::: ” کلاسیکیت ” ایک مختصر تفھیمی مخاطبہ ::: *** ا…

[ad_1] ::: ” کلاسیکیت ” ایک مختصر تفھیمی مخاطبہ :::
*** احمد سہیل ***
کلاسیک کے لغوی معنی ” اعلی ترین اور معیاری” ہے ۔ ایچ ایل لوکس کا کہنا ہے یہ لاطینی لفظ ” کلاسیس” {CLASSES} سے مشتق ہے جس کے معنی ہجوم کے ہیں۔
کلاسکیت کا لفظ اور اصطلاح یونان کے معروف رزمیہ شاعر نے بیاں کی ہے۔ جو ہر دوار ہر رنگ و نسل اور ہر مذاق کے لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ یونان اور روما کے ادب کو ایک زمانے نے اعلی مقام پر رکھا گیا ہے۔ سترھویں سدی میں کلاسیکی ادب کے معنی یونان اور روم کے قدیم کی تقلید تصور کی گئِ۔ یہ کلاسیکیت کی تعریف کے لیے معتبر ٹھری۔ مگر بیسویں صدی میں ناقدیں ادب نے ان کو دو شاخوں میں بانٹ دیا۔ آج کلاسیکی ادب کا مفہوم یا تو یونان اور روم کے قدیم فن پاروں کی ہیتی تقلید یا موضوعاتی تقلید سے لیا جاتا ہے۔ اس کے اسلوب میں لفظ ایک سراپا ہے جس میں خیال کی روح تازگی ، رعنائی اور جمالیات کے پھول بکھیرتی ہے۔ سید عابد علی عابد نے لکھا ہے ” کلاسیک کا اسلوب ایک طویل ریاضیت کا ثمر ہوتا ہے۔ لیکن اس ادب میں طبقاتی درجہ بندی بھی نظر آتی ہے جو خواندہ اور تعلیم یافتہ اور دانشور طبقے کے لیے لکھا جاتا ہے۔ جو بعد میں ادب عامہ کی شکل میں عوامی بور پر مقبول بھی ہو جاتا ہے۔ ٹی۔ ایس ایلیٹ نے لکھا تھا ۔۔”کوئی تصیف اپنے کلاسیکی مزاج کی وجہ سے کسی ادب کو متاثر نہیں کرتی بلکہ یہ اثر محض اس تصنیف کی عظمت سے پیدا ہوتا ہے۔”۔۔ مگربمیں مغرب میں چار/۴ ادوار نظر آتے ہیں۔
۱۔ یونانی کلاسیکی دور { اسیکلس، سوفوکلیز}
۲۔ یہ پہلی صدی قبل مسیح میں ارسطو اور افلاطوں کے دور میں شروع ہوئی جس میں ہوریس ،ورجل بھی شامل ہیں۔
۳۔ تیسرا رجحان اور تحریک فرانس سے اٹھی جس میں ادب کے حوالے سے احیا علوم اور قومی یک جہتی کے فکریات اور مباحث شامل تھیں۔ جس میں مولیر کارنلے، راسین کے ڈرامے، مذھبی فکریات میں پاسکل اور فلسفے میں ڈیکارٹ اور تنقید میں بولیو پیش پیش تھے۔
۴۔کلاسیک کی چرتھی تحریک انگلستان اٹھارویوں صدی سے شروع ہوتا ہے جس میں ڈرائیڈن کا نام نمایاں ہے۔ جنھون نے شیکسپئر، بن جانسن، ملٹن اور فلیچر کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی تخلیقات اور تحریرن کوکلاسیک کا درجہ دیا۔ اور پوپ کو بھی کاسیکی تھریک سے منسلک کیا گیا۔
اردو میں کلاسیک ادب کی تاریخ بھی خاصی زرخیز ہے جو میر امامی، میرحسن، ولی دکنی ، میر،درد، غالب ، مومن، آتش، داغ ، خوش، یگانہ ، فراق وغیرہ اور نثر کے میدان میں نذیر احمد، پریم چند، یلدرم، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، منٹو، علی عباس حسینی، خدیجہ مستور، قراۃ الین حیدر، شوکت صدیقی،متاز مفتی وغیرہ کے نام لیے سکتے ہیں{ یہ فہرست بہت طویل ہے}۔ بہرحال ارد میں ایک عرصے سے سوال کیا جارہا ہے کہ ۱۔ اُردو ادب میں کون سی تخلیقات کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے؟ یا اُردو کلاسیکی ادب کو آپ کس طرح فہرست کرتے ہیں؟۔۔۔۲۔ کیا 1900 سے پہلے کی تخلیقات کا شمار اردو کلاسکس میں ہوتا ہے۔
۲۔ پھر وہ مصنفین جن کے بچے بھی بوڑھے ہوچکے ہیں اور وہ خود اللہ میاں کے پاس عرصہ ہوا جاچکے ہیں۔ ۔۔۔ ۳۔ کیا کلاسکیی ادب یعنی جنہیں ہم شاہکار کہ سکیں کہ اس میں کوئی نئے یا پرانے کی قید نہیں ہوگی۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ 90 ٪ ادب جو کلاسیک کہلاتا ہے وہ واقعی پرانا ہے اور مصنفین بھی وفات پا چکے ہیں ۔۔۔۔ ۴۔ اردو ادب کے محققین تو اکثراس سال کو حدِ فاصل مانتے ہیں جب ترقی پسند تحریک شروع ہوئی تھی، یعنی 1935لیکن اس میں بھی کچھ اشکال ضرور ہے۔ پھر آپ پریم چند کو کہاں لے جائیں گے۔ ۵۔ کیا
علی پور کا ایلی۔۔۔، آگ کا دریا ، خدا کی بستی، آنگن، اداس نسلیں، آبلہ پا، کو نو کلاسیکی کہا جا سکتا ہے۔ مظہر محمود شیرانی نے ” مقالات حافظ شیرانی” کے عنوان سے سے اردو کے کلاسیکی ادب کے پانچ مقالات ۔۔۔۔ اور مولانا محمد اسماعیل پانی پتی کے عنوان سے ” اردو کا کلاسیکی ادب —- مقالات سرسید” کو مرتب کیا ہے۔
اردو اد ب کی کلاسیک کے کچھ الجھے ہوئے سوالات تو ہیں اس پر بات ہونی چاہیے۔
قصہ مختصر یہ کہ کلاسیک کے بغیر ادب ایسا درخت ہوتا ہے جس کی جڑیں نہیں ھوتیں۔بہت آسان لفظوں میں کلاسیک وہ ادب جس کی تخلیق تو ماضی میں ہوئی ہو لیکن جو عہد حاضر میں بھی اہمیت کا حامل ہو۔ جو وقت کی گرد میں دب کر معدوم نہ ہو گیا ہو۔ مثال کے طور پر ہومر، شیکسپئیر، غالب ، میر، اقبال وغیرہ ۔ اب اگر کلاسیک کی فلسفیانہ مبادیات پر غور فکر کرنا ہو تو ٹی ایس ایلیٹ کا مضمون “کلاسیک ” کیا ہے؟ کا مطالعہ کافی ہوگا۔ جمیل جالبی کے ترجمے “ایلیٹ کے مضامین” میں یہ مضمون بھی شامل ہے۔ کلاسیک کی تفہیم و تعبیر کوئی ایسا پیچیدہ معاملہ نہیں ہے .اصل میں بنیادی بات وھی ہے کہ تاریخ کے ارتقائی عمل میں کلاسیک ادب اپنا کردار ادا کرتا ھوا تہذیبوں کو ایک اساس فراھم کر دیا کرتا ہے اور پھر اسی زبان کا ادب اپنے تسلسل میں روائیات کے ساتھ آگے بڑھتا ھوا عصر حاضر کی تمام ادبی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور پھر آج کا زندہ رہ جانے والا ادب آنے والے کل کا کلاسیک ادب کہلائے گا۔ ادب پر کلاسیک گہرا اثر ہوتا ہے۔ جو ادبی تاریخ کی ایک جمالیاتی قدر بھی ہے۔ محمد پرویز بونیری نے اپنے ایک مضمون ‘اردو ادب میں دبستان کی بحث ‘ میں لکھتے ہیں۔ “یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہماری کلاسیکی شاعری کابیشترسرمایہ دبستان دہلی اوردبستان لکھنوکی مرہون منت ہے، تاہم یہ ہماری تمام شاعری کااحاطہ نہیں کرتے۔اردوشاعری کادامن چودھویں صدی عیسویں سے بیسویں تک پھیلاہواہے اوررفتہ رفتہ اپنی تمام تررعنائیوں کے ساتھ اکسویں صدی میں اپناسفرجاری رکھی ہوئی ہے۔یہاں دبستان دہلی اورلکھنوسے قطع نظردبستان کی بحث کی جاتی ہے ، جن میں اردوشاعری کے مختلف مراکزشامل ہیں جہاں شعروادب کی محفلیں آبادہوئیں ،ان میں لاہور، کراچی، خیبرپختوانخواہ،آگرہ، رام پور، عظیم آباد،پٹنہ،مرشدآبادحیدرآباد، بھوپال وغیرہ قابل ذکرہیں۔ان میں بعض شہراُس وقت بھی علمی مرکزتھے جب دہلی اورلکھنوپرشباب تھا اوربعض شہروں کی رونق اس وقت بڑھی جب یہ دونوں دبستان انقلاب زمانہ کی زدمیں آئے اوروہاں کے شعراء نے دوسری جگہوں کا رُخ کیا۔ ہمارا کلاسیکی ادب مجموعی طور پر ازمنہ وسطیٰ کی قدروں کا نمائندہ ہے۔ اس کی بنیاد برصغیر کی سرزمین ہے مگر اس میں عجم کے حسنِ طبیعت کے بہت سے رنگ شامل ہیں۔ اس میں نمایاں فکر تصوف سے آئی ہے۔ اور اس کے نقش و نگار اس مشترک تہذیب سے لیے گئے ہیں جو تاریخی اسباب کی بنا پر پروان چڑھ رہی تھی۔ اس کی شاعری میں تخیل کی پرواز ملتی ہے اور فطرت، تہذیب اور سماج کی مصوری بھی۔ صوفیوں کے اثر سے اس میں ایک انسان دوستی آئی اور دربار نے اسے ایک رنگینی اور صنّاعی سکھائی۔ اس دور میں نثر پر توجہ کم ہوئی اور زیادہ تر یہ راہِ نجات یا داستان سرائی کے لیے ہی استعمال ہوئی اور شاعری سے آرائش کے لیے زیور لیتی رہی۔
فورٹ ولیم کی جدید نثر تفریحاً نہیں فرمائش پر لکھی گئی تھی۔ اس میں قصے کہانیوں کا سرمایہ زیادہ تھا۔ دہلی کالج میں درسی ضروریات کے لیے علمی نثر بھی وجود میں آئی، صحافت رفتہ رفتہ قدیم اسلوب سے آزاد ہوئی اور کارآمد اور عام فہم ہونے لگی۔ مغرب کے معلم، مشنری اور منتظم سب یورپ کے اٹھارویں صدی کے ادب سے متاثر تھے۔ اسی لیے مغربی اثرات شروع شروع میں وہاں کے نوکلاسیکی ادب کی قدروں کے مظہر تھے۔ انہیں کی رہنمائی میں ہمارے یہاں جدید ادب حقیقت نگاری کا علم بردار بن کر سامنے آیا۔ ناول کی تاریخ میں نذیر احمد کے بعد رتن ناتھ سرشار کی اہمیت ہے (۱۸۴۶ء۔ ۱۹۰۲ء ) سرشار کے یہاں رجب علی سرور کے فسانہ عجائب کا رنگ بھی ہے اور مکالمات میں لکھنؤ کی بیگماتی زبان کی بے تکلفی بھی۔ وہی لکھنے والا اہنی تحریروں کے حوالے سے حقیقی کلاسیک کے زیل میں آتا ہے جس کے زہن میں ایک وسعت ہو۔ جس کیے قلم سےسچائی، فکر، اور تمدنی احوال کے پھول کھلتے ہوں۔ جس میں اخلاقی صداقت، جوش، مشاہدہ اور ایجاد ہوں اور حس لطیف کی تہذیبی حرکیات کی افقہ اور عمودی جہات اور سمتوں سے آگہی ہو۔ جس میں خلاقانہ صفات دائمی اور آفاقی کلاسیک اپنے تخیل سے ہی رنگ آمیزی کرتا ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے اپنے مضموں ” کلاسیک کیا ہے” میں رقم طراز ہیں ” خوء تصنیف اپنے کلاسیکی مزاج کی وجہ سے کسی ادب کو متاثر نہیں کرتی بلکہ یہ اثر محص اس تصنیف کی عظمت سے پیدا ہوتا ہے اور میرے خلاف یہ دلیل پیش کی جاسکتی ہے کہ میں نے شکسپیئر اور ملٹن کو کلاسیک کا درجہ ان معنوں میں نہیں دی جن معنوں میں نہیں دیا۔ جن کے معنی میں اس اصطلاح کو میں اب استعمال کرتے آیا ھوں اور ساتھ ساتھ میں نے یہ تسلیم کیا ہے کی اب تک اس قسم کی اعلی وارفٰع عظیم شاعری { جیسے شیکسپیر اور ملٹن نے لکھی ہے} ہماری زبان میں نہیں لکھی جاسکی”۔

اردو کی کلاسیکی شاعری سے چند اشعار: ایک انتخاب :
واں تُو ہے زرد پوش یہاں میں ہوں زرد رنگ
واں تیرے گھر بسنت ہے یاں میرے گھر بسنت
مومن
۔۔۔۔۔
اک ہمیں خار تھے آنکھوں میں سبھی کے سو چلے
بلبلو خوش رہو اب تم گل و گلزار کے ساتھ
۔۔۔۔
اگر کہیں تو کسی کو نہ اعتبار آوے
کہ ہم کو راہ میں اک آشنا نے لوٹ لیا
۔۔۔۔۔
اسیر کر کے ہمیں حکم دے گیا صیاد
قفس ہو تنگ تو ان کے نہ بال و پر رکھنا
مہتاب علی بیگ منشیؔ
۔۔۔۔۔۔۔
اُنگلیاں اٹھے لگیں دستِ حنائی پہ ترے
رنگ لائے گا ابھی خونِ شہیداں کیا کیا
جعفر علی خاں اثرؔ
۔۔۔۔۔۔
اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں
اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں
آزردہؔ
۔۔۔۔۔۔
بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ
اب توقع نہیں رہائی کی
میر تقی میر
۔۔۔۔۔۔
بے عذر وہ کر لیتے ہیں وعدہ یہ سمجھ کر
یہ اہلِ مروت ہیں تقاضا نہ کریں گے
شیفتہ
۔۔۔۔۔۔
بلایا موت کو برسوں میں التجا کر کے
خدا کے پاس چلا ہوں خدا خدا کر کے
بیخود دہلوی۔
۔۔۔۔۔۔
پاسِ دین کفر میں رہا ملحوظ
بت کو پوجا خدا خدا کر کے
۔سید محمد رند لکھنوی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
تڑپتی دیکھتا ہوں جب کوئی شے
اُٹھا لیتا ہوں اپنا دل سمجھ کر
امیر اللہ تسلیم لکھنوی
۔۔۔۔۔۔
جانا ہے سوئے وادیِ غربت بہ حالِ زار
اہلِ وطن معاف ہو میرا کہا سنا
نواب علیخاں سحرؔ
۔۔۔۔۔۔۔
{احمد سہیل} :::


بشکریہ

::: " کلاسیکیت " ایک مختصر تفھیمی مخاطبہ :::*** احمد سہیل ***کلاسیک کے لغوی معنی " اعلی ترین اور معیاری" ہے ۔ ایچ ایل …

Posted by Ahmed Sohail on Friday, February 16, 2018

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo