مختصر کہانیاں : عشوارانا

اداسی

کبھی اداسی کو دیکھا ہے….اس نے سوال کیا تھا…. کتنا پاگل ہے نا…جواب بھی بھلا ایسے سوال پوچھتے ہیں….میں نے اسکی اداس آنکھوں کو دیکھتے کہا تھا… وہ نظریں چرا گیا…میں نے اسکی آنکھوں میں خوابوں کو چھپتے دیکھا… اور پھر جب اس نے نظریں اٹھا ئی تو خواب چھپ چکے تھے…وہاں بس اب میرا عکس تھا…اور نہ نظر آنے والی اداسی ….کسی کے ساتھ ہونے سے ساتھ تھوڑی ملتا ہے….میں پیچھے چلا آیا…عکس مٹ گیا…وہاں اب بس نظر آنے والی اداسی تھی پر میری آنکھوں میں…..

مختصر کہانی نمبر 2

اسے مجھ سے بہت محبت تھی..پر اس نے اسی محبت میں مجھے جانے دیا جو مجھے کسی اور سے تھی. اور آج زندگی کے بیس سال گزر جانے کے بعد میں نے اسے دیکھا تو وہ “محبتوں” سے مالا مال تھا اور میں کنگال… کہ وہ جو میرا “مان” تھا اسنے ” مالا مال ” ہونے کے لیے مجھے چھوڑ دیا تھا…ٹھیک اسی طرح جس طرح میں نے “مالا مال” ہو نے کے لیے اسے چھوڑا تھا… وہ میری طرف بڑھا تھا..میں نے آگے نکلنا چاہا…پر یہ وقت اسکا تھا.. “تمہارا” مان” تمہارے ساتھ نہیں ہے کیا.”..اس نے تسلی چاہی تھی یا یاد دلائی تھی…میِں اندازہ نہیں کر پائی..میری آنکھوں میں میرا جواب اتر آیا تھا. پتا ہے میِں اکثر سوچا کرتا تھا کہ میِں کہاں غلط تھا پھر وقت نے مجھے بتایا کہ “مال اور مان ہمیشہ محبت کرنے والے دیتے ہیـں نا کہ وہ جن سے بس آپ محبت کر تے ہیں…” اسنے کہا تھا اور چل دیا . میں نے سنا اور آنکھوں سے “جواب “اتر گیا تھا.

مختصر کہانی نمبر 3

“یہ پھول دھوپ میں مرجھا کیوں جاتے ہیں….حالانکہ انہیں چاہیے بھی روشنی ہوتی ہے..”.علیزے نے گلاب کے مرجھائے پھول کو افسردگی سے دیکھتے کہا تھا… “ہم لوگ شدتوں سے گھبرا کیوں جاتے ہیں… حالانکہ ہمیں ساری زندگی محبت شدت سے چاہیے ہوتی ہے…”. اسنے سوال کا جواب دیا تھا یا جواب کو سوال بنایا تھا..وہ سمجھ کر بھی سمجھ نہ پائی… اصل میں یہ تپش برداشت نہیں کر پاتے…اس لیے…علیزے نے سمجھانے والے انداز میں کہا تھا.. ہاں تپش کوئی بھی برداشت نہیں کر پاتا …لہجے کی ہو یا موسم کی….مرجھا دیتی ہے… اس نے کہا تھا اور چل دیا…علیزے نے اک نظر پھول کو اور اک نظر اسے جاتے دیکھا تھا…. دونوں میں فرق نہ تھا….پتہ نہیں موسم کب بدلتے ہیں …وہ یہی کہہ پائی تھی. 

مختصر کہانی نمبر 4

عکاشہ تم جانتی ہو اسے تم سے محبت ہے..زیبا نے مجھے یاد کروایا تھا…میں بھولی کب تھی. ہاں جانتی ہوں…پر مجھے بس اسکے لفظوں سے محبت ہے ..میں نے خود کو یاد کروانا چاہا… ز:.تو کیا تم اسے ایسے ہی چھوڑ دو گی… ع:ہاں میں اسکے لفظ یاد رکھوں گی.. ز:اور پھر وہ لکھتا رہے گا کیا ہمیشہ …. ع:پھر کچھ نہیں وہ لکھنا چھوڑ دے گا… ز:پر وہ جانتا ہے کہ تم اسکے لفظوں کو پسند کرتی ہو…وہ نہیں چھوڑے گا… ع: ہاں وہ جانتا ہے کہ میں بس اسکے لفظوں کو پسند کرتی.. . وقت گزرتا رہا…میں اتنی ہی دور رہی اور وہ اتنے ہی پاس… آنے والوں سالوں میِں اسکا ہر سٹیٹس بس اک ہی جملہ تھا… “کہ اسے میرے الفاظ پسند ہی‍ں…پر میرے پاس اب الفاظ نہیں.”…. وہ لکھتا رہا..اور اسکا ہر اسٹیٹس لائیک ہوتا رہا.

درد کا درد

درد کو لفظوں میں بیان کر نے کی اک کوشش…وہ درد جو میں نے کل محسوس کیا…جو پاکستان میں روز کہیں نہ کہیں کوئی خاندان کرتا ہے.اک سچی تحریر. وہ ننھی سی چڑیا تھی..ہمارے صحن کے اک کونے میں بیٹھی تھی…سہمی سی…مجھے لگا کہ شاید ویسے بیٹھی ہے…میں پاس جاؤں گی تو اڑ جائے گی…پر وہ اور کونے میں ہوگئی..مجھے ڈر لگتا ہے پر مجھے اسکی مدد کرنا تھی. میں نے ڈرتے ڈرتے اٹھایا اور دھوپ میں رکھ دیا..پانی اسکی چونچ سے لگایا تو وہ پینے لگی.شاید اسے بھی امید ہو گئی ہو گی..میں ٹیوب اٹھا لائی…تبھی پاپا آئے اور مجھے ڈانٹ دیا. اور پھر دیوار پہ بٹھا دیا انار کے درخت کے نیچے.میں مطمئن ہو گئی تھی کہ اسکے ساتھی اسے دیکھ کر لے جائیں گیں..پھر بھی اک کپڑا رکھ دیا تھا میں نے تا کہ مکھیاں نہ لگیں زخم پہ..میں اندر کسی کام سے گئی اور باہر نکل کر دیوار کی طرف دیکھا تو چڑیا نہیں تھی..وہ دیوار سے نیچے گری پڑی تھی..وہ مر چکی تھی.میں نے پہلی بار ایسے مرتے دیکھا تھا کسی چیز کو….میں اسے اٹھا کر باہر بھی نہی‍ں پھینک سکی..پاپا اسے اٹھا کر باہر رکھ آئے تھے..اتنا آسان ہوتا ہے کیا مرنا…. اس جیسی اور چڑیاں ابھی بھی انار کے درخت پہ بیٹھی ہیں …پر وہ نہیں ہے. ………..؟……………………………………….. وہ چھوٹا سا اک بچا تھا…ہا سپٹل کے بیڈ پہ لیٹا ہوا…ایسا لگ رہا تھا جیسے سویا ہوا ہو…پر وہ تکلیف میں تھا…کوئی انجانے دشمن کی گولی لگی تھی اسے اور اس جیسے بچوں کو..آرمی والے پہنچ گئے تھے…اسے ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا تھا..اسے زندگی ملی تھی..پر موت کا ڈر باقی تھا….ماں جو تڑپ رہی تھی امید اور خوف کی کیفیت میں …اسے تسلی ہوئی تھی..ہاسپٹل میں اپنے بچے کو دیکھ کر….وہ باہر آئی اور شکر ادا کرنے لگی …تبھی اچانک اسکے بچے کی حالت خراب ہونے لگی…وہ اندر گئی …بچہ مر گیا تھا…اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ جنازہ جاتے دیکھتی…وہ سکتے کی کیفیت میں بیٹھی رہی…باپ اپنے ہاتھوں سے بچے کو قبر میں اتار آیا تھا…اس جیسے اور بچے اب بھی گلیوں میں کھیلتے ہیں پر وہ نہیں ہے۔ 

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo