افسانہ “غازی یا غدار۔۔۔۔۔۔؟؟” (براہوئی ادب سے۔۔۔۔…

[ad_1] افسانہ

“غازی یا غدار۔۔۔۔۔۔؟؟”
(براہوئی ادب سے۔۔۔۔۔۔۔۔)

تحریر: رحیم زام
ترجمہ: عتیق آسکوہ بلوچ

ذمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا، حقیقت کسی کو معلوم نہیں، کوئی کہتا ہے کہ اس کے دوست اسے پہاڑوں، وادیوں کے بیچ لے جاکر موت کے آغوش میں چھوڑ آئے ہیں۔ کوئی توبہ توبہ کرکے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ “آخر لوگوں کے ساتھ اس نے کیا کیا تھا کہ اسے ایسے دن دیکھنے پڑے!”

اسی طرح بہت سے لوگ اس کے گھر والوں کو تسلی دینے کے لئے بھی جاتے تھے لیکن جب اس کے گھر سے واپس جارہے ہوتے تو لوگ یہی باتیں کرنے لگتے کہ کچھ نہیں ہوا ہے ان کے بیٹے کو، کوئی آفت نہیں آن پڑی ہے اس پر، بس یہی گھر کے جھگڑوں، یہی بے روزگاری کے طعنوں سے بیزار ہوکر گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ خیر جتنے منہ انتی باتیں، کبھی لوگ اس کے خلاف باتیں کرتے، تو کبھی اس کے حق میں، اسی شب و روز گذرتے گئے۔

لوگ اپنی وقت گذاری کی خاطر ان کے گھر جاتے، کوئی خاص بات نہ کرتے لیکن اس کے گھر والوں کے زخموں کو تازہ ضرور کر جاتے، اب ایک سال گذرنے کے بعد کسی کو اس کے گھر والوں کے درد و غم سے کوئی سروکار نہیں رہا،ہر کوئی اپنے زندگی میں مگن، اپنے غم روزگار میں مبتلا اسے بھول گئے۔

اس کے گھر میں ہزاروں مرادیں دل میں رکھے، اس کی ماں بھی تھی جو اپنی زندگی کے آخری دنوں کو گذار رہی تھی، جو اپنے بچے کے خوشیوں کی جگہ اس کے اس طرح زندہ درگور ہونے پر صرف غم کے آنسوں بہا رہی تھی۔اسی طرح اس کی چھوٹی بہنیں ہر وقت پوچھتی رہتیں کہ ماں ہمارا بھائی کہاں گیا ہے؟ تو ماں جواب دیتی؛ پردیس گیا ہے تمہارے لئے چیزیں خریدے گا، گڑیاں، چوڑیاں۔ اور اس طرح اس کے چھوٹی بہنوں کو تسلیاں دیتی رہتی تھی۔

یہ تسلیاں تو چھوٹی بہنوں کے لئے کافی تھیں، لیکن بڑی بہنوں اور بھائیوں کا کیا جو ماں سے پوچھ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کا بھائی کب آئے گا، لالا کب آئے گا؟

جب یادے حد سے زیادہ بڑھ جاتی تو بہنیں اپنے دوپٹے کے پلووں سے اپنی آنسوں پونچتی رہتی اور پھر زندگی کے رسم و رواجوں میں خود کو مشغول کرتی اور خود کو تسلی دیتے ہوئے کہتیں کہ مہمان آرہے ہیں، ان کی مہمان نوازی بھی تو کرنی ہے، تیاریاں کرنی ہیں، یہی حال بھائی کا بھی تھا لیکن جانے والے بھائی کے بعد اب بڑا بھائی وہی تھا، اس پر معاشرے کا بوجھ تھا کہ وہ مرد ہے اب اسے مضبوط رہنا ہے اور سرپرست بننا ہے۔ بعض دفعہ تو بہنیں بھی اسے طعنیں مارتیں کہ تمہارے سینے میں دل نہیں بلکہ پتھر ہے، تمہیں لالا کے جانے کا کوئی غم نہیں ہے اور آنسوں بہانے کو ویسے بھی تم اپنے وقار سے باہر سمجھتے ہو لیکن وہ بھائی کو ہی معلوم تھا کہ اس کے دل پے کیا گذر رہی تھی، کیسے کیسے سوچ اس کے دل کو گھیرے ہوئے پریشان کررہے تھے، کیسی کیسی باتیں اس کے بدن کو جھلسا رہے تھے۔ ایک آسکوہ (آتش فشاں) کی طرح سالوں سال کی خاموشی کے بعد ایک دن اسے پھٹ کر ایسے لاوا اگلنا ہے جسے بعد میں بجھانا شاید کسی آدمی کے بس کی بات نہیں ہوگا، اس کے خاموشی میں بھی وہی سمندروں سی خاموشی تھی۔

رات آتی تو لوگ خوابوں کی دنیا کی طرف ہولیتے لیکن اس کی ماں رات کی تاریکی میں گھر کے دروازے کے نذدیک ایک نیم روشن چراغ پوری رات اس مسافر کے لئے جلائے رکھتی کہ شاید آج آجائے، قابل غور بات یہ تھی کہ رات کو ہی کیوں اس کے آنے کا انتظار، دن کو کیوں نہیں کیا جاتا؟!!

وہ دن بھی آگیا جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ جنگل کی آگ کی طرح یہ بات پورے گاؤں میں پھیل گئی بلکہ آس پاس کے کئی اور گاووں، محلوں میں بھی پھیل گئی کہ دوستین باغی ہوگیا ہے۔
دوستین باغی ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کیسے؟
کیسے؟۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسے کو چھوڑو یہ بتاو کیوں؟
کیوں خیر؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس سے باغی ہوسکتا ہے؟
اوپر والا ہی جانے۔۔۔۔۔۔!!
پھر نتیجہ کیا ہوگا؟
غازی یا غدار؟۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات کس نے کہا کسی کو معلوم نہیں ہوا۔
غدار اڑے یہ تو غدار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بات پہ سب متفق ہوگئے کہ دوستین غدار ہے۔ اس غدار والی بات کے بعد اس بات کا جواب کوئی دے نہیں پارہا تھا کہ کسی کو غدار قرار دینے کا حق کس کے پاس ہے۔

ماں۔۔۔۔۔۔ بہن۔۔۔۔۔ بھائی۔۔۔۔۔ سب تک یہ بات پہنچی کہ دوستین غدار ہے تو ماں نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھنے کی کوشش کی مگر اسی وقت اس کو آنسوں بہنے کے لئے بے قابو ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنسوں بہتے گئے، بہتے گئے اور اپنے ساتھ ہزاروں مرادیں بہا کر لے گئے، مگر ماں تو ماں ہے بچہ بھلا ہو یا برا اس کے سینے میں وہی درد اس کے لئے ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ بہن تو پلووں سے آنسوں پرونے سے فارغ نہیں ہوئے، اب تو آنسوں ریزہ ریزہ ہوتے، ہوا میں پھیل گئے۔ بھائی نے یہ بات سننے کے بعد کچھ دن خاموشی میں گذارے لیکن دل کو زیادہ دن روک نہیں پایا۔ ایک دن زور سے ہنسنا شروع کردیا اس دن اتنا ہنسا کہ ہنستے ہنستے بہت سوں کو ہنسایا۔

خود سے روتے ہوئے کہا کہ عجیب سی پارسائی ہے اس دنیا کی، چھوڑ گیا اپنا گھر، اپنے تعلیم کے سفر کو ادھورا چھوڑ گیا، اپنی ماں، اپنی بہن کی وہ خوشیاں بھی خاطر میں نہیں لایا جو اس کے شادی کے لئے، اس کے بچوں کے لئے سمیٹے گئے تھے اور پھر بھی لوگ اسے غدار کہہ رہے ہیں۔!!

پھر رات ہوئی ماں نے چراغ روشن کرکے دروازے کے نزدیک رکھدیا۔۔۔۔۔۔

رات گذر گئی، صبح ہوئی، پورا دن گذر گیا، ایک بار پھر رات نے سیاہ دوپٹہ اوڑھ لیا، پھر سے چراغ روشن ہوا دروازے کے پاس رکھا گیا۔ اسی طرح ہر رات کے نام کئی چراغ روشن ہوئے، سال گذرے دوستیں نہیں آیا۔

لیکن ایک رات پہاڑ کے اوپر ایک روشنی نے چیدہ* بنائے ہوئے تھا۔
ماں مسکرائی، یہ مسکراہٹ برسوں گذرنے کے بعد اس کے چہرے پہ آئی تھی۔ لالا کے بھائی نے ماں سے پوچھا:
“کیا ہوا ماں آج آپ مسکرا رہے ہو؟”
ماں نے جواب میں کہا:
“میرا بچہ دوستین آیا ہے جاکر اسے پہاڑی سے لے آو”

بھائی نے حیرانگی سے ماں کی طرف دیکھا۔ اسے تو یقین نہیں تھا کہ دوستین آئےگا لیکن ماں کی مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے وہ روشنی کی طرف روانہ ہوا۔
وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا یہ وہی چیدہ ہے جس کا ذکر ایک شاعر نے کیا تھا۔۔۔۔۔۔ یہ وہی چیدہ ہے۔۔۔۔۔۔

وہاں ایک لشکر پڑاو ڈالے ہوئے تھا، انہوں نے دوستین کو اس کے بھائی کے حوالے کیا، دوستین کا بھائی لشکر سے ایک سوال کرنے والا تھا کہ اسی وقت “چیدہ” کی سرخ روشنی زیادہ ہوئی، بھائی نے روشنی کو زیادہ ہوتے دیکھا تو خاموش کھڑا رہ گیا۔
جب دوستین کا بھائی اسے ماں کے سامنے لے آیا تو ماں نے مسکراتے ہوئے پوچھا، غازی یا غدار؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆/☆/☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنف کے متعلق:
“عبدالرحیم زام” بلوچستان کے شہر نوشکی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان شاعر و ادیب ہیں، اپنی مادری زبان “براہوئی” میں کالم و افسانے لکھتے ہیں اور وہ افسانوں کی ایک کتاب “کنا بہشت” (؟) کے خالق بھی ہے جو 2016 میں شائع ہوئی تھی اور ان کی افسانوں کی دوسری کتاب زیر طبع ہے۔ جبکہ آج کل “اوتان کلچر اکیڈمی” کے پلیٹ فارم سے ادبی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
سنگِ راہ* چیدہ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ


بشکریہ

افسانہ"غازی یا غدار۔۔۔۔۔۔؟؟"(براہوئی ادب سے۔۔۔۔۔۔۔۔)تحریر: رحیم زامترجمہ: عتیق آسکوہ بلوچذمین کھا گئی یا آسمان ن…

Posted by ‎رخشان بلوچ‎ on Monday, February 5, 2018

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo