زندوں کا ماتم کروں یا مر جانے والوں کو پیٹوں

معظم علی اعوان

کمپیوٹر سکرین پر دو تصویریں پہلو بہ پہلو ٹکائے بیٹھا ہوں۔ ایک تصویر میں زندگی موت کی تصویر بن گئی ہےاور دوسری میں موت بذاتِ خود زندگی کا منہ چڑا رہی ہے۔ دونوں تصویریں اپنے اپنے اندر مکمل کہانی سموئے ہوئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر سوچ رہا ہوں یہ ہمارے ہاں زندگی کی قیمت گراں ہے یا موت نایاب قیمت۔

12552844_781032271996745_4894779333231480545_n12494825_781032278663411_4973442624185543434_n

مندرجہ بالا تصاویر میں ایک غریب اور ضعیف انسان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اپنی بیمار شریکِ حیات کو گاڑی میں ہسپتال تک لے جا سکے۔سوشل میڈیا میں اس حوالے سے کسی قدر مبالغہ آرائی بھی کی گئی12552844_781032271996745_4894779333231480545_n

اور حکمران جماعت کی طرف بندوقوں کا رخ ہی رہا کہ سڑکوں کے نہ ہونے کی وجہ سے مریضہ کو اس حال میں لایا گیا۔ مگر اس مخصوص چارپائی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ بذریعہ سڑک ہی کھینچی (لائی) گئی ہے۔ میَں اس واقعے میں حکومت کو نہیں بلکہ اپنے جیسے ان ہزاروں لوگوں کو قصوروار ٹھہرا رہا ہوں جو ایک لاغر، ضعیف اور غریب الجیب انسان کو لاچارگی، بے چارگی اور کم مائیگی کے باوجود چارپائی کھینچتے دیکھتے رہے مگر کسی کے خون میں غیرت کی حرارت نہیں تھی۔ کوئی بیٹا ایک باپ اور ماں کا دکھ محسوس نہ کر سکا۔
1993 میں افریقہ میں کیون کارٹر کی لی گئی ایک تصویر کو پولٹزر پرائز ملا مگر اس تصویر کے تین ماہ بعد اس تصویر کے ماحول کے کرب کو محسوس کرتے ہوئے کیون نے خود کشی کر لی۔اس کے اندر ضمیر جاگتا تھا جو اسے راتوں میں سونے نہیں دیتا تھا۔اس تصویر میں ایک پناہ گزین بچی اقوامِِ متحدہ کے کیمپ کی جانب لاغر جسم سے رینگتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور پسِ منظر ایک گدھ بیٹھا ہے جو صرف اس انتظار میں ہے کہ کچھ لمحوں میں یہ بچی بھوک کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار جائے اور kevin-carter-vultureوہ اس کی ہڈیوں پہ موجود نام نہاد گوشت نوچ سکے۔ ہم سب بھی گدھ ہیں، جو اس بیمار عورت کی لاش کے انتظار میں ہیں جس پہ اپنی سیاست کی دکان کو نیا رنگ و روغن کر سکیں۔
12507557_606867539464474_5031433981397577270_n12508957_606867482797813_7115948831318211991_n12494882_606867512797810_3387660183746299818_n

اس دوسری تصویر میں ایک معصوم بچی کی لاش ہے جسے زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔اس بچی کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک گھٹیا، لا ابالی اور جنسی گھٹن زدہ معاشرے میں پیدا ہوئی۔وہ اس ہیجان خیز معاشرے میں رہ رہی تھی جہاں 2013 میںبچوں سے زیادتی کے 3002 کیسز رجسٹرڈ ہوئے اور 2014 میں یہی تعداد بڑھ کر 3508 ہو گئی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے کہ زیادتی کے زیادہ تر کیسز بوجہ عزت و ناموس فائل نہیں کئے جاتے۔کیا جنسی ہیجان خیزی صرف بچوں پہ آ کرمنتج کی جا سکتی ہے؟قصور واقعہ پوری دنیا میں ہمارا سر شرم سے جھکا رہا ہے۔اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزا سے گزارا جائے تا کہ یہ جنسی ہیجان خیزی ڈرکے زیرِ سایہ ہی سہی، دبی تو رہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo