افسانہ۔۔۔۔۔۔ شرط (براہوئی ادب سے۔۔۔۔) تحریر: عامر…

[ad_1] افسانہ۔۔۔۔۔۔ شرط
(براہوئی ادب سے۔۔۔۔)

تحریر: عامر فیاض
ترجمہ: عتیق آسکوہ بلوچ

ہر روز کی طرح میں اپنے کمرے میں بیٹھا پریشانی کے عالم میں مبتلا، سوچوں کی اتاہ گہرائیوں میں غرق اور خیالوں کے افق میں منڈلاتے اچھائی، برائی، خزاں، بہار، پہاڑ، چٹان، میدان، ویرانیاں، چشموں اور بہتے ہوئے پانی، ایسے آتے ہوئے گذر رہے تھے، جیسے کہ ایک تیز رفتار ٹرین کے کھڑکی سے دیکھنے پر شہر، پہاڑ، میدان اور ویرانے، اتنی تیزی سے گذرتے اور منظر بدلتے رہتے ہیں اور پھر یکدم نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ سگریٹ کے کش پہ کش چل رہی تھی، اس پریشانی میں مجھے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ کتنے سگریٹ پی چکا ہوں۔ دروازے کی کھڑکنے کی آواز نے مجھے سوچوں کے اس روانی سے باہر نکالا، دیکھا تو میری بیوی راحیلہ نے چائے سے بھرا تھرماس لاکر میرے میز پر رکھ دی۔ یہ اس کی عادت تھی، جب میں کچھ لکھتا، تو وہ چائے بناکر لے آتی۔ “کیا ہوا” خیر ہے اس طرح گم ہو؟ کمرے میں ہر طرف دھواں بھر دیا ہے تم نے؟” وہ قدرے خفگی سے بولی۔
“”میں اپنے کہانی کے سوال کے جواب پر ابھی تک پریشان ہوں۔” میں نے جواب دیا۔
“کس کہانی کے۔۔۔۔؟”
“اسی شہزادی اور سپاہی کے۔”
“اچھا، مجھے بتائو شاید میں کوئی راستہ نکالوں تمارے لیئے۔”
” کہانی یوں ہے کہ ایک سپاہی کو ایک شہزادی سے محبت ہوجاتی ہے، اپنے محبت کے اظہار کیلئے وہ اس کے محل کی طرف جاتا ہے۔ وہ راستے میں ہی دیکھ لیتا ہے کہ شہزادی بہت شان و شوکت سے اپنی سہیلیوں کے ساتھ باغ کے سیر کو آئی ہوئی ہوتی ہے۔ سپاہی ہمت باندھتے ہوئے شہزادی کے قریب کھڑا ہوجاتا ہے۔ جب شہزادی کے خدمت گار اسے دیکھتے ہیں، تو اسے دکھیں، مار کر شہزادی سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن سپاہی کہتا ہے کہ اسے شہزادی سے ایک کام ہے۔ جب شہزادی اس کی آواز سنتی ہے، تو وہ اپنے خدمت گاروں کو اسے اندر آنے کا اجازت دینے کا کہتی ہے اور سپاہی سے دریافت کرتی ہے کہ، کیا مسئلہ ہے؟”

اتنا کہنے کے بعد میں کچھ لمحوں کیلئے خاموش ہوگیا۔ میں نے دیکھا کہ میری بیوی میرے طرف ایسے غور سے دیکھ رہی تھی، جیسے کہ وہ سپاہی میں ہی ہوں اور شہزادی سے بات کررہا ہوں۔ اس درمیان وہ صرف مجھے دیکھتی رہی، اس کی آنکھوں میں حیرانگی دِکھ رہی تھی کہ آگے کیا ہوا ہوگا۔ میں نے کہانی کو آگے بیان کرتے ہوئے کہا؛

سپاہی شہزادی کے قریب آتا ہے، اس سے کہتا ہے کہ مجھے تم سے محبت ہے۔ شہزادی اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتی ہے، اور اس کے جرات مندی کی داد بھی دیتی ہے کہ اس نے اپنے دل کا حال سوچ کر مجھ تک پہنچادیا، سپایی اپنے سوال کے جواب کے انتظار میں اس کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔ شہزادی جواب دیتے ہوئے کہتی ہے کہ “میں بھلا تم سے کیسے محبت کروں، تم کوئی شہزادہ تو نہیں ہو۔ تمہارے آگے پیچھے کا کچھ پتہ نہیں، اور نہ ہی تم کوئی بڑا سپہ سالار ہو کہ میں بدلے میں تم سے محبت کروں۔ پھر تم نے کیا سوچ کر مجھ تک یہ بات پہنچایا ہے؟”

آپ ٹھیک کہتی ہو، حقیقت میں میرے پاس ایسی کوئی بڑی چیز نہیں ہے کہ میں اپنے محبت کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے پیش کرسکوں۔ لیکن میرے پاس حوصلہ ہے یہ ثابت کرنے کیلئے کہ میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں۔”
“کیا حوصلہ ہے تمہارے پاس بتاو؟”
“میرے پاس یہ حوصلہ ہے کہ پورے سو دن تک یہاں آپ کے محل کے آگے کھڑا ہوسکوں، ان سو دنوں تک میں نہ کچھ کھائوں گا اور نہ ہی میں اپنے جگہ سے ہلونگا۔”
“تمہیں اپنے محبت پہ اتنا یقین ہے، تو آج سے تمہارا آزمائش شروع ہوتا ہے۔”

یہ کہتے ہوئے شہزادی اپنی سہیلیوں کیساتھ اپنے محل کی طرف روانہ ہوجاتی ہے، محل میں داخل ہونے سے پہلے ایک بار پھر پلٹ کر شہزادی سپاہی کی طرف دیکھتا ہے، وہ اسی طرح کھڑاشہزادی کی طرف دیکھ رہا تھا۔”

بات کو آگے لیجانے سے پہلے ایک بار پھر میں خاموش ہوگیا۔ میرے خاموش ہونے سے کمرے میں ہر طرف خاموشی پھیل گئی۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا، سگریٹ کے ڈبے سے ایک سگریٹ نکالا، سگریٹ کو جلایا۔۔۔۔ ایک دو کش لینے کے بعد دیکھا راحیلہ ایک ٹکٹکی باندھے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس بار وہ خود کو روک نہیں پائی اور پوچھتے ہوئی بولی؛ “بولو آگے کیا ہوا؟”
میں نے کہا؛ “شرط کے مطابق وہ ننانوے دن تک وہاں کھڑا رہا، لیکن جب شرط کے مکمل ہونے کا وقت آیا، تو وہ وہاں سے چھوڑ کر چلا گیا۔”
“چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔۔۔ کیوں؟ منزل کے اتنے قریب ہونے پر؟”
“اس کا جواب میرے پاس نہیں ہے کہ وہ کیوں گیا؟”
“شاید اسے اپنے محبت پہ یقین نہیں تھا۔” وہ حیرت سے بولی۔

اگر یہ بات ہوتی، تو پھر وہ ننانوے دن کیسے کھڑا رہتا۔ یا پھر یہ بات ہے کہ اس نے سوچا کہ اگر سو دن پورے ہونے کے بعد بھی شہزادی نہیں آئی تو یہ میرے لیئے ہمیشہ کے لئے طعنہ بن کر رہے گا کہ میں اس سے بے انتہا محبت نہیں کرپایا کہ وہ میرے پاس نہیں آئی؟ یعنی میں نے ایک ایسی ہستی سے محبت کیا کہ اس کا دل، دل نہیں بلکہ پتھر تھا۔ پہلے جانے کا یہ فائدہ ملے کہ پوری زندگی خود کو ملامت کروں کہ میں انتظار نہیں کرپایا۔”

” ہوسکتا ہے تم ٹھیک کہہ رہے ہو، لیکن اسے شہزادی کے بارے میں سوچنا چاہیئے تھا کہ اس کے دل میں کیا ہوگی، شاید وہ اسی دن کے انتظار میں ہوگی کہ اس دن کا سورج غروب ہوجائے پھر میں اپنے شرط کے مکمل ہونے کے بعد جائوں گی اور اپنے محبت کو اپنے بانہوں میں ہے لوں گی اور اسے کہوں گی کہ حقیقت میں اس قدر کوئی اور مجھ سے اس حد تک محبت نہیں کرسکتا۔”

ہوسکتا ہے مسلمان! میں تو کچھ سمجھ نہیں پا رہا ہوں۔ تم کیا کہنا چاہتی ہو!” آخر میری بیوی بیزار ہوکر باہر نکل گئی، مجھے ایک بار پھر اسی طرح پریشانی نے آن گھیرا کہ سپاہی آخر وقت پر کیوں ڈگمگایا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆☆☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عرض مترجم:
بھلا شبہ اردو ایک وسیع زبان ہے، اسی طرح اردو ادب اپنے وسعتوں کے ساتھ پھیلا ہوا ہے۔ براہوئی ادب سے تحریر کو اردو ادب کے قارئین تک پہنچانے کا مقصد یہی ہے کہ ان تک براہوئی ادب کو پہنچایا جاسکے تاکہ وہ براہوئی ادب کو پڑھ سکیں، سمجھ سکیں، چونکہ اردو زبان پر میری گرفت کمزور ہے (شاید اس وجہ سے کہ یہ میری مادری زبان نہیں ہے، دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اسکول میں تھوڑی بہت اردو بولنے کے بعد انگریزی زبان نے آن گھیرا)، اسی وجہ سے سادہ الفاظ کے ساتھ اسے میرے طرف سے ایک چھوٹی سی کوشش ہی سمجھی جائے۔
اہم بات یہ ہے کہ پڑھنے والے دوست براہوئی ادب یا ادیب کو ان تحریروں کے توسط سے کس مقام پہ دیکھتے ہیں۔ افسانے کے کمزوریوں، پلاٹ، منظر نگاری وغیرہ کے بابت اپنی قیمتی رائے ضرور دیں۔
براہوئی زبان کے حوالے، یہاں وضاحت کرنا ضروری ہے کیونکہ بار بار دیکھنے اور سننے میں آیا ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے دوست بھی “بلوچ” اور “بلوچی” کا فرق نہیں سمجھتے ہیں حالانکہ بلوچ قومیت اور بلوچی زبان ہے، اسی طرح “براہوئی” بھی بلوچ قوم کی سب سے زیادہ بولی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے۔
شکریہ


بشکریہ

افسانہ۔۔۔۔۔۔ شرط(براہوئی ادب سے۔۔۔۔)تحریر: عامر فیاضترجمہ: عتیق آسکوہ بلوچہر روز کی طرح میں اپنے کمرے میں بیٹھا پر…

Posted by ‎رخشان بلوچ‎ on Tuesday, January 9, 2018

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo