::: ” قاری کی اساس کا { ردعمل} انتقادات کا نظریہ: …

[ad_1] ::: ” قاری کی اساس کا { ردعمل} انتقادات کا نظریہ: ادبی تنقید کی اچھوتی اور پیچیدہ بساط ” :::
*** احمد سہیل ***
قاری کی اساس تنقید ۱۹۶۰ کی دہائی میں اے آر رچرڈ کی جذباتی مباحث سے شروع ہوئی۔ جس نے ساختیے کے روایتی تصوارات سے ایک مخصوص ذہنی میکانیت کو پاکر بصری اور قرات کے عمل کے امتزاج سے اس نئے تنقیدی نظرئیے کو فروغ دیا۔ جس کا روایتی نقاد پہلے بیانیہ، پلاٹ، کردار ۔ اسلوب اور ساخت کے حوالے سے کسی نہ کسی طور پرکرتے آئے تھے کیونکہ متن انفرادی قاری کو ” تخلیقیت” کے حوالے سے ادبی متن کا مطالعہ کرتے آئے تھے ۔ قاری کی اساس تنقید ادبی متن اور کاموں میں زبان کی اہمیت دیتی ھےاور قاری سے یہ توقع کرتی ہے کہ وہ متن کی معنویت کو اپنے طور ہر پالے۔ جس میں بہر طور قاری کے تجربات بھی شامل ہوتے ہیں۔ یوں ان میں کئی تنقیدی مزاج در آتے ہیں لیکن متن فرد کے ذہن کا حصہ نہیں ہوتا مگر وہ انفرادی سطح پر متن کی قرات کرتا ہے۔ اس کو بعض ناقدین نے موضوعی تنقید بھی کہا جو معنئی کے جوہر پر حاوی ہو جاتی ہے۔ اور معنیاتی اور ساختیاتی نظرئیے میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔ جو مخصوص ادبی و ثقافتی رموزیات کی صورت میں ابھرتے ہیں اور معنویت کو خلق کرتے ہیں ساتھ ھی موضوعیت کا عنصر قرات اور تشریح کی نئی دریافتیں ہوتی ہیں۔ قاری کی اساس تنقید متن کے تفسیر اور تشریح کے سلسلے میں قاری کی رائے اور ردعمل کا نظریہ ہے۔ جس کو سب سے زیادہ نفسیاتی، عمرانیاتی، بشریاتی، ثانیثیت اور ساختیاتی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اور تخلیق کار اور مصنف اپنے قاری کے جوابی تنقیدی نقطہ نظر اور ردعمل کو بھی مختلف الجہت تناظر اور رسائیوں کے تحت پرکھتا ہے۔ اس میں متن کو قاری سے علحیدہ رکھا ہی نہیں جاتا بلکہ قاری کی اساس نقد میں قاری اپنے فکری، موضوعی اور معروضی عقائد کی وضاحت اور تفسیر کرتا ہے۔ اوربعض دفعہ یہ بھی ہوتا اس میں قاری کے فکریات کو لکھنے والے کی سوچوں میں مکمل طور پر منسلک نہیں کیا جاتا بلکہ یہ اس کا منفی اور مثبت ردعمل ہوتا ہے جس میں قاری مجہول اور معروضی طور پر متن کی تشریح اور تلخیص/ تجرید کرتا ہے۔ جو ادبی احوال میں ہی کسی متن کی حرکیات سے معنی کی حرکیات سے معنی اور مفاہیم اخذ کرتا ہے۔
میرے ہاتھوں میں امریکی ٹمپل یونیورسٹی کی پروفیسر جیں پی ٹومپکن کی ایک کتاب ہے جو مضامین کا مجموعہ ہے۔جو انھوں نے ترتیب دیا ہے۔ مضامین کا مجموعہ کا نام ” قاری کی اساس تنقید، ہیت پسندی سے پس ساختیات” ہے جس میں بارہ/۱۲ مضامین کا گل دستہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ۱۹۸۰ میں جان ہاپکنز یونیورسٹی پریس بالٹی مور، لندن سے شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب میں نے ۱۹۸۱ میں برکلے لونیورسٹی، کیلے فورینا، امریکہ ، کے کتاب گھر سے خریدی تھی اس موضوع پر راقم السطور نے اپنی کتاب ” ساختیات: تاریخ، نظریہ اور تنقید” {۱۹۹۹} میں بھی لکھا ہے۔ کتاب کے آخر میں اس موضوع پر کتابیات کی طویل فہرست اور مصنفین کے تعارفات بھی درج کئے گئے ہیں۔ اس کتاب میں ان موضوعات کو شامل کیا گیا ھے:
۱۔ مصنف، مقرر، قاری اور نقلی قاری {واکر گبن}
۲۔ بیانیہ کار کا مطالعہ { جیراڈ پرنس}
۳۔ شعری ساخت کا بیان۔ بودیلیر کی ” یس چیٹ” کی دو رسائیاں {مائیکل ریفٹائر }
۴۔ تنقید اور حمیت کا تجربہ { جارج پولیٹ}
۵۔ قاری کا طریقہ کار: ایک مظہریاتی رسائی { وافنگ اسر}
۶۔ ادب میں قاری: اثر انداز اسلوبیات { اسٹنلیے فش}
۷۔ ادبی اہلیت { جانیھتن کلر}
۸۔ اتحاد۔۔ شناخت ۔۔۔ متن ۔۔۔ ذات ۔۔ { نارمن این ہالینڈ}
۹۔ علمیاتی ذمہ داری، ردعمل کا مطالعہ {ڈیوڈ بلائچ}
۱۰۔ ” ویورنم” {VARIORUM} کی تشریح { اسٹینلے فش}
۱۱۔ ذات کی تشریح، کارٹیشن موضوعات {والٹر بین مائیکل}
۱۲۔ قاری کی تاریخ: تبدیل ہوتی ہوئی ادبی ردعمل کی صورت { جیں بی ٹامپکن}
*** اختتام بحث:***
===========
قارئین کے ردعمل کے اصول نے قاری کو ایک فعال ایجنٹ کے طور پر تسلیم کیا ہے جو ادبی تنقید کے “حقیقی وجود” کی طرف اشارہ کرتا ہے اور تشریح کے ذریعہ اس کے مطالیب ، معنئی اور مفاہیم سے آگاہی حاصل کرتا ہے۔ قاری کی اساس تنقید یا ردعمل کا دعوی ہے کہ ادب کو ایک فنکارانہ فن/ آرٹ کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جس میں ہر قارئین نے اپنے، ممکنہ طور پر منفرد، متن سے متعلقہ کارکردگی اور زہنی فکری میکانیت پیدا کی ہے. یہ رسمی طور پر نظریات اور نظریہ کے نظریات کی مجموعی طور پر مخالفت کرتا ہے۔ ستیہ پال آنند نے لکھا ہے “قاری اساس تنقید (Virtual Textual Practical Criticism) وقت کے دریا کو پار کرنے کے لیے اس پُل کا کام کرتی ہے جو کسی بھی متن کو زمانۂ حال کی خارجی دنیا سے براہ راست متعلق کر دیتی ہے۔اس طریق کار میں کسی بھی متن کی معنیات کو “تخلیق” یا “فصل” کا نام دے کر یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ کوئی بھی قاری، کہیں رہتا ہوا قاری، کسی بھی زمانے کا قاری، اس ’فصل‘ کو اپنے زمان اور مکان کے ’سابق اور حال‘ سے رشتہ جوڑتا ہوا حق بجانب ہے کہ اس سیاق و سباق میں اسے پرکھ کی کسوٹی پر رکھ کر اپنا کام کرے۔ نظم کا رشتہ جو شاعر سے قائم تھا، اس وقت ہی منقطع ہو گیا تھا جب وہ معرض ولادت میں آئی تھی۔ اس وقت کی حقیقت آج کی فرضیت نہیں، آج کی حقیقت ہے۔
تین نئی اصطلاحات جو اس سلسلے کی کڑیاں ہیں، وہ ہیں، (۱)قاری (۲)قرآت کا طریق کار اور (۳) ردِ عمل …اس میں قاری کا قرآتی طریقِ کار اوّلیں اہمیت کا حامل ہے۔اس عمل کے دوران قاری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ متن کی شکست و ریخت کرے، ایسے ہی جیسے کسی عمارت کو ڈھا کر اس کا ملبہ بکھرا دیا جاتا ہے۔ پھرموضوع کی سطح پر اپنے مطالعے، تجربے اور ذاتی ترجیحات کے پیمانوں سے اس کی مناجیات کی قدر و منزلت کو پرکھے اور اس کی نئی تعریف بھی متعین کرے۔ اس کام کے دوران میں دو عوامل کا ظہور ناگزیر ہے۔ پہلا عمل تشکیلی ہے اور اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ پرانے متن اور نئے قاری کے مابین معنویت کی مصالحت کا سمجھوتا قرار پا جائے۔ دوسرا موضوع سے متعلق ہے کہ قاری کو یہ کلّی اختیار ہے کہ وہ متن کی تشریح (توسیع کی حد تک) اپنی منشا کے مطابق کرے۔” قاری کی اساس تنقید کے حوالے سی اردو کے ناقدین نے گذشتہ برسوں سے تھوڑا بہت قاری کی اساس تنقید اور نظرئیے کے تحت لکھنا شراوع کردیا ہے جیسے یہا اقتباس ملاخطہ کریں” ” اگر بالکل سادہ غیر تنقیدی زبان میں کہیں تو افسانہ جھوٹ کو سچ کردکھانے کا فن ہے۔ اس لیے نہیں اس میں بیان کردہ واقعات ”سچے“ نہیں ہوتے /ہوسکتے بلکہ اس اعتبار سے کہ افسانہ نگار ، ہر وہ فنی تدبیر استعمال کرتا ہے جس سے وہ اپنے قاری کو یقین دلا سکے کہ وہ افسانہ نہیں لکھ رہا ہے بلکہ سچا واقعہ سنا رہا ہے اور اگر اس نے افسانے کی تشکیل کے لیے کوئی خاص یا مکانی عرصہ منتخب کیا ہے ، جس کا تعلق ماضی بعید سے ہوتو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ افسانے کے خیالی بیانیہ کو تاریخی واقعہ کی شکل دے کر قاری کو یقین دلا دے کہ وہ ”فرضی“ کہانی نہیں سنا رہا ، ایک خاص انداز سے تاریخ بیان کررہا ہے۔”
(تحریر اساس تنقید۔ از: پروفیسر قاضی افضال حسین۔ ص: ۳۵۲۔ ایجوکیشنل بک ہاﺅس، علی گڑھ۔ ۹۰۰۲ مئی )
قاری کی اساس تنقید کا نظریہ ہے جس میں قارئین اور طالب علموں کو فعال ہونا ضروری جانا جاتا ہے۔ جو اپنے طریقوں سےیا قاری کے طریقیات یا مناجیات سے متن کو تخلیق اور تحلیل کرنا پڑتا ہے، اس فکر نے نے 19 صدی میں اہمیت حاصل کی جس میں موضوعی رسائی کے تحت ایک معروض کا فکری انتقادی آفاق تشکیل پاتا ہے اور اعتماد کے بعد متن کا مرکوز تجزیہ کرتے ہوئے ایک فکری نکتہ تلاش کیا جاتا ہے۔ قاری کی اساس تنقید ادبی کام میں ابان کو اہمت دتی ہے اور یہ قاری سے یہ توقع کرتی ہے کی وہ متن کی معنویت کو اپنے طور پر پالے جس میں بہرحال قاری کے تجربات بھی شامل ہوتے ہیںاور کئی تنقیدی مزاج در آتے ہیں۔ لیکن متن فرد کے زہن کا حصہ نہیں بن پاتا۔ مگر وہ انفرادی سطح پر متن کی قرات کرتا ہے۔ جس کو ناقدین ” موضوعی تنقید” بھی کہتے ہیں۔ کو معنی کے جوہر پر حاوی ہوتا ہے۔ اور معنیاٹی، تفھیماتی اوع ساختیاتی نظریاتی علمی اور اطلاقی نظرءیے میں کلیدی کرارادا کرتی ہے۔ جس مین ” ردتشکّیل” کا عمل دخل بھی ہوتا ہے۔ جو مخصوص ادبی اور ثقافتی رموز کی صورت میں ابھر کر معنویت کو خلق کرتے ہیں۔ اور موضوعیت کا عنصرقرات اور تشریح کی نئی راہیں اور جہتیں دریافت کرتا ہے۔ قاری کی اساس تنقید میں قاری کا ردعمل پہلے ہوتا ہے اس کے بعد متن پر تنقید کی گنجائش ہوتی ہے۔ وہ مخاطبے { ڈسکورس} کا تجزیہ ہی اس بات کو متعین کرتا ہے کہ کسی تنقید پر تنقید ممکن نہیں ہے کہ نہیں۔ :::
۔=۔=۔=۔= احمد سہیل ۔=۔=۔=۔=۔=


بشکریہ

::: " قاری کی اساس کا { ردعمل} انتقادات کا نظریہ: ادبی تنقید کی اچھوتی اور پیچیدہ بساط " :::*** احمد سہیل ***قاری کی ا…

Posted by Ahmed Sohail on Monday, February 12, 2018

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo