امشب دوبارہ! از : ولِیّ سؤرنسن ( ڈینش فلسفی، ادی…

[ad_1] امشب دوبارہ!

از : ولِیّ سؤرنسن ( ڈینش فلسفی، ادیب و شاعر اور محقق و مطالعۂ کافکا کے ماہر)

ڈینش زبان سے ترجمہ: نصر ملک، کوپن ہیگن’ ڈنمارک۔

آج رات نجانے کب’ لیکن میں اچانک پھر وہاں جا نکلا اور میرے ساتھ جو کچھ پہلے ہو چکا اس کے بارے میں نئے سرے سے غور کرنے لگا۔
یہ عجیب و غریب پارک’ کیسا کہ سبھی جانتے ہیں’ شہر سے باہر واقع تھا ْ میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا’ تنگ سڑکوں’ تیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں سے گزرتا جا رہا تھا کہ یکایک مجھے اپنا آپ بہت ہی ہلکا محسوس ہونے لگا اور میں خود کو نوجوان سمجھنے لگا ۔ مجھے اس بات پر بہت حیرانگی محسوس ہو رہی تھی کی تمام لوگ آہستہ آہستہ وہاں سے غائب ہو رہے تھے۔ جوں جوں میں پارک کے قریب پہنچ رہا تھا’ لوگ غائب ہوتے جا رہے تھے۔ کیا میں دوسروں کی نسبت زیادہ قوی الجثہ یا مضبوط حواس رکھتا تھا؟ اچانک میرے ذہن میرے ذہن میں سوال آیا۔ یہ ھٰ تو ممکن ہے کہ میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیوقوف ہوں۔ یہ ایک بہت ہی غیر معمولی پارک تھا۔ میں اگرچہ اپنے ذہن میں اس کی کوئی واضح تصویر لانے سے قاصر تھا لیکن یہ بات میں پورے یقین اور وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ پارک وقعی میں بہت ہی غیر معمولی تھا۔ اور تو اور’ کوشش کے باوجود میں اس پارک کے کسی ایک کوتے’ کیاری یا گوشے کو اپنے تصور میں عین اُس طرح اجاگر کرنے اور اپنے ذہن میں نہیں لا سکتا تھا جس طرح میں اُسے اپنی آنکھوں سے پہلے دیکھ چکا تھا۔
نا قابلِ یقین حد تک مختلف انواع و اقسام کے پھول’ اُن کی پتیوں کی ساخت اور رنگ وروپ’ میرے لئے نہ صرف عضیب اور بالکل نیا تھا بلکہ میں ان میں سے کسی کو پہچانتا یا جانتا تک نہیں تھا۔ اُن کی ناموں سے میری واقفیت کا تو کوئی ساول ہی نہیں تھا۔ پارک میں قدرتی چشموں سے پھوٹنے والے سیمی آب کی بلند پھواریں اور چھوٹء چھوٹء کھالیوں میں بہتے ہوئے پانی سے غر غر کی سریلی آوازیں’ جو ابھی تک میرے کانوں میں سنائی دے رہی تھیں۔ یہ سب خچھ ایک عجیب سماں تھالیکن’ میں اسے کسی بھی صورت میں اپنے تصور و بیاں میں نہیں لا سکتا تھا۔وہاں چہچہانے والے قوس قزاح کے رنگوں والے مختلف اقسام کے پرندے اور کانوں میں رس گھولتی ہوئی اُن کی آوازیں’ میری اُن سے کوئی جان پہچان نہیں تھی’ لیکن وہاں پایء جانے والے ………. عجیب الجثہ دیو …….”کالے کتے” مجھے اچھی طرح یاد تھے ۔ ماحولیاتء منظر کو سنوارے اور بحال رکھنے کے لئے اس عجیب الجثہ مخلوق کو اسی نام سے جانا اور پکارا جا تا تھا اور بے شک اُن کا رنگ کالا ہی تھا لیکن وہ ”کتے” ہر گز نہ تھے۔ میں اس عجیب الجثہ مخلوق کا حلیہ اپنے ذہن کے پردے پر اجاگر نہیں کر پا رہا تھا کیونکہ مجھ میں اُن کا سامنا کرنے کی ہمت ہی نہیں تھی۔
میں جب پہلی بار اس پارک میں گیا تھا تو یہ عجیب الجثہ دیو میرے راستے میں خود بخود زبردستی آگئے تھے۔ میں ان کو اپنے روبرو دیکھنے کی تان و طاقت اور حوصلہ نہ رکھنے کی وجہ سے وہاں سے واپس لوٹ آیا تھا’ لیکن کیسے؟ یہ مجھے یاد نہیں رہا تھا۔ میرے ذہن پر ابھی تھ دھند پھائی ہوئی تھی اور کسی بھی چیز کا تصور واضح نہیں تھا۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ میں ہر چیز سے آگاہی اور واقفیت حاصل کرنے کے لئے اپنی لڑ کھڑاتی کانپتی ٹانکوں اور بھاری قدموں کے ساتھ اب پھر پارک کی طرف جا رہا تھا۔
میرے ذہن میں کہیں نہ کہیں یہ خیال بھی ابھر رہا تھا کہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں’ کہیں خواب میں تو نہیں’ اور میرے سامنے چمک دمک والے یہ عجیب الجثہ دیو کیا واقعی میں وہی ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں؟
میں نے پھولوں’ ان کے رنگ وروپ’ خوشبو اور قطار اندر اندر قطار’ کیاریوں کو یاد کرنا شروع کر دیا۔ میں نے پرندوں اور فضا میں مدھر سریلی تانیں بکھیرتی ہوئی اُن کی آوازوں کو ذہن کے خانوں میں محفوظ کر نا شروع کر دیا تاکہ جب میں بیدار ہوں تو یہ سب کچھ مجھے یاد رہے۔ میں پھر جب گھوم پھر کر دیکھا تو وہ عجیب الجثہ دیو’ پیٹ کے بل رینگتے ہوئے’ پھسلتے پھسلتے’ آہستہ آہستہ’ پارک کے نگران کے گھر سے میری جانب بڑھ رہے تھے۔ میں نے اب مدد کے لئے ادھر اُدھر دیکھا۔ این اُن کے کے بارے میں وضاحت نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اس کے لئے ذہن پر زور دے سکتا ہوں کیونکہ میری یادداشت اپن کی وجہ سے ہی کمزور ہو چکی تھی۔ میری طرح پہلے بھی کئی لوگ اُن کی وجہ سے ہی اپنی اپنی یادداشت کھو چکے تھے۔ یہ ”دیو” جو باظاہر ”عجیب الجثہ” دکھائی دیتے تھے کسی نئی صنعف یا وضع کے نہیں تھے لیکن’ علم حیوانات’ جہاں تک میں نے پڑھ رکھا تھا اور لوگوں سے اس بارے میں سن رکھا تھا اس میں اُن کے متعلق کوئی شہادت یا ذکر موجود نہیں تھا۔ ا’ن میں سے ایک نے مجھ پر اپنا ہُک دار پنجہ آزمایا جسے میں نے بری طرح محسوس کیا۔ میں نے سوچا کہ یہ بات تو کسی بھی طرح اپھائی یا بھلائی کے زمرے میں نہیں آسکتی تھی اور پھر یہ معاہدے میں بھی تو شامل نہیں تھی’——- معاہدہ! میں نے تو کسی سے بھی کوئی معاہدہ نہیں کر رکھا تھا——– مجھے یہ خیال کیسے آگیا؟ شاید وہ اپنی دیوقامتی’ شوریدہ سری اور ریچھ کے پنجوں کی طرح کے اپنے پنجوں سے مجھے خوفزدہ کرنے کا مجاز ہو سکتا ہے’ ہوں لیکن’ خالصتاً انسانی طریق سے انہیں مجھ پر غلبہ پانے اور مجھ پر محض غالب ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ ہر قسم کے ربط و تعلق استوار رکھنے کااختیار انہیں ہر گز نہیں ہو سکتا ٹھا۔
اب کی بار وہاں پارک میں اور لوگ بھی موجود تھیاور جونہی زہر میرے پاؤں سے میرے سر کی طرف چڑھنے لگا’ وہ اشارے کرتے ہوئے بولے ——- ”دیکھو —— دیکھو تو ——- وہ —— ” وہ کتے” ——– وہ کچھ بھی تو نہیں کر رہے ہیں۔” شاید میں خود ہی ہلکا رہا تھا ——– ہاں! میں ہلکا رہا تھا۔ ” اُن کے کچھ نہ کرنے کا بھی شاید کوئی مقصد ہو ——- شاید وہ اب اس لئے بھی کچھ نہیں کر رہے تھے کہ اُن کے کچھ نہ کرنے کا ضرور کوئی مقصد تھا! میں ہکلا رہا تھا اور میری اس طرح ہکلاہٹ پر وہاں موجود لوگ ہنس رہے تھے۔ ”ہاں’ ہاں! ضرورایسا ہی ہو گا——- یقیناً!
اب میں نے خود اپنے آپ سے پوچھا کہ کل رات’ پارک کی طرف جاتے ہوئے’ مجھے پارک’ اس کی خوبصورت’ وہاں پر موجود پھولوں ‘ پرندوں اور فواروں وغیرہ کے بارے میں سب کچھ شاید اس لئے یاد تھا کہ میں پہلے بھی اپنے خواب میں وہاں جا چکا ہوا تھا۔ میں اپنے اس خواب سے پہلے سے بھی پہلے اپنے کئی خوابو ں میں اس پارک کو دیکھ ثکا ہوا تھا اور وہاں ہو آیا ہوا تھا —— لیکن’کیا خواب بذات خود انسانی یادداشتوں کا ہی مرکب نہیں ہوتے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر خواب’ محض خواب کیونکر ہوتے ہیں؟ کوئی بھی تو خواب اپنے آپ میں مکمل نہیں ہوتا——- ہر خواب ایک مسلسل جاری رہنے والے لا متناہی عمل یا ایک سلسلے کا حصہ ہوتے ہیں۔ ایک ایسا مسلسل عمل جو زندگی بھر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ ایک زندگی’ ایک خواب’ یعنی ”اک خوابی زندگی” اور اس کے باوجود ہم اس میں حصہ لیتی ہیں اور پھر ”حصہ در حصہ” ہم خود اس کا حصہ بنتے جاتے ہیں اور محض ایک حصہ ہی رہتے ہیں مکمل نہیں ہو پاتے ——- محض ایک چوہا! ——- چوہا جو ” خوابی زندگی” کا کپہّ ہوتا ہے۔ کیا ہماری روزمرہ کی زندگی صرف کسی ساحرانہ پہاڑ کی چوٹی ہےَ اور کیا یہی وجہ ہے کہ ہمارے لئے اپنے خیالات کو اکتھا کرنا دشوار ہو جاتا ہے اور ہم اپنے واضح مدعا کی وضاحت تک نہیں کر سکتے؟ کیا یہ سب کچھ ممکن بنانے اور کر جانے کے لئے ہمارا راتوں کو پارک میں گھومنا پھرنا ضروری ہے؟ ہمارا ایسا گھومنا پھرنا جو ہمیں متوجہ بھی کرتا ہو اور خوفزدہ بھی! ———کیا ایسے جنت نظیر پارک’ ضہاں عجیب الجثہ’ دیو ہیکل’ دوزخی مخلوق ہو’ وہاں ہمارا رات کا گھومنا پھرنا ضروری ہو تا ہے؟ اور کیا واقعی ہمیں وہاں گھومنا پھرنا چایئے؟ اور اگر ہم ایسا کرنے کی خواہش کر ہی لیں تو کیا ہم حقیقتاً وہاں گھوم پھر بھی سکتے ہیں؟
بشکریہ

امشب دوبارہ!از : ولِیّ سؤرنسن ( ڈینش فلسفی، ادیب و شاعر اور محقق و مطالعۂ کافکا کے ماہر) ڈینش زبان سے ترجمہ: نصر …

Posted by Nasar Malik on Wednesday, February 21, 2018

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo