(ناروے کی ایک کہانی) باپ ! از : بجورٔنس تجرنے بیؤ…

[ad_1] (ناروے کی ایک کہانی)
باپ !
از : بجورٔنس تجرنے بیؤرنسن
ترجمہ : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن

پادری کے حلقے میں سب سے طاقتور آدمی ، جس کے متعلق یہ کہانی ہے، وہ تھورڈ اُورآس تھا ۔ ایک دن وہ پادری کے ریڈنگ روم میں کھڑا تھا، لمبا اور بڑا سنجیدہ !
” میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے”، اُس نے کہا، ” میں اسے بپتسمہ دلانا چاہتا ہوں۔”
” وہ کس نام سے پکارا جائے گا؟” پادری نے پوچھا ۔
” فِن، میرے باپ کے نام سے ۔”
” اور اس کے ” تعمیدی مادر پدر ” کون ہوں گے؟”
ٹھورڈ نے اُن کے نام بتائے وہ دونوں گاؤں کے بہت ہی اچھے مرد و زن تھے اور ٹھورڈ کے خاندان سے ہی تعلق رکھتے تھے ۔
” کیا کچھ اور باقی ہے؟” پادری نے پوچھا اور آدمی کے چہرے پر دیکھا ۔
دیہاتی کسان تھوڑی دیر کے لیے کھڑا رہا۔ ” میں چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے کا بپتسمہ اُسی کے انداز میں ہو۔” اس نے کہا ۔
” یعنی کہ کسی اختتام ہفتہ پر؟ ”
” اگلے ہفتہ کے روز ، دوپہر بارہ بجے۔”
” کیا کچھ اور بھی ہے؟” پادری نے پوچھا ۔
” نہیں، اور تو کچھ نہیں۔” دیہاتی نے اپنی ٹوپی کو ٹھیک کیا۔ اب شایدوہ جانے والا تھا ۔

پادری خوشی سے گلاب کی طرح کھل اٹھا، ” تو یہی تھا سب کچھ” ، وہ بولا اور ٹھورڈ کی جانب بڑھا ۔ اس کا ہاتھ پکڑا اور سیدھا اُس کی آنکھوں میں جھانکا۔
” معبود العالی بچے کو تمہارے لیے برکت و رحمت اور نعمت والا بنائے !” ، پادری کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ ابھری ۔
اِس دن کے سولہ سال بعد تھورڈ پھر اسی کمرے میں پادری کے سامنے کھڑا تھا ۔
” تم بہت خوش باش اور اچھے دکھائی دے رہے ہو، تھورڈ! ” ۔ پادری نے کہا ۔ اُن نے تھورڈ میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی تھی ۔
” مجھے کوئی تشویش نہیں ۔” تھورڈ نے جواب دیا ۔
اس پر کچھ دیر کے لیے پادری خاموش رہا اور پھر اُس نے پوچھا، ” تم نے اِس شام تک کیا کمایا ہے؟”
” میں اِس شام اپنے بیٹے کے لیے آیا ہوں جس کی کل ’’کنفرمیشن ‘‘یعنی تاییدہونی ہے۔ وہ سنِ بلوغت کو پہنچ چکا ہے”
” وہ ایک ہوشیار لونڈا ہے۔” پادری مسکرایا ۔
” میں تب تک پادری جی تمہیں کچھ نہیں دوں گا جب تک میں یہ نہ سُن لوں کہ میرے بیٹے کو تقریب میں کونسی جگہ دی جائے گی۔”
” وہ سب سے پہلے ہے۔”
” مجھے یہ سُن کر خوشی ہوئی ہے ۔۔۔۔ اور یہ رہے دس ودیان تمہارے لیے۔”
” کیا کچھ اور باقی ہے؟” پادری نے پوچھا ۔ وہ ٹھورڈ کو بغور دیکھ رہا تھا ۔
” اورتوکچھ بھی نہیں۔” ٹھورڈ یہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا ۔
مزید آٹھ سال گزر گئے ۔۔۔۔ پادری نے اپنے ریڈنگ روم کے باہر کچھ ہلچل ہوتی سنی ۔ بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ تھورڈ اُن میں سب سے آگے تھا ۔ پادری نے دروازہ کھولا اور اسے پہچانتے ہوئے اندر بلا لیا ۔
” آج شام تو تم بہت زیادہ آدمیوں کے ساتھ آئے ہو۔”
” میں تمہارے سامنے گرجے میں اپنے بیٹے کی شادی کا اعلان کرنے آیا ہوں، وہ کارین سٹورلیڈن سے شادی کر رہا ہے جو گوڈمونڈ کی بیٹی ہے، وہ یہیں کھڑا ہے ۔”

” وہ تو حلقے کی امیر ترین لڑکی ہے۔”
” تم جو کہتے ہو بالکل ٹھیک ہے ”، دیہاتی کسان نے جواب دیا ۔ اس نے اپنے ایک ہاتھ سے اپنے سر کے بالوں کو پیچھے کی طرف کیا ۔ پادری یوں بیٹھا ہوا تھا جیسے کچھ سوچ رہا ہو ۔ وہ بالکل خاموش تھا اور ایک لفظ بولے بغیر اُس نے ٹھورڈ کے بیٹے اوروہ لڑکی جس سے اُس کی شادی ہورہی تھی، ان دونوں کے ناموں کا اپنے رجسٹر میں اندراج کیا ۔ اور دیہاتی نے اس پر اپنے دستخط کر دیے اور تین ودیان پادری کی میز پر رکھ دیے ۔
” مجھے صرف ایک ہی چاہیے۔” پادری نے کہا ۔
” میں جانتا ہوں، لیکن وہ میرا اکلوتا بچہ ہے، میں اس کی خاطر کچھ عمدہ کرنا چاہتا ہوں۔”
” پادری نے پیسے قبول کر لیے۔ ” تھورڈ! یہ تیسری بار ہے کہ اپنے بیٹے کی خاطرتم یہاں کھڑے ہو۔”
” ہاں! اب یہ اختتامیہ ہے۔” تھورڈ نے کہا اور اپنے بٹوے کو تہہ کر کے جیب میں ڈالا ۔ پادری کو خدا حافظ کہا اور چلا گیا ۔ دوسرے لوگ بھی آہستہ آہستہ اس کے پیچھے پیچھے چلنے گئے ۔
اِس دن کے چودہ روزبعد دونوں باپ بیٹا پُرسکون و ساکت جھیل میں ایک کشتی میں بیٹھے چپّو چلا رہےتھے۔ انہیں شادی کے لیے بات چیت کرنے ” سٹورلیڈن ” جانا تھا ۔
” کشتی میں یہ سیٹ، جس پر میں بیٹھا ہوں، کچھ زیادہ محفوظ نہیں”، بیٹے نے کہا اور اُسے ٹھیک کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا ۔ اسی لمحے وہ کشتی کے جس پھٹّے پر کھڑا تھا وہ کچھ لرزا اور وہ اپنا توازن بحال نہ رکھ سکا۔ اس کے بازو ہوا میں بلند ہوئے ،اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور وہ ایک طرف لڑھکتا ہوا پانی میں جاگرا ۔
” چپّو کو پکڑو! والد چلایا ۔ اُس نے اپنا چپوبیٹے کی طرف بڑھا رکھا تھا اور زور زور سے چلا رہا تھا ” چپّو کو پکڑو! چپّوکو پکڑو!!” لیکن چند ایک ڈبکیاں کھانے کے بعد بیٹے کی قوت جواب دے چکی تھی اور وہ کشتی سے بھی مزید دور ہو گیا تھا ۔
” ٹھہرو انتظار کرو!”، باپ چلاتا ہوا چپّو چلا رہا تھا ۔ لیکن عین اسی لمحے بیٹے نے اپنی پشت گھما کر اپنے باپ کی طرف دیکھا اور پھر ڈوب گیا ۔
تھورڈ کو اس انہونی کے ہونے پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔ اُس نے کشتی کو روکا اور اس جگہ کو دیکھنے لگا جہاں اُس کا بیٹا ڈوبا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ بیٹا دوبارہ ابھر آئے گا لیکن اسے وہاں کچھ بلبلے ابھرتے اور یکے بعد دیگرے پھٹتے دکھائی دیے اور پھر اچانک ایک بڑا بلبلہ سطح آب پر اُبھرا اور یکدم پھٹ گیا ۔ جس کے بعد جھیل کا پانی پہلے کی طرح پر سکون اور ساکت میں آگیا تھا اور ایک آئینے کی طرح چمک رہا تھا ۔

تین دن اور تین رات لوگوں نے دیکھا کہ تھورڈ بغیر کچھ کھائے پیئے بیٹے کی تلاش میں جھیل پر نظریں جمائے رکھتا تھا۔ اور پھر تیسرے دن کی صبح اُسے بیٹے کی لاش پانی پر تیرتی ہوئی مل گئی ۔ اُس نے اسے باہر نکالا اور پھراسے اٹھا کر پہاڑی علاقے میں اپنے گھر کی طرف چلدیا ۔
اِس دن کے بعد ایک سال یا اس کے لگ بھگ عرصہ گزرا ہوگا کہ خزاں کی ایک شام پادری نے دروازے کے باہر بر آمدے میں کچھ ہلچل ہوتی سنی۔ پادری نے اٹھ کر دروازہ کھولا، ایک لمبا ، کمر جھکا آدمی ، لاغر و ناتواں، الجھے ہوئے سفید بال سامنے کھڑا تھا ۔ پادری نے اُسے پہچاننے سے پہلے تھوڑی دیر کے لیے بڑے غور سے دیکھا ۔ یہ تھورڈ تھا ۔
” تم دیر سے آئے ہو”، پادری نے کہا اور خاموشی سے اُس کے سامنے کھڑا رہا ۔
” آہ، ہاں! میں دیر سے آیا ہوں”، تھورڈ نے کہا اور نیچے بیٹھ گیا ۔ پادری خود بھی نیچے بیٹھ گیا شاید وہ انتظار کر رہا تھا کہ تھورڈکچھ بولے ۔ اب وہاں ایک لمبی خاموشی تھی ۔
پھر تھورڈ نے کہا : ” میرے پاس کچھ ہے جو میں غریبوں کو دینا چاہتا ہوں۔” وہ اٹھا اور آگے بڑھ کر میز پر پیسے رکھ دیے، اور دوبارہ بیٹھ گیا ۔ پادری نے پیسے گنے ۔
” یہ تو کافی بھاری رقم ہے ۔” پادری نے کہا ۔
”یہ میرے فارم کا نصف ہے، میں نے آج اُسے فروخت کردیا ہے ۔” تھورڈ نے جواب دیا ۔
پادری کافی دیرتک خاموش بیٹھا رہا ۔ آخر کار اس نے بڑی نرمی اور آہستہ سے پوچھا، ” اب تم کیا کرو گے؟”
” کوئی بہتر شے۔”
وہ دونوں کچھ دیر تک وہاں بیٹھے رہے ۔ تھورڈ کی نظریں فرش پر جمی ہوئی تھیں اور پادری کی نگاہیں تھورڈ پر ۔ پھر بہت ہی آہستہ اور نرمی سے پادری نے کہا، ” مجھے یقین ہے کہ تمہارا بیٹا بالآخر تمہارے لیے برکت و رحمت ثابت ہوا ہے ۔”
” ہاں، میں بھی اب یہی خیال کرتا ہوں”، تھورڈ نے کہا ۔ دو آنسو اُس کی آنکھوں سے نکل کر اُس کے چہرے پر بہہ رہے تھے ۔
بشکریہ

(ناروے کی ایک کہانی)باپ !از : بجورٔنس تجرنے بیؤرنسنترجمہ : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن پادری کے حلقے میں سب سے طاقتور آد…

Posted by Nasar Malik on Tuesday, October 31, 2017

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo