باپ کے ہو تو یہیں رہنا

پنجاب میں اور کچھ دیگر علاقوں میں کچھ گالیوں کی ذرا نرم شکلیں بھی رائج ہیں مثلاً کسی کو حرام زادہ یا تخمِ حرام کہنے کی بجائے یہ کہہ دیتے ہیںکہ ۔۔۔۔۔’’اپنے باپ کے ہو تو ۔۔۔‘‘یہی الفاظ چاچے ساجے کی زبان پر بھی چڑھے ہوئے تھے ۔ وہ کئی موقعوں پر یہ الفاظ جڑ دیتا تھا ،اس کا گویا یہ تکیہ کلام ہی بن چکا تھا ،بے تکلف دوستوںکی محفل میں کوئی کسی قسم کا دعویٰ کرتا تو چاچاساجا کہہ دیتا کہ ’’اگر اپنے باپ کے ہو تو اس دعوے پر قائم رہنا‘‘۔۔۔۔۔یا پھر ۔۔۔۔۔ ’’اگر باپ کے ہو تو اب پیچھے نہ ہٹنا‘‘۔۔۔۔ کسی کو فون پر کہہ دیتا ۔۔۔’’اگر باپ کے ہو تو اسی جگہ رہنا ‘ میں ابھی تمہارا بندوبست کرتا ہوں ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔ چاچا ساجا کمال کا بندہ تھا ۔ اپنی مرضی سے جینا اُس کا خاص شعارتھا۔۔۔شاید اسی لیے اس نے شادی بھی نہیں کی تھی ۔ گھر بھی چھوٹا سا رکھا ہوا تھا مگر ضرورت کی ہر شے سے آراستہ گھر تھا ۔ چاچا ساجا پلمبر تھا اور چھوٹے موٹے کام پکڑ کر اس کی کافی آمدن ہو جاتی تھی، شام کو گھر کے پاس ایک موچی کے اڈے پر کچھ عمر رسیدہ دوست گپ شپ کے لیے جمع ہو جاتے تھے اور چاچا ساجا بھی شام کو وہیں بیٹھتاتھا ۔ گرمیوں کی شدت تھی ، رمضان المبارک بھی شروع ہو چکا تھا ، ان دوستوں میں سے کچھ باقاعدہ روزے رکھتے تھے اور کچھ بے قاعدہ ، کچھ بالکل روزہ خور تھے ، چاچا ساجا بھی انہی روزہ خوروں میں شامل تھا ۔ افطا رکے بعد دوستوں کی وہ ٹولی اس اڈے پر بیٹھتی تو روزہ خوروں کو کافی طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ،چاچے ساجے کو بھی روزہ رکھنے پر اکسایا جاتا مگر وہ ہر بار طرح دے جاتا ۔۔۔۔۔ ایک بار دوستوں کے کہنے پر وہ جمعتہ المبارک کا روزہ رکھنے پر آمادہ ہوگیا۔ اس روز گرمی بھی بلا کی پڑی ۔ چاچا ساجاپانچ چھ گھنٹے کا پلمبنگ کا ایک کام نمٹاکر تین بجے سہ پہر اپنے گھر پہنچ گیا تھا ، روزہ اسے بہت ستا رہا تھا مگر وہ کسی طرح وقت گذار رہا تھا ،ادھر وقت تھا کہ گذرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔ افطاری کوئی پونے سات بجے شام کوہونا تھی ، اِدھر اُدھر کے فضول سے چھوٹے موٹے گھریلو کام کر کے چاچا ساجا وقت کو سوا پانچ بجے شام تک لے آیا تھا، اب روزہ اسے اور بھی تنگ کرنے لگا تھا ۔ اس نے اس کا حل یہ نکالا کہ افطاری کی تیاری ابھی سے شروع کر نے کافیصلہ طے کر لیا اور یہ بھی طے کر لیا کہ افطاری وہ اس چھوٹے سے گھر کے صحن میں لگی ہوئی گھاس پر بیٹھ کر کرے گا۔ پہلے اُس نے پیڈسٹل فین کمرے سے باہر نکالا اور صحن میں لا کر ایک جگہ سیٹ کر دیا ۔ پھر اس کے لیے ایکٹینشن وائر لے کر پنکھے کے پاس رکھی اور لمبی تار کو برآمد ے کی ساکٹ تک لے جا کر پلگ اُس نے لگایا ، پھر وہ کمرے کی کرسی اٹھا کر لایا اور صحن میں پنکھے کے پاس رکھی ۔ پھر کمرے سے ایک چھوٹی میز لاکر کرسی کے سامنے ٹکائی ۔ پھر فرج میں سے روح افزاء شربت کی بوتل لے جا کر میز پر رکھی ۔ پھر کچن میں سے باری باری ایک کھجور، کچھ پھل ، خالی جگ میں کچھ پانی اور گلاس لے جا کر شربت کی بوتل کے پاس رکھے۔ پھر فریج کے فریزر میں سے برف کے کیوبز لے جا کر جگ میں ڈالے اور کُرسی پر بیٹھ گیا ۔ صحن میں وہ کرسی پر کچھ اِس رخ سے بیٹھا ہُوا تھا کہ ڈھلتا ہوا سورج اس کے سامنے تھا۔ اس نے افطاری کی یہ ساری تیاری بہت سست رفتاری سے کی تھی کیونکہ اس کا اصل مقصد وقت گذارنا تھا ۔ کرسی پربیٹھ کر اس نے سورج کو دیکھا تو اب بھی اس کے ڈوبنے میں کوئی پون گھنٹہ باقی تھا ۔ یہ وقت گذارنا بھی اس کے لیے خاصا مشکل ہو رہا تھااس کا گلا پیاس کی شدت سے خشک ہو چکا تھا ۔ وہ کبھی سورج کو دیکھتا اور کبھی میز پر رکھی ہوئی اشیاء کو ۔ پھر مزید وقت گذاری کے لیے اس نے گاڑھے شربت کی بوتل سے کچھ شربت جگ میں پڑے ہوئے پانی میں انڈیلا۔۔۔۔اور پھر سورج کو دیکھا ۔۔۔۔پھر وہ شربت پانی میں اچھی طرح مکس کرنے کے لیے اس نے کبھی جگ میں سے گلاس کے اندر اور گلاس میں سے جگ کے اندر انڈیلنا شروع کر دیا ۔ ایسا اُس نے سست رفتاری سے دس بار کیا۔ اور پھر سورج کو دیکھا جو کہ ابھی وہیں کا وہیں تھا ۔۔۔۔پھر مایوسی کی حالت میں کچھ دیر وہ ساکت بیٹھا رہا کہ شاید سورج کچھ نیچے ہُوا ہو۔مگر سورج اتنی جلدی کہاں حرکت کرتا ہے ۔ چاچے ساجے پر ایک ایک لمحہ بھاری گذر رہاتھا ، گلے میں پیاس کی شدت اور بڑھ چکی تھی ۔ کچھ لمحے بعد اُس نے شربت گلاس میں بھر کر قریب رکھ لیا ۔ اب وہ کبھی سورج کو دیکھتا تھا اور کبھی بھرے ہوئے گلاس کو ۔ ایک عجیب سی کشمکش اُس کے ذہن میں کلبلا رہی تھی ۔ آخر اس نے سورج کو لگاتار غصے کے ساتھ آدھ منٹ تک دیکھا اور سورج کو مخاطب کر کے بو لا ’’اگر باپ کے ہوتو اب یہیں کھڑے رہنا ‘‘۔۔۔۔ساتھ ہی وہ شربت کا گلاس اٹھا کرپیٹ میں انڈیل چکا تھا۔

ممتاز راشدؔ لاہوری

[ads1][ads2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo