ملال

 میرے دل کی کیا کیفیت ہے؟ میرے جذبات اور احساسات میرے قلم پر حاوی ہیں لیکن میرے لفظ اس ملال کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ ہاں جی!بوجھ۔۔۔ یہ بوجھ جوزبردستی میرے کاندھوں پر لادا گیا ہے اور جس نے دماغ کی طنابیں اتنی سختی سے کھینچ رکھی ہیں کہ حقیقت سامنے ہوتے ہوئے بھی میَں شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دینا چاہتی ہوں۔ شاید آپ کا واسطہ بھی ایسے کسی ملال سے پڑا ہو۔ رکیں!، ذرا مجھےاپنی یادوں کا سہارا لے کر آپ کی یادوں کی پٹاری کھولنے دیں! میَں اس جگہ کی بات کرر ہی ہوں جہاں کے کھانے میں ہم سو کیڑے نکالتے ہیں۔ بد ذائقہ چائے اور پلاسٹک کی چھوٹی چمچیوں میں آنے والے ناکافی چاولوں کو زہر مار کراپنے اندر اتارتے ہیں۔ جہان ابھی بھی کانچ کی بوتلوں پر سکیورٹی رکھی جاتی ہے۔ میز شاذ و نادر ہی صاف ہوتے ہیں اور بلیاں ٹانگوں سے مس کرتی ہوئی گزرتی ہیں۔نجانے اپنی کس حس کی تسکین کر رہی ہوتی ہیں! کسی لڑکے کے پاس کھڑ ے ہو کر گھڑی دو گھڑی بات کرنے پر سب یوں گھورتے ہیں جیسے آپ نے ان کی بھینس چرائی ہے۔ آپ ٹھیک سمجھے، یہ وہیں کا قصہ ہے جہاں داستانیں جنم لیتی ہیں۔ افسانے بنائے جاتے ہیں اور ناول کسی منطقی انجام تک پہنچے بغیر ختم ہو جاتے ہیں۔ جہاں سب سے شرارتی لڑکا سب سے زیادہ غیر حاضر ہوتا ہے لیکن اس کی موجودگی نقاب پوش لڑکیوں کو بھی قہقہہ لگانے پر مجبور کر دیتی ہے۔میری یادداشت میں اس کا نام مدثر محفوظ ہے۔ جب دنیا کا سب سے خاموش باسی جب بولتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ لفظوں کو استعمال کرنے کا سلیقہ اس کے اٹھنے بیٹھنے سے بھی کہیں زیاہ بہتر ہے۔جس کی خاموشی تلے چھپے اعتماد کی موجیں اس کے وجود کو منوانے کے لئے بے قرار نظر آتی ہیں۔ میَں اسے شہباز کے نام سے جانتی ہوں۔ ہاں! میَں آپ کو اپنی درس گاہ کی سیر کروا رہی ہوں لیکن یقین مانیئےکہ میَں اسے صرف درسگاہ کہہ کر اپنی زندگی سے خارج نہیں کر سکتی کیونکہ ملال کا بوجھ جو اس نے مجھ پر لادا ہے میرے دل میں کسک بن کر آخری دھڑکن تک ساتھ رہے گا۔میَں پھر اپنی سنانے لگ گئی، واپس وہیں لے جاتی ہوں تا کہ آپ اس بوجھ کے محرکات کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ اب بات آتی ہے اس لڑکے کی جس سے باقی لڑکے خواہ مخواہ ہی جلنے لگ جاتے ہیں۔ نہ سر نہ پیر، وہ لڑکا جس کی سب ہی لڑکیوں سے بنتی ہے۔ جسے لڑکے بلاتے وقت بھائی کا لفظ استعمال کر کے جگ بھائی بنانے کے چکر میں نظر آتے ہیں اور اکیلے میں یہ بھی کہہ کر چھیڑتے ہیں کہ “تیرا تو جنازہ اٹھانے بھی لڑکیاں ہی آئیں گی”۔ میَں اسے حمزہ کہتی ہوں۔ گھر والوں جیسا، بہت خیال رکھنے والا، بہت ماننے والا، نرم خو سا لڑکا، سب کی نظروں سے بچا کر سب کی باتوں پر کان دھرنے والا، کسی میں ہوا بھرنی ہو تو اس سے اچھا پمپ کوئی نہیں ہو سکتا۔ نقاب میں چھپی کچھ لڑکیاں ایسی بھی ہیں کہ جو جماعت میں بھیگی بلی بنی رہتی ہیں لیکن موقع ملتے ہی ٹکے دوٹکے کا حساب ایسا پورا کرتی ہیں کہ کفن پھاڑ کر مردہ بولنے والا محارہ یاد آ جاتا ہے۔ ہماری جماعت میں ان محترماؤں کے اسم گرامی آسیہ اور مریم حسن ہیں۔ سیدھی سادی سی، دل میں اترنے والی لڑکیاں جو اللہ کی طے کردہ حدود میں زندگی سکون سے جی رہی ہیں۔ گاؤں سے سجیلا بانکا ایسا بھی لڑکا آیا جسے پولیس میں نوکری کی وجہ سے مختلف طرح کی باتیں سننے کو ملتیں۔ ضد پہ کھڑا ہو جاتا تو میَں نہ مانوں کی تفسیر بن جاتا اور معذرت کرنےپر آتا تو گوڈے گٹے اتار کر رکھ دیتا۔ “سجارت” نام کتنا بھلا لگتا ہے۔ بہنا کہہ کر بات شروع کرنے والا بھائیوں سا لڑکا۔ دو ایسے بھی پرنےتھےکہ جن کی چوں چوں کیو جہ سے میَں انھیں الگ الگ بیان نہیں کر سکتی۔ایک کا میک اپ اسے نشانہ ہدف بناتا تھا تو دوسرے کا انیسویں صدی کے روٹھے ہوئے ہیروؤں والا انداز سب سے ممتاز کرتا تھا۔مشترکہ بات یہ تھی کہ پوری جماعت ایک طرف اور ان کی ڈھیڑ اینٹ کی مسجد الگ تعمیر ہوتی ۔ یہ اور بات کہ اکثر و بیشتر شرافت کی انتہا کرتے ہوئے مان بھی جاتے تھے۔ دو ایسے بھی بھلے مانس تھے جو بھلے تو بالکل نہیں تھے لیکن بن مانس ضرورتھے۔ نصیر اور نزاکت۔۔۔ناریل جیسے اندر سے مانے ہوئے اور اوپر سے پریشر ککر کی سیٹی کی طرح مسلسل بجتے ہوئے، اپنےہونے کا احساس دلاتے ہوئے، جدوجہد کرتے ہوئے، زندگی کی حقیقتوں سے لڑتے ہوئے۔ کچھ لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو خود نمائی کا شوق نہیں ہوتا لیکن پسِ پردہ پتلی تماشے میں آوازوں کا سحر پھونکتی ہیں۔ جن کو کام کرنے کا تجربہ ہو یا نہ ہو، اپنی خدمات کسی بھی تقریب کے موقع پر رضاکارانہ طور پر پیش کر کے اپنا قد دوسروں کی نظروں میں بڑھا لیتی ہیں، جو دل کو اچھی لگتی ہیں، میَں انھیں صدف اور فرح کہہ کرپکارتی ہوں۔ گاؤں سے ایسے جوان بھی آتے ہیں کہ اگر بازوؤں کا زور دکھانا ہو تو اگلے لمحوں میں زیر کر لیں۔ ایسی ایسی جگتیں ماریں کہ محفل جم جائے لیکن شرمیلے ایسے کہ لڑکیوں سے سامنے بات کرتے ہوئے بھی کترائیں۔مجبوراً سامنے کھڑے ہو جائیں تو لال چہرے پر پسینے کے قطرے، جیسے سٹرابری پر تازہ تازہ پانی چھڑکا ہو۔ ایسے جوانوں کے تصور سے میرے ذہن پر بلال اور علی کی تصویر نقش ہو جاتی ہے۔ ایک دل نواز ہے تو ایک مزاج کی تابع۔ ایک سعودیہ میں بیٹھے منگیتر کا حوالہ دے دے کر ڈگری ختم ہو جانے کی دہائیاں دیتی ہے اور دوسری کو آنے جانے کے مسئلے نے کسی کام کا نہیں چھوڑا۔ ایک زندگی سے سبق سیکھ کر خوشیوں کی دستک پر نگرِ دل آباد کرنے کے چکر میں ہے۔ دوسری انگریزی میموں جیسی باریک، رکھ رکھاؤ والی، اپنے دائرے کے گرد گھومتی ہوئی، سچی سیدھی کہانیوں جیسی لڑکی کو میَں عظمیٰ کہتی ہوں اور دوسری کو سب ماریہ پکارتے ہیں۔ جسے قربانی کا بکرا بنانا مقصود ہو اسے ہماری جماعت میں کلاس کا نمائندہ بنا دیا جاتا۔ لڑکوں غیر مستقل مزاجی سے اس گھوڑے پر سب باری باری چڑھے اور آخری سہہ ماہی میں یہ سہرا سمیع ریاض کو راس آیا۔ لڑکیوں میں اس جیسی خاتون، صغریٰ خاتون کی شکل میں موجود رہی۔ یہ اور بات ہے کہ ادھر دیکھو تو کسی راجھدانی ملکہ کا گمان ہوتا تھا اور ادھر دیکھو تو مسکین اور شریف سے بھائی ہچکچاتے نظر آتے۔ پیچھے سے لگامیں دونوں کی ہی کسی اور نے تھام رکھی تھیں،صغریٰ کے پیچھے ان کے شوہر نامدار اور سمیع کے پیچھے سجارت۔ عموماً امتحان خراب دے آتے اور پھر اتنا واویلہ کہ سب کو ہی اپنا سرکڑاہی میں دینا پڑ جاتا۔ اگر دونوں میں کسی ایک بات میں اتفاق رہاہے تو وہ مصباح ظفرلڑکیوں کی نمائندہ، متانت اور وقار کا منہ بولتا ثبوت۔ اپنی حدود کی آئینہ دار اور اپنی روایات کی پاسدار۔ خوبصورت ایسی کہ سفید رنگ میں کسی پری کا گمان ہونے لگے اور بونگی اتنی کہ اساتذہ کے سامنے ایسی ایسی باتیں کہہ آئے کہ بات سنبھالتے ماحول بگڑ جائے، ماحول سنوارتے جیبیں ڈھیلی کرنی پڑیں۔اساتذہ کانوں کو ہاتھ لگائیں کہ سشما سراج صاحبہ آدھی رات کو فون کر کے ہماری بیگم کو شکوک میں مبتلا کرنا چھوڑ دیں۔ قواعد و ضوابط کےحوالے سے ہماری راہنمائی لٹھ لے کر نہ کریںمگر وہ مصباح ہی کیا جو ٹل جائے! اب بات آتی ہے نگینوں کی۔۔۔ ان کے بغیر آپ ملال کو نہیں سمجھ سکتے۔صرف میَں جانتی ہوں کہ یہ کہنا بھی کم ہو گا انہوںنے بزرگوں کی طرح مجھے اور میری چیزوں سے سنبھالا۔ ایک میرے دائیں طرف اور دوسری میرے بائیں طرف۔ ایک ساتھ ہوتی تو دوسری پیچھے کھڑی ملتی۔ مجھے مشقیں اور سلیبس مہیا کرنے والی، میری حدود و قیود سے آزاد شرارتوں پر بند باندھنے والی، اتنی سیدھی اور کم گو کہ کوئی بھی حیرت زدہ ہو سکتا ہے کہ آیا یہ میری ہی سہیلیاں ہیں۔ ایک سے کوئی سوال پوچھے تو جواب ملے گا پتہ نہیں۔ میَں نے جب پہلی دفعہ صالحہ کو دیکھا تو سوچا تھا کہ اتنی مدبر اور مہذب سی لڑکی کی سہیلیاں پتہ نہیں کیسی ہونگی؟ گھر کا ماحول ایسا کہ آپ جناب کے علاوہ کوئی اندازِ تکلم اپنایا نہیں جاتا۔ اور میرے ساتھ رہ کر اب مجھے کہتی ہے “چل چل” ساتھ میرا سر میرے ہی گھٹنوں میں دے دیتی ہے۔ میرے بائیں جانب وہ جس نے میری ڈگری کو یقینی بنایا، میری دوست، میری عدیلہ۔ آئی جے پی کے روڈ کےہچکولوں میں ایک ہی رکشے میں گھنٹے بھر کے سفر میں میری ساتھی۔۔۔نازک سا دل رکھنے والی، بہت محنتی لڑکی، جس کی بڑی بڑی آنکھوں سے استقامت جھلکتی ہے اور جس کے اسباق کو دہرانا، نکات کوسمجھنااتنی باریکی میں ہوتا ہے کہ میرے سمیت باقی سب ساتھی اس کے سامنے چغد لگتے ہیں۔ آج کے دور میں جب کوئی مفت میں جوتا بھی نہ مارے، وہ سب کو اپنے حل شدہ سوالات ایسے دیتی رہی جیسے نیاز بانٹ رہی ہو۔ جو برتن بھرا ہو، وہ عدیلہ کی طرح آواز نہیں دیتا۔ وڈے لوگ، وڈیاں گلاں۔ ان سب میں میَں کہاں تھی،؟ میَں کہاں تھی؟ رکیں، اپنا کردار دکھاتی ہوں۔ انتہا درجے کی شرارتی، بات بے بات بولنے والی۔ اس پر رعب جھاڑا، اس کو سنائی، یہاں اپنی منوائی، وہاں اپنی چلوائی۔ درس و تدریس کے دوران کیمرے سے یادوں کو محفوظ کرتی ہوئی۔ دو کے جواب میں چار سنانے والی۔ چوکڑی جما کر بیٹھی ہوئی، لڑکوں سے مشورہ کرتی ہوئی، لڑکیوں کی سنتی ہوئی۔ مصباح کی ہمقدم، عدیلہ کے پیچھے چلتی ہوئی۔ عجیب تنولی سی لڑکی۔۔۔سب سے اونچا سننے والی اور سب سے زیادہ شور ڈالنے والی۔۔۔ پوچھئیے پھر کہ مجھے کیا ملال ہے؟ دیکھیں، بلاک سی کی دو سیڑھیوں پر میرا ملال ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ ہماری جماعت کی شرارتوں میں میرا دکھ ہلکورے لے رہا ہے۔ خواتین کی بیٹھنے کی جگہ اور مرد حضرات کے بیٹھنے کی جگہ الگ ہے لیکن گھر جیسا ماحول سسک رہا ہے۔ نجانے ہمارے بعد والے کیسے ہونگے؟ کیا وہ پانچ بجے پیپر دے کر ساتھ بجے افطاری کر سکیں گے؟ کیا وہ بھی ایک استاد سے ایک ساتھ تین کیک کٹوائیں گے؟کیا ان کی جماعت میں بھی لڑکے اتنے ہی احترام کرنے اور خیال رکھنے والے ہونگے؟ کیا وہاں بھی کسی استاد کو زچ کرنے کے بعد ان کی پتلون کی تعریف کی جائے گی؟ کیا وہاں بھی مشترکہ نقل کی کوشش میں ساتھ والی جماعتوں کو تالہ لگایا جائے گا؟ کیا باتیں بنانے والی لڑکی، طبیعیات جیسے خشک مضمون میں کہانیاں لکھ کر Aلے گی؟ کیا انھیں بھی کہا جائے گا کہ آپ کی درسگاہ باقی درسگاہوں میں ایسے ہے جیسے میلوں کی دوڑ میں”کٹا” بھاگ رہا ہو؟ کیا ادھر بھی لڑکیاں اکیلے میں کمرہ بند کر کے ناچنے لگ جائیں گی؟ ان کی سب ہی تصویروں میں کیا ایک ہی بڑے منہ والی لڑکی زیادہ نظر آتی ہو گی؟ کیا وہاں بھی لڑکے تعلیمی سلسلے کے اختتام کے بعد فلاح کی کوشش میں TASHOجیسی تنظیم کی بنیاد رکھنے کا سوچیں گے؟ وہ دیکھیں! تقریب میں آنے والی مختلف رنگوں ذائقوں کی بوتلیں یادوں کی ہولی کھیل رہی ہیں۔ کوئی روٹھ گیا ہے اسے منایا جا رہا ہے، اور کوئی نہیں روٹھا لیکن پھر بھی اس کی فکر میں کوئی سلگ رہا ہے۔۔۔ آپ کے خیال میں یہ اچھی یادیں ہیں تو ملال کیسا، سوال کیسا۔۔۔؟ ان چاہتوں کو زوال کیسا؟ لیکن یہ اچھی کہاں ہیں، مجھے زندگی میں جب بھی بولنے سے روکا جائے گا۔ مجھے کھلی چھوٹ دینے والا یہ ماحول یاد آئے گا۔ جب لوگ مجھ پر عجیب ہونے کے قدغن لگائیں گے تو مجھے کھلے دل سے تسلیم کرنے والے یہ اپنے یاد آئیں گے۔ ملال تو یہ بھی ہے کہ میَں دیکھتی آئی ہوں کہ وقت کے ساتھ لوگ بدل جاتے ہیں اور جذبات ویسے نہیں رہتے۔ مجھے اپنی مجبوری کا ملال ہے کہ مزید درد نہیں سہنا، اس سے پہلے کہ یہ بدل جائیں، مجھے خود کو بدل دینا ہے۔ ان سے نہ ملنے اور بات نہ کرنے کا دکھ تو میرے ساتھ بے شک رہے لیکن ان کے بدل جانے کا ملال نہ ہو۔ وہ دیکھیں ان دو سالوں کے گزر جانے کا ملال اپنے اندر ڈھیروں ملال چھپائے میرے دل میں کنڈلی مار کر بیٹھا ہے۔ میَں اس ملال کا بوجھ کیسے ڈھوؤں۔ میَں جانتی ہوں کہ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے لیکن یادوں کی مستقل دستک میری ذات میں کوئی خلا نہ بنا دے۔ مصروفیت کے گھنٹے میری نیند تک پر قابض ہیں اور میَں یادوں کا رونا رو رہی ہوں۔ عجیب قنوطی لڑکی ہوں۔۔۔ زندگی بلا رہی ہے پھر آؤں گی یہی ملال لے کر کہ اس ملال میں بہت ملال چھپے ہیں کیونکہ ساری حسیں مصروف ہو جائیں گی لیکن دماغ کے کسی حصے پر انہی لمحوں کا قبضہ ہو گاجو لمحے سی بلاک کے دوسرے کمرے کی دوسری قطار میں میری کرسی پر بیٹھے ہوئے مجھ پر بیتے ہیں۔ اُف!

مریم جہانگیر

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo