::: "قاری کی زمہ داریاں اور ہم " {…

[ad_1]

::: "قاری کی زمہ داریاں اور ہم " { ایک غیر رسمی گفتگو سے کشید ایک خود کلامیہ } :::

*** احمد سہیل ***

ابھی کچھ مہینے پہلے ایک سیمنار کے بعد کچھ اہل فکر اور ناقدین سے چائے نوشی کے دوران " ادبی قاری کی زمہ دواریوں" پر "گلابی" سی بحث ہوئی۔ میری زاتی رائے ہے کہ اردو کا قاری اپنی قاریانہ زمداریوں کو نہیں سجھتا اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔اول تو کسی ادبی متن کی قرات کے بعد وہ خاموش رہتا ہے اور اگر اس پر پولنے اور لکھنے کو کیا جاتا ہے تو ان کے تکلم اور متن کو دیکھکر کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کو بات سمجھ نہیں آئی۔ اور وہ قاری بنیادی زمہ داریوں سے بھی بے بہرہ ہے۔ یہی ازیّت ناک پہلو اردو کے بہت سے اہم سائل میں سے ایک ہے۔ جس پر اغّماض برتا گیا حا لانکہ یہ جدید ادبی نظرئیے اور انتقادات کا حساس اور فکری موضوع ہے۔

میری اس بات پر آپ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ قاری کی زمہ داریوں کو ہمارے دانشور نقادوں نے اہم کیوں نہیں تصور کیا ۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کی ہمارے اردو کے نقاد اور اردو کا فکری احوال محدود قسم کا ہے۔ وہ اپنے روایتی مصنوعی حصار میں رہتے ہیں۔ انھیں قاری کی زمہ دارویوں کا رتی برابر خیال بھی زہن میں آتا ہوتو وہ مکھی کے طرح ہاتھ لہرا کر بھگا دیتے ہیں۔ شاید یہ ان کی فطری تساہلی ہو ۔ یا کم مطالعہ ہو یا ان کو اس مسئلے کو سمجھنے کی اہلیت نہ ہو؟

اگر مصنف نے متن کو کسی اور / بہتر / زیادہ دلچسپ / واضح انداز میں لکھا ہوتو شاید قاری اس کو بہتر طور پر سمجھ جائین گے۔ چونکہ مصنف ہی متن تخلیق کرنے والا ہوتا ہے ، لہذا انگریزی بولنے والے / قارئین اکثر یہ فرض کرتے ہیں کہ یہ ایک کشش ہے۔ اچھی طرح سے اس موضوع پربحث کی جانے والی بات اور مناسب طور پر پیش کردہ متن بنانے کی تمام تر ذمہ داری مصنف پر عائد کی جاتی ہے۔ اردو کے تخلیق کار اپنے قارئین کو صرف" سواری" کے لیتے ہیں اور کچھ وقت کے بعد ان کو کسی مقام پر اتار دیتے ہیں۔ اور قاری بھی ان کو یوں ہی سا لیتا ہے۔ لیکن ان کا زمانی اور مکانی سطحی پر ان کا تعلق بہت مختصر اور عارضی ہوتا ہے۔ اس نقطہ نظر کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی قاری کسی متن کو سمجھنے میں ناکام رہتا ہے تو ، عام طور پر یہ واضح نہیں ہوتا ہے کہ پس منظر میں جو جوہر اور تخلیقی اور فکری مادے یا منتقلیت کی فراہمی میں نظرانداز کیا جاتا ہے یا محض "بورنگ" ہونے کی وجہ سے مصنف کی غلطی سمجھی جاتی ہے۔ تاہم اس کو متن تک رسائی کا یہ واحد راستہ نہیں کہا جاسکتا۔

اس سلسلے میں قارئین کی ذمہ دار تحریر میں جیسا کہ ہم بہت سی مشرقی زبانوں میں دیکھتے ہیں کہ یہ قارئین کا کام ہے کہ اس بات کا تعین کریں کہ متن کی دلیل کیا ہے پھر قاری خیال { آئیڈیاز }کے مابین روابط قائم کرتے ہیں۔ اور قرات سے پہلے بنیادی پس منظر کا علم حاصل ہوجات ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی قاری اس تحریر کو جو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے وہ اسے سمجھ نہیں آتا ہے تو اسے قاری کی غلطی سمجھا جاتا ہے۔ قارئین کی ذمہ دار تحریر میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ مصنف کا کام یہ ہے کہ وہ معلومات پیش کرے اور قارئین کو کسی خاص تفہیم کی رہنمائی نہیں کرنا چاہیے ۔ اکثر اس قسم کی تحریر کم براہ راست ہوتی ہے اور گرفت سے باہر ہوتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ براہ راست تھیسس یا دلیل کو بیان نہ کرسکے۔

کچھ دن قبل نیو یارک ٹائمز کے ایک رائے کی بنیاد پر ایک مضمون میں مصنف للی ٹاک نے پوچھا ہے ، "کسی کو کیسے پڑھنا چاہئے؟" تو اب کا جواب تھا کہ "اس کا اختتام ایسا ہونا چاہیے ہے کہ کسی کو تخیل کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔ لیکن ، مجھے لگتا ہے ، اس کا ٹکڑا اور خود یہ سوال کرہا ہے کہ حقیقت میں قاری یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ قاری کی ذمہ داری کیا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ، ایک مصنف کتاب لکھتا ہے لیکن جب تک اسے پڑھ نہیں لیا جاتا وہ زندہ نہیں ہوتا ہے۔ اور اس کے لئے قارئین کی ضرورت ہے۔

ہم شاید کہانی نہیں لکھ سکتے ہیں لیکن اس کو زندہ کرکے ہم باہمی تخلیقی کام میں مصروف ہیں۔ کیا ہمارا کوئی فرض ہے؟ ایک فرض؟ بطور قاری ایک ذمہ داری؟ جب ہم پوچھتے ہیں کہ کسی کو کس طرح پڑھنا چاہئے ، اور میں نے اب تک جو باتیں کی ہیں۔ جس کی ہمیں تلاش کرنے میں دلچسپی ہے ، تو ہم واقعتا یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تخلیقی عمل میں پوری طرح مشغول ہونے کے لئے ہم سے کیا چاہتے ہیں۔۔ دوران قرات بہت سارے جوابات مل جاتے ہیں اور ان جوابات کی بہت ساری اہلیتیں ہیں اور بہت سارے لوگ یہ کہنے کو تیار ہیں کہ یہاں ایک صحیح راستہ یا غلط راستہ اختیار بھی کرتے ہیں اور ہمارے سر گھومنے لگتے ہیں اور ہم اس کے آگے ہتیھار ڈال کر اسے ناکافی محسوس کرنے لگتے ہیں کیونکہ ہم نظر نہیں آتے ہیں۔ لغت میں ہر نامعلوم الفاظ کو اپناتے ہیں اور ہم مناسب طریقے سے نوٹ اور تشریح کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور جس کے پاس ہر کتاب کو ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھنے کا وقت ہوتا ہے حالانکہ آپ اس وقت تک ادب کے اچھے ٹکڑے کو صحیح معنوں میں نہیں سمجھ سکتے جب تک کہ آپ اسے کم سے کم دو بار نہ پڑھیں لیکن کیا بہتر ہے کہ اپنی نااہلی اور فاسد خیالات سے اس کو آلودہ نہ کریں۔ اس پر ڈھیر لگانے کے بجائے آئیے بنیادی باتوں پر واپس جائیں۔ آئیے کم سے کم تقاضوں ، بنیادی ذمہ داریوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ تخیل کی طرح ہمیںایک علحیدہ تخیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ زہن کو کھلے رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ لامحالہ ہم ایسی کوئی چیز پڑھیں گے جس سے ہم اتفاق نہیں کرتے ہیں یا ایسا نقطہ نظر جو پوری طرح سے غیر ملکی یا نامونوس ہے یا دنیا میں رہنے کا ایک ایسا طریقہ جس پر ہم نے کبھی غور نہیں کیا تھا۔ یہ چیزیں ہمارے ذاتی نظریہ کو چیلنج کرتی ہیں اور جب ہم ان پر آتے ہیں تو بند سوچ رکھنے والے ہر چیز کو ختم کردیتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ آپ واقعتا اچھے رائے دھندہ ہوں اور نہ اس کو اپنے خیال میں لاسکتے ہیں جب تک کہ آپ بھی کھلے ذہن کے مالک نہ ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ جو پڑھتے ہیں اس سے اتفاق کرنا پڑے گا ، صرف اس لئے کہ آپ اختلاف کے امکان کو بہلا سکتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ کچھ لوگ کتابیں جاتے ہیں اس پر یقین کرتے ہیں کہ مصنف کو ان کا اعتماد حاصل کرنا پڑتا ہے۔ میں شروع سے ہی اعتماد کرنے کو ترجیح دیتا ہوں اور اگر مصنف نے اس پر کارروائی کی تو مجھے دھوکہ دہی کا احساس ہونے کا خطرہ ہے۔ جو وہ کبھی کبھی کرتے ہیں۔

تجسس کے بارے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس کے ساتھ ہی میں یہ تجویز کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف کسی کتاب کے پلاٹ میں کیا ہونے والا ہے یہ نہ جاننے کے معاملے میں ہی غیر یقینی صورتحال سے راحت بخش رہنا فائدہ مندی ہے ، بلکہ گمشدہ اور الجھن میں پڑجانے اور محو ہوجانے سے یہ بہتر ہے اور یہ بات سمجھ میں آتی ہے میرا خیال ہے کہ اس کے لئے لوگوں کی رواداری انتہائی متغیر ہے ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم جتنا زیادہ برداشت کرسکتے ہیں ، پڑھنے کا تجربہ اتنا ہی دلچسپ اور دلچسپ سے سلچسپ ترہوسکتا ہے۔ یہاں ایک اور مقام پر اعتماد کرنا پڑتا ہے جس پر اعتماد آتا ہے۔ ایسی حالت میں پڑھنے والے کو واقعتا مصنف پر اعتماد کرنا ہوتا ہے ، اور خود اس معاملے کے لئے اور سمجھنے کی جگہ تک الجھن کا راستہ تلاش کرنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے۔ تو اس سے قاری کی مہم جوئی کے احساس میں بھی مدد ملتی ہے لیکن میں نہیں سوچتا کہ یہ ذمہ داریوں کی فہرست میں شامل ہے۔ کیا اس سلسلے میں کچھ اوربھی ہے؟ مجھے نہیں لگتا کہ ذمہ داریوں کی فہرست اتنی لمبی ہونی چاہئے۔ پڑھنے کے بنیادی تجربوں اور پڑھنے کے تجربے کو توسیع دینے کے لئے مہارت میں فرقکرنا ضروری ہے۔ یہ وہ مہارت ہے جو ان تمام کتابوں پر مرکوز ہوتی ہیں اور انٹری لیول کی ضروریات کی تحقیقات کو نظرانداز کرتی ہیں۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ قاری کی حیثیت سب کچھ سمجھ جائیں گے جب میں تقاضہ کرتا ہوں تو اس کا اصل مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر آپ کو پڑھنے کا شوق نہیں ہے تو آپ کو خود کو قاری کہنے کا حق نہیں ہے۔ پڑھنے کے لئے صرف اصلی ضرورت خواندگی کی ہے۔ تجربہ کو بہتر بنانے کے لیے یہ پڑھنے کی طرف ایک بنیادی نقطہ نظر یا رویہ ہے۔ اور اس کے گہرے مفاہیم ہوتے ہیں۔

جیک ڈیرریڈا نے اپنے ایک مصاحبے "انٹراورڈ: ڈوورڈ آف ایٹیک آف ڈسکشن" Afterword: Toward an} Ethic of Discussion"} میں یہ تجویز کیا ہے کہ کسی کام پر گفتگو کرنے کے لیے کسی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ واقعتا اس کو پڑھے۔ یہ چھوتا نظر آسکتا ہے ، لیکن یہ حیران کن ہے اور ڈیرریڈا کو خود بھی یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے کام کے بارے میں خاض کرصحافتی مضامین میں کتنے بیانات دیئے گئے ہیں جنھوں نے واضح طور پر متن کو نہیں پڑھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کو اتنی خرابی سے پڑھیں کہ یہ اسی چیز کے مساوی یہ موقوف ہو۔۔ اگر ہم اس کو تھوڑا سی وسعت دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب کہ ایک قاری اخلاقی طور پر مصنف کے ارادوں کا پابند نہیں ہے (اس حد تک کہ وہ بازیافت ہوتے ہیں) ، اسی وقت میں ، یہ کم از کم پڑھنے والے کی ذمہ داری ہے۔ ان سے اس حد تک واقف ہوں ۔

ایک قاری کی حیثیت سے یہ کہنا چاہتا ہوں۔ یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ اس موضوع نے مجھے "ذمہ داریوں" کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا جن پر ہمیں سوچنا چاہیے جب ہم کسی رومانٹک تعلقات میں داخل ہوتے ہیں تو: اعتماد ، جرات ، تجسس ، کھلے ذہن ، مایوس ہونے کی آمادگی ہر نئی کتاب کو بطور رشتے کے پیش آنے کے لمحے یا موقع منتظر ہوتے ہیں ۔ میں فیصلہ نہیں کرسکتا مہ میں واقعی ٹھیک سوچ رہا ہوں۔۔ اور اس میں کیا سقم ہیں۔ مگر میں سوچتا ہوں کی عشقان اردو " قاری کی زمہ داریوں" پر سوچیں گے اور اس پر اپنی آرا سے اردو آفاق کو مالا مال کریں۔ سب دوستوں کو دعوت شیراز ہے۔ {احمد سہیل}***


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2769114559985726

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo