عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نم…

[ad_1] عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 119: اعترافِ گناہ
تحریر : گی دموپاساں (فرانس)
فرانسیسی سے براہِ راست ترجمہ
ترجمہ نویس : شوکت نیازی (راولپنڈی، پاکستان)

* * * * * *

موسیو بادوں لمارینسؔ کے جنازے میں جیسے سارا شہر ہی امڈ آیا تھا ۔پادری کے دعائیہ کلمات کے آخری الفاظ پر ہر شخص نے اثبات میں سر ہلایا ، “مرحوم ایک فرشتہ صفت انسان تھے۔”
اس بات میں کوئی شک نہ تھا۔تمام عمر، اپنے قول و فعل میں، اپنی عادات واطوار میں، اپنی وضع قطع میں ، وہ ہمیشہ ایک انتہائی شریف انسان ثابت ہوئے تھے۔ان کی کہی ہوئی ہر بات ہمیشہ مثالی تھی، غریبوں کو خیرات دیتے وقت ساتھ چند الفاظ تسلّی و تشفی کے ضرور ہوتے، ان سے ملنے والے ہر شخص کو یہی احسا س ہوتا کہ وہ ا س کے لئے دعا گو ہیں۔ ان کے پسماندگان میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھے۔ان کا بیٹا کونسلر اور داماد ایک کامیاب وکیل تھا۔ دونوں اپنے اپنے پیشے میں عمدہ شہرت کے حامل سمجھے جاتے تھے اور ان کا شمارشہر کے شرفاء میں کیا جاتاتھا۔چونکہ دونوں بچے اپنے والد سے سچا پیار کرتے تھے اس لئے جنازے کے دوران ان کی آنکھوں سے آنسؤوں کی جھڑی لگی تھی۔
تجہیز و تکفین کی رسومات ختم ہوئیں تو بیٹا ، بیٹی اور داماد واپس اپنے گھر لوٹے اور اپنے مرحوم باپ کے مطالعے کے کمرے میں جا بیٹھے۔مرحوم کی ہدایات کے مطابق ان کی وصیت کے کاغذات تینوں پسماندگان صرف اسی صورت میں کھول سکتے تھے جب ان تینوں کے علاوہ اور کوئی موجود نہ ہو اور مرحوم کی تدفین ہو چکی ہو۔یہ ہدایات وصیت کے لفافے کے ساتھ منسلک ایک کاغذ پر درج تھیں۔ مرحوم کے دامادمسٹرپوارل د لاوُوطؔ نے بالکل ایک وکیل کی طرح لفافہ چاک کیا اور اپنی ناک پر چشمہ جماتے ہوئے بالکل ایک وکیل جیسے اس سپاٹ لہجے میں وصیت پڑھنا شروع کی جس میں قانونی دستاویزات پڑھی جاتی ہے۔
میرے بچو! میرے پیارے بچو! میں جانتا تھا کہ اگر میں نے اپنی موت کے بعد تمہارے سامنے ایک اعتراف جرم نہ کیا تو میں قبر میں بھی سکون سے نہیں رہ سکوں گا۔ ایک جرم کا اعتراف ، جس کی ندامت نے میری زندگی تباہ کر دی ہے۔ ہاں! میں نے ایک جرم کیا تھا،ایک بھیانک اور گھناؤنا جرم !
میں پچیس سال کا تھا اورپیرسؔ بار میں وکالت کرتے ہوئے مجھے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ پیرسؔ میں دوسرے بہت سے ایسے نوجوانوں کی طرح ،جو دور دراز کے دیہات سے اس شہر میں کسی واقفیت ، رشتہ داری یا قرابت کے بغیرقسمت آزمائی کرنے آ جاتے ہیں،میں بھی بالکل اکیلا تھا۔
پھر میری ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی۔کچھ لوگ اکیلے نہیں رہ سکتے۔میں بھی انہی لوگوں میں سے ہوں۔شام کے وقت اپنے کمرے میں آتشدان کے سامنے اکیلا بیٹھنا میرے لئے کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔مجھے ایسا محسوس ہوتا جیسے میں اس دنیا میں واحد انسان ہوں، لیکن میرے ارد گرد ان دیکھے خطرات منڈلا رہے ہیں، انجانے اور خوفناک خطرات۔۔۔ میرے کمرے اور میرے ہمسائے کے درمیان جو دیوار ہے،وہ ہمسایہ جس کا میں نام تک نہیں جانتا، اس دیوارکے پار وہ مجھ سے اتنا ہی دور ہے جتنے میری کھڑکی میں جھلملانے واے ستارے۔۔۔جب میں اکیلا ہوتا ہوں تو مجھے بخار سا ہو نے لگتا ہے،خوف اور اضطراب کا بخار،اور مجھے کمرے کی خاموش دیواروں سے خوف آنے لگتا ہے۔جس کمرے میں کوئی اکیلا رہتا ہے اس کمرے کی خاموشی اتنی گہری اور پُرملال ہو تی ہے کہ اس کا اثر انسانی دماغ پر بھی پڑتاہے۔کمرے میں رہنے والا اس خاموشی سے اس قدر مانوس ہو جاتا ہے کہ کسی کرسی یا میز کی ہلکی سی چرچراہٹ بھی کانوں کے پردے پھاڑ دیتی ہے۔نجانے کتنی مرتبہ، اسی سکوت سے گھبرا کر میں خود اپنے آپ سے باتیں کرنا شروع کر دیتا ۔۔۔بلا وجہ،بے ربط و ترتیب بولتا رہتا بس صرف کمرے کا سکوت توڑنے کے لئے۔ایسے لمحات میں مجھے اپنی ہی آواز اتنی عجیب سنائی دیتی کہ مجھے اس سے بھی خوف آتا ۔کسی خالی گھر میں اپنے آپ سے باتیں کرنے سے زیادہ وحشت ناک بات کیا ہو سکتی ہے؟خود اپنی آواز بھی کسی دوسرے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ایک انجانی آواز،جس کا کوئی مخاطب نہیں ہے، جس کو سننے والا کوئی نہیں ہے، کیونکہ ان الفاط کے کمرے کی خاموشی میں بلند ہونے سے پہلے ہی بولنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ کیا الفاظ بولے جائیں گے۔پھر جب یہ الفاظ ماتم زدہ انداز میں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹتے ہیں تو ان کی گونج عجیب سی ہوتی ہے ایسی گونج جو صرف ایسے الفاظ سے پیدا ہوتی ہے جو خود اپنے ہی خیالات سے بنے ہوئے الفاظ پیدا کرتے ہیں۔
وہ لڑکی جلد ہی میرے ساتھ رہنے لگی۔پیرسؔ میں اس جیسی اور بہت سی نوجوان لڑکیا ں تھیں جن کی آمدن ان کی اخراجات کے لئے ناکافی ہوتی ہیں۔وہ بہت سیدھی سادی اور پیاری لڑکی تھی۔اس کے والدین پواسیؔمیں رہتے تھے۔و ہ کبھی کبھار ان کے پاس چند روز گزارنے جایا کرتی تھی۔ہمیں ایک ساتھ رہتے ہوئے تقریباً ایک سال ہو چکاتھا۔میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جس دن مجھے کوئی دوسری ایسی لڑکی ملی جو شادی کرنے کے لائق ہوئی تو میں اِس لڑکی کو فوراًچھوڑ دوں گا۔اِس لڑکی کو یقینا کچھ دے کر جاؤں گا، کیونکہ ہمارے معاشرے کا یہ ایک مسلمہ اصو ل ہے کہ کسی بھی عورت کے پیار کی ادائیگی کرناہوتی ہے، اگر عورت غریب ہو تورقم سے اور اگر امیر ہو تو تحفے تحائف سے۔
پھر ایک روز اس نے مجھے بتایا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔مجھ پر تو گویا بجلی گر پڑی اور مجھے یکایک احساس ہوا کہ میری زندگی تباہ ہو جائے گی۔میں ساری عمر کے لئے اس زنجیر میں جکڑا جاؤں گا۔یہ بیڑی میری موت تک میرے پاؤں میں پڑی رہے گی۔ میرے حا ل میں اور میرے مستقبل میں۔۔۔بڑھاپے میں بھی یہ عورت اس بچے کے ناطے مجھ سے جڑی رہے گی۔میرے اس بچے، ناجائز بچے کی زنجیر، مجھے جس کی پرورش کرنا ہوگی، جس کی دیکھ بھال کرنا ہو گی۔ خود کو اس سے پوشیدہ رکھتے ہوئے اور اس کو دنیا سے پوشیدہ رکھتے ہوئے۔۔۔
اس خبر نے میری راتوں کی نیند اڑا دی اور رفتہ رفتہ میرے دل میں عجیب وغریب خیالات آنے لگے۔میرے ذہن میں ایک عجیب سا کیڑا کلبلانے لگا۔ میں نے اراداتاً کبھی نہیں سوچا لیکن یہ خیال میرے لاشعور میں جم کر بیٹھ گیا۔جیسے کوئی پردے کے پیچھے بیٹھا ہو، صرف ایک اشارے کا منتظر، چھلانگ مار کر سامنے آنے کے لئے۔۔۔اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو؟۔۔۔ نجانے کتنے بچے پیدائش سے پہلے بھی تو مر جاتے ہیں۔
اوہ !میں اس لڑکی کی موت نہیں چاہتا تھا۔مجھے وہ بہت اچھی لگتی تھی۔لیکن شائد میرے دل میں یہ خواہش دن بدن بڑھتی ہی جاتی تھی کہ یہ بچہ میری نگاہوں کے سامنے آنے سے پہلے ہی مر جائے۔
پھر ایک روز وہ پیدا ہو گیا۔اور میرا چھوٹا سا مکان ایک جھوٹ موٹ کا گھر بن گیا۔جس میں میںَ ، لڑکی اور وہ بچہ رہتے تھے۔ دیکھنے میں وہ دوسرے سب بچوں جیسا تھا۔میں نے اس کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ باپ کی محبت یوں بھی کافی دیر بعد ظاہر ہوتی ہے۔ان میں ماؤں کی سی جبلّی اور پرجوش ممتا نہیں ہوتی۔ایک باپ کی محبت دھیرے دھیرے بڑھتی ہے۔ان کا ذہن روز مرّہ کے ان تعلقات سے اثر قبول کرتا ہے جو ایک عرصہ تک ساتھ رہنے والے لوگوں کے درمیان پیدا ہوتے ہیں ۔
ایک سال گزر گیا اور غیر اردی طور پر میں نے گھر سے دور رہنا شروع کر دیا۔میرا گھر بہت چھوٹا تھااور اب اس میں ہر جگہ پوتڑے، بچے کے کپڑے، انگلیوں جتنی جرابیں، غرضیکہ لاتعداد مختلف چیزیں ہر جگہ دکھائی دیتی تھیں۔میں عموماً بچے کے رونے دھونے سے تنگ آکر گھر سے باہر چلا جاتا تھا۔وہ ہر بات پر رونے لگتا تھا۔ نہلائے جانے پر، کپڑے تبدیل کئے جانے پرچھوئے جانے پر،سلائے جانے پر، اٹھائے جانے پر، ہر وقت لگاتار ۔۔۔
پھر ایک روز ایک دعوت میں میری ملاقات اس لڑکی سے ہوئی جو بعد میں تمہاری ماں بنی۔میں پہلی ہی نظر میں اس کی محبت کا اسیر ہو گیا اور میں نے فوراً فیصلہ کر لیا کہ میں اس سے شادی کر وں گا۔کچھ عرصہ کی میل ملاقات کے بعد میں اس کے والدین سے ملا اور ان سے بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا۔انہوں نے میری درخواست قبول کر لی اور ہمیں شادی کی اجازت دے دی۔
لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ میں ایک مشکل میں گرفتار ہو گیا۔ اب میرے سامنے صرف دو ہی راستے تھے۔یا تو میں ایک ناجائز بچے کا باپ ہونے کے باوجود اس لڑکی سے شادی کر لیتا جس سے میں دیوانہ وار محبت کرتا تھا۔اور یا پھر اس کو ساری حقیقت بیان کر دیتا اور اس لڑکی کو، اپنی خوشیوں کو ، اپنے مستقبل کو کھو بیٹھتا کیوں کہ میں جانتا تھا کہ اگر یہ بات اس کے پرانے خیالات اور حسب نسب والے والدین تک پہنچ گئی تو وہ ایک لمحے میں انکار کر دیں گے۔اسی اذیت اور کرب میں ایک ماہ گزر گیا۔ایک ماہ جس میں خوفناک خیالات چمگادڑوں کی طرح میرے دل کے اندھیروں میں پھڑپھڑاتے رہے۔میرے دل میں اپنے بیٹے کے لئے نفرت پیدا ہوتی گئی، اس گوشت پوشت کے لوتھڑے کے لئے۔۔۔ اس چیختی چلاتی مخلوق کے لئے۔۔۔جو میری خوشیوں بھری زندگی کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی تھی۔اور مجھے اس راہ پر دھکیل رہا تھا جو مایوسی کی گہرائیوں میں غائب ہو جاتی ۔ جہاں وہ تمام امیدیں اور تمنائیں ختم ہو جاتی ہیں جن سے جوانی کی قوسِ قزح میں رنگ بھرتے ہیں۔
ایک دن اس لڑکی کی ماں بیمار پڑ گئی اور میں ایک رات کے لئے گھر میں اس بچے کے ساتھ اکیلا رہ گیا۔
دسمبر کا مہینہ تھا اور سردی اپنے عروج پر تھی۔باہر یخ بستہ ہوائیں بدروحوں کی مانند چنگھاڑ رہی تھیں۔وہ لڑکی شام کی ٹرین سے جا چکی تھی اور میں نے خاموشی سے ڈایننگ روم میں رات کا کھانا کھایا اور دبے پاؤں اس کمرے میں داخل ہوا جس میں وہ بچہ سویا تھا۔
میں آتشدان کے سامنے رکھی آرام کرسی پر جا بیٹھا۔باہر تیز ہوا چل رہی تھی اور کھڑکی کے شیشے لرز رہے تھے۔کھڑکی میں سے کھلے آسمان پر ستارے چمکتے دکھائی دے رہے تھے۔پھر اچانک وہی شیطانی خیال اندھیروں میں سے نکل کر میرے سامنے آن کھڑا ہوا۔میں جب بھی اکیلا ہوتا تو یہ عفریت میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگتا۔ میرے دماغ کو کسی کیڑے کی طرح کھانے لگتاجیسے کینسر گوشت کو کھا جاتا ہے۔وہ ہمیشہ یہیں ہوتا میرے دل میں، میرے دماغ میں،میرے سارے جسم میں اور پھر کسی اژدہے کی مانند مجھے سالم نگل جاتا۔میں اس کو دور بھگانے کی کوشش کرتا، دھتکارتا، اپنے دماغ میں دوسرے نئے خیالات لانے کی کوشش کرتا جیسے بند کمرے میں کھڑکی کھول کر تازہ ہوا اندر لانے کی کوشش کریں۔لیکن میں ایک لمحے کے لئے بھی اس سے جان نہیں چھڑا سکتاتھا۔ میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیںہیں کہ میں اس وحشت کو بیان کر سکوں۔یہ میری روح کو کھائے جاتی تھی۔اورمجھے ایک درد۔۔۔ جسمانی درد کا احساس ہونے لگا تھا۔
میری زندگی تباہ ہو چکی تھی۔میں اس دلدل میں سے کیسے نکل سکتا تھا؟اب میں کیسے پیچھے ہٹ سکتا تھا؟ کیسے اعتراف کر سکتا تھا؟ وہ جو تمہاری ماں بننے والی تھی میں اس کودیوانوں کی طرح چاہتا تھا۔اور میرے ا س دیوانے پن کو اس رکاوٹ نے اور شدید کر دیاتھا۔ میرے اندرپگھلے ہوئے سیسے کی مانند غصّہ بہنے لگا اور میرا غیض و غضب پاگل پن کی حدوں کو چھونے لگا۔ہاں اس رات میں واقعی پاگل ہو گیاتھا۔
بچہ سو رہا تھا۔ میں اس کے پاس جا کھڑا ہوا۔اس کو سوتے ہوئے دیکھتارہا۔یہی وہ لغزش تھی، یہی وہ بیج تھا، یہی وہ گوشت کا ٹکڑا تھا جس نے مجھے حسرت و یاس کی عمر قید سنا ڈالی تھی۔
وہ سو رہا تھا، اپنے بستر کی چادروں میں لپٹا ہوا، منہ کھولے ہوئے، اپنے پنگھوڑے میں جو میرے اس بستر کے ساتھ رکھا تھاجس میں نجانے کب سے میں سکون سے نہیں سو سکا تھا۔
اوہ میرے خدا! جو کچھ میں نے کیا وہ میں نے کیسے کر ڈالا؟ مجھے کیا معلوم؟مجھے کس نے مجبور کر دیاتھا؟و ہ کون سی جہنّمی طاقت تھی جس نے مجھے اپنے قابو میں کر لیا تھا۔مجھے احساس ہی نہ ہوا اور گناہ کا بھوت میرے سر پر سوار ہو گیا۔بس مجھے اتنا یاد ہے کہ میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔اس زور سے کہ مجھے اپنے کانوںمیں اس کی دھمک سنائی دے رہی تھی جیسے کسی ہتھوڑے کی آوازآتی ہے۔بس مجھے یہی کچھ یاد ہے، میرے اپنے دل کی دھڑکن کی دھمک۔۔۔میرے دماغ میں ایک عجیب سی بیقراری برپا تھی، ایک عجیب سی بدحواسی۔۔۔میں اس وقت ہذیان اور دیوانگی کے درمیان اس نقطے پر کھڑا تھا جہاں انسان کو نہ اپنے اعمال کا احساس ہو تا ہے اور ہی اپنے ارادوں پر قابو۔
میں نے بچے کے بدن سے اس کا کمبل اور رضائی اتار کر انتہائی آہستگی سے اس کے پیروں کی جانب لپیٹ کر رکھ دئیے۔اب وہ بستر پر صرف ایک پتلی سوتی قمیص میں پڑا تھا۔وہ سویا رہا۔پھر میں نے کھڑکی کے پاس جا کر اس کے دونوں کواڑ پورے کھول دئیے۔یخ بستہ ہوا کسی قاتل کی مانند اندر داخل ہوئی۔ ہوا اس قدر یخ بستہ تھی کہ میں ایک جانب ہو گیااور کمرے کی موم بتیوں کی لوَ لرزنے لگی۔میں یوں ہی کھڑکی کے ساتھ کھڑا رہا، مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ پلٹ کر دیکھ سکوں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔برفیلی ہوا میرے ماتھے، میرے گالوں ، میرے ہاتھوں کو ٹھنڈا کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوتی رہی۔مجھے معلوم نہیں کہ میں وہاں کتنی دیر کھڑا رہا۔میں کچھ نہیں سوچ رہاتھا۔ میرا ذہن ماؤف ہو چکاتھا۔پھر یکلخت کھانسی کی ایک کمزور اور دھیمی سی آواز نے جیسے میرے سارے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔یہ احساس مجھے آج تک اپنے بالوں کی جڑوں تک میں محسوس ہوتا ہے۔میں نے لپک کر کھڑکی کے دونوں پٹ بند کئے اور بھاگتا ہوا بچے کے پنگھوڑے کے پا س جا کھڑا ہوا۔
وہ ابھی تک منہ کھولے سویاہوا تھا۔میں نے اس کے چھوٹے سے پیر کو چھوا۔ وہ برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔ میں نے اس کا کمبل اور رضائی اس کو اوڑھا دی۔
پھر نجانے کیا ہوا۔ میرا دل یکایک ترس ، پیار اور شفقت سے بھر گیا۔ اس معصوم کے لئے جس کو چند لمحے قبل میں نے مار ڈالنے کی کوشش کی تھی۔میں نے جھک کر اس کے ریشمی سنہرے بالوں کو چوما اور واپس آتشدان کے سامنے اپنی آرام کرسی پر آن بیٹھا۔
میں حیرت اور دہشت سے اپنی اس حرکت پر غور کرتا رہا۔ خود سے پوچھتا رہا کہ میری روح میں وہ طوفان کہاں سے آیا جس میں مَیں اپنی راہ ہی کھو بیٹھا تھا۔ خود پر قابو کھو بیٹھا تھا۔جیسے کسی مدہوش ملاح کو طوفان میں اپنی ناؤ کی سمت کا احساس نہیں ہوتا۔
بچہ ایک مرتبہ پھر کھانسا اور میرے دل میں جیسے کسی نے چھراگھونپ دیا ہو۔اگر وہ مر گیا تو؟اوہ میرے خدا! اوہ میرے خدا! میں کیا کروں گا؟
میں ایک دوبارہ اٹھ کر پنگھوڑے کے پاس گیااور موم بتی کی روشنی میں جھک کر اس کو تکتا رہا۔اس کی چھاتی اوپر تلے ہوتے دیکھ کر مجھے قدرے تسلّی ہوئی۔ اور پھر وہ تیسری مرتبہ کھانسا۔مجھ پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ میں چند قدم پیچھے ہٹ گیا اور میرے ہاتھ سے موم بتی چھوٹ گئی۔موم بتی اٹھاتے ہوئے مجھے احسا س ہوا کہ میری کنپٹیوں سے پسینے کی ایک دھار بہہ کر میری گردن کے جانب جا رہی تھی۔۔۔ ٹھنڈے پسینے کی وہ دھار جو صرف روح کے عذاب سے بہتا ہے۔
صبح ہونے تک میں اس کے پنگھوڑے کے ساتھ کھڑا اس کو دیکھتا رہا۔جب وہ سکون سے سوتا تو میں بھی سکون سے کھڑا رہتا ۔ اس کے کھانسنے کی ہر ناتواں سی آواز مجھے جیسے کسی چابک کی مانند لگتی۔وہ صبح اٹھا تو اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور وہ بمشکل تمام سانس لے رہا تھا اور اس کے پھیپھڑوں سے ریشے کی خرخراہٹ کی آواز آرہی تھی۔جیسے ہی نوکرانی آئی میں نے اس کو الٹے قدموں ڈاکٹر کو بلانے روانہ کر دیا۔ڈاکٹر قریباً ایک گھنٹے کے بعد آیا اور بچے کا معائنہ کرنے کے بعد بولا ’’اس کو سردی تو نہیں لگی؟‘‘ میں کسی خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپنے لگا۔پھر میں نے پوچھا، ’’کیا بات ہے ؟ کوئی خطرے کی بات تو نہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا، ’’ابھی میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں شام کو پھر آؤں گا۔‘‘ وہ شام کو پھر آیا۔میرے بیٹے نے سارا دن نیم خوابیدگی کی حالت میں گزارا۔ اس پر وقتاً فوقتاً کھانسی کے دورے پڑتے رہے۔رات کے دوران اس کے پھیپھڑوں کی حالت مزید بگڑ چکی تھی۔وہ اس حالت میں دس دن تک رہا۔میں بیان نہیں کر سکتا کہ ان دس دنوں میں مَیں نے وہ گھنٹے کیسے گزارے جن کے دوران دن رات میں اور رات دن میں تبدیل ہوتی ہے۔
پھر وہ مر گیا۔
اور پھر اس دن اور اس لمحے کے بعد میری تمام عمر میں ایک منٹ بھی ایسا نہیں گزرا کہ جس میں وہ یادیں دہکتی ہوئی سلاخوں کی طرح میرے دماغ میں نہ گھسیڑی گئی ہوں، جو میرے دل کو نچوڑے نہ ڈالتی ہوں، جو کسی وحشی درندے کی طرح میری روح کے اندھیروں میں سے چھلانگ مار کر باہر نہ نکل آتا ہو۔
کاش میں پاگل ہی ہو جاتا !
مسٹرپوارل دلاوُوطؔ نے حسب عادت اپنا چشمہ اوپر کیا جیسا وہ کوئی بھی دستاویز پڑھنے کے بعد کیا کرتے تھے۔مرحوم کے تینوں وارثوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، خاموشی سے ، سپاٹ اور زرد چہرو ں کے ساتھ۔۔۔پورے ایک منٹ بعد وکیل پھر بولے، ’’اس خط کو فوراً تلف کر ناہو گا۔‘‘ ووسرے دونوں نے اثبات میں سر جھکا دئیے۔وکیل نے ایک موم بتی جلائی اور بڑی احتیاط سے خط کو وصیت کے دوسرے کاغذات سے علٰیحدہ کیا ۔ پھر انہوں نے ان کاغذات کوآ گ دکھائی اور جیسے ہی لپکتے ہوئے شعلے ان کونگلنے لگے تو ان کو آتشداں میں پھینک دیا۔پھر وہ تینوں بیٹھے ان کاغذات کو جلتا دیکھتے رہے اور چند ہی لمحوں میں وہ سیاہ ہو گئے۔چونکہ ان سیاہ سوختہ پتوں میں بھی حروف دکھائی دیتے تھے اس لئے مرحوم کی بیٹی نے اپنے جوتے کی نوک سے ان کو آتشدان میں پڑی راکھ میں مسل دیا۔
وہ تینوں دیر تک وہاں کھڑے راکھ کو دیکھتے رہے۔شائد ان کے دلوں میں کوئی موہوم سا اندیشہ تھا کہ کہیں یہ راز اس راکھ میں سے بھی افشا نہ ہو جائے۔

Original Title: La Confession d’un pere
Written by:
Guy de Maupassant (5 August 1850 – 6 July 1893) was a French writer, remembered as a master of the short story form, and as a representative of the naturalist school of writers, who depicted human lives and destinies and social forces in disillusioned and often pessimistic terms.
(Wikipedia)


بشکریہ

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 119: اعترافِ گناہتحریر : گی دموپاساں (فرانس)فرانسیسی سے براہِ راس…

Posted by Yasir Habib on Monday, February 19, 2018

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo