۔۔۔ اشوک چکردھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ میری دوسری ملاقات تھی، پہلی بار جب میں ملا تھا تو مجھے کچھ خام سے اندازے ہوئے، مجھے اس بات کا احساس تھا کہ وہ مجھے پرکھ رہا ہے اور میں اس کی ٹوہ میں ہوں، میں نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور اتنا ہی غور کیا کہ اسے احساس نہ ہو کہ کسی کی نظر اس پر ٹھہر گئی ہے، وہ چل رہا تھا اور لگ رہا تھا کہ اسے اپنے اردگرد کی خبر نہیں ہے وہ تو بس اپنی دھن میں چل رہا تھا لیکن مجھے کیوں احساس ہو رہا تھا کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہےشاید کوئی اندر کی آنکھ میرے اندر جھانک رہی ہو، میں نے ان سارے لمحات پر ایک لمحے میں دوبارہ غور کیا تو مجھے احساس ہوا کہ جسے میں سامنے سے دیکھ رہا تھا اس کی نگاہ میرے اندر جا رہی تھی، میں اسے دیکھ رہا تھا لیکن وہ مجھے محسوس کر رہا تھا، یہی وہ لمحہ تھا کہ میں اس کا گرویدہ ہوگیا، ابھی مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ اس کا اندر کیسا ہے لیکن وہ جس طرح مجھے محسوس کر رہا تھا اس سے مجھے اتنا اندازہ ضرور ہوا کہ اس کے اندر پریم ہے، وہ ماورا تھا دنیا کی تلخیوں سے کیونکہ اس نے جینا سیکھ لیا تھا وہ ہر لمحے کو اپنا بنا کر جیتا تھا، زندگی کیسے جینی ہے یہ وہ خوب جانتا تھا اور تو اور اسے ہنس کر بات کو ٹالنا بھی آتا تھا۔ آواز کے اندر آواز اس کے اندر آواز اور آوازوں کا ایک سلسلہ ان آوازوں کو محسوس کرو جتنا محسوس کرتے جاؤ گے ذہن اتنا وسیع ہوتا جائے گا، یہ اس کی پہلی آواز تھی جسے میرے کانوں نے قبول کیا ورنہ پورا ایک دن تو سامان سنبھالنے اور سامان رکھنے میں ہی گزر گیا، اس کا تعارف کرانے والے زیادہ طوالت سے کام لے رہے تھے چونکہ ابھی اس کے پاس کرنے والی کوئی بات نہیں تھی اس لیے اس نے بھی انہیں ٹوکا نہیں اور بولنے دیا بس وہ اس دوران گفتگو میں اتنا ہی شامل رہا کہ اس کے تعارف کرانے والوں کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ ان باتوں کو نظر انداز کیے کہیں اور پہنچا ہوا ہے۔ ندیم جی مجھے لگا کہ آپ جو شعر کہتے ہیں وہ آپ کی کہانی ہے۔۔۔ مگر جو کویتا آپ کہتے ہیں وہ لوگوں کی کہانی ہوتی ہے، میں نے انہیں فوراً جواب دیا، شاید میں اپنے بارے میں کچھ سننا نہیں چاہتا تھا یا میں نہیں چاہتا تھا کوئی میری تہہ تک جانے کی کوشش کرے۔ اس لیے میں نے گفتگو کا رخ انہی کی جانب موڑا، دیکھو ہمارے چاروں طرف کہانیاں ہی کہانیاں ہیں اور کہانیوں میں چھپے ہر کردار کی ایک الگ کہانی ہے اور کہانی کے کرداروں کی الگ کہانی، گویا یہ دنیا کہانی ہونے کے لیے بنائی گئی ہے یا یہ بھی ایک کہانی ہے، جس میں اس وقت آپ ، میں اور ہم سب ایک کردار ہیں، شاید یہ جو ہم ایک دوسرے کو چھو رہے ہیں یہ ہمارا چھونا نہ ہو بلکہ چھونے کا احساس ہو یا چھونے کا یقین ہو، اس نے بھی گفتگو کا رخ مڑنے دیا، وہ تھا ہی ایسا۔ دوسرے کی مرضی پر چلنے والا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی کوئی مرضی نہیں تھی۔ اصل میں وہ دوسرے کی مرضی پر اپنی مرضی سے چلتا تھا، اس نے خود پر لازم کر لیا تھا کہ جہاں لمحہ لے جائے وہیں چل دو، اس میں وقت کو قید کرنے کی خواہش نہیں تھی، ایک دن میں نے کہا ہنسنا چاہتے ہیں اس نے ہنستے ہوئے کہا ہاں ۔۔۔ کیوں نہیں، تو اس رات ہم خوب ہنسے، ہم نے جی بھر کے باتیں کیں لیکن اگلی صبح ہمیں وہ تمام باتیں بھول چکی تھیں، اصل میں وہ باتیں نہیں تھیں محض آوازیں تھیں۔ اگلی صبح وہ چلا گیا، جب اس کو رخصت کیا تو کوئی خاص احساس نہیں تھا رسمی جملے اور اللہ حافظ، بارڈر کے اس پار سے آئے ہوئے لوگوں سے پیار نہ بڑھانے کی وجہ ریاستی تلخیاں ضرور ہیں، اس طرف بھی اور اس طرف بھی لیکن اس دن ایسی کوئی وجہ بھی ذہن میں نہیں تھی بس وہ اس پار گئے اور میں واپس گھر کی طرف لوٹ آیا، واپسی کے رستے میں مجھے اچانک خیال آیا کہ وہ تو ایسے جدا ہوا ہے جیسے وہ جدائی ہی نہیں تھی، دوسرے روز ایسے لگا جیسے وہ تو جدا ہی نہیں ہوا، تیسرے دن احساس ہوا کہ وہ کچھ کھو گیا ہے۔۔۔ یہ میری پہلی جدائی تھی اور اس جدائی میں اس کی یاد آہستہ آہستہ میرے اندر اتر رہی تھی، یاد کے اندر ایک یاد، اس اندر والی یاد کے اندر ایک یاد اس کے اندر ایک یاد گویا دنیا ایک یاد ہے یا یاد ہونے کے لیے بنائی گئی ہے۔ آپ کہاں ہیں، ارے میں کل آرہا ہوں آپ کے پاس لہجے میں گرمجوشی تو تھی مگر بہت محتاط گرم جوشی جیسے کوئی خود سے بھی کچھ چھپانا چاہ رہا ہو یا شاید وہ نہ کسی کو مایوس ہونے دیتا ہے اور نہ زیادہ امید رکھنے دیتا ہے، وہ ملتے ہوئے بھی کہیں کھویا ہوا دکھائی دیتا ہے اور جدا ہوتے ہوئے بھی بے پرواہی کے پردوں میں اپنے سارے احساسات چھپائے رکھتا ہے، اس کی شخصیت کے یا تو بہت سارے پہلو ہیں یا صرف ایک ہی رخ ہے جسے اس نے بہت سارے کرداروں میں چھپایا ہوا ہے، ہاں یاد آیا کہانیوں سے اسے بہت محبت ہے وہ یادوں اور آوازوں میں بھی کہانیاں ڈھونڈتا رہتا ہے، اس برہمن زاد کو میں براہیمی بہت غور سے دیکھتا رہا، کبھی میں اسے براہیمین سے برہمن تک لے آتا تو کبھی براہی مان سے برہمن تک پہنچاتا۔

12910788_10153540594210662_541765395_n

اگلے دن وہ مجھے دوبارہ ملا اس بار ملتے ہوئے احساس ہوا کہ وہ محتاط رویوں سے تھوڑا نکل چکا تھا، شاید اس کے اور میرے بیچ جو عمر کا فرق تھا وہ کم ہو رہا تھا، شاید اس کے احساسات میرے احساسات سے مل رہے تھے، شاید اس نے اپنا آپ مجھ میں دیکھ لیا تھایا شاید اس نے میری انگلی پکڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا، میں جانتا ہوں اسے اگر کوئی پیارا لگ جائے تو وہ اسے اپنا بنانے میں دیر نہیں کرتا، محنتی تو وہ غضب کا تھا کوئی بھی کام ہو چاہے وہ اس کا ہے یا نہیں ہے اپنی محنت کے بل بوتے پر اسے اپنا کر لیا کرتا تھا اس بات کا اندازہ اس کے لہجے کے ٹھہراؤ سے ہوا، کہنے لگا اس بار ہولی ساتھ کھیلیں گے، ارے کب ہے ہولی؟ میں نے پوچھا تو جواب میں اس نے کہا جب فطرت کے رنگ پھولوں پر اپنی تازگی سمیت جلوہ گر ہوں تب ہولی ہوتی ہے، بات سمجھ آگئی اور ہم رنگ کھیلنے کے لیے تیار ہوگئے، اسی شام مشاعرہ تھا جس میں میں نے فقیر نظم سنائی اور ایک سماں بندھ گیا جب اس کی باری آئی تو اس نے اپنی کویتا میرے نام کی یہ میرے لیے اعزاز بھی تھا اور قبولیت کی سند بھی، مشاعرے کے بعد وہ اپنے پرانے مداحوں میں کھو گیا اور میں اپنے تازہ مداحوں میں گم ہوگیا، اگلی صبح ہم نے اکٹھے جہاز پر لکھنئو سے دہلی پہنچنا تھا، لکھنئو ائیرپورٹ سے دہلی ایئرپورٹ تک اس کے مداحین اس کے ساتھ تصویریں بنواتے رہے میرا سامان اس کی گاڑی میں تھا اور ہم دہلی گھومنے لگے ناریل کا پانی پیا، چائے کی طلب ہوئی اور ہم اس کے گھر پہنچ گئے بھابی نے کمال محبت سے استقبال کیا۔ گھر میں برکت کی دعا مانگتے ہوئے جب میں داخل ہوا تو وہاں محبت کی خوشبو پہلے سے پھیلی ہوئی تھی، یہ ہماری بٹیا سنیہا ہے بہت اچھی شاستری رقاصہ، سنیہا کے اندر بھی مجھے وہ دکھائی دیا، اور یہ ہیں ہماری پتنی شاستری سنگیت میں ماسٹر، کالج میں سنسکرت پڑھاتی ہیں، سلام دعا کے بعد چائے پی اور کل ملنے کا کہہ کر ہوٹل روانہ ہوئے، اچھا مجھے کوئی سم کارڈ تو دے دیں میں نے کہا، اوہ ہاں اور اس نے اپنے فون سے سم کارڈ نکالا اور مجھے تھماتے ہوئے کہا کہ اس کا نمبر تو مجھے یاد نہیں آپ اپنے فون میں ڈال کر مجھے کال کریں تاکہ مجھے نمبر یاد آجائے، میں نے اسے کال کی تو اس نے اپنے موبائل فون کی سکرین میری طرف کرتے ہوئے کہا دیکھئے اشوک کو اشوک کال کر رہا ہے، موبائل فون میں اس کا وہ نمبر جو اب میرے پاس تھا اشوک کے نام سے محفوظ تھا اس لیے جب اس سے کال ملائی تو ڈسپلے پر اشوک چکردھر لکھا ہوا آیا، یہ بات بار بار میرے اندر گونج رہی تھی اشوک کو اشوک کا فون آیا ہے اور پھر میں نے محسوس کیا آواز کے اندر ایک آواز اس اندر والی آواز کے اندر ایک آواز اور اس کے اندر ایک آواز جیسے پوری کائنات میں ایک آواز۔ اتفاق سے کل مل نہ سکے اور اگلے روز بھی ملاقات نہ ہوسکی، فون کی گھنٹی بجتی ہے، ارے ندیم جی معاف کیجئے گا کچھ مصروفیت کی وجہ سے میں رابطہ نہ کر سکااصل میں ہولی ہے ناں تو ٹی وی والوں سے کچھ پروگرام پہلے سے طے تھےاس لیے ان کی ریکارڈنگ کرانا تھی، گو ان دو دنوں میں اس کی کمی تو بہت محسوس ہوئی لیکن مل جانے کی خوشی زیادہ تھی، اچھا اب کیا پروگرام ہے میں نے پوچھا، پروگرام یہ ہے کہ آج شام آپ سب میری طرف کھانا کھانے آرہے ہیں اور کل کا دن اکٹھے ہولی منائیں گے، جیسا میں چاہ رہا تھا ویسا پروگرام طے ہوا اور اس طرح ہم تھوڑی دیر بعد ایک پرتکلف کھانا تناول فرما رہے تھے، واپسی پر محبت کا ایک اور بندھن جو اس نے تیار کر رکھا تھا یعنی ایک شال جو اس نے میرے کاندھے پر ڈالی اس بات کا اعلان تھا کہ دنیا کے موسموں کی ٹھنڈ وہ نہیں لگنے دے گا، میں نے بھی ان کی جوتی کا سائز پوچھا اور پاکستان سے ایک سپیشل جوتی بھجوانے کا وعدہ کیا یہ جواب تھا کہ اس کی راہ کے کانٹے میں اس کے پیروں میں چبھنے نہیں دوں گا۔ اگلے دن ہولی تھی، ہمارے لیے ایک نیا تجربہ ہر طرف رنگ تھے ، سنگیت تھا اور محبت تھی، میں حضرت نظام الدین کے شہر میں تھا اور خسرو کے ساتھ ہولی کھیل رہا تھا، تصور میں کبھی جھنگ پہنچ جاتا تو کبھی اجمیر، انسان سے محبت کرنے والی روحوں کو سلام پیش کرتا کرتا میں رنگوں میں نہا چکا تھا، ارے اشوک جی کہاں ہیں اچانک مجھے خیال آیامیں نے ادھر اُدھر نگاہ دوڑائی تو اشوک جی مجھے بچوں کے ساتھ ہولی مناتے نظر آئے، میرا پیار بچوں کو چھوتا ہوا اشوک جی پرپڑنے لگا، مجھے اپنی جانب متوجہ پاکر وہ مجھ سے مخاطب ہوا چلئے آپ کو ہم اپنے داماد سے ملاتے ہیں اور یوں ہم سنیہا کے گھر پہنچ گئےوہاں خوب رو اور رنگ و نسل سے پاک ڈیوڈ سے ملاقات ہوئی ایک گھنٹہ گزرا جس میں موسیقی بھی تھی اور بہت سی باتیں بھی، اب ہمیں وہاں سے اشوک جی کے چچا زاد کے گھر جانا تھا، وہاں پہنچ کر ہم نے ایک اور ہی دنیا دیکھی۔ ڈھول کی تاپ پر ہمارا استقبال کیا گیا اور ہمیں یوں آپس میں گھلا ملا لیا گیا کہ ہمیں بھی ہوش نہ رہی، ہاں بادام کا شربت تو ہمیں بھول گیا جسے پینے کے بعد پتہ چلا کہ اس میں تھوڑی بھنگ بھی شامل تھی، اس بھنگ کا اثر تھا یا محبت کا نشہ تھا بہ ہر حال میں نے خود پر پڑنے والے ہر رنگ کو محسوس کیا، سنگیت کی لے میں بھنگ کی مستی کے ساتھ میں نے بھی اپنے ہاتھ پاؤں آزاد چھوڑ دے اور پورے جسم سے رقص کیا یا مجھ سے رقص ہوا، میرے ہاتھوں میں اشوک جی کے ہاتھ تھے اور اشوک جی وہاں موجود ہر بڑے اور چھوٹے کے اندر موجود تھے سو ان کی ہمراہی میں میں نے سب کو اندر سے دیکھااس لمحے سب رنگوں میں ڈوبے ہوئے تھے، میں نے اپنے فون سے اشوک جی کا نمبر ملایا تو اشوک جی کی آواز آئی ارے اشوک کو اشوک کال کر رہا ہے۔ میں یہی سننا چاہتا تھا۔

12939626_10153540604335662_121463463_n

ندیم بھابھہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo