سفر نامہ متحدہ عرب امارات : ممتاز راشد لاہوریؔ

مارچ 2016ء میں مجھے معمول کے دورے پر دو ہفتے کے لیے قطر جانا تھا مگر اس بار ساتھ دو اور ممالک کے سفر کا پروگرام بھی بن گیا اور یہ تھے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ۔متحدہ عرب امارات کی سات ریاستوں میں سے پانچ ریاستوں میں پانچ دن گذرے۔ ان میں دوبئی ،ابوظہبی ،شارجہ، عجمان اور ام القوین شامل تھیں ۔پھر پانچ دن سعودی عرب میں گذرے۔ دوبئی سے جدہ گیا، مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کیا ،مدینہ میں روضہ رسولﷺ پر حاضری دی اور پھر جدہ میں ایک مشاعرہ پڑھا پھر تیرہ دن قطر میں گزارکر لاہور واپسی ہوئی۔
3مارچ 2016ء کو صبح 6بجے امارات ائرلائینز کی پروازنے مجھے لاہور سے دوبئی پہنچا دیا۔ اس پرواز کا دورانیہ ڈھائی گھنٹے کا تھا۔ امیگریشن کے مرحلے سے گذر کر سامان وصول کرنے والے ہال میں آیا تو سامان ملنے میں تاخیر نہ ہوئی البتہ کسٹم چیکر کائونٹر پر آدھ گھنٹہ لگ گیا۔ سکینرمیں میرے سامان میں کتب کی تعداد زیادہ تھی ،وہ اس بارے میں پوچھتا رہا۔ پھر ایک بڑے لفافے میں ایم اے نعیم نے اپنے مشغلے کے مطابق کافی ڈاک ٹکٹ بھیجے تھے۔ کچھ الگ الگ چھوٹے لفافوں میں بھی تھے۔ اس نے سب کو باریک بینی سے دیکھا۔ اپنے دو تین ساتھیوں کو بلاکر اُس نے ان ٹکٹوں کے بارے میں بات بھی کی ،سب کی رائے تھی کہ یہ ایک مشغلہ کے طور کے ٹکٹ ہیں ،تب وہ مطمئن ہُوا اُور اس نے سامان کلیئر کیا۔ اس کے بعد میں دوبئی ائرپورٹ کے گیٹ نمبر 2سے باہر آیا ،میری بھتیجی صبیحہ عرف پنکی اوراُس کا شوہر احتشام عرف شامی باہر موجود تھے ،تپاک سے ملے ۔دوبئی کے نامور عرب نژاداردو شاعر ڈاکٹر زبیر فاروق نے اپنے ڈرائیور نزاکت علی خان کو بھیج دیا ہُوا تھا۔ میںنے سامان شامی کی گاڑی میں رکھوایا اور خود نزاکت علی خان کے ساتھ بیٹھ گیا ،شامی اور پنکی سے کہہ دیا کہ آج رات کو ابوظہبی میں عالمی مشاعرہ ہے اور میں ڈاکٹر زبیر کے ساتھ وہاں جائوں گا اور آپ کے ہاں صبح پہنچوں گا، نزاکت علی مجھے لے کر ڈاکٹرزبیر کے کلینک کی طرف روانہ ہُوا ،وہ دلی کا تھا ،راستے میں خوب گپ شپ رہی ،کلینک قریب ہی تھا پرائمری ہیلتھ سنٹر المحیصنۃ ‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔دس منٹ میں وہاں پہنچ گئے ۔ڈاکٹر زبیر نے پر تپاک انداز میں استقبال کیا اور حال احوال پوچھا ۔چائے بسکٹ کا دور چلا ۔انھوں نے بتایا کہ جیسا آپ سے فون پر طے ہُوا تھا،اُسی کے مطابق شام کو ابوظہبی مشاعرہ میں چلیں گے۔ میری ڈیوٹی یہاں ڈھائی بجے تک ہے مگر آج میں نے شارٹ لیو لے لی ہے اور ہم ساڑھے بارہ بجے یہاں سے نکلیں گے ، میرا گھر عجمان میں ہے ، یہاں سے کوئی چالیس کلو میٹر دور ،ظہرانہ وہیں گھر پر ہو گا پھر وہیں قیلولہ کر لیجیے گا، شام کی چائے پی کر مشاعرہ کے لیے نکلیں گے۔ ابوظہبی دوڈھائی گھنٹے میں پہنچیں گے اور مشاعرے کے بعد رات دو تین بجے عجمان واپسی ہو گی ۔ڈاکٹر زبیر کی وضاحت نے ہر پہلو بیان کر دیا تھا ،اس لیے اس کے بعد ان سے عمومی باتیں ہونے لگیں وہ بولے کہ میرا پچاسوں شعری مجموعہ بھی شائع ہو گیا ہے اور اب اس مناسبت سے دوبئی ،کراچی ،لاہور ،اسلام آباد اور انڈیا کے بعض شہروں میں گولڈن جوبلی تقریبات منعقد کرنے کی بات چل رہی ہے میں نے اپنے طور پر سوچا کہ ان کے علاوہ عہد حاضر میں شاید ہی کوئی اردو شاعر ہو گا جس کے پچاس شعری مجموعے آئے ہوں گے ۔انھوں نے اپنے معمولات بھی بتائے کہ روزانہ صبح 6بجے عجمان سے یہاں دوبئی میں ڈیوٹی پر آجاتا ہوں اور ڈھائی بجے واپس گھر (عجمان ) جاتا ہوں ،عصر کے وقت پھر دوبئی آتا ہوں جہاں زلیخا ہسپتال میں چھ سات گھنٹے روزانہ کی ڈیوٹی ہے ۔عشاء کے بعد گھر واپسی ہوتی ہے ۔دونوں ڈیوٹیوں میں آمدن کافی ہے مگر اخراجات بھی بے تحاشہ ہیں ۔چار بیویاں ،ان کے بچے ۔سب کے الگ الگ مکان ہیں ،بنکوں سے لیے گئے قرضوں کی قسطیں دینا ہوتی ہیں ۔کافی رقوم ان مدوں میں نکل جاتی ہیں، ڈاکٹر زبیر فاروق کی باتیں بڑی مزیدار تھیں وہ ااپنے اہم مشاعروں کی رُوداد بھی سناتے رہے اور اپنے ادبی سفر کے اہم کار نامے بھی۔ شاعری میں ان کے استاد شفیق سلیمی ربع صدی تک ان کے ساتھ دوبئی میں رہے ہیں ۔اب وہ لاہور جاچکے ہیں مگر شعری اصلاح کا سلسلہ برابر جاری ہے ،لاہور میں ان کے ناشر اسلام عظمی ہیں ۔لاہور میں میری ان دونوں سے اکثر ملاقاتیں ہوتی ہیں ،ان کے حوالے سے بھی کافی گفتگو رہی۔
ڈاکٹر زبیر الفاروق کے کلینک میں اس روز اتفاق سے کوئی مریض نہ آیا تھا لبتہ انھیں ایک کمپیوٹر ٹریننگ کورس کے لیے ڈیڑھ گھنٹہ تک اسی عمارت میں ایک جگہ جانا پڑا۔ میں نے اس دوران کچھ ضروری نوٹس لیے اور باہر نکل کر کلینک کے اردگرد کی سڑکوں کا جائزہ لیا ،ساتھ بڑی مسجد تھی۔ اس کے اندر سے بھی ہو آیا ۔فرصت کی وجہ سے ڈاکٹر زبیر سے کافی گپ شپ رہی۔ اُن کی کچھ کتابیں الگ طرح کی بھی ہیں مثلاًانھوں اپنی ایک کتاب ’’سوچ کا سفر‘‘ دکھائی ۔یہ ان کی 47ویں کتاب تھی ۔80صفحات کی یہ کتاب 2014ء میں آئی ۔یہ جاوید انور نے وارنسی سے شائع کی تھی اور A4 سائز کے صفحات کی تھی۔ اس کے ہر صفحے کے وسط میں اردو رسم الخط میں غزل تھی اور دائیں بائیں بالترتیب ہندی اور رومن رسم الخط میں وہی غزل تھی۔ آخر میں ان کی پانچ مزاحیہ غزلیں بھی تھیں۔
ڈاکٹر زبیر فاروق کا یہ سرکاری کلینک الرعایتہ المحیصنۃ الاولیہ مرکز المحیصنۃ (پرائمری ہیلتھ سنٹر المحیصنۃ)تھا ،اُن کی میز پراُن کے نام کی تختی کے نیچے یہ ڈگریاں لکھی تھیں۔ (specialist dermatologist) MBBS, DDV, DVD, FDPS,۔۔۔۔ا پنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بھی انھوں خوشگوار لہجے میں کئی باتیں بتائیں مثلاً یہ کہ ان کی چار بیویاں تھیں ۔ان میں سے تین حیدر آباد دکن سے تھیں ،ان میں سے ایک نے طلاق لے لی تو میں نے پاکستانی بیوی سے شادی کر لی ،طلاق لینے والی بیوی 39برس کی تھی۔ اسے شاید یہ خیال تھاکہ اسے کوئی شہزاد ہ مل جائے گا مگر وہ اب تک بیٹھی ہوئی ہے اور مجھے اس سے دس سال سے کم عمر بیوی مل گئی جس کی پہلی شادی سے ایک بیٹی ہے جو میرے زیر کفالت ہے جبکہ لاہور سے تعلق رکھنے والی اس بیوی سے میرا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے ، 64برس کی عمر میں اب پھر باپ بننے والا ہوں ۔یوں میرے سولہ بچے ہیں سب سے بڑا بیٹا 39برس کاہے اور خود اس کے بھی تین بچے ہیں ۔اب بیویوں کو ہر ماہ سات سات ہزار درھم پہنچاتاہوں ۔رہتا لاہور والی بیوی کے ساتھ عجماں میں ہوں ،سب بیویوں بچوں کو الگ الگ گھر لے کر دیا ہے،دو فل ٹائم جاب کرتا ہوں ۔شام کو زلیخا ہسپتال میں ہوتا ہوں کل سوا لاکھ درھم ماہانہ آمدن ہے ،آدھی رقم بنکوں سے لیے قرضوں میں نکل جاتی ہے ۔
لاہور والی میری بیوی مجھے بہت پیاری ہے مگر وہ مجھ پر کڑی نظر رکھتی ہے ۔شاعرات سے بھی میرا بے تکلف ملنا اسے ناپسند ہے، فون پر کس لڑکی سے چَیٹ کروں تو بھی ناراض ہوتی ہے حالانکہ یہ تو میری ’’ون ڈے کرکٹ ‘‘جیسی عارضی سی یعنی چند گھنٹوں کی دوستی ہوتی ہے ۔میں موبائل فون پر چَیٹ کروں تو اسے بھی اپنے موبائل فون پر پتہ چل جاتا ہے ،ایک بار میں کلینک میں اس کام میں مصروف تھا تو وہ پیچھے آ گئی ،مجھے پہلے ہی اس کے آنے کا اندازہ ہو گیا تھا تو میں نے سارا مکالمہ ڈیلیٹ کر دیا مگر اس نے آکر ڈیلیٹ شدہ مکالمہ ڈھونڈنکلا اور بڑی ناراض ہوئی ۔اس کے ساتھ اچھی زندگی گزر رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے میں پہلے بھی کچھ دورے کر چکا تھا مگر مارچ 2016ء کاپانچ روزہ دورہ سیاحت کے لحاظ سے زیادہ بھرپور رہا ۔ میں اس دورے میں پہلی بار ’’ام القوین ‘‘ بھی گیا۔
میں3مار چ کی صبح لاہور سے دوبئی پہنچا تھا ،سارا دن ڈاکٹرزبیر فاروق کے کلینک اور گھر میں گذرا۔ شام چھ بجے ہم عجمان کے ان سے گھر سے چلے تو 8بجے آرمڈ فورسز کلب ابو ظہبی میں مشاعرہ ہال میں پہنچے ۔ یہ عالمی مشاعرہ 4مارچ کی صبح ساڑھے تین بجے ختم ہوا۔ گروپ فوٹوز کے بعد باہر آ کر گاڑی میں بیٹھے تو مشاعر ہ کے ایک ور کر نے تین میل بکس تھما دیے ۔ ڈاکٹرز بیر نے کچھ نہ کھایا۔ ڈرائیور نزاکت علی گاڑی چلا رہا تھا ۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر کھانا شروع کر دیا ۔ میں پچھلے حصے میں بیٹھا تھا ، آہستہ آہستہ کھاتا رہا ، آدھا روغنی نان تھا ، ساتھ چکن قورمہ سالن ۔ ایک سیخ کباب ایک چکن کا روسٹ پیس ۔ بریانی کا ڈبہ بھی تھا ۔ رائیتہ بھی اور سویٹ ڈش کے بطور ایک چم چم کا پیس بھی ،خاصا پیٹ بھر گیا ۔ خالی ڈبے میں بچے ہوئے چاول اورہڈیاں تھیں ،وہ پاس ہی اُسی جگہ رکھا تھا کہ اچانک زور سے بریک لگنے پر وہ ڈبہ سیٹ سے گر کر پیروں کی جگہ پر بکھر گیا ۔ چلتی گاڑی میں آ گے والے دونوں مسافروںکو بتائے بغیر میں دیر تک ٹیشو پیپرسے صفائی کرتا رہا۔ دوبئی کی جانب واپسی پر ہم شیخ زید مسجد کے انٹر چینج پر رستہ بھول گئے اور العین کو جانے والی سڑک پر ہو گئے ۔ کافی آ گے جا کر پتہ چلا تو یوٹرن لے کر پھرشیخ زید مسجد کے پاس آ کر دوبئی جانے والی سڑک پکڑی ۔ صبح کی اذان کا وقت تھا، رش بہت کم تھا ۔ گھنٹہ بھر میں دوبئی پہنچ گئے اور پھر شارجہ سے گذر کر عجمان پہنچے، راستے میں فون پر میری پنکی بیٹی سے بات ہو گئی تھی ۔ اس نے بتایا کہ شامی تو دوست کے پاس ابو ظہی گیا ہوا ہے اور عدنان بھائی آپ کو عجمان سے لیں گے مگر ابھی وہ فشنگ کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ وہ آٹھ بجے آپ کو چائنا مال (السوق الصینی ) عجمان کے سامنے سے لے لیں گے ۔ ڈرائیور نزاکت علی نے پہلے ڈاکٹرزبیر کو ان کے گھر ڈراپ کیا ۔ پھر قریبی چائے خانے سے میرے اور اپنے لیے چائے لی اور سات بجے مجھے چائنا مال کے سامنے ڈراپ کر دیا ،اس کے مین گیٹ کے باہر اوپن ریستوران تھا جو تب بند پڑا تھا ۔ اس کی کرسیاں موجود تھیں وہیں بیٹھ کر یہ سطور لکھیں ۔ سامنے ایکڑوں میں پھیلی ہوئی کار پارکنگ تھی ۔ مشاعرہ گاہ سے اس مشاعرے کے بارے میں ایک مجلہ ملاتھا ۔ ایک مجلہ ’’جوشِ اردو‘‘ بھی تھا جو بزم اردو دوبئی کے 2015کے عالمی مشاعرے کے ساتھ جاری ہوا تھا ۔ عجمان کے چائنا مال کے باہر کرسیوں پر بیٹھے بیٹھے یہ مجلے بھی پڑھے ۔ تھوڑی چہل قدمی کی، دائیں بائیں کی سڑکوں اور ان پر قائم شورُ و مز وغیرہ کے بورڈپڑھے۔ زیادہ فرنیچر کے شور و مز تھے۔ موسم خوشگوار تھا، سائے میںٹھنڈک محسوس ہوئی تو کچھ دیر پارکنگ کے دھوپ والے حصے میں جا کر کھڑے رہنے سے جسم کو سکون ملا۔ میرا خیال تھا کہ عدنان مجھے آٹھ بجے لے لے گا مگر وہ ساڑھے آ ٹھ بجے آیا اور تاخیر کی معذرت کرنے لگا۔ اس کے ساتھ نعیم تھا۔ دونوں تپاک سے ملے ۔ عدنان میری بڑی خالہ گلزار کے بڑے بیٹے سعید صدیق کا بڑا بیٹا ہے اور میری بھتیجی پنکی کا جیٹھ بھی۔ نعیم باجی زرینہ کا بیٹا ہے جو سعید کی پھوپھی زاد ہے ۔ گاڑی نعیم چلا رہا تھا اور عجمان سے پندرہ منٹ ڈرائیوکے بعد ہم ام القوین پہنچے۔اور پھر چند منٹ بعدشعبیہ الحمراء میں سعید بھائی کے گھر میں تھے ، سب اہل خانہ تپاک سے ملے ۔ ناشتہ تیار ہوا ۔ گھنٹہ بھر گپ شپ رہی اور پھر میں سو گیا،کیونکہ رات بھر کا جاگا ہُوا تھا ۔
تین گھنٹے سویا۔ جمعہ رہ گیاتھا۔ لنچ مل کر کیا ،بہت ہی لذید تھا ۔ فرج سے نکلے ہوئے ٹھنڈے کینو نے مزا دوبالا کر دیا ۔ ٹی وی کے کچھ پروگرام دیکھے۔ گھنٹہ بھر قیلولہ کیا ۔اور مغرب سے قبل عدنان کی مر سیڈیز میں سب اہل خانہ شارجہ کی شمالی بیچ پر گئے ۔ نعیم اور افضل ٹونی ساتھ تھے ۔ نعیم کی بیوی اور دو بچے بھی تھے اور افضل کے چھوٹے بھائی کی بیوی اور دو بچے بھی۔ بیچ پر چٹائیاں بچھا کر پکنک منائی ۔ عدنان وغیرہ فشنگ کرتے رہے۔ لطائف اور چٹکلے بھی زوروں پر تھے۔ پنکی فوٹوز بناتی رہی ۔ چائے پی کر مغرب کے بعد واپس گھر لوٹ آئے ۔
ٹی وی پر ڈھاکہ میں ہونے والے ٹی ٹوینٹی ٹورنامنٹ میں آج پاکستان اور سر ی لنکا کا میچ تھا جو پاکستان نے سات وکٹوں سے جیتا ۔ سعید بھائی نے یہ میچ گوگل پر لائیو دکھایا۔ ٹی وی پر پاکستانی چینلز پر کراچی کے سابق میئر مصطفی کمال کی پردیس سے دھماکے دار واپسی چھائی ہوئی تھی ۔ انھوں نے قائد ایم کیو ایم الطاف حسین سے بغاوت کر دی تھی ۔ ڈنر میں پنکی کے تیار کردہ بر گر کھائے ،بے حد لذید تھے ۔ چائے کے بعد دس بجے رات تک ٹی وی دیکھا۔ پچھلے دو دن کی نیند پوری نہ ہوئی تھی ۔ سو جلدی سو گیا ۔
چار مارچ کو صبح اذان فجر کے وقت جاگا۔ باتھ سے فارغ ہو کر شیو بنا کرکمرے میں اپنی اشیا درست کیں ۔ پاکستانی بٹوے کی جگہ قطر میں استعمال ہونے والے بٹوے کو سیٹ کیا ۔ ابو ظہبی جاتے ہوئے گاڑی میں ایف ایم ریڈیو سنتے ہوئے ایک گیت ہوا تھا ؎ ہر دن سنڈے کیوں نئیں یارا۔۔۔ یہ فیئر کر کے لکھا اس سفر نامے کی کچھ روداد لکھی۔ دودن بعد عمرے پر جانا تھا ۔ عمر ے کی رہنمائی کے چار کتا بچے ساتھ تھے ، وہ پڑھے۔
ایک محا کاتی آزاد نظم ’’کسانوں کے مکان ‘‘ہوئی تھی ،وہ نوک پلک سنوار کر لکھی۔ لباس بدل کر گھر سے باہر نکلااور ارد گرد کی گلیوں سڑکوں پر آدھ گھنٹہ گھوما ۔ گھر لوٹ کر ان گلیوں کا رف نقشہ بنایا تو راستوں کی کچھ اور تفہیم ہوئی ۔
9بجے سب نے مل کر ناشتہ کیا ۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ دوپہر کو آپ کے لیے کیا پکایا جائے ۔ میں نے بھنڈی کا کہا تو نرگس سعید نے کہا کہ وہ تو سبزی مارکیٹ سے ملے گی، چلو سعید لے آتے ہیں۔ آپ کو بھی ساتھ جانا ہے، تو چلے جائیں، مجھے کوئی کام تو تھا نہیں ، میں بھی تیار ہو گیا ۔ سعید بھائی نے بتایا کہ اکیلا جائو تو وہاں سائیکل پر جاتا ہوں مگر وہ زیادہ دور نہیں ہے ، موسم بھی ٹھیک ہے ،آئو پیدل چلتے ہیں ،ساتھ ساتھ گپ شپ رہے گی ۔ سعید بھائی نے گلیوں کے شارٹ کٹ مارے اور بیس منٹ میں ہم فش رائونڈ ابائوٹ کے پاس مارکیٹ میں تھے ۔ راستے میں سعید بھائی مکانوں مکینوں اور بڑی عمارتوں کی تفصیل بتاتے رہے ۔ ایک بڑے مکان کے گیٹ پر ایک بابا جی نظر آئے تو سعید بھائی نے فارسی میں اس کا حال چال پوچھا ،سلام علیک یا عمی ۔ چتوری ؟ حال خوب است؟ بابا جی نے بھی جواب دیے ۔ سعید بھائی نے بتایا کہ یہ بابا اتنے بڑے گھر میں اکیلا رہتا ہے ۔ بڑھاپے میں ایک ایرانی عورت سے شادی کی ، ایک بچہ بھی ہے۔ وہ زیادہ تر ایران میں رہتی ہے۔ ایک دو ماہ بعد آتی ہے اورچند دن رہ کر خرچہ لے کر پھر ایران چلی جاتی ہے۔ اس بابے کا ایک بڑا مکان کرائے پراُٹھا ہوا ہے ۔ خود کافی کنجو س ہے ۔ رمضان میںہر یس بھی مانگ کر لاتا ہے اور کھاتا ہے۔
سبزی مارکیٹ کے ساتھ فروٹ مارکیٹ، فش مارکیٹ ، گوشت مارکیٹ اور پرندہ مارکیٹ بھی تھی ۔ دو تین ایکڑ میں پھیلی اس مارکیٹ کی عمارات اور ماحول کافی صاف ستھرا تھا ۔ نرخ بھی مناسب تھے ۔ مگر اس روز بھنڈی مہنگی ملی ، بارہ درہم کی کلو۔ جو عموماً سات درہم کلو ہوتی ہے ۔ سعید بھائی نے کچھ اور خریداری کی ۔ گوشت بھی لیا اور ہم گھنٹہ بھر میں واپس گھر لوٹ آئے تھے ۔
چائے کا ایک اور دَور چلا ،پنکی بیٹی نے عدنان کے لیپ ٹاپ میں میرا اکائونٹ اوپن کر کے مجھے تھما دی اور میں اپنی ٹائم لائن کی فوٹوز دیکھنے لگا۔ ابو ظہبی کے عالمی مشاعرے کی فوٹوز بھی تھیں ،وہ بھی دیکھیں اور ان میں سے کچھ شیئر بھی کیں ،فیس بک کے میسیج ے ذریعے کچھ دوستوں سے چَیٹنگ کی اور کچھ کمنٹس کیے یا ان کا جواب دیا۔
عدنان کی اپنی فیکٹری ہے ۔ سٹین لیس سٹیل کے دروازے وغیرہ کی۔ اس کا چھوٹا بھائی شامی بھی اس کے ساتھ ہی ہوتا ہے ۔ یہ صبح فیکٹری جا چکے تھے ۔ دوپہر کے کھانے پر آئے ۔ ساتھ گپ شپ ہوتی رہی۔
پھر میں نے گھنٹہ بھر قیلولہ کیا۔ پتہ چلا شام کو شامی ہمیں دوبئی کی سیر کے لیے لے کے جائے گا بلکہ وہ تو 4بجے ہی آ گیا اور ’’جیپ ‘‘ (بڑی گاڑی )میں لے کر نکلا ۔ میرے ساتھ سعید بھائی ،نرگس سعید اور پنکی (صبیحہ) بھی تھی ۔ ام القوین سے نکل کر شارع الامارات سے شارجہ کا رخ کیا ۔ وہاں کے نیو انڈسٹریل ایریا میں شامی نے اپنی فیکٹری میں تیار شدہ کچن کیبنٹوں کی ڈیلوری دینا تھی، جو ایک نچال (چھوٹا ٹرک ) پر تھیں۔ نچال کے ڈرائیور سے شامی موبائل فون پر رابطے میں تھا اور اسے وہ جگہ سمجھا رہا تھا جہاں پہنچنا ہے ۔ وہ ایک جگہ راستہ بھول گیا تھا ۔ خیر وہ ڈرائیور جلد ہی ساتھ آ ملا ور انڈسٹریل ایریا کی کچی پکی سڑکوں پر سے ہوتے ہوئے مطلوبہ جگہ پہنچ کر شامی نے ڈیلوری کے لیے نچال ڈرائیور کو ہدایات دیں اور ہمیں لے کر دوبئی کا رخ کیا ۔ دوبئی سٹی میں داخل ہونے سے پہلے ایک چائے خانہ سے کڑک چائے پی گئی۔ پہلے ہم دو بئی کے حکمران کے پیلس کے باہر والے پارک میں گئے ۔ بیسیوں سیاح موجود تھے۔ عمدہ نظارہ تھا ، وہاں کئی تصاویر بنوائیں۔ پھر دوبئی کے پوش ایریا مرینا کا رخ کیا ۔ راستے میں میٹرو ٹرین کی آمدو رفت کے مناظر دیکھے۔ مریناکی بلند و بالا عمارات میں زیادہ یورپین مقیم ہیں سو وہاں کا ماحول ویسا ہی تھا ۔ انگریز عورتیں ہر طرح کے مغربی لباسوں میں گھوم پھر رہی تھیں ۔ ان میں اونچی نیکروں والی اور لوء نیک شرٹس والی بھی تھیں۔ ’’مرینا ‘‘ ایریا کا پرانانام ’’جمیرہ ‘‘ ہے ۔ عمارتوں کے بیچ سمندر سے نکالی گئی نہریں تھیں۔ درجنوں جدید لانچیں بھی کھڑی تھی۔ ان کی سیر کا بندوبست بھی تھا ۔ سیاحوں کا ہجوم تھا ۔ فوٹو گرافی بھی عروج پر تھی ۔ یوں گھنٹہ بھر کی چہل قدمی کے بعد ہم وہاں سے دنیا کی بلند ترین عمارت بَرج الخلیفہ دیکھنے نکلے جو ’’دوبئی مال ‘‘کے پاس ہے ۔ دوبئی مال بہت بڑا شاپنگ سنٹر ہے ۔ اس میں بہت لمبا چوڑا اور بلند و بالا فش ایکیورم خاصے کی چیز ہے ۔ ہم دوبئی مال کی بجائے اس کے سامنے والے سوق البحار کے راستے برج الخلیفہ تک گئے ۔ اس عمارت کے سامنے کے ایکڑوں پر پھیلے نہر نما تالاب میں موسیقی کے ساتھ ناچتی درجنوں فواروں کی رقصاں لہروں کا نظارہ بہت دیدہ زیب تھا،سینکڑوں سیاح جمع تھے ۔ ایک پُل کر اس کر کے دوبئی مال کے اندر گئے اور اس کی بھی سیر کی ۔ اب مغرب کے بعد کا وقت ہو چکا تھا اور تھکان بھی ہو رہی تھی سو واپس ام القوین کا رخ کیا ۔ ساڑھے آٹھ بجے گھرپہنچے ۔ کچھ ٹی وی پروگرام دیکھے۔ عشائیہ کھایا اور میں تو دس بجے شب کو گیا اور صبح سات بجے تک خوب نیند لی۔
گلوبل ولیج دوبئی
یو اے ای میں پانچ روزہ قیام کے چوتھے روز 5مارچ کی شام گلوبل ولیج دوبئی کی سیر کا ارادہ تھا ۔ میری بھتیجی صبیحہ (پنکی) نے ساتھ لے جانے کے لیے بر گر بنا لیے۔ اس کے میاں احتشام(شامی) فیکٹری سے ذرا جلدی چھٹی لے کر شام 4بجے آ گئے ۔ اس کے ابو امی (سعید بھائی اور نرگس) بھی تیار تھے ۔ وہ جیپ (بڑی گاڑی) کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے اور مجھے شامی کے ساتھ اگلی سیٹ پر بٹھا دیا گیا۔ شعبیہ الحمراء (ام القوین) سے ان کے گھر سے 5بجے نکلے۔ شامی کی ڈرائیونگ نوجوانوں والی تھی ۔ فرفر سڑکوں پر دوڑاتے ہوئے وہ ہمیں لے کر دوبئی کی سمت رواں دواں تھا۔ شارع امارات پر راستے میں عجمان اور شارجہ کے ایگزٹ گذرے ۔ دوبئی کے پاس پہنچ کر ہم شارع شیخ زید پر ہو گئے تھے ۔ دوبئی سٹی کے ایگزٹ سے گذرے توکچھ دیر بعد ’’جبل علی ‘‘سے کافی پہلے ہی بائیں طرف گلوبل ولیج کی جادوئی عمارات آ گئیں ۔ انڈر پاس سے گاڑی گزار کر ایکڑوں پر محیط پارکنگ میں جگہ ڈھونڈی، سینکڑوں کا ریں کھڑی تھیں ۔ شامی اور پنکی نے اپنے ٹکٹ خریدے ،میں اور سعید بھائی ساٹھ سال سے اوپر کے تھے اور سینئر سٹیزن تھے۔ ہماراداخلہ مفت تھا۔ نرگس ابھی 59سال کی تھی مگر وہ بھی ہمارے ساتھی ہی اندر داخل ہو گئی ۔ مرکزی داخلی راستے کے دونوں طرف دنیا بھر کی مشہور عمارات کے بلند و بالا ماڈلز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گیٹ وے لندن، ، ایفل ٹاور پیرس، اٹلی کا پِیسا ٹاور، تاج محل، آسٹریلیا کی عمارات، مصر کی سب سے بڑی مسجد، ترکی اور یمن کے محلات وغیرہ کے دلفریب ماڈل دیکھ کر اس سیر گاہ کے مرکزی پارک تک پہنچے جو گو لائی میں ہے اور کوئی بیس ایکڑ رقبے پر ہے ۔ اس کے محیط پر بھی دنیا کے درجنوں ممالک کے پویلین ہیں۔ ہر پویلین کے اندر کئی کئی کنال جگہ پر اس ملک کے اسٹالز لگے ہیں۔ ان سب کو سیکھنے کے لیے کئی گھنٹے درکار ہیں۔ ہم نے صرف پاکستانی پویلین کے اسٹال دیکھے اور افریقی پویلین کے ۔ پاکستانی اسٹالز میں زیادہ تر لیدر جیکٹس، زنانہ ملبوسات، کھُسے، منقش فرنیچر، جیولری اور ڈیکوریشن پیس وغیرہ تھے ۔ ایک اسٹال نمکو وغیرہ کی مصنوعات کا تھا ۔ ایک جگہ اسٹیج بھی تھا جس پر ہر شام پاکستان کے سبھی صوبوں کے رقص اور نغمے پیش ہوتے ہیں۔ کم و بیش یہی کچھ ہر ملک کے پویلین میں تھا ۔ پارک کی جنوبی سمت میں ایک بہت لمبا چوڑا اسٹیج تھا جہاں مغرب کے بعد دنیا بھر کے طائفے اپنے اپنے ملک کے رقص پیش کرتے تھے ،شمال مشرقی سمت میں ایک زرق برق فوڈ سٹریٹ تھی جس میں دنیا بھر کے پکوان دستیاب تھے ۔ ہم نے پارک میں ایک تھڑے پر بیٹھے بیٹھے برازیل کے طائفے کے رقص دیکھتے ہوئے برگر کھا لیے تھے۔ دو گھنٹہ سیر کے بعد نکلنے کا ارادہ کیا ۔ پنکی لمحہ بہ لمحہ موبائل فون کیمرہ سے میری فوٹوز بناتی چلی جا رہی تھی ۔ شامی اور سعید بھائی نے بھی کافی فوٹوز بنائیں۔ کچھ گروپ فوٹوز بھی بنے ۔ یہ سب اس رات فیس بک پر بھی اپ لوڈ کر دیے گئے تھے ۔ ہزاروں سیاح پُر امن انداز میں گلوبل ولیج کے سحر آفرین ماحول میں گھوم پھر رہے تھے۔ خواتین اور بچے بھی کثرت میں تھے۔ انتظامیہ کیطرف سے دو تین کُھلی گاڑیوں پر گشت کرتے ہوئے فنکار میوزک پر رقصاں گذرتے رہے ۔ جو کر اور کلاؤن وغیرہ بھی تھے ۔ گلوبل ولیج کے شمال مغرب میں بہت معیاری بیت الخلا بنائے گئے تھے ۔ یہاں پچاس سے زائد بیت الخلا تھے اور صفائی کا انتظام نتہائی اعلیٰ درجے کا تھا ۔ ننھے بچوں کی نیپیاں وغیرہ بدلنے کے اسٹینڈ الگ سے تھے ۔ پارکنگ میں بھی ہر کار کے لیے سڑک پر جلی حروف میں قطار کا نام اور پارکنگ لاٹ کا نمبر درج تھا، وہاں بھی روشنی کا زبر دست انتظام تھا۔ گلوبل ولیج کے اندر کئی ملکوں کے پویلین بہت بڑے تھے اور کچھ کے چھوٹے ، پاکستان ، چین ، افریقہ ، مصر اور انڈیا کے پوبلین بڑے تھے ۔ قطر سمیت کچھ ملکوں کے پویلین چھوٹے تھے ۔ مگر سبھی پُر کشش تھے۔ بہت سوں کا سامنے کا حصہ بہت سجا سنورا تھا اور ان کی تہذیب کا عکاس بھی ۔ پاکستانی پویلین کا فرنٹ بلند و بالا مگر سادہ سا تھا ۔ غالباً فورٹریس اسٹیڈیم لاہور کی بیرونی دیوار کا عکس تھا ۔ سعید بھائی نے بتایا کہ ہر سال سامنے کے حصے میں ردو بدل بھی رہتا ہے ۔ پاکستانی پویلین میں کبھی مینار پاکستان اور خیبر باس وغیر ہ کے ماڈل بھی لگتے ہیں۔ گلوبل ولیج ستمبر سے اپریل تک کھلتا ہے اور گرمیوں کے شدید مہینوں میں بند کر دیا جاتا ہے جس کے دوران اگلے سیزن کی تیاریاں ہوتی رہتی ہیں۔ ہم نے دو گھنٹے میں دنیا کے درجنوں ممالک کی ثقافتی رنگ دیکھ لیے تھے ۔ یہ سَیربہت ہی جاذبِ نگاہ و دل اور معلومات افزا ء رہی تھی ۔ اس کی کیفیات کو الفاظ میں ٹھیک طرح بیان کرنا بھی ممکن نہیں ہے ۔
ڈریگن مال چائنا شاپنگ سنٹر دوبئی
گلوبل ویلج دوبئی سے نکل کر شامی نے گاڑی کا رخ دوبئی کے ایک اور اہم مقام ’’ڈریگن مال ‘‘ کی طرف کر لیا ۔ جو کہ اسی شاہراہ پر شارجہ کیطرف جاتے ہوئے تھا ۔آدھ گھنٹہ بعد اس کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے اندر داخل ہوئے ۔ یہ کوئی تین کلو میٹر طویل اور نصف کلو میٹر چوڑا شاپنگ مال ہے جس میں سینکڑوں اسٹالز ، شاپس اور شو رومزہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں سوئی سے لے کر ہوائی جہاز تک کی خرید و فروخت ممکن ہے ۔ الیکٹرانکس اشیاء کے اسٹالز الگ تھے اور تکنیکی چیزوں کے الگ ،الیکٹریکل الگ اور ڈریسز کے الگ۔ زنانہ ملبوسات ، میک اپ ، بیگز جیولری اور کھلونے وغیرہ کے درجنوں درجنوں اسٹالز کے الگ الگ حصے تھے ۔ کھانے پینے کی اشیاء بھی دستیاب تھیں ۔ا س شاپنگ مال کے شمال میں دنیا بھر کے برانڈ ڈ ریستورانوں کی شاخیں الگ سے بنا دی گئی تھیں ۔ مشرقی سمت میں دو کلو میٹر طویل گودام تھے ۔ ڈریگن مال کا فرنٹ جنوبی سمت میں تھا جس کے باہر ایک بہت بڑے فولادی کُرّے سے ڈریگن لپٹا ہوا دکھایا گیا ہے ۔ وہ جگہ سینکڑوں افراد کے لیے الگ سے دلچسپی کا مرکز بنی رہتی ہے۔ ہم نے کوئی گھنٹہ بھر اس شاپنگ مال میں گذارا اور خوب لطف لیا۔
سات مارچ 2016؁ء میرا یو اے ای میں آخری دن تھا ۔ کل شام ام القوین سے شامی ہمیں دوبئی لے گیا تھا۔ واپسی پر شارجہ میں ایک ایرانی ریستوران سے ان کی روایتی پتلی روٹی کے ساتھ مٹن اور چکن کے تکے کھائے تھے اور واپس ام القوین گھر پہنچ کر پنکی بیٹی نے مزیدار چائے پلا دی تھی ۔ آج بنگلہ دیش میں جاری ٹی ٹوینٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل میچ تھا ۔ چائے نوشی کے دوران پتہ چلا کہ انڈیا نے بنگلہ دیش سے جیت لیا ہے ۔ لیپ ٹاپ پر فیس بک پر اپنی ٹائم لائن کی تازہ تصاویر دیکھیں ۔ پرسوں کی دو بئی کی سیر کی تصاویر پنکی اور سعید بھائی نے اپ لوڈ کر دی تھیں ۔ ان پر احباب کے کمنٹس پڑھے ،رات ساڑھے بارہ بجے سویا تھا ،سات مارچ کی صبح اذان سن کر جاگا ۔ باتھ سے ہو کر آیا ۔ اللہ تو بہ کی ۔ کل فیس بک سے لاہور کے خواجہ عاصم کا ایک پنجابی بیت پڑھا تھا کہ دادا نانا بن گیا ہوں مگر ماں اب بھی سڑک دھیان سے پار کرنے کا کہتی ہے۔ اسی مضمون کے زیر اثر بستر پر لیٹے لیٹے دو تین بیت کہے ۔ دو بیت بچپن کے کھیلوں کے حوالے سے ہو گئے ۔ سات بجے شیو بنائی اور پون گھنٹہ کی واک کر آیا ۔ بقالہ سے چند ریکا ‘‘صابن کی ٹکیہ بھی خرید لایا۔ یہ کیمیکل فری صابن بالوں کے لیے بہتر ین ہے ۔ میں ربع صدی سے یہی استعمال کر رہا ہوں ۔ آج اسی سے سردھو کر ، نہا کر ، احرام باندھ کر عمرہ کے لیے دوبئی ائر پورٹ پر جانا تھا ۔ عدنان فیکٹری جانے لگا تو اس سے ابھی مل لیا کیونکہ دوپہر کو اس کے گھر آنے سے قبل ہی میری روانگی تھی۔
گیارہ بجے شامی فیکٹری سے گھر آ گیا ۔ اس کے ساتھ گاڑی میں سعید بھائی ، نرگس سعید اور میں بیٹھے اور پنکی بٹیا کو الوداع کہہ کر ہم ساڑھے گیارہ بجے دوبئی ائر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے ۔ مجھے دوبئی ائر پورٹ پر چھوڑ کر وہ الوداعی ملاقات کرنے کے بعد روانہ ہوئے اورمیں ڈیپارچر لائونج نمبر3سے اندر چلا گیا اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے جدہ جانے والی پرواز کے کائونٹر پر جا کھڑا ہُوا ۔ امیگریشن کے بعد قریبی مسجد میں جا کر احرام باندھا ، وضو کیا ، نماز ظہر باجماعت ادا کی ، نوافل پڑھے اور عمرہ کے لیے جانے والے دیگر زائرین کے ساتھ جا بیٹھا ۔اس طرح میرا متحدہ عرب امارات کا یہ سفر بخیرو خوبی انجام کو پہنچا۔

ممتاز راشد لاہوریؔ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo