( غیــر مطبــوعــہ ) کب کسی کے غم میں رونے والا ت…
کب کسی کے غم میں رونے والا تھا
میرا اپنا چہرہ دھونے والا تھا
میں یہ سمجھا ‘ زندگی نے دی صدا
باہر آیا تو ۔۔۔۔۔ کھلونے والا تھا
آج میرا لختِ دل ہے نیند میں
باپ میرا۔۔۔۔ کم جو سونے والا تھا
پیڑ کے ممنون سب تھے ، چھانو پر
لائقِ تحســـین بونے والا تھا
مطمئن ہیں ہم ‘ اُسے کہہ کر شہید
بے خطا جو قتل ہونے والا تھا
اک عجب سا موڑ پڑتا تھا وہاں
گھر اگرچہ وہ نہ کونے والا تھا
( حــبیبؔ احــــــمد )