عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نم…

[ad_1] عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 34 : دریافت
تحریر: جَواَینا سکاٹ (امریکہ)
مترجم: نجم الدین احمد (بہاولنگر، پاکستان)

وہ ایسا شخص تھا جو اپنی جہالت کی وجہ سے پاگل نظر آتا تھا۔ درحقیقت وہ اپنے علم کی حدود سے واقف تھا۔ لٰہذا اپنی رائے میں وہ جاہل اور اپنے آپ میں مطمعین رہنے والے پڑوسیوں سے برتر تھا۔ وہ، وہ جاننا چاہتا تھا، جو وہ نہیں جانتا تھا۔ اِسی لیے اُس کی جوانی زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی تگ و دُو کے لیے واقف ہوگئی تھی۔ یہ کوئی حرص بھری شیطانی تمنا نہیں تھی بلکہ ہر نئی حیرت اُسے راتوں کو جگاتی تھی۔ جب اُس نے ایک مکمل کیے ہوئے عدسے کو موم بتی کے شعلے کے سامنے رکھا تو وہ یخ پسینے سے شرابور ہوگیا اور اس کی ہر قسم کی بھوک ختم ہوگئی۔ اگر اُس کی نظر انداز شدہ بیوی کی ملاقاتیوں کی تواضع کرنے کے لیے اُنھیں اپنی خواب گاہ میں لے جاتی اور اُس کے پستان ہر کسی کو نظر آرہے ہوتے تو بھی وہ لاپروا رہتا۔ اُسے صرف احاطہء بصارت میں نہ آنے والی چیزوں کی پروا تھی۔ وہ جانتا تھا کہ انسانی آنکھ جو کچھ دیکھ سکتی ہے یا دماغ جو کچھ سوچتا ہے، وہ دُنیا کے بہت کم حصے کی تعبیر ہے۔ اُس کے اکثر ہم عصر مادے اور رُوح کے دوہرے نظریات پر مطمعین تھے۔ جب وہ بچہ تھا تب ہی اُس نے محسوس کرلیا تھا کہ مادی دنیا انسان کے ادراک پر ختم نہیں ہوتی۔ جس طرح آسمان غیر مرئی دُنیاؤں میں گُم ہوجاتا ہے اِسی طرح مادی دنیا بھی اپنے غیر مرئی حصوں میں گُم ہوجاتی ہے، لٰہذا اس کا مکمل طور پر تجزیہ نہیں کیا جاسکتا۔
چھوٹی چھوٹی تفاصیل کے ابہام نے اُس میں جوش بھر کر اُسے پاگل کردیا تھا، بہ الفاظِ دیگر اُسے دِیوانہ بنا دیا تھا۔ جب وہ چھبیس برس کا نوجوان تھا تو اُس نے خشک اشیاء کی اپنی دُکان کے پچھواڑے ایک لیباٹری بنائی۔ پہلے پہل وہ ایک سادہ کمرہ تھا جہاں وہ تنہائی میں اپنے تجربات کرتا تھا۔ لیکن بعد میں وہ کمرا اُس کے کھانے، پینے اور سونے کی جگہ میں تبدیل ہوگیا۔ جس روز اُس نے اپنا بستر لیباٹری میں لاکر ڈالا اُس کی بیوی نے اُس کے ساتھ جنگ بند کردی اور اُس نے یُوں ظاہر کیا جیسے وہ بھی شدت سے اسی چیز کی خواہاں تھی۔ اُس محبت اور ہوس کی ماری نے اپنے خاوند کو سوچنے کا ایک اور موقع بھی نہیں دیا۔ اُس نے یہ کام اپنی بڑی بیٹی میری پر چھوڑ دیا جو اپنے باپ کے لیے کھانا لے جاتی، جسے وہ شاز ہی چکھتا۔ بعد کی زندگی میں وہ اُسے اُس کی ڈاک اُسے پہنچانے لگی جسے وہ دیوانگی اور گوشت خور جانور کی سی بے صبری سے ہڑپ کر جاتا۔
وہ 1632ء میں پیدا ہوا تھا۔ ڈیلف کا شہری اور پیشے کے اعتبار سے دُکان پر کپڑا بیچنے کے ساتھ ساتھ ڈیلف سِٹی کونسل کا اہلکار بھی تھا۔ اس کے متعلق یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ کئی سال تک اُس نے اپنے کپڑے کے تھانوں کی پیمائش اور اُن کی فروخت کا کام اپنے شدید جذبے کے باوجود نہایت تندہی سے کیا تھا۔ سوائے اتوار کے وہ ہر روز دُکان پر کام کرتا اور ہفتے میں تین شامیں سٹی ہال میں نئے اوزان و پیمائش کا معائنہ کیا کرتا تھا۔ وہ ان کاموں کو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے صبروتحمل کے ساتھ مستقل مزاجی سے کیا کرتا تھا تاکہ وہ اُسے تنہا چھوڑ دیں۔
ہاں تنہا۔ اُسے سردیوں کی راتوں کی تنہائی سے محبت تھی۔ اُس کی لیباٹری میں قطار در قطار لگے شمع دانوں کے شعلوں کو باریک مقعر عدسے اسطرح منعکس کرتے تھے کہ وہ عدسوں کی تہہ میں برف میں دفن مچھلی کی طرح نظر آتے تھے۔ وہ خارش، سردی اور حتی کہ اپنی اکڑی ہوئی اُنگلیوں سے محبت کرتا تھا کیوں کہ اُن کی تکلیف اُسے یاد دلاتی تھی کہ وہ زندہ ہے۔ اور جب تک زندہ ہے وہ اپنے علم کی حد کو کچھ اور بڑھا سکتا ہے، تھوڑا سا اور علم حاصل کرسکتا ہے۔ وہ دیکھ سکتا تھا جو وہ دیکھ سکے، ہر رات کچھ نیا اور اُس نئے پن میں کچھ حیرت انگیز۔
اُس نے عدسہ سازی کا ابتدائی علم ایمسٹرڈم کے چشمہ ساز سے حاصل کیا تھا۔ اُس نے اپنے لیے شیشے کیمیاگروں اور عطاروں سے خریدے تھے۔ اُس نے تانبے اور سونے کے مستطیل شکنجے، خود تیار کیے تھے۔ ڈیلف کے لوگ پیٹھ پیچھے اُس کا مذاق اُڑاتے تھے۔ اُس نے اپنے کام پر عبور حاصل کیا اور سال ہا سال کے تکلیف دہ تجربات کے بعد اُس نے انچ کے آٹھویں حصے سے میں اسے تین ماہ کا عرصہ لگا تھا۔ جب اُس نے ایسے دو عدسے بنا لیے تو اُس نے اُنھیں ایک دُوسرے کے اُوپر دھات کی تطابق پذیر پلیٹوں کے بیچ رکھا۔ وہ ستائیس برس کا تھا، جب اُس نے دُنیا کی پہلی خُوردبین بنانے کا کام مکمل کیا۔ اُس کے ہاتھ ابھی سے کسی ضعیف العمر کے ہاتھوں کی طرح کانپنے لگے تھے۔ جب وہ عدسوں میں سے دیکھنے کے لیےجھکا تو اُس نے خود کو اس گمان کے ساتھ تیار کرلیا تھا کہ اُس نے اِس سے پہلے ایسی چیز کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔
“یہ ہر لحاظ سے متوازن اور مکمل ہے کہ یہ مجھے چھوٹی چیزیں بھی خوب واضح اور بہت بڑی کرکے دکھاتی ہے۔” اُس نے اپنی ڈائری میں ڈچ زبان میں لکھا جو ماہی گیروں، مزدوروں اور دُکانداروں کی زبان تھی۔ وہ لاطینی نہیں بول سکتا تھا۔ لٰہذا وہ کسی کو بتا سکتا تھا نہ بتانا چاہتا تھا کہ اس نے ہُک کی خوردبین سے زیادہ طاقتور ایسا آلہ ایجاد کرلیا ہے جس نے غیر مرئی دنیا کو مرئی بنا دیا ہے۔ اُس کا بیانیہ نہ صرف ناقابلِ یقین بلکہ سُوقیانہ بھی تھا۔ یہی بہتر تھا کہ وہ اپنی دریافتیں کسی ذخیرہ اندوز کی سی خوشی لیے اپنے تک محدود رکھتا۔ اُس نے خوردبین اپنے استعال کے لیے بنائی تھی۔ وہ اپنی دریافتوں پر بے تحاشہ نشہ آور سر خوشی کے ساتھ مسرور تھا کیونکہ یہ ایک راز تھا۔
خُود پر انحصار کرتے ہوئے، اپنے مفاد کے لیے اُس نے اپنے نتائج اخذ کیے۔ اُس نے گوبھی کے چھلکوں، بیل کی آنکھوں، مرغیوں کے جگر، اُود بِلّاؤ کے کھڈوں، ناخن کے ٹکڑوں، مونچھوں کے بالوں، مکھی کے ڈنک، جُوں کی ٹانگوں اور اپنے بازو سے اُتری خشک جلد کا معائنہ کیا۔ وہ دن میں اپنی دُکان میں مکھیوں کا تعاقب کرتا، کاؤنٹروں اور الماریوں پر چڑھتا۔ حشرات کو اپنے ہاتھوں کی مُٹھی میں قید کرکے اُنھیں شیشے کے جاروں میں بند کرلیتا تاکہ وہ سالم حالت میں دم گھٹنے سے مر جائیں۔ شروع شروع میں اُس کے گاہک مسخروں کی سی طنز بھری مسرت سے اُسے دیکھتے رہتے۔ پھر اُن کا صبر جواب دینے لگا اور جلد ہی اُنھوں نے اُس کی حرکات دیکھنابند کردیں۔ وہ کپٖڑا خریدے بغیر ہی دُکان سے جانے لگے۔ اگر میری نہ ہوتی تو وہ کبھی واپس نہ آتے۔
خُوب صورت مَیری کے سُرخ و سفید گال ہمیشہ اپنے باپ کے عدسوں کی مانند چمکتے رہتے تھے۔ مَیری نے ڈیلف کی خواتین کو دُکان سے دوبارہ خریداری کرنے کے لیے رام کرلیا۔ اُس نے اپنی فرانسیسی کی تعلیم ترک کردی تاکہ وہ دُکان پر گاہکی کرسکے۔ اُس نے اپنے باپ کے کاروبار کو بحران سے اس وجہ سے نہیں نکالا تھاکہ وہ اُس سے محبت کرتی تھی بلکہ اُسے اپنے باپ پر پیار سے زیادہ غصہ آتا تھا۔ وہ بھی ڈیلف کے دُوسرے باشندوں کی مانند اُسے دیوانہ سمجھتی تھی۔ لیکن اُس میں سترھیویں صدی کا احساس فرض بہت طاقتور تھا۔ وہ ایک بیٹی تھی۔ اپنی ماں کے برعکس، جس نے خاوند کی دُوری پر زوجیت ختم کردی تھی، میری ڈیلف کے پاگل عدسہ ساز کی پہلوٹھی کی بیٹی ہی رہی۔ وہ اپنے باپ کی لمبی زندگی (جس کے متعلق بعض اوقات اسے خوف محسوس ہوتا تھاکہ وہ کبھی ختم نہیں ہوگی) میں اُس کی شناخت سے چمٹی رہی جب تک کہ وہ اکیاسی برس کی طویل عُمر میں فوت نہ ہوگیا۔ اور وہ خود اُس وقت تک ساٹھ سالہ بوڑھی عورت نہ ہوگئی۔ وہ دُکان بند کرکے اپنی مختصر وراثت پر پُر سکون، تنہا اور غیر انحصار پذیر زندگی بسر کرسکتی تھی۔
“پکی بھُتنی، پاپا کی بہت ہی پیاری۔” وہ یہ بات اُس سے اور نہ ہی اُس کے بھائیوں اور بہنوں سے بلکہ ایک مُردہ مکھی سے احتیاط سے اُس کی چیر پھاڑ کرتے اور اُس کے سر کو سُوئی کی نوک پر چپکاتے ہوئے کہتا۔ پاپا کی بہت ہی پیاری۔ یہ پدرانہ تشویش کے ساتھ مذاق تھا۔ میری اُس کے رات کے کھانے کی ٹرے رکھ کر نفرت لیے اپنے جنونی باپ کو اُس کے فضول آلات کے ساتھ تنہا چھوڑ کر لوٹ جاتی۔
وہ اپنی غیر مرئی دُنیا میں تنہائی کے مزے لُوٹ رہا تھا۔
ہمارے ذوق کی تسکین کے لیے بناوٹ کی کاملیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ میری کے باپ کو یقین تھا کہ کوئی چیز اتنی قابلِ یقین نہیں ہوسکتی جتنا کہ کسی بہت چھوٹے جاندار کا مکمل ہونا۔ آہستہ آہستہ، سالوں بعد اپنے راز کی حفاظت کی خواہش اُسے افشا کرنے کی تمنا میں بدل گئی۔ لیکن اگر وہ کسی کو بتانا بھی چاہتا تو اس پر کون یقین کرتا؟ اُسے ڈچ میں بتانا پڑتا۔ ایک ناقابلِ یقین کہانی اور ڈچ میں! وہ اُس پر ہنستے۔ اُن کے قہقہے اُسے سائرن کے گیتوں کی طرح ترغیب دلاتے اور وہ بھی ان کے ساتھ مل کر خُود پر قہقہے لگانا شروع کردیتا۔
لیکن وہ اگر اُنھیں بتا نہیں سکتا تھا تو دکھا تو سکتا تھا۔ اور وُہ اُنھیں اپنی موت سے پہلے دِکھانا چاہتا تھا۔ اُن میں سے کسی ایک کو، صرف ایک آدمی کو یا کسی سائنسدان کو جس پر وہ اعتماد کر سکتا۔ ہاں، وہ ایک قابلِ اعتماد آدمی سے واقف تھا۔ ریکنیئر ڈی گراف(1) ، ڈیلف کا واحد شخص جو رائل سوسائٹی کا مکتوباتی رُکن تھا۔ وہ اکتالیس برس کا تھا جب اُس نے ڈی گراف کو اپنی لیباٹری کی دعوت دی لیکن وہ خُود کو چار سالہ بچے کی مانند محسوس کررہا تھا۔ جیسے ہی ڈی گراف اُس کی خوردبین سے ایک بال کو دیکھنے کے لیےجھکا جو مَیری کا بال تھا اور جسے اُس نے فراخ دلی سے اُنھیں توڑ کر دے دیا تھا۔ وہ بھی دیکھتی رہی لیکن اپنے باپ کے فزوں تر اشتیاق کی بجائے ناپسندیدگی کے ساتھ۔ اگرچہ وہ ایک چار سالہ لڑکے کی ماں تھی لیکن وہ اپنے پیر کو پنڈولم کی طرح مسلسل چلاتی ہوئی ڈی گراف کے کام ختم کرنے کی منتظر رہی۔
وہ سُست تھا۔ مَیری کی رائے میں وہ کاہل اور اُس کے باپ کے خیال میں وہ خوفناک حد تک کاہل تھا۔ بالآخر جب ڈی گراف نے اپنی پشت کو سیدھا کرکے اپنا چشمہ اُتارا اور اپنی سُوجی ہوئ آنکھیں صاف کرکے سر ہلاتے ہوئے بالکل وہی کہا جس کے سننے کی مَیری کے باپ کو توقع تھی۔
“گڈ گاڈ۔”
ہاں خدا اچھا ہے۔ اتنا اچھا کہ مَیری کے باپ کے بعد ڈی گراف نے اپنی آٹھ صفحات کی بے ربط سفارشات سے بھرا ہوا خط لندن کی رائل سوسائٹی کو لکھا جس کا اُنھوں نے جواب دیا۔ رائل سوسائٹی نے اُس زمانے کے بہت سے اوہام کو غلط ثابت کیا تھا۔ جن میں سے مقبول یہ تھا کہ مکڑی ایک سینگ والے جانور کے سینگ سے بنے پوڈر کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتی۔ بے شک یہ بہت تیزی سے نکل سکتی ہے اور نکل جاتی ہے۔ لندن میں رائل سوسائٹی نے خود بھی تجربات کیے تھے۔ رائل سوسائٹی کے لوگ حیرت انگیز تھے۔ یہ سائنس دان نہ صرف ڈیلف کے عدسہ ساز میں دلچسپی رکھتے تھے بلکہ وہ اور زیادہ جاننا چاہتے تھے۔
اُس نے جو کچھ دیکھا تھا اُنھیں بتا دیا بلکہ اُنھیں ڈچ زبان میں ہر چیز کچھ بھی چھپائے بغیر، بتا دی۔ اب جب وہ اپنی خوردبین میں سے نہیں دیکھ رہا ہوتا تھا تو اُن کے سوالات کے جواب دیتا۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی محتاط تفصیل سے بیان کرتا۔ اُس نے رائل سوسائٹی کی بار بار استدعا کے باوجود اپنی طاقت ور خوردبین کو جوڑنے کا طریقہ بتانے سے صاف انکار کردیا تھا۔ اس کا انتظار کیا جاسکتا تھا۔ دُور دراز واقع لندن کے نمایاں شرفاء اب تک اُس کا اعتماد حاصل نہیں کرپائے تھے۔ وہ اُس چیز یا اُس شخص پر، جسے اُس نے دیکھا نہیں ہوتا تھا، اعتبار نہیں کرتا تھا۔
اور پھر ایک سال بعد کی ایک رات، جب چودہ روز کی مسلسل بارش کے بعد گھر میں سیلن اس قدر بڑھ گئی تھی کہ صبح تک بستر کی چادر گیلی ہوجاتی تھی، اُس نے اپنے آلے کا رخ حوض سے لیے گئے پانی کے قطرے کی جانب موڑ دیا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اُس نے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا۔ اپنی بعد کی زندگی میں اُسے اس سے زیادہ کسی چیز پر افسوس نہیں ہوا کہ اُس نے بہت سے سال مُردہ اور بے رُوح اشیاء کے مطالعے میں ضائع کردیے کیونکہ اُس رات اُس نے جو کچھ دیکھا وہ کسی بھی اور شے سے زیادہ حیران کُن تھا۔ ہاں، یہ وہ غذا تھی جسے حیرت تلاشتی ہے یعنی زندگی۔
رائل سوسائٹی کو لکھتے وقت اُس نے اپنے جذبات قابو میں رکھنے کی کوشش کی؛
“میں نے نہایت استعجاب سے دیکھا کہ اُس میں بہت سے چھوٹے چھوٹے جانور نہایت حیران کُن انداز میں حرکت کررہے تھے۔ اُن میں سے کچھ لٹوؤں کی طرح گھوم رہے تھے تو کچھ، جو بہت ہی زیادہ چھوٹے تھے، کھلبلی کے عالم میں نہایت تیز حرکت کررہے تھے وہ ناچتی ہوئی بھڑوں یا مکھیوں کے ہجوم کی مانند دکھائی دیتے تھے۔”
لیکن جب اس کی بیٹی مُیری لیباٹری میں داخل ہوئی تو جذبات پر قابُو نہ رکھ سکا۔ وہ اپنی ڈیسک سے اتنی جلدی میں اُٹھا کہ وہ اپنی روشنائی کی دوات گرا بیٹھا۔ سیاہی نے اُس کے نامکمل خط پر بکھر کر بُوٹ جیسی شکل اختیار کرلی۔ سیاہ سیال خوبصورت تھا کہ سیال ہی زندگی ہے۔ اپنی خوردبین کے ذریعے وہ تمام سیال مادوں کا معائنہ کرے گا کنویں کے پانی، نہر کے پانی، چینی ملے پانی، تھوک، منی، خون ۔ وہ دنیا کے ہر قسم کے سیال کی تحقیق کرے گا۔
وہ اپنی بیٹی کی طرف دوڑا، جو ٹرے کو شراب کی بوتل کے ساتھ ٹھیک کرکے رکھ رہی تھی کہ اُس سے پہلے ہی اُس نے اُسے پکڑ لیا۔ “مَیری!” اُس نے سسکی لے کر اپنا چہرہ اُس کی گردن میں گُھسا لیا۔
کیا وہ رو رہا تھا؟ مَیری حیران تھی کہ کیا وہ بالآخر اپنے حواس میں لوٹ آیا ہے اور جان گیا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو نظر انداز کررہا ہے؟ کیا یہ ندامت کی اذیت تھی؟ نہیں ۔ جب اُس نے اپنا چہرہ اُٹھایا تو مُیری نے محسوس کیا کہ وہ تو اپنے بچے کھچے حواس بھی کھو بیٹھا ہے۔ وہ ایک چھوٹے قد کا شخص تھا اور وہ ایک لمبی عورت تھی کہ اپنی بلوغت کے دنوں ہی میں وہ اُس سے اُونچی ہوگئی تھی۔ اُس نے سر جھکا کر اُسے دیکھا۔ وہ ہنس رہا تھا۔ اُس کے ہونٹ پیچھے کی طرف یُوں کھنچے ہوئے تھے جیسے دھاگے سے کھینچے گئے ہوں۔ مُیری کو اُس وقت یُوں لگا جیسے اُس کا چہرہ لکڑی اور ویلوٹ کی بنی ایک پُتلی کا چہرہ ہو اور ہنسی کی آواز کمرے کے پار سے کسی اور جگہ سے کسی اور شخص، کسی اجنبی، اندھیرے میں چھپے کسی شیطان کے مُنھ سے نکل رہی ہو جو اُس کے باپ کی جگہ اُس کے باپ کو ڈھونڈنے کو کوشش کی تو وہ جیسے ہی بولے گا وہ اُسے ہمیشہ کے لیے کھودے گی۔
“مُیری ،پیاری مُیری، مجھے ایک آنسو دے دو۔”
آہ، کس قدر دردناک آواز تھی۔وہ کس قدر ترحم آمیز شخص تھا۔ وہ سدا کا پاگل تھا۔ اُس کے ٹھیک ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اِسی لیے اُسے کبھی پشیمانی نہیں ہوئی۔ اُسے اُسی وقت اُس سے نفرت ہوگئی۔ اُسے اُس کے ساتھ اپنے کیے پر کبھی نہ تو ندامت ہوئی اور نہ ہی وہ اُس نے اسکے لیے کیا، کبھی شکر گزار ہوا۔وہ اب بھی اپنے باپ کے لیے یا اُس آسیب کے لیے، جس نے اُس پر قبضہ جما رکھا تھا، احساسِ ذمہ داری رکھتی تھی۔ بغیر احساسِ ذمہ داری کے وہ کچھ بھی نہیں تھی۔ یہی اُس صدی کا المیہ تھا جو اُس کا یا اُس کے باپ کا قصور نہیں تھا۔ وہ اِس احساسِ ذمہ داری کو نہیں اُس کی خود غرضی کو موردِ الزام ٹھیراتی تھی۔ ہاں، اُس کی خود غرضی جس کی وجہ سے وہ اُس جنونی، اُکتا دینے والے لکڑی کے کھلونے نُما آدمی سے نفرت کرتی تھی۔
اُس نے اسے دکھیل کر پرے کرنے کی کوشش کی۔
“مُیری !” اُس نے اس کا چہرہ پکڑ لیا۔ اپنے ہونٹ اُس کے لبوں پر لایا۔ اُس نے اُس کا بوسہ لیا لیکن یہ بوسہ ویسا نہیں تھا جیسا ایک باپ اپنی بیٹی کا لیتا ہے بلکہ یہ کسی شیطان کی سی بوس و کنار تھی۔ مَیری نے خُود کو چُھڑانے کی کوشش کی۔ باپ نے اپنی باریک گرم زبان پر اُس کا ذائقہ محسوس کیا۔ چند خوفناک لمحوں تک وہ اُسے روکنے میں ناکام رہی۔ پھر وہ باپ بیٹی ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے جُدا ہوئے اور ایک دوسرے کو حیرت اور پریشانی سے آئینے میں بنے عکسوں کی طرح دیکھنے لگے۔
ابھی کیا ہوا تھا؟
مُیری نے پہلے جانا۔ اُس حرکت نہیں کی۔ بس اپنی آنکھیں بند کر لیں تاکہ وہ اُسے دیکھ نہ سکے اگلے ہی لمحے اُس کا باپ بھی سمجھ گیا۔ بے بسی سے مُیری کی طرف دیکھتے ہوئے وہ سمجھ گیا تھا اور شرمندہ تھا۔لیکن اُس کی شرمندگی جھلملا کر ہوا ہوگئی جب اس نے وہ چیز دیکھی جس کی اسے شدید خواہش تھی۔ ایک بڑا، دُودھیا آنسو جو اُس کی بند پلکوں سے نکل کر اُس کے گال پر بہہ رہا تھا۔ “اوہ ۔۔ فراخ دل مَیری!”
اُس نے آنسوؤں کو اپنے انگوٹھے کے سرے پر لے کر اُسے نمونے کی سلائیڈ پر منتقل کردیا۔ اُس نے سلائیڈ کو میز پر ٹھیک سے رکھا۔ جب وہ عدسوں کو لگا رہا تھا تو مَیری لیباٹری سے نکل گئی۔ اُس نے اُسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ہر چند کہ اگر وہ اُس کا باپ ہوتو تو وہ اپنی شرم و حیا کے سینکڑوں گُنا بڑھے ہوئے اس اظہار کے پہلو سے کبھی صرفِ نظر نہ کرتا۔ جذبات سے مغلوب ہو کر اُس نے فیصلہ کیا کہ اگر وہ واپس آگئی تو وہ اُسے اس غیر معمولی پیکر کو نظریں چُرا کر دیکھنے دے گا۔ وہ دوبارہ سلائیڈ کے قریب گیا۔ اُس نے غیر شفاف آنسو کو موم بتی کی روشنی میں آگ کا لاثانی رنگ لیے ہوئے دیکھا۔ وہ اُسے دھاتی پلیٹوں کے بیچ بمشکل اپنے بُری طرح کانپتے ہوئے ہاتھوں سے رکھنے میں کامیاب ہوا۔ آنسو کا معائنہ کرنے سے پہلے ہی اُس نے اپنے ذہن میں وہ خط ترتیب دینا شروع کردیا جو اس نے رائل اکادمی کو لکھنا تھا۔ “مختلف قسم کے جانوروں کی ناقابلِ یقین تعداد جو نہایت دلکش انداز میں حرکت کرتی ہے۔ وہ سامنے، پیچھے اور دائیں بائیں قلابازیاں کھاتے ہیں ۔”یہ ایسے شخص کے الفاظ تھے جس کے پاس نہ تو دولت تھی اور نہ شہرت لیکن وہ غیر معمولی طور پر کامیاب تھا اور اُسے نہایت حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین کہانیاں سُنانے کی آزادی حاصل تھی۔ اُس کی ایجاد کا یہ لافانی اثر تھا کہ اُس نے ہمیشہ کے لیے عقیدے کی رُوح کو بدل دیا۔ ننگی آنکھ سے نظر نہ آنے والی کسی بھی شے پر زیادہ اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ ہر شے کی اپنی ایک خفیہ خوردبینی زندگی ہے۔ جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، لیکن چیزوں کو حجیم کردینے کے اُس ماہر نے اُسے قابلِ بصارت بنا دیا تھا۔
مختلف قسم کے جانداروں کی ناقابلِ یقین تعداد جو نہایت دلکش انداز میں حرکت کرتی ہے۔ بھوت اور آسیب کا تصور پانی کے ایک قطرے میں زندہ ان ہزاروں چھوٹے چھوٹے جانداروں کے مقابلے میں پھیکا پڑگیا تھا۔ اُس کے تمام دریافت شدہ باریک بین عجائبات میں آنسو میں بسی کائنات سب سے زیادہ تعجب انگیز تھی۔ عدسے میں اس سے زیادہ حیران کُن شے کبھی نہیں دیکھی جاسکی۔ ڈیلف کے عدسے ساز کے نزدیک زندگی کی دریافت اور تخلیق میں کوئی فرق نہیں تھا۔– انتخاب و کمپوزنگ: یاسر حبیب
(1) Reinier de Graaf – a prominent Dutch physician
—————————-

”نوٹ: اس کہانی کا مرکزی کردار مشہور ڈچ سائنسدان Antonie Philips van Leeuwenhoek ہے۔ جو سائنس کی دنیا میں Father of Microbiology کہلاتا ہے۔ 24 اکتوبر 1632ء میں اس وقت کی ڈچ ریبلک کے شہر ڈیلف میں پیدا ہوا۔ مائیکرو سکوپی ، اور مائیکرو بائیلوجی اسکی بنیادی فیلڈ ہیں۔ 90 سال کی عمر میں 26 اگست 1723ء میں ڈیلف میں ہی وفات پاگیا۔ اس نے اپنی پوری زندگی اس شعبہ میں لگا دی پر کبھی باقاعدہ کوئی ریسرچ پیپر شائع نہیں کیا۔ وہ تنہا کام کرنا پسند کرتا تھا۔ کسی پر بھروسہ نہیں کرتا تھا۔ نہ کسی کی مدد لیتا تھا۔ اس نے 190 خطوط “رائل سوسائٹی آف لندن ” کو لکھے۔ یہ خطوط ہی اس کے کام سے متعلق تحریری مواد ہیں۔۔ جوائینا سکاٹ کی اس کہانی سے بخوبی اس سائنسدان کی زندگی کو سمجھا اور جانا جاسکتا ہے۔ اس کہانی کو مصنفہ کی ہسٹوریل انسپائیریشن سمجھنا چاہیئے۔ جو یقینی طور پر سائنسدان کی حقیقی کہانی نہیں کہی جاسکتی۔ (یاسر حبیب)

Original title: “Concerning Mold Upon the Skin, Etc”
Written by: Joanna Scott (born 1960) is an American author and Roswell Smith Burrows Professor of English at the University of Rochester.


بشکریہ

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)افسانہ نمبر 34 : دریافتتحریر: جَواَینا سکاٹ (امریکہ)مترجم: نجم الدین احم…

Posted by Yasir Habib on Monday, February 20, 2017

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo