( صاحبِ اسلوب شاعر ‘ منتقد اور محقّق خاور اعجاز کی…

[ad_1] ( صاحبِ اسلوب شاعر ‘ منتقد اور محقّق خاور اعجاز کی طویل نظم ” تمثیل ” جو چھ تخلیقی زمانوں کو محیط ہے ‘ حصّہ وار بالترتیب پیش کی جا رہی ہے’ تا آں کہ سنجیدگانِ فن اسے بَہ سہولت تمام مطالعہ کر کے دریچہ ء گفتگو وا کر سکیں )

پہلا زمانہ

زمانے !
تری ابتدا کُن کے عنواں سے ہوتی ہے
بے ہیئت اک تیرگی کے سمندر سے
پہلی کرن روشنی کی گذرتی ہے
آثار مٹتے ہیں بنتے ہیں
ماضی ، گذرتے ہوئے حال
اور آنے والے زمانوں کے قصّے سناتے ہیں
مجھ کو بتاتے ہیں
تخیلق کی پوٹلی
ایک ایٹم کی صورت بندھی تھی
کسی نے بہت دور برقی بٹن کو دبایا
دھماکا ہُوا
لا کے صندوق سے
کن کا پرچم کھُلا
ایک نیلی اُڑن طشتری اس پہ ظاہر ہُوئی
جو خلا کے کنارے پہ
لا کا اشارہ بناتی تھی
خالی جہانوں میں چکّر لگاتی تھی
چاروں طرف جن کے اک بے ثباتی تھی
تقدیر کے دائرے سے کبھی جو نکلتے نہ تھے
سو کے اُٹھتے تھے اور آنکھ مَلتے نہ تھے
اک قدم اپنی مرضی سے چلتے نہ تھے

پھر کسی نے کہا : روشنی
روشنی ہو گئی
گنبدِ آسمانی چمکنے لگا
ذرّہ ذرّہ فَضا کا دمکنے لگا
پانیوں سے نمودار ہونے لگی زندگی
مچھلیوں اور پرندوں سے بھرنے لگے
سب سمُندر زمینیں سبھی
پھرکسی نے کہا
مَیں بناتا ہُوں آدم کا پُتلا
اسے سونپتا ہُوں زمینوں ، زمانوں ، جہانوں کے کچھ کام
لاتا ہُوں بامِ فلک معرضِ ہست میں
نقش جس کے ابھرنے ہیں آئندہ کی ہر دَر و بَست میں
اور پھر یوں ہُوا
کُن کی پھیلی ہُوئی انتہائوں میں
سیّارچے
اک دھماکے سے پیدا ہُوئی
تیز لہروں پہ محوِ سفر تھے
کہ مَیں جب
تِری وقت زنجیر میں کھنکھناتا ہُوا
لڑکھڑاتا ہُوا ، ڈگمگاتا ہُوا
عالمِ بے وجودی سے نکلا تھا
رات اور دن تو ابھی سو رہے تھے مگر
جاگتا تھا تِرے بے در و بست حُجروں میں مَیں
ہالہء نور میں
تیرے دستور میں
جب زمان و مکاں اور زمیں آسماں تک بھی مفقود تھا
تب بھی مَیں
تیرے پختہ ارادوں میں موجود تھا
تجھ سے دل کی حکایات کہتا تھا مَیں
سُکھ سے رہتا تھا مَیں
اے زمانے !
تِرے گیت گاتا تھا
باغِ عدن کی ہری شاخ پر چہچہاتا تھا
شفّاف اُجلے گھروندے بناتا تھا
خوابوں میں رہتا تھا
خوشبو میں بہتا تھا
آنکھوں میں حیرت کو بھرتا تھا
ماحول تعظیم کرتا تھا
پھر تُو نے مجھ کو
یہ مٹّی کا پیکر عطا کر دیا
کیا سے کیا کر دیا
سب چمن میرے جوشِ نمو سے دہکنے لگا
قریہء لا مکانی مہکنے لگا
سارا ماحول سرشار ہونے لگا
باد و باراں کا موسِم فَضا کو بھگونے لگا
بیج میں سر چھپائے شجر
اپنے خوابِ گراں سے نکلنے لگا
شاخ سے شاخ کا ہاتھ مِلنے لگا
روح میں اوّلیں غنچہ کھِلنے لگا
باغ کا باغ ہی مسکرانے لگا
لطف جنّت میں رہنے کا آنے لگا

( خاورؔ اعجاز )


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo