پشتو سے ترجمہ گدھے کی قربانی (تاج رحیم ) …

[ad_1] پشتو سے ترجمہ
گدھے کی قربانی
(تاج رحیم )
” اس گدھےکو دیکھو ہمارا مذاق اڑا رہا ہے“
پاس کھڑے دنبے نے بکرے سے کہا تودنبے نے جواب دیا ”کیوں نہیں گدھا جو ہوا“
”ذرا اس دنبے اور بکرے کو دیکھو ان کو میری ہنسی پر اعتراض ہےِ۔ تو کیا رو لوں ۔ کل کو ان کی قربانی ہوگی ان میں اس قدر ہمت نہیں کہ کچھ شور مچائیں ، چیخیں ، چلائیں، پیر ٹپکیں، بس چارہ یوں کھائے جارہے ہیں کہ ابھی پیٹ بھر لو چاہے کل کو قصائی اس بھرے پیٹ کو چاک کر دے ِ“۔
میں نےاور زور سے ہنہنا کر جواب دیا ۔ ـ ـ ” ہنسوں نہ تو ا ور کیا کروں میری یہ ہنسی اصل میں ہنسی نہیں تمہاری بے حسی پہ رونا ہے ۔ تم میں خود ہی احساس نہیں اسلئے مجھے ہنسی آتی ہےــ“ ۔
دنبے نے جواب ديا “ تم کس احساس اور غيرت کي بات کر رہے ہو ۔ مجھے قربان کردینگے تو تم کہاں بچ کر جا وگے ؟“
میں نے فوراــ جواب دیا ” میں گدھا ہوں اور گدھا قربانی کے جانوروں کی لسٹ میں شامل نہیں ہے گدھے کا گوشت تو شیر بھی ہضم نہیں کر پاتا اسے بھی دست لگ جاتے ہیں اور چھپنے کو جگہ نہیں ملتی ۔ انسان میرا گوشت کھانے کا کیسےسوچ سکتا ہے؟“
میری گدھا گاڑی کے قریب کھڑے دنبے نے میر ہنہناہت اور میری باتوں کا برا منایا ۔ اس منڈی میں ڈیڑھ دو ہزار دنبے اور بکرے تھے ۔ اور تمام بکاؤ مال تھا سوائے میرے ۔ میں نہ تو دنبا ہوں نہ بکرا بلکہ اصلی خاندانی گدھا ہوں ۔ میری گاڑی کا مالک ان بے حس جانوروں کیلئے سبز چارہ لاتا ہے اور یہاں بیچتا ہے تاکہ ان جانورں کے پیٹ پھولے رہیں اور ہڈیاں نظر نہ آئیں تاکہ خریدار آسانی سے دھوکہ کھا سکے ۔
سچ بات تو یہ ہے کہ انسان اور گدھا آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ خالق نے مجھے اس سرزمین پر پیدا کیا ہے اور مکمل پیدا کیا ہے جبکہ انسان کو جنت میں پیدا کیا ۔وہ ابھی پوری بلوغت کو نہیں پہنچا تھا کہ شیطان نے بڑی آسانی سے ورغلا دیا اور وہاں سے نکال دیا گیا ۔ جب زمین پر اترا تو میرے سمجھانے اور مدد کے ساتھ یہاں ٹٗک گیا ۔ ورنہ یہ بھی آج ان بھیڑ بکریوں کے ساتھ سر جھکائے اس منڈی میں فروخت کیلئے کھڑا ہوتا ۔ اور اسے کھانے پینے کا طریقہ سکھایا کہ کب تک میری طرح گھاس اور سبزے پر گزارہ کروگے ۔شیر کی مانند ان بھیڑ بکریوں پر ہاتھ صاف کرنا سیکھو تاکہ پیٹ بھرا رہے ۔
اس میں تھوڑی بہت عقل تھی اسلئے میری بات مان گیا ۔ اور بھیڑ بکری کا گوشت بھی اسے راس آگیا ۔ پھر جب ٹوٹی پھوٹی مسلمانی ہاتھ آگئی اور قربانی کا طریقہ بھی سیکھ لیا تو آج یہ منڈیاں بھیڑ بکریوں سے بھر گئیں۔
گزشتہ عید پر مالک نے مجھے اور میری گاڑی کو ایک مسجد کے قریب کھڑا کیا اور خود نماز پڑھنے اندرچلاگیا
مولانا صاحب ، ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے کی قربانی کی داستان چیخ چیخ کر سنا رہے تھے ۔ کہ میرا دل ڈوبنے لگا ۔ اور جب مولانا صاحب اس مقام پر پہنچے کہ اللہ نے بیٹے کی جگہ دنبا ڈال دیا تو مجھے سکون آگیا ۔ اس کے بعد مولانا صاحب نے پل صراط کا قصہ چھیڑ دیا ۔ کہ روز قیامت قربانی کے یہ جانور پل صراط پار کرانے میں سواری کا کام دینگے ۔ لو ، گل کرلو ۔ مولانا صاحب کی اس بات پر تو اتنی ہنسی آئی ، اتنی ہنسی آئی کہ پیٹ میں بل پڑ گئے ۔ یہ بھیڑ کا بچہ ، یہ بکری کا بچہ ، پل صراط کا پل پار کرانے میں سواری کے کام آئینگے ! آپ کے پورے خاندان کو پیٹھ پر بٹھا کر جنت لے جائینگے ۔ میں سوچنے لگا کہ یہ مولانا صاحب سچ مچ کا مولوی ہے یا کوئی کومیڈین ہے ۔ سواری کیلئے تو اللہ نے مجھے اور میرے بڑے بھائی گھوڑے کو پیدا کیا ہے یہ بھیڑ بکریاں کہاں سے آٹپکیں ، یہ تو خوراک کے جانور ہیں سواری کے نہیں ، مولانا صاحب کہیں رات کے اندھیرے میں گدھے کے بچے پر سوار ہو گئے ہونگے اور اسے بکرا سمجھ لیا ہوگا ۔ یہ بکرے پر سوار ہو کر ذرا جنت پہنچ کر دکھا د ے ۔ پل صراط کے عین بیچ میں پہنچ کر نیچے دوزخ میں نہ پٹک دیا تو میرا نام گدھا نہیں ۔میں جب اس بکری کے بچے کو دیکھتا ہوں اور مولانا کی اس موٹی توند کو تو بے اختیار میری ہنسی چھوٹ جاتی ہے ، خوب ہنہنا لیتا ہوں ۔ اگر اس موٹی توند کو ایک دو لتی جڑھ دوں تو دوزخ پار پہنچا دوں ۔آ ج کے مسلمان نے کوئی نیک کام کیا ہو تو جنت جائے ۔ اسی لئے پل صراط کا سوچ کر ہی اس کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں اپنے پیروں پر چل کر جانے کی ہمت نہیں تو بھیڑ بکریوں کی سواری کا سوچتا ہے ۔ کاش کہ انسان کو معمولی سی عقل ہوتی تو اپنے ساتھ مذاق نہ کرتا ،
اللہ پیغمبروں کو بھی آزمائش میں ڈالتا ہے ِ۔ اگر یوں نہ ہوتا جیسا کہ ہوا اور اللہ کو کچھ اور منظور ہوتا تو آج ان منڈیوں میں بھیڑ بکریوں کی بجائے مسلمان بکاؤ مال ہوتا ۔ توبہ میری !اللہ ۔ تو اپنے کام بہتر جانتا ہے ۔ ورنہ انسان میں اتنی عقل کہاں ۔ چل پڑے تو بھیڑ بکریوں کی مانند دائیں بائیں نہیں دیکھتا بلکہ ناک کی سیدھ ہی کو صراط مستقیم سمجھ کر چلتا چلا جاتا ہے ، میں اللہ کا بے حد شکر گذار ہوں کہ اس نے مجھے نہ تو انسان بنایا ہے اور نہ ہی قربانی کا جانور ۔ بلکہ گدھا بنایا ہے ۔اگر قربانی کا جانور بنا دیا ہوتا تو آج مسلمانوں کی چھری میری پوری نسل کو ختم کر چکی ہوتی ۔
انسان نے مجھے خوا مخوا بدنام کر رکھا ۔ کہ خدا گدھے کو سینگ نہ دے ۔ میں نے سینگ مانگے ہی کب ہیں ۔ میں تو اللہ کی تمام تخلیق میں بے ضرر اور انتہائی صلح پسند مخلوق ہوں ۔ زمین کی پوری تاریخ میں کوئی ایک مثال پیش کر دوکہ میں نے کسی جاندار کی جان لی ہو ۔اور یہ انسان ! اس کے ظلم اور قتل و غارت کے قصے کہیں رکنے کو نہیں آتے ۔
میں کسی جاندار کا گوشت نہیں کھاتا ۔ کسی سے چھین کر نہیں کھاتا۔ گھاس سبزہ چر لیتا ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ۔ نہ ملے تب بھی خاموش رہ کر اللہ کے شکر سے غافل نہیں ہوتا ۔ میں کسی سے کبھی کچھ مانگتا بھی نہیں ۔ مجھ جتنا صابر اور مستقل مزاج شاید ہی کوئی اور مخلوق ہو۔ میرا دل ہر کسی کیلئے ہمیشہ خدمت اور پیار و محبت کے جذبے سے سر شار رہتا ہے ۔ میں اسی بات پر خوش رہتا ہوں ۔
مگر یہ انسان نہ میری قدر کرتا ہے ، نہ عزت ۔ یہ دوسرے انسانوں کی قدر اور عزت کرنا نہیں جانتا تو میری خاک عزت کرے گا ۔ میں نے تمام عمر انسان سے محبت کی ہے خدمت کی ہے اور اس کے، ہر ظلم اور زیادتی کو بخوشی برداشت کیاہے۔ اس کے آرام اور خوشی کی خاطر اپنی تمام زندگی قربان کردی ہے مگر کیا کہوں یہ انسان ، انسان کی اولاد ہی نہیں اور نہ ہی اس میں ذرہ بھر انسانیت ہے ۔ کبھی نہ ہوا کہ ایک وقت اچھی خوراک ہی کھلا دے ۔ چنو سے بھری ایک ٹوکری سامنے رکھ دے ۔ میرے جسم پر خارش کر دے، تھوڑی دیر کیلئے مالش کردے ۔ مگر ایسا کیوں کریگا ۔ اس کو تو اپنے پیٹ سے غرض ہے اور میرے گوشت سے اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا ۔
میں گدھا ہوں مگر انسان سے زیادہ حساس، وفادار، اور عقل مند ہوں ۔ اس نے ہزاروں بھیڑ بکریوں کو جمع کر کے قربانی کی منڈیاں سجا رکھی ہیں ۔ یہ غریب جانور اس کی نیت اور ارادوں کو بخوبی سمجھتے ہیں مگر ان میں کچھ کرنے کا حوصلہ اور جراَت نہیں ۔ خداترسی سے محروم یہ انسان ذرا جرات کر کے کوئی ایک ہزار گدھوں کی منڈی لگا کر تو دکھائے ۔ پھر دیکھیے کہ یہ گدھوں کی خر مستی کے سامنے کتنی دیر ٹکتا ہے ۔ آپ نے دنیا بھر میں کہیں گدھوں کی منڈی دیکھی ہے؟
اصل میں انسان اب تک بالغ نہ ہو سکا۔ نہ تو اس میں پیار محبت کا جذبہ پیدا ہو سکا نہ ہی انسانیت کا ۔ ظالم ہے، بے رحم ہے، پیار و محبت اور مخلوق خدا کی خدمت کا جذبہ تو اس کی فطرت میں سرے سے نہیں ۔ اگر ہم گدھوں کی عقل اور جذبے کا دسواں حصہ بھی اس کی فطرت میں ہوتا تو ایک دوسرے سے نفرت ، یہ جنگ و فساد، تباہی اور بربادی نہ ہوتی ۔ بلکہ امن و امان ، پیار و محبت اور ہر سو خوشیاں ہی خوشیاں ہوتیں ۔ یہ دنیا ایک جنت ہوتی ۔
یہ تو ہمارا قربانی کا جذبہ اور انسان کے ساتھ محبت کا جذبہ ہے کہ اس کی مار کٹائی برداشت کر رہے ہیں ۔ ورنہ میری ایک دولتی کے سامنے ٹہر نہیں سکتا ۔

ّّّّّّّّّّّّ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
بشکریہ

پشتو سے ترجمہ گدھے کی قربانی(تاج رحیم ) ” اس گدھےکو دیکھو ہمارا مذاق اڑا رہا ہے“پاس کھڑے دنب…

Posted by ‎آوارہ مزاج‎ on Monday, February 5, 2018

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo