"کرونا(کووڈ19) کے خلاف FIR" جی۔ حسین ش…

[ad_1]

"کرونا(کووڈ19) کے خلاف FIR"
جی۔ حسین
شیخوپورہ۔ پاکستان

ہم عالم انسان نے کرونا وائرس کے خلاف ایف ائی آر درج کروا دی ہے۔ وقوعہ کے مطابق اس وائرس نے کرہ ارض کے مشرق میں ملک چین کے ایک شہر ووہان میں پہلی واردات کا ارتکاب کیا۔ ہنستے بستے شہر میں گھات لگا کر انسانوں کی سیریل کلنگ شروع کر دی۔ ابتدا کچھ ڈاکٹروں نے اس کی واردات پر ہوشیاری دکھائی لیکن آج کے جدید ترین ماحول کے باسیوں نے اسے مذاق میں اڑا دیا۔ کرونا نے طیش میں آ کر ڈاکٹر لی کو ہی قتل کر دیا جس نے پہلے پہل اس خفیہ قاتل کی نشاندہی کی تھی۔ اس کے بعد تو کرونا وائرس نے اربوں کی تعداد میں اپنے ڈپلیکیٹ تیار کر لیے اور ہر نئے شکار کے جسم میں کروڑوں نئے ہم شکل تیار کر کر کے پھر خاموش دہشت گردی کا بازار گرم کر دیا۔ قصہ کوتاہ! جب تک اس کے سد باب پر سنجیدگی سے عمل درآمد شروع ہوا یہ مجرم نہایت سرعت سے مظلوموں کے جسموں میں گھر بنا کر ہر ذریعہ نقل و حمل سے دنیا بھر میں پھیلتا گیا۔ جناب عالی! آج تک یہ لاکھوں معصوم و بے گناہ لوگوں کی جان لے چکا ہے۔ آپ سے استدعا کی جاتی ہے کہ جدید دور کے اس خبیث ترین مجرم کو فوری گرفتار کر کے اس کے خلاف فوری کاروائی کی جائے تاکہ نہ صرف اس ظالم کو بلکہ اس کے ساتھ للکارا مارنے والوں یا خفیہ مدد گاروں یا دوستوں کو(اگر کوئی ہوں تو) قرار واقع ہی بموجب عالمی قانون سزا دی جائے۔

"ابتدائی کاروائی و کارگزاری رپورٹ"
"میں ایس ایچ او تھانہ عالمی منڈی ان تمام رضاکاروں کی ڈیوٹی لگاتا ہوں جو بھی پوری تندہی سے اس مجرم کے اس بھیانک جرم کو کرنے کے پیچھے مقاصد اور اس کے مددگاروں کی کھوج لگانے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔" یہ حکم آج مورخہ 01 مئی, بوقت 03:50 بجے سنہ 2020 جاری کیا گیا۔

ضمنی نمبر1:
02-05-2020
ضابطہ فوجداری کے مطابق سب سے پہلے mens rea یعنی "نیت مجرمانہ" کا تعین کیا جاتا ہے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مجرم کرونا عرف کووڈ 19 بذات خود کسی بھی نیت یا سوچ سے خالی ایک مایکروسکوپک جاندار ہے۔ بائیولوجی کے سائنسدان اس کو وائرس کہتے ہیں اور مدتوں سے اس کے بیس سے زائد رشتہ داروں سے خوب اچھی طرح نہ صرف واقف ہیں بلکہ ان سے خاص تعلق رکھتے ہیں۔

ضمنی نمبر 2:
03-05-2020
ہماری تقتیش کے دوران دو قابل مخبروں نے کیس کو سمجھنے مںں ہماری مدد کی اور یاد رہے پولیس اپنے مخبروں کے نام بتانے کی پابند نہیں ہوتی۔ مخبران مذکورہ نے تحمل سے ہمارے مسئلہ کو سمجھا اور جلد ہی ثبوت جمع کر کے لانے کا وعدہ کیا۔

05-05-2020

The Pediatric Infectious Diseases Journal, November 2005 کی ایک فائل پیش کی گئی جس میں
Kahn, Jeffrey S اور Kenneth Mcintosh نامی سائنسدانوں نے مل کر کرونا کی پوری تاریخ پر ہوش ربا مضمون لکھا ہوا تھا۔ جس کی طوالت کا ذکر یہاں آپ کی طبعیت بگاڑ سکتا
ھے۔ چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں:
1- کورونا وائرس کو پہلی بار 1965 میں دریافت کیاگیا۔ اس سے قبل اس وائرس کو B814 کے کوڈ سے یاد کیا جاتا تھا۔
2- اس کی دریافت کا سہرہ Tyrrell اور Bynoe نامی دو ڈاکٹروں کے سر سجتا ہے۔
3- انھوں نے بہتر خوردبینوں سے اس کی جسمانی ساخت کو سمجھا تو اس کے گردا گرد نوکیلے ابھار دیکھے اور اسے 'کرونا' کا نام عطا کیا۔ ۔ ۔ بعد ازاں آج تک یہ اسی نام سے شہرت کے بام_ عروج کو پہنچ گیا ہے۔
4- جلد ہی اس کو جانوروں اور انسانوں میں علیحدہ علیحدہ خاندانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ یعنی جانوروں کا کرونا انسانوں کو اور انسانوں کا کرونا جانوروں پر اثر انداز نہیں ہوتے۔
5- انھوں نے یہ مانا کہ یہ وائرس جانداروں میں لاکھوں سال سے متوازی زندگی گزار رہے ہیں۔
6- بعد ازاں اس پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔
7- جناب عالی غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ متذکرہ بالا دونوں ڈاکٹروں کی برسہا برس کی کاوشوں سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ یہ وائرس دنیا کے ہر خطے میں پائے جانے والے انسانوں کی سانس کی نالیوں میں پرورش پاتا ھے لیکن اس کی موت دینے کی صلاحیت میں فرق ہے۔ چین میں پایا جانے والا کرونا زیادہ تیزی سے مارتا تھا اور زیادہ لوگوں کو مارتا تھا جب کہ جنوبی ایشیا کے انسانوں میں یہ دمہ وغیرہ پیدا کرتا اور موت کا سبب بہت کم بنتا تھا۔
8- ایک اور حیرت ناک حقیقت بھی انہی ماہ و سال میں دریافت کر لی گئی تھی کہ یہ بچوں کی سانس کی نالیوں میں نسل بڑھانے اور بیمار کرنے کی نہایت کم صلاحیت رکھتا تھا۔
9- خاص بات یہ کہ بائیولوجی کے ماہرین نے ڈھونڈ نکالا تھا کہ وائرس ہر دو یا تین سال بعد لازما مقامی طور پر وبائی شکل اختیار کرتا ہے جب کہ اس کی وجہ سے شرح اموات بہت کم رہتی ہے لیکن یہ بوڑھوں میں(جن میں پہلے سے ہی سانس کی نالیوں کی تنگی پیدا ہو چکی ہو) یا کمزور قوت مدافعت رکھنے والے اجسام کے لیے فرشتہ اجل بنتا ہے۔
ڈاکٹروں/سائنسدانوں نے یہ بھی دیکھا کہ کمیونٹی میڈیسن کے اصول کے تحت دنیا کے ہر خطے میں مقامی حکماء اس کو وبائی نزلہ زکام کے طور پر دیسی جڑی بیوٹیوں سے صدیوں سے علاج کر رہے تھے۔

ضمنی نمبر 3:
07-05-2020
جناب عالی!
مخبر_ اعظم ہماری پوری مدد کر رہا تھا۔ ہم بھی صرف چائے پانی اور سگار پر گزارہ کرتے ہوئے کمرے کے اندر موجود رہے۔ باہر جانا بھول ہی گئے۔
ہماری تحقیق ہمیں ایک ایسی فائل میں لے گئ جہاں لکھا تھا کہ امریکہ کے ادارہ نیشنل ہیلتھ نے سنہ 1996 میں ہر خطے کے کرونا کے لیے الگ الگ ویکسین بنانے کا فیصلہ کیا لیکن کسی بھی وجہ سے اس منصوبے کو روک دیا گیا۔

سنہ 2002/2003 میں جنوبی چین میں اس کی وبا نے شدت پکڑی تو SARS کا نیا نام دے دیا گیا۔ اور اس کے لیے HIMALYAN PALM CIVETS یعنی درختوں پر بلی نما جانور کو شکار کیا جاتا تھا جس سے خوشبو حاصل کی جاتی۔ ۔۔ کو مورد الزام ٹہرایا گیا۔ حالانکہ یہ انسانی کرونا ہی تھا۔
ہوا یوں تھا کہ ناول کرونا ایک اکہتر سالہ بزرگ سے ملا جو چین کے علاقہ شن زی سے ہو کر ہانگ کانگ آیا تھا۔ لیکن اس وبا سے محض آٹھ ہزار لوگ متاثر ہوئے کوئی تین سو سے کم لقمہ اجل بنے۔ کیونکہ اس کی قتل کرنے کی صلاحیت بہت کم ہے۔۔۔ اگر ہم اس کا موازنہ طاعون یا چیچک یا ہیضہ یا ملیریا سے کریں۔
(جناب ہمیں معاف فرمائیے گا مذاق کی جرات کر رہے ہیں۔ ہالی وڈ میں بیٹھے کہانیوں کے متلاشیوں کو فلم Contigous کا آئڈیا SARS سے ہی ملا۔ پھر بھیڑ چال میں چل سو چل ہو گئی۔ یہاں ایسی احمقانہ فکشن پر بنی فلموں کی فہرست آپ کی طبع پر ناگوار گزرے گی ۔ لیکن کیا کیا جا سکتا ہے۔ اگر فلم انڈسٹری پورن بنانے میں آزاد ہے تو ایسی فلموں پر کون روک لگائے)
10-05-2020

جناب عالی! ہماری تفتیش کا مزید احوال سنیے۔ سنہ 16-11-2006 میں امریکہ کے ادارہ وبائی امراض کے ادارہ نے اس وائرس کو Severe Acute Respiratory Syndrom Coronavirus کے نام سے ایک ملٹی نیشنل کیمیکل کپمنی CHIRON CORPORATION US کی طرف سے باقاعدہ پیٹنیٹ کروانے کے لیے درخواست پر پیٹنٹ نمبری US 200625785 کے تحت پیٹنٹ لیٹر جاری کر دیا۔ جناب عالی ایک حیرتناک حقیقت ہمارے سامنے آئی کہ پیٹنٹ نمبر Chiron Corp کو جاری ہوا 16-11-2006 کو جب کہ اس کپمنی کو مشہور زمانہ دواساز ادارہ NOVARTIS
20-04-2006 کو ہی خرید چکا تھا۔ (ایسا کیوں کر ہو سکتا تھا؟ اس پر اگر آپ حکم دیں گے تو الگ سے تفتیشی رپورٹ مرتب کی جا سکتی ہے)
Chiron Corp
نے اپنی درخواست میں کرونا کے کمزور وائرس سے ویکسین بنانے کی اجازت طلب کی تھی۔ جو کہ گرانٹ کر دی گئی تھی۔ اب یہ امر بھی پردہ راز میں ہے کہ NOVARTIS نے وہ ویکسین بنا لی تھی یا نہیں؟اگر بنا لی تھی تو مارکیٹ کیوں نہیں کی گئی؟
12-05-2020
جناب عالی! دوران تفتیش ہمارے علم میں آیا کہ Milenda Bilgates Foundation نے اس وائرس کو سنہء 2014 میں پیٹنٹ کروایا تھا لیکن ہمیں اس امر کی بابت کوئی ثبوت نہ مل سکا لیکن تفتیش کا رخ کسی اور جانب نہیں بلکہ خود اس فاونڈیشن کی طرف مڑ گیا۔
ملنڈا بل گیٹس فاونڈیشن دنیا بھر میں مختلف تحقیقی اداروں کو اربوں ڈالرز مختلف بیماریوں پر ویکسینں بنانے کے لیے دے چکی ہے۔ ایسی دریا دلی کیوں؟اس کا واضح جواب ہماری تفتیش کے آخر پر سامنے آئے گا۔

14-05-2020

بل گیٹس کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دریا دل اور انسان دوست مانا جا رہا ہے۔
سنہء 1990 میں ان میاں بیوی نے خاص کر امریکہ اور عام طور پر دنیا بھر کی بڑی بڑی لائبریریوں کو انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کرنے کے منصوبے پر عمل شروع کیا۔
اس خاندان نے 1997 میں اپنے خیراتی کاموں پر کام شروع کیا ۔ پھر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 1999 میں وبائی امراض کے ماہر ترین و مشہور ترین ڈاکٹر William H. Foege کو اپنا اڈوائزر بھرتی کر لیا۔
سنہء 2000 میں باقاعدہ اپنی فاونڈیشن کو تعلیم، صحت اور وبائی امراض کے خاتمہ کے ایجنڈے کے تحت رجسٹرڈ کروایا۔
انھوں نے HIV and AIDS کے لیے ویکسین سازی پر خطیر رقوم جاری کرنی شروع کر دیں۔
سنہء2000 میں اس فاونڈیشن نے UNO کے لیے ایجنڈا 2015 تیار کر کے دیا۔(وہ ایجینڈا کیا تھا اس کے لیے گوگل پر موجود مختلف ریسرچ آرٹیکلز سے مدد لی جائے۔۔۔نگاہ میں رکھا جائے کہ ایک فرد واحد کس طری اپنی مرضی کا ایجینڈا پوری دنیا سے منوانا چاہتا تھا)
سنہء 2003 میں انھون نے سنہء 1990 میں دیکھے خواب کی تکمیل کی یعنی امریکہ کی نوے فی صد لائبریریوں کو انٹرنیٹ سے منسلک کر دیا۔ ایسا پختہ ارادہ !!!! واااہ!

اس فاونڈیشن کی زندگی میں اہم ترین سال سنہ 2006 آیا۔ اس سال مشہور_ زمانہ راک فیلر فاونڈیشن کے اشتراک سے افریقہ میں سبز انقلاب لانچ کیا جس میں یو این جنرل سیکریٹری کوفی عنان ان کا ساتھی تھا۔ جب کہ مونسینٹو کارپوریشن ان کے ذریعے ہائی بریڈ بیج اور اپنی کیڑے مار ادویات کی سپلائی کی ذمہ دار تھی۔
اسی سال روئے زمین پر ایک اور امیر ترین انسان "ویرن بفٹ" نے 30 ارب ڈالر کا عطیہ اس فاونڈیشن کو دیا اور میاں بیوی کے ساتھ ٹرسٹی کا رتبہ حاصل کر لیا۔ اب قانونی طور پر اس فاونڈیشن کے کرتا دھرتا ہیں۔ ۔ ۔ اور قانون سوائے انسانی قتل کے ان کے آپریشن پر گرفت نہیں کر سکتا۔
(اس فاونڈیشن کی سال با سال کی رپورٹ ہماری طبعیت کو بوجھل کر سکتی ہے اور یہ بتانا چنداں فائدہ مند نہیں کہ کس کس سال میں اس فاونڈیشن کے دفاتر کن کن ممالک میں کھلتے گئے یا اس فاونڈیشن نے کتنے معاہدے کس کس سے کئے البتہ نہایت چنیدہ معلومات آپ کے گوش گزارنا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ بتانا بھی ضروری نہیں کہ اس فاونڈیشن نے کتنی دولت کس کس دواسازی میں تحقیقاتی ادارے کو بانٹی۔)

جناب عالی!
سنہ 2007 میں اس فاونڈیشن نے روٹری انٹرنیشنل کو 200 ملین ڈالر کی خطیر رقم دے کر پوری دنیا میں پولیو کے خلاف جاری ویکسین پلانے کے کار خیر میں حصہ ڈالا۔
سنہ2008 میں بل گیٹس نے مائکروسافٹ کو خیر باد کہہ کر کل وقت اپنی فاونڈیشن کو دینے کا اعلان کیا۔
سنہ 2009 میں اپنے ساتھی ویرن بفٹ کے ساتھ مل کر امریکہ کے امیر ترین خاندانوں سے ملنے اور مہم چلانے کا آغاز کیا کہ وہ اپنی ساری جمع شدہ دولت ان کی فاونڈیشن کو دیں تاکہ دنیا میں نیکی کے کاموں کو تیز کیا جاسکے۔
سنہ 2010 میں اسی فاونڈیشن نے آن لائن تعلیم وتربیت کو مستقبل کا ذریعہ تعلیم بنانے کے منصوبے کا آغاز کیا اور یہی وہ سال ہے جب میلنڈا گیٹس فاونڈیشن نے پہلے تو اس دہائی کو ویکسین کی دہائی قرار دلوانے کا منصوبہ چلایا ۔ بعد ازاں اگلے بیس سال میں دنیا کی ساری آبادی کو ویکسین کے جال میں لانے کی دہایاں قرار دیا۔(جناب عالی یہیں ہمیں ایجینڈا 2021 اور ایجینڈا 2030 کی بنیادیں ملتی ہیں۔ اگر حکم ہو تو ان پر الگ سے تفتیشی رپورٹ پیش کی جا سکتی ہے)
سنہ 2011 میں مختلف ممالک سے 4.3 ارب ڈالرز جمع کر کے فاونڈیشن نے GAVI Alliance کا آغاز کیا تاکہ ہر انسان کو ویکسین پلا کر صحت مند بنا دیا جائے۔
سنہ 2012 میں یو این کی جنرل اسمبلی کی میٹنگ میں بل گیٹس نے سربراہان مملکت سے ملاقات کی جو ایک پرائیویٹ حثیت میں کسی بھی شخص کا خواب ہو سکتا ہے۔ ان سے وعدہ لیا گیا کہ وہ پولیو ختم کرنے میں فاونڈیشن کی مدد کریں گے۔
اسی سال لندن میں ایک عظیم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں عورتوں کو کم بچے پیدا کرنے اور فیملی پلاننگ پر موثر طریقوں پر ماہرین کی آرا لی گئیں۔
سنہ 2013 میں ابوظہبی کے امیر_ سلطنت سے ویکسین کی دہائی پروگرام کو مزید تیزی دینے پر وعدہ اور امداد کے لیے اہم ملاقات کی۔
جناب عالی! یہاں تک پہنچتے پہنچتے ہمارے مخبر ہاتھ کھڑے کر گئے۔ ہمیں بند گلی میں چھوڑ کر غائب ہو گئے۔ جاتے جاتے اتنا بتا گئے کہ اس فاونڈیشن کے پاس اپنی غیر منقولہ جائداد کے علاوہ(جس کی قیمت کا کسی کے پاس ریکارڈ نہیں) 150 ارب ڈالر نقد رقم تھی اور سالانہ دیگر امیر خاندانوں سے آنے والے فنڈز کے علاوہ 5 ارب ڈالرز مختلف حکومتوں سے آنے والی آمدنی بھی تھی۔ اب سنہ 2021 میں اس فاونڈیشن کی دولت کا حجم کئی غریب ممالک کے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہے۔ اس سب کے پیچھے محترم بل گیٹس صاحب کی شبانہ روز محنت اور غیر متزلزل و ایماندارانہ خلوص کا ہاتھ ہے۔
سنہ 2013 تک فاونڈیشن کا دائرہ اثر 138 ممالک تک پھیل چکا تھا۔
15-05-2020
ضمنی نمبر4:
جناب عالی !
ہماری تفتیش کا رخ صرف بل گیٹس فاونڈیشن کی طرف کیوں مڑا؟
1- اس فاونڈیشن کے کرونا کے پیٹنٹ حقوق حاصل کرنے کی کوشش ۔
سنہ 2016 میں جناب بل گیٹس کی TED TALKSمیں ایک تقریر جس میں وہ ایک عظیم وباء کے آنے کی پشین گوئی کر رہے تھے اور عوام کو صحت کی سہولیات بڑھانے پر زور دے رہے تھے۔
3- مورخہ 10-10-2019 کو جناب بل گیٹس کا فرانس میں
THE GLOBAL FUND TO FIGHT AIDS
کی کانفرنس میں صاف صاف کہنا کہ "دنیا ایک عظیم وبا کے شکنجے میں جکڑی جانے والی ہے اور ہماری تیاری کوئی نہیں۔"

ضمنی نمبر 5:
20-05-2020
جناب عالی دوران تفتیش۔ ۔ ۔ جو کہ تحقیق زیادہ ہے۔ ۔ ۔ ایک بہت حیرت ناک اور عجیب حقیقت نے دماغ چکرا کر رکھ دیا۔
مورخہ 27-3-2020 کو معزز امریکی کانگریس میں عوام دوست سینیٹر Courtney Joe صاحب نے ایک بل پاس کروایا۔۔۔ بل نمبر HR 748۔۔۔ جس پر محترم صدر ٹرمپ نے اسی روز دستخط بھی ثبت کر دئیے جس کے تحت بیلینز آف ڈالر کا عوامی ریلیف پیکج دے دیا گیا۔ ہماری تفتیشی ٹیم نے بل کے پس منظر پر جانے کا فیصلہ کیا تو دماغ کی تھکی ہوئی بتیاں پوری طرح روشن ہو گئیں کہ یہ بل جناب Courtney Joe صاحب نے دراصل 24-01-2019 کو ہی سینٹ میں منظوری کے لیے پیش کر دیا ہوا تھا جب کہ پوری دنیا اس عذاب عظیم سے بے خبر موج مستی اور اپنی زندگیوں میں مگن تھی۔ تب ہی بل کا عنوان تھا Coronavirus disese 2019 and Ecnomic Security Act i.e CARES Act.
جناب عالی!
دل و دماغ اتنے حقائق کے سامنے آنے پر غم زدہ ہو گیا۔ اب حتمی سفارشات پیش کی جاتی ہیں۔

حتمی سفارشات:
جناب عالی!
1-کووڈ 19 کوئی نیا وائرس نہیں بلکہ لاکھوں برس سے اپنی بقا کے لیے کمزور قوت مدافعت والے انسانوں میں رہتا آ رہا ہے۔
2- یہ سردی کے شروع اور موسم بہار میں اپنی افزائش تیز کرتا ہے۔
3- یہ ہر دو یا تین برس بعد مقامی سطح پر وبائی شکل اختیار کرتا ہے۔
4- یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو بوڑھے بالکل کسی اور مرض سے نہیں مرتے یہ بہ امر_ ربی ان کی جان لے کر حیات اور موت میں توازن برقرار رکھنے میں باقی جرثوموں اور فنجائی و پروٹوزوا والا فرض ہی ادا کرتا ہے۔
5- مقامی طور پر پہلے حکما پھر جدید ڈاکٹر اس کا کامیابی سے علاج کرتے چلے آرہے ہیں۔
6- یہ جدید انسانی ذرائع نقل و حرکت کی وجہ سے تیزی سے دنیا پر پھیلتا ہے لیکن موسمی کیفیات بدلنے پر خود بھی حیات و موت کی کشمکش میں پڑ جاتا ہے۔
7- مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں mens rea یعنی وائرس کی نیت مجرمانہ ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے onus to proof وائرس سے اٹھ کر انسانوں کی طرف چلا جاتا ہے۔

ضمنی نمبر6:
25-05-2020
جناب عالی!
قتل کی واردات ہونے پر ان ممکنہ اشخاص کی فہرست مرتب کی جاتی ہے جن کو اس قتل کا ممکنہ طور پر فائدہ پہنچ سکتا ہو۔
جب ہم نے اس پہلو سے غور کیا تو درج ذیل حقائق سامنے آئے۔
1- سرمایہ داری نظام اپنے ارتقائی عروج پر پہنچ چکا ہے ۔ اسے کچھ تبدیلی چاہیے۔ مہلک ترین ہتھیاروں کی موجودگی میں جنگ لڑ کر مالی مفادات جتنے لیے جا سکتے تھے۔۔۔وسائل لوٹے جا سکتے تھے وہ سرمایہ دار کمپنیاں لوٹ چکی ہیں۔ سرد جنگ اب ہتھیاروں کی بجائے اور کسی خاص بلاک کی بجائے عام عوام کو مستقل خوف کی فضا میں رکھ کر لڑی جائے گی۔ ۔ ۔ یعنی پہلے سرد جنگ سیاسی نظریہ بمقابلہ سیاسی نظریہ ہوتی تھی اب سرد جنگ کارپوریٹ مافیا بمقابلہ اجتماعی عوام ہو گی۔
2- میلنڈا بل گیٹس لگ بھگ سبھی ممالک سے بیس سال کے اندر اندر پورے کرہ ارض کے عوام کو ویکسین لگانے کے حقوق حاصل کر چکی ہے۔ دس سال باقی رہ گئے ہیں اگر وہ اس منصوبے میں ناکام ہوتے ہیں تو ان کے لگے اربوں ڈالرز بھی ضائع سمجھیے بلکہ ائندہ ناقابل تصور منافع بھی ڈوب جائے گا۔
3- Novartis, Snofi
اور دیگر ادویات ساز اداروں میں جو ویکسین بنانے کی جنگ جاری ہے۔ اور ہر روز ان کے نت نئے دعووں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹوں میں ان کے شئیر یک دم اربوں ڈالرز کو پہنچ رہے ہیں وہ عام عوام کو تب تک قید و بند میں رکھ کر خوف کی اس انتہا کو پہنچا دیں گے اور ان کو روزی روٹی کے لالے ڈال کر اس حد جھکا لیں گے کہ ایک ایک بندہ خود کیا اپنے پالتووں کو بھی ویکسین لگوانے پر تیار کر لیں گے۔ لہذا جو کمپنیاں حال ہی میں سٹاک ایکسچیجوں میں عروج پر جا رہی ہیں وہ اس لاک ڈاون کی خفیہ حامی ہو سکتی ہیں۔
4- ورلڈ کلاس ہوواوے اور ایلون مسک کی ٹیسلا میں 5G ٹیکنالوجی میں مسابقت ڈھکی چھپی نہیں۔ دونوں کرونا وبا کی آڑ میں اپنی اپنی جگہ بہترین جا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر مشرق میں ہواوے ماونٹ ایورسٹ پر جی فائو کے کھمبے لگا چکا ہے جو ان کی طرف سے علامتی فتح ہے۔ جب کہ ماہ مارچ میں ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا صدر ٹرمپ سے خلا میں ایک سو چالیس سے زائد 5G ٹیکنالوجی سے لیس سیارے بھیجنے کا لائسنس حاصل کر چکا ھے۔ جب کہ ایک کپمنی اسی اثنا میں پورے امریکہ میں دس لاکھ فائو جی سیٹلائٹ سے سگنلز موصول کرنےکے سٹیشن قائم کرنے کا لائسنس حاصل کر چکی ہے۔
5- مستقبل قریب میں تیل کی بجائے متبادل گرین ذرائع توانائی کو مقبول عام بنانے کے لیے تیل کی جنگ بھی کرونا وبا کے خوف کی وجہ سے ہی ممکن تھی۔ جس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔
6- چین کو ہانگ کانگ میں شدید عوامی رد عمل کا سامنا تھا اب اس پینڈیمک کی آڑ میں ڈیڑھ سال سے دھرنا دئیے لوگ بھی غائب اور چینی حکومت وہاں سخت ترین قوانین کا اطلاق کرنے جا رہی ہے۔
7- فلسطین اور بیت المقدس کے مسائل اسرائیلی ریاست کے لیے مستقل درد سر تھے۔ اس وبا کی آڑ میں وہ ریاست اپنے مسلے حل کرنے کے قریب ہے۔ جب کہ باقی ممالک کی عوام کو روٹی کے لالے پڑ چکے ہیں۔
8- جناب عالی! آپ کے علم میں ہونا چاہیے ایران وبا کے مسلے میں الجھا تو اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے ملک شام میں اڈوں کی چپ چپیتے اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے جب کہ مین سٹریم میڈیا پر خبروں پر پابندی ہے۔
9- مقبوضہ کشمیر پر مکمل بھارتی قبضہ پر اور ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے بل پر جو ملکی غم و غصہ تھا دھرنے تھے سب فشوں ہو چکے ہیں۔ الٹا مسلمانوں کی ذلت آمیز گدڑ کٹ جاری ہے۔ جب کہ لاک ڈاون ہے کہ جان ہی نہیں چھوڑ رہا۔
10- جناب عالی دنیا کے ٹاپ ٹین ارب پتیوں کی دولت میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے جب کہ عام عوام خاص کر غریب ممالک کے عوام پر ان کی اپنی حکومتیں ہی قہر برسا رہی ہیں۔ کیونکہ غلام حکمران قوت فیصلہ اور غیرت سے عاری ہو جاتے ہیں۔
11- دنیا سے ختم ہو چکا ٹڈی دل غریب ممالک میں نمودار ہو چکا ہے اوپر سے معاشی پہیہ رکنے کی وجہ سے غذائئ قلت کا خدشہ نہیں بلکہ یقین ہو چکا ہے۔ اس لیے مونسینٹو( جس میں گیٹس فاونڈیشن کی شراکت داری ہے) کو اپنی خدمات بیچنے کا موقع دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے متوقع منافع کا اندازہ اربوں ڈالرز میں لگانا فی الحال قبل از وقت ہے۔
12- عوام کی ذہنی و جسمانی حالت ہر گرزتے دن کے ساتھ کمزور پڑ رہی ہے۔۔۔اس کے نتیجے میں قوت مدافعت کمزور ہوتے ہی کووڈ19 کی دوسری مہلک لہر کسی وقت بھی شروع ہو سکتی ہے۔ تب ہی بقول بل گیٹس ساڑھے سات ارب انسانوں کے لیے چودہ ارب ویکسینں ریوڑیوں کی طرح بکیں گی۔
13- عام عوام کو شایدعلم نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ چاند اور سیارہ مشتری کے گرد بنی شہابیوں کی پٹی قیمتی ترین دھاتوں کے نہ ختم ہونے والی ذخائر سے مالا مال ہیں۔ اس لیے چین اور امریکہ میں ان پر قبضہ کی پہل کی سرد جنگ جاری تھی۔ جن دنوں چین وبا سے نبٹ رہا تھا انھیں دنوں صدر ٹرمپ نے دو اہم بل پاس کئے تھے۔ ایک خلائی فوج بنانے کا(اس کا کمانڈ سینٹر کا افتتاح بھی اںھیں دنوں ہوا) دوسرا چاند پر معدنیات کی کھدائی کا حکم نامہ۔
14- اس سارے عمل میں یعنی کرونا کی عام سی حثیت کو قاتل حثیت ثابت کرنے کے لیے کسی دلال نہیں بلکہ میڈیا کو بطور بدکردار طوائف کے طور پر ایک مٹھ کر کے استعمال کیا گیا۔ جو حکومتیں لاک ڈاون نہیں بھی کرنا چاہتی تھیں ان کو بھی میڈیا کے بے ضمیر اور منہ پھٹ کارندوں نے ننگا ناچ کر کے احمق عوامی رائے کو حکومتوں کے خلاف کیا۔

جناب عالی!
اندریں حالات آپ سے گزارش ہے کہ ساڑھے سات ارب معصوم انسانوں کو معاشی اور نفسیاتی تباہی کے دھانے پر نامزد ملزم کرونا عرف کووڈ 19 نے نہیں پہنچایا بلکہ انسانوں کے اصل دشمن ملٹی نیشنل کارپوریشنوں, امیر افراد کے ذاتی خوابوں, نسل پرست رجعتی قوتوں, مذہبی جنونیوں کی باہمی چشمک اور نفرتوں نے میڈیا کی طوائف کی مدد سے جعلی عالمی وبا کو کامیاب کروایا اور اب تک ہر جانی مالی سیریل کلنگ کے یہ انسان اور متذکرہ بالا لیڈران ہیں۔ ۔ ۔ نا کہ کرونا۔ Lack of Direct Evidence gives us chance to INFER the results under Rule of Circumstantial Evidence
حتمی رپورٹ آپ کو آج اپنے دستخطوں سے ارسال شد ہے۔
وما علینا اللبلاغ المبین!

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2773904609506721

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo