر میں یوں بھاگتا جیسے سورج کو بھی صبح صادق سے پہلے ابھرنے کی جلدی ہوتی ہے

میں پہلی نہیں دوسری صف کے کونے میں سر کو جھکائے ہوئے بیٹھا رہتا، کئی بار استاد کے کچھ سوالوں کا مجھ کو جواب آتا بھی تو میں چپ کر کچھ بھی بتانے سے بالکل گریزاں ہی رہتا ،کبھی کوئی استاد مجھ پر توجّہہ نہ دیتا

شام کو روز کرکٹ گراؤنڈ میں جا کر اکیلا سبھی لڑکوں کو کھیلتے دیکھتا ولیکن مجھے کوئی بھی کھیلنے کا نہ کہتا،

میں بڑا ہو رہا تھا، مِرے سر پہ کچھ خاندانی فرائض کا بھی بوجھ تھا، اپنے چاروں طرف بے سرو پا مقاصد کی فہرست ،رستوں کی دھول، اور گھر کی گھٹن مجھ کو جلدی سے اُس شہر کو چھوڑ جانے کی ترغیب دینے لگی تھی

میں ملتان میں آ گیا تھا

اپنے عہدِ جوانی کے دس سال میں نے یہاں گرد کیا نرخ میں جھونک ڈالے

کئی نظریاتی علوم اور چقا چوند رنگوں بھری محفلوں نے مجھے کچھ نئے راستوں کی طرف گام زن کر دیا تھا جو کہ رستے نہیں کچھ گڑھوں اور ڈھلوانوں کے جال تھے

مجھے زندگی سے محبت نہیں تھی سو میں زندگی کو مَحبت کے جھانسے میں رکھنے لگا تھا

کبھی اپنے ویراں گریباں پہ ناخن کی تیز اور نفرت بھری کچھ خراشوں کے مدّھم نشانات بھی دیکھتا تھا تو میں پہلو بدل کر کسی شعر میں بد حواسی کا منظر دکھاتے ہوئے خود کو آزاد اور مطمئن کرنے لگتا

گھر سے کال آتی تو چند سیکنڈ میں بے زار ہو کر یہی سوچتا کم سے کم بات ہو

دن کو اکثر سڑک پار کرتے ہوئے مجھ کو لگتا کہ سب گاڑیاں بس مجھے ہی کچلنے کو بے تاب ہیں

باغ میں رات کو جاتا، تا کہ پھولوں سے میرا وہاں سامنا ہی نہ ہو

اپنے کمرے کے ٹوٹے ہوئے آئنے پر، اپنی بد قسمتی کی تصاویر چپکا رکھی تھیں، کہ چہرے کو پہچاننے میں مجھے کوئی مشکل نہ ہو

نیند کی گولیاں پھانک کر سارا دن سوتا اور راتوں کو جاگتا ،شعر کہتا ، اپنے بالوں میں یوں انگلیاں پھیرتا جیسے دنیا کی ازلی نکیل اور رسی مرے بالوں کے ساتھ باندھی ہوئی ہو ، میں گراؤنڈ میں گھنٹوں اکیلے یونہی بیٹھا رہتا، گھاس پر پھیلی تاریکی اور بے زبانی مِرے شعر سنتی، مرے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے میری خشک اور بنجر نگاہی کی تعریف کرتی تو میں جھوم اٹھتا

اک ہیولے سے رنگ و ہوس جیسی چاہت کے چکّر میں جیون کو بے سَمت راہوں پہ یوں ہانک کر لے گیا تھا ، جیسے آندھی میں اڑتے ہوئے پتّے گَرد اور غربت کا ساماں نظر آتے ہیں ، میری غربت مجھے بے نیازی کا جب جب سبق دیتی ' میں ان معاشی مسائل پہ جنگوں کی تاریخ لکھتا جنہیں میرے آبا و اجداد نے مات دی تھی ، رنگ و بو اور چرخ و سمن کی زیارات پر وارے جانے سے پہلے ،میں لاوارثوں کی کئی بے کفن لاشوں پر بین کرتا تو میری ہی الماری میں میرے کتنے اضافی لباس آ کے مجھ کو معاشرتی راہوں کی بے حسّ و بے رنگ منزل کی جانب قدم آزمائی سے بھی باز رکھتے

ایک کمرے میں چھے سال تک خود کو محدود رکّھا ,بہت لوگ آئے، کئی پھول میرے بدن کے اداس اور ویران باغیچے میں کِھل کے مرجھا چکے تھے ،

یہ مری نظم میری شکست اور رنجیدگی کا سرِ عام آج اعتراف اور اعلان ہے

میں نے اپنے بسر کردہ لمحوں کو بے خواب نسلوں کی خاطر، کچھ احساں فراموش لوگوں کی خاطر، مرے خون کے چند پیاسوں کی خاطر وہاں حالت ِ ماندگی میں بھی بے مول قرباں کیا تھا جہاں پر مرے سر کی قیمت کڑوڑوں لگی تھی

میرا طوفان میرے ہی اندر بپھر کر مرے ہی کناروں کو ڈھا کر مجھے زیر کر کے دھواں ہو چکا تھا

جونؔ و راشدؔ سے وابستگی بے ثمر جا چکی تھی ، میری پہلی کتاب آ کے رد ہو چکی تھی،

میں اُسے آخری خط میں بھی بس یہی لکھ رہا تھا کہ یہ جنگ جب ختم ہو گی تو میں اس کو شادی کا پیغام بھجواؤں گا، اور اِدھر میں ستاروں کی بندش پہ فلکی نظاموں کے پیماں بدلنے میں مصروف تھا، امن کی فاختائیں اڑاتے ہوئے خانہ جنگی کی شدّت کو کم کر رہا تھا، مَحبت بھرے گیت لکھنے میں دن رات اک کر رہا تھا ،علم کے جگنوؤں اور چراغوں کی تربیّت و پرورش کر رہا تھا ،اُدھر مدرسوں اور سکولوں میں کچھ طاقتیں بچّوں اور نوجوانوں میں بھی اسلحہ اور تلوار بازی کو پرواں چڑھانے میں کردار ادا کر رہی تھیں، قتل و غارت گری سے معاشرتی اقدار کا خوں کیا جا رہا تھا،کم سنی میں کئی بچیّوں کو زبردستی برقعوں میں ڈھانپے ہوئے شادی کے نام پر ہی اسمگّل کیا جا رہا تھا، کتنے مزدور خوں کو جلاتے ہوئے کوئلے کی سُرنگوں تلے دب کے جاں ہار کر جاں بَہ حق ہو چکے تھے، کئی نوجواں گھر سے دور اپنے خوابوں کے کچرے تلے روز پردیس کی جیلوں میں سڑ رہے تھے ، مرے دیس کے لوگوں کی خوش نصیبی کہ زرخیز و سرسبز ساری زمینیں مرے ملک کے فوجی جرنیلوں اورعہدہ داروں میں ہی بٹ چکی تھیں، میرے سینے سے دل کا تعلّق معطّل کیا جا رہا تھا ، مرے خواب زندہ مقیّد کیے جا رہے تھے، مرے ہاتھ کے سب بنائے ہوئے جو عَلَم تھے انہیں سر نگوں کر کے میری ہی آنکھوں پہ باندھا گیا تھا، مرا کوہِ نور، کسی دور کے ملک میں جا چکا تھا

مرے گِرد پچھتاوے کے سال

ناکام تحریکوں کے نام پر کچھ سزائیں ،

میرے اپنوں کے شکوؤں بھرے خط ،

اپنی بے کار غزلوں کے بوسیدہ اوراق ،

اپنے اظہار کی ہچکچاہٹ ،

بہاروں کے زخم اور تصاویر ہر لحظہ یہ کہہ رہے ہیں

زندگی کم نہ تھی

میں نے جینا کیا دیر سے ہی شروع

( وقــارؔ خــان )

— with Waqar Khan.

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo