پشتو سے ترجمہ اگر یوں ہوتا (تاج رحیم) پروفیسر…

[ad_1] پشتو سے ترجمہ
اگر یوں ہوتا
(تاج رحیم)

پروفیسر صاحب کا گھر آج بھی میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ یہ بھی عجیب لوگ ہیں لڑائی جھگڑے سے تھکتے بھی نہیں جیسے ان کو اور کوئی کام ہی نہ ہو۔دن رات میدان جنگ گرم رہتا ہے ۔ میں نے سوچا آج غور سے ان کی باتیں سنتا ہوں کہ آخر پتہ تو چلے کہ ہر وقت لڑائی جھگڑےکو اپنا فل ٹائم مصروفیت کیوں بنا رکھا ہے۔تو ڈائیلاگ کچھ یوں سنائی دئیے :
پروفیسر :اس پلنگ کا تم نے بیڑہ غرق کردیا۔ دن رات اس پر پڑی رہتی ہو۔ جیسے تمہیں دنیا کا اور کوئی کام نہیں۔ پھولتی جا رہی ہو۔ روز تمہارے وزن میں دو کیلو کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
بیگم :اس میں میرا کیا قصور ہے۔سب تمہارا کیا دھرا ہے اور سزا میں بھگت رہی ہوں ۔ تمہارا کیا ہے ۔ کالج جاکر سٹوڈنٹس کو دو چار بے تکی باتیں سنا کر گھر آجاتے ہو اور کہتے ہو آج بہت کام کیا تھک گیا ہوں۔ یہ بچے پیدا کرنا تمہارے سر ہوتا تو تمہیں پتہ چل جاتا۔
پروفیسر :کیا بچوں کی رٹ لگا رکھی ہے۔ دنیا کی تمام عورتیں بچے جنتی ہیں ایک تم ہو جو اس کام سے بیزار ہو ۔اور تو کوئی شکایت نہیں کرتی۔
بیگم : تم ایک بچہ جن کر دکھاؤ تو تمھا رے ہوش ٹھکانے آجائیں۔
پروفیسر :ایک کیا سو جن کے دکھاتا مگر اللہ نے یہ کام عورت کو دے رکھا ہے کیونکہ عورت کو اور کوئی کام ہی نہیں۔
ان کے لڑنے جھگڑے کا سبب تو سمجھ گیا۔ مگر یہ بھی کوئی لڑنے کی بات ہے۔ یہ تو خوشی کی بات ہے۔ مگر پھر ایک سوچ نے گھیر لیا کہ اگر یہ کام سچ مچ مرد کے گلے پڑ گیا تو کیا ہوگا؟ میں تو ہر گز شادی نہیں کرونگا ۔ اسی سوچ میں تھا کہ پروفیسر کا بڑا بیٹا دوڑتا ہوا آیا ۔ مجھے کھینچنے لگا کہ بھائی جان جلدی کریں ۔ اپنی گاڑی نکالیں اور ابو کو ہسپتال لے جائیں وہ بہت تکلیف میں ہیں۔میں نے فٹا فٹ گاڑی نکالی اور ان کے گیٹ پر لے آیا۔ اس کے بیٹے نے سہارا دے کر پروفیسر کو پچھلی سیٹ پر بٹھا کر کہا ہسپتال پہنچو۔راستے میں ان سے پوچھا، “پروفیسر صاحب خیریت تو ہے نا؟
” اندھے ہو ۔ نظر نہیں آتا ۔ ”بڑے غصے میں جواب دیا ۔“بے بی آرہا ہے۔ جلدی میٹرنٹی وارڈ پہنچو“ اس وقت مجھے بات کی پوری سمجھ نہیں آئی ۔ میں یہ سمجھا کہ ان کی بیگم صاحبہ میٹرنٹی وارڈ میں داخل ہے۔مگر جونہی میں نے ایمرجنسی میں کار روکی تو ہسپتال کے کارندے آئے اور پروفیسر صاحب کو سٹریچر رہڑی پر ڈال کر چل دئیے۔میں نے دیکھا کہ پروفیسر صاحب کا پیٹ پھولا ہوا ہے۔ میں پھر بھی نہ سمجھ سکا کہ یہ بے بی کہاں سے اور کس راستے آرہا
ہے۔میرا سر گھوم گیا کہ بیگم کی بجائے پروفیسر کیسے؟ اور وہ بیگم کو کیا ہوا اس نازک موقعہ پر کہاں ہے؟ اسی سوچ میں میٹرنٹی وارڈ میں پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وارڈ کے ہر بیڈ پر مرد حضرات ابھرے ہوئے پیٹ لئے لیٹے ہیں ۔ ایک مرتبہ پھر میرا سر گھوم گیا۔ اپنے آپ سے کہا، یا اللہ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں کہیں یہ خواب تو نہیں۔ یہ تو عورتوں کی جگہ ہے یہ سارے مرد یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ ڈیسک کے پیچھے کرسی پر سفید وردی میں بیٹھی نرس سے پوچھا کہ یہ وارڈ مردوں سے کیوں بھرا پڑا ہے؟ تو کہنے لگی تم کیا کہنا چاہتے ہو کہ یہاں عورتوں کو ہونا چاہئے ۔ تم ہوش میں تو ہو؟ عورتوں کا یہاں کیا کام؟ میں نے مزید حیران ہو کر پوچھا تو کیا یہ بچے مرد ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میری طرف حیرت سے دیکھ کربولی تم کسی اجنبی دنیا سے تو نہیں آئے ہو جو یہ پوچھ رہے ہو۔ میں گہری سوچ میں پڑ گیا کہ آنکھ جھپکتے یہ دنیا کیسے بدل گئی ۔لگتا ہے مردوں پراللہ کا کوئی عذاب نازل ہو گیا ہے کہ اسے اب زچہ بچہ کا فریضہ بھی سرانجام دینا پڑ گیا ہے۔چند گھڑیاں پہلے تو یہ ڈیوٹی عورتوں کی تھی۔دل میں خیال آیا کہ یہ عذاب شہر کے مردوں پر نازل ہوا ہے ۔ یہ شہر چھوڑ کر یہاں سے کہیں دور بھاگ جاؤں۔ اور میں شہر سے بھاگ کر گاؤں آگیا۔ رات کا اندھیرا تھا جب میں گاؤں پہنچا۔ سو گیا ۔صبح اٹھا تو دوپہر ہو چکی تھی۔چائے ناشتے کے بعد آرام سے گاؤں کے حجرے میں آیا۔ بہار کا موسم تھا ۔نہ گرمی، نہ سردی، دھوپ کا مزہ ہی مزہ دینے لگا۔ حجرے میں کچھ لوگ موجود تھے مگر سب ہی چارپایوں پر لیٹے ہوئے تھے۔ ”گل محمد چاچا کی آواز کانوں میں پڑی ی۔“ پخیر ایاز بیٹا۔ بہت دنوں بعد گاؤں آئے ہو۔ ادھر پاس آؤ بیٹھو شہر کی نئی تازہ سناؤ ا دھر ادھر غور سے دیکھا تو ہر شخص اپنی موٹی توند ِننگی کرکے اس پر ہاتھ پھیر رہا ہے ۔یہ گاؤں کا حجرہ نہیں بلکہ ہسپتال کا میٹرنٹی وارڈ لگ رہا تھا وہی سماں تھا۔ سوچا وہ وبا تو یہاں بھی پہنچ چکی ہے ۔ ان کے درمیان کچھ یوں باتیں چل رہی تھیں
میر وس خان ،علی محمد سے پوچھ رہا تھا“ تمہارے کتنے دن رہ گئے ہیں ؟
علی محمد نے جواب دیا“ڈاکٹر کہتا ہے بس یہی کوئی دس بارہ دن کی بات ہے ہسپتال میں بیڈ رکھوا لیا ہے کہو تمہارا کیا پروگرام ہے ؟ ”
۔“مجھے تو ابھی پورا مہینہ پڑا ہے۔ میں ہسپتال نہیں جاتا۔ وہاں جو لیڈی ڈاکٹر ہیں نا، جب وہ پیٹ پر مالش کرتی ہیں تو مجھے بڑی گدگدی ہوتی ہے۔ میرے ساتوں بچے گھر پر ہی پیدا ہوے ہیں
سارے مرد بڑے مزے سے چارپائیوں پر لیٹے، ابھری ہوئی توندیں ننگی کرکے دھوپ سینک رہے تھے ۔ایک نے کہا یہ دھوپ سے جو وٹامن ملتی ہے بچوں کی صحت کیلئے بہت مفید ہوتی ہے اور مزے کی بات کہ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی، سب مفت ۔ سڑک پر نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہوں کہ گاؤں کے بڑے خان صاحب ابھری توند کے ساتھ، گلے میں ریوالور لٹکائے یوں چل رہا ہے جیسے کار کا ایک پہیہ پنکچر ہو۔ لڑکیوں کا ایک گروپ ریمارکس پاس کرتے قریب سے گزرا“ ذرا خان کی توند ملاحظہ ہو۔ اسے کوئی اور کام نہیں۔ عمر دیکھو اور حالت دیکھو ۔ شرم بھی نہیں آتی۔ ایک کرکٹ ٹیم تو پہلے مکمل کرچکا ہے اب دوسری کی تیاری ہے ۔ اللہ معاف کرے یہ مردوں کے چونچلے ہیں کہ بچے پہ بچہ پیدا کئے جا رہے ہیں پھر بھی چین نہیں آتا“

جمعے کا دن تھا اذان ہو چکی تھی سوچا زمین پر کوئی ایسی جگہ ہے جہاں بھاگ کر چلاجاؤں۔ اللہ کے گھر، مسجد ہی جاکر شائد سکون مل جائے۔یہی سوچ کر مسجد میں داخل ہوا دیکھا تو مولانا صاحب ممبر پر تشریف فرما تھے اور خطبہ فرمانے میں مصروف تھے ۔ موضوع بھی بچوں کی پیدائیش اور مردوں کے حوصلے اور ہمت پر تھا۔ فرما رہے تھے“ یہ اللہ پاک جل َ شان ہو کا َ بہت بڑا احسان ہے مرد کے اوپر کہ بچے پیدا کرنے کا فریضہ اسے بخشا ہے ۔ اور ساتھ ہی جو حوصلہ اور صبر دیا ہے وہ صنفِ ِ نازک کے پاس کہاں ۔ روزاول سے ہی یہ مشکل فریضہ حضرت آدم علیہ السلام کو بخشا کہ مائی حوا کو ان کے وجود سے پیدا کیا ۔
ایک نئی روح اور نئے وجود کو دنیا میں لانے کے لاکھوں ثواب مرد کے حصے میں ڈال دئیے ۔ اور جو شخص جتنے زیادہ بچے پیدا کریگا تو وہ بچے روز قیامت اس کی مغفرت کا سبب بنیں گے ۔ ِ
عورت کی بد قسمتی ہے کہ اسے اس نعمت سے محروم کر دیا ہے۔“
مولوی حضرات کی توندیں تو ویسے ہی کچھ صحتمند ہوتی ہیں ۔ مولانا صاحب کو ذرا غور سے دیکھا تو ِ میرے منہ سے بے اختیار نکلا کہ مولانا صاحب تو ماشا اللہ پر امید ہیں۔
یہ نظارہ دیکھ کر ایک دم مسجد سے نکل کر دوڑ لگائی ۔کس سمت دوڑ رہا ہوں ، کہاں جا رہا ہوں ، کہاں جاکر رکونگا، منزل کہاں ہے ۔ بس ایک سوچ لے کر دوڑ رہا تھا کہ یا اللہ یہ میں کونسی دنیا میں پھنس گیا ہوں جہاں یوں بھی ہوتا ہے دوڑتے دوڑتے ایسی جگہ پہنچا جہاں زمین ختم ہوگئی ۔ رکا پھر بھی نہیں اور ایک چیخ کے ساتھ خلا میں چھلانگ لگا دی۔ پھر ایک دم ایک چٹان سے جسم ٹکرایا ۔ دیکھا تو میں پلنگ سے نیچے فرش پر پڑا تھا ۔ اٹھا اللہ کا شکر ادا کیا ۔
گھر سے باہر نکلا اور پروفیسر صاحب کے گھر کی طرف چلا ۔ گیٹ کی گھنٹی بجائی ۔ پروفیسر صاحب گھر سے نکل کر گیٹ پر آئے تو میں نے بڑے غور سے ان کو سر سے پیر تک دیکھا ۔ اچھا بھلا سمارٹ تھا اور ان کے وجود میں کہیں بھی کسی بچے کے آثار نہیں تھے ۔ پھر بھی ان سے پوچھ لیا کہ پروفیسر صاحب طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟
جواب میں کہنے لگے “ میری طبیعت کو کیا ہوا ٹھیک ٹھاک ہوں البتہ تمہاری طبیعت کچھ ناساز لگ رہی ہے
“میں سمجھا تھا آپ کے ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”
“کیا مطلب؟ ” ۔
“کچھ نہیں سر ۔ سب خیریت ہو گئی ”

**********
بشکریہ

پشتو سے ترجمہ اگر یوں ہوتا (تاج رحیم) پروفیسر صاحب کا گھر آج بھی میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ یہ بھی عجیب لوگ ہیں لڑائی ج…

Posted by ‎آوارہ مزاج‎ on Saturday, February 10, 2018

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo