ناول کا انتخاب نمبر 2 ناول: محبت کے چالیس اصول (قس…

[ad_1] ناول کا انتخاب نمبر 2
ناول: محبت کے چالیس اصول (قسط نمبر1)
مصنف: ایلف شفق (ترکی)
مترجم: ناہید ورک (امریکہ)
***********************

دیباچہ
——

اگر بہتے پانی میں پتھر پھینکا جائے تو اس کا اثر دیکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ پانی کی سطح پر چھوٹی چھوٹی لہریں بنتے ہوئے ایک چھپاکا ہو گا جس کی آواز ارد گرد کے بہتے پانی میں ہی دب جائے گی، اور بس۔
اگر کسی جھیل میں پتھر پھینکا جائے تو اس کا اثر نہ صرف واضح طور پر نظر آئے گا بلکہ زیادہ دیر پا بھی ہو گا۔ یہ پانی کے ٹھہراؤ میں خلل پیدا کرتے ہوئے سطحِ آپ پر ایک حلقہ بنا دے گا، اور دیکھتے ہی دیکھتے اُس ایک دائرے سے مزید دائرے بنتے چلے جائیں گے۔ چند ہی لمحوں میں، صرف ایک غڑاپ سے پیدا ہونے والی لہروں کے دائرے، بڑھتے بڑھتے، جب تک کناروں پر پہنچ کر خود بخود ختم نہیں ہو جاتے تب تک وہ پانی کی منعکس سطح کے ساتھ ساتھ ہر طرف محسوس ہوتے رہیں گے۔
اگر یہ پتھر کسی دریا میں گرتا ہے تو وہ اس سے پیدا ہونے والی ہلچل کو پہلے سے ہی اپنے اندر موجود ہنگامے کا حصہ تصوّر کرے گا۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہو گی اور کچھ بھی قابو سے باہر نہیں ہو گا۔
اگر یہ پتھر کسی جھیل میں گرتا ہے، تو پھر، وہ جھیل کبھی بھی پہلے جیسی حالت میں نہیں رہے گی۔
چالیس سال تک ایلا رابن سٹائن کی زندگی جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی کی مانند رہی تھی ۔۔۔ ایک سی عادات، ضروریات، اور ترجیحات کا تسلسل۔ اگرچہ یہ ایک یکسانیت بھری اور عام سی طرزِ زندگی تھی، مگر وہ اس کی عادی ہو چُکی تھی۔ پچھلے بیس برسوں کے دوران، اُس کی ہر خواہش، دوستی، اور ہر فیصلے میں اُس کی شادی شدہ زندگی ہمیشہ اُس کے لیے مقدم رہی تھی۔ اُس کا شوہر، ڈیوڈ، ایک کامیاب ڈینٹسٹ تھا جس کی بے حد معقول آمدنی تھی۔ وہ ہمیشہ سے یہ بات جانتی تھی کہ اُن کا باہمی تعلق کوئی بہت گہرا تعلق نہیں ہے، وہ سمجھتی تھی کہ شادی شدہ زندگی میں جذباتی تعلق کو کبھی ترجیح نہیں دی جاتی، خاص طور پر اُس عورت اور مرد کے لیے جن کی شادی کو ایک طویل عرصہ گزر چکا ہو۔ شادی میں رومانس کے علاوہ بھی دوسری اہم چیزیں ہوتی ہیں، مثلاً، ایک دوسرے کو سمجھنا، خیال رکھنا، ایک دوسرے کے لیے نرم جذبات رکھنا، اور سب سے بڑھ کر ایک خدائی عمل جو انسان کر سکتا ہے، یعنی اپنے ساتھی کی کوتاہیوں کو معاف کر دینا۔ محبت ان سب باتوں کے بعد آتی تھی۔ ہاں اگر یہ محبت ناولوں یا رومانوی فلموں کا حصہ ہو جن میں اہم کردار ہمیشہ زندگی سے بڑے ہوتے ہیں تو اُن کی محبت کسی طرح بھی ایک لیجنڈ سے کم نہیں ہوتی۔
ایلا کی ترجیحات میں سب سے اوّلیں اُس کے بچے تھے۔ اُن کی ایک خوبصورت بیٹی، جینٹ، جو کالج میں پڑھتی تھی، اور ٹین ایج جڑواں بچے، اورلی اور ایوی تھے۔ اُن کا ایک کتا، سپرٹ، بھی تھا جس کی عمر بارہ سال تھی، اور جو صبح کی سیر میں ایلا کا ساتھ دینے کے علاوہ اُس کا بہت اچھا دوست بھی تھا۔ اب وہ عمر رسیدہ، موٹا، بہرہ، اور تقریباً اندھا ہو چکا تھا؛ سپرٹ کی زندگی کے دن ختم ہونے والے تھے، لیکن ایلا اب تک خود کو یہی تاثر دے رہی تھی کہ اُسے کچھ نہیں ہو گا اور وہ ہمیشہ زندہ ہی رہے گا۔ لیکن یہ بھی ہے کہ ایلا ایسی ہی تھی۔ وہ کسی بھی شے کی موت پر کوئی سوال نہیں کرتی تھی، چاہے وہ عادت ہو، مرحلہ ہو، یا پھر اُس کی شادی شدہ زندگی، جس کا واضح اور نظر انداز نہ کیے جانے والا اختتام بھی اُس کی نظروں کے سامنے کھڑا تھا۔
رابن سٹائنفیملی نارتھ ایمپٹن،Mashachusetts میںایک بہت بڑے وکٹوریا طرز کے بنے ہوئے گھر میں رہائش پزیر تھے جسے کچھ مرمّت کی ضرورت تو تھی مگر پھر بھی وہ گھر شاندار حالت میں تھا، جس میں پانچ بیڈروم، اٹیچڈ باتھ روم، چمکدار لکڑی کا فرش، تین گاڑیوں کا گیراج، فرنچ طرز کے بنے ہوئے دروازے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ باہر صحن کے وسط میں تعمیر کی ہوئی جکوزی۔ اُن کے پاس اپنی لائف انشورنس، گاڑیوں کی انشورنس، رٹائرمنٹ پلان، بچوں کے کالج کے اخراجات کا پلان، دونوں کے مشترکہ بنک اکاؤنٹس، اور اس گھر کے علاوہ اُن کے پاس دو مہنگے ترین فلیٹس تھے: جن میں سے ایک بوسٹن میں اور دوسرا روڈ آئی لینڈ میں تھا۔ اُن دونوں میاں بیوی نے وہ تمام چیزیں حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کی تھی۔ بچوں سے بھرا ہُوا ایک بڑا گھر، شاندار فرنیچر، اور گھر کے بنے کھانوں کی مسحور کُن خوشبو، جو اُن کے لیے ایک خوبصورت اور مکمل زندگی کا تصوّر تھی۔ انہوں نے اپنی شادی شدہ زندگی کی تعمیر اسی تصوّر کے گرد کی ہوئی تھی اور اگر سب کی نہیں تو، زیادہ تر اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر لی تھی۔
اپنی شادی کی پچھلی سالگرہ کے موقعے پر، ایلا کو اُس کے شوہر نے دل کی شکل کا بنا ہُوا ہیروں کا ہار اور ایک کارڈ تحفے میں دیا جس پر لکھا تھا:
میری پیاری ایلا،
جو خوبصورت اخلاق کی مالک ہے، وسیع دل رکھنے والی اور ایک ولی کے صبروالی عورت ہے۔ مجھے میری کمزوریوں سمیت قبول کرنے کا شکریہ، میری ہم سفر بننے کا شکریہ۔
تمہارا ڈیوڈ
ایلا نے کبھی ڈیوڈ کے سامنے اس بات کا ذکر نہیں کیا، مگر اُس کا کارڈ پڑھ کو اُس کو یوں محسوس ہُوا جیسے وہ اپنا اعلانِ مرگ پڑھ رہی ہو۔اُس نے سوچا، میرے مرنے کے بعد، مجھے ایسے ہی الفاظ سے یاد کیا جائے گا۔ اور اگر دوست احباب کچھ زیادہ ہی مخلص ہوئے تو یہ بھی شامل کر سکتے ہیں:
اپنی ساری زندگی اپنے شوہر اور بچوں کے گرد گزارتے ہوئے، ایلا کے اندر خود پر انحصار کرتے ہوئے زندگی کی مشکلات سے نپٹنے کے لیے ہر طرح کی صلاحیتوں کی کمی تھی۔ وہ گھمبیر حالات سے نپٹنا نہیں جانتی تھی۔ یہاں تک کہ اس کے لیے روز مرّہ استعمال کی جانے والی چائے یا کافی کا برانڈ بدلنا بھی ایک اہم کام ہوتا تھا۔
اسی لیے جب ایلا نے اپنی شادی کے بیس سال بعد 2008ء کی خزاں رُت میںاپنی شادی ختم کرنے کے لیے طلاق لینے کا فیصلہ کیا تو اُس کے اس عمل کو اُس سمیت کوئی بھی نہیں سمجھ سکا۔
٭
لیکن اُس کے پاس ایسا کرنے کی وجہ تھی اور وہ وجہ تھی: محبت۔
وہ نہ تو ایک شہر میں رہتے تھے اور نہ ہی ایک مُلک میں تھے۔ بلکہ ایک براعظم میں بھی نہیں بستے تھے۔ وہ دونوں نہ صرف ایک دوسرے سے ہزاروں میلوں دور تھے بلکہ دن اور رات کی طرح ایک دوسرے سے مختلف بھی تھے۔ اُن کا طرزِ زندگی ایک دوسرے سے اس قدر مختلف تھا کہ اُن کے لیے ایک دوسرے کی موجودگی کو برداشت کرنا ناممکن دکھائی دیتا تھا، کہاں کہ انہیں ایک دوسرے سے محبت ہو جانا۔ لیکن یہ ہو گیا تھا۔ اور بہت تیزی کے ساتھ ہُوا تھا، دراصل اتنی تیزی سے کہ ایلا کے پاس یہ سمجھنے کے لیے وقت ہی نہیں بچا تھا کہ یہ کیا ہو رہا تھا اور اس سے بچاؤ کی کیا صورت ہو سکتی تھی، اگر محبت کے خلاف کوئی بچاؤ ہو سکتا تھا تو۔ ایلا کو یوں اچانک ایسی شدید قسم کی محبت ہوئی تھی جیسے اُس کی زندگی کے پُرسکون تالاب میں کسی انجانی سمت سے ایک پتھر پھینک دیا گیا ہو۔

*****

ایلا
—-

نارتھ ایمپٹن، مئی17، 2008ء

وہ موسمِ بہار کے اوّلیں دنوں کا ایک مہکتا ہُوا خوشگوار دن تھا۔ اُسے باورچی خانے کی کھڑکی میں سے باہر لان میں چہچہاتے پرندوں کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی تھیں۔ ایلا نے اپنے ذہن میں کچھ روز قبل رونما ہونے والے اُس واقعے کو اتنی بار دہرایا کہ اُسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے وہ لمحہ ماضی کا حصہ ہونے کی بجائے، موجودہ لمحہ بن کر اس کائنات کے ہر چپّے، ہر گوشے میں سانس لے رہا ہے۔
ہفتے کی دوپہر کو گھر کے سبھی افراد میز کے گرد بیٹھے، قدرے دیر سے کھانا کھا رہے تھے۔ اُس کا شوہر اپنی پلیٹ کو اپنے پسندیدہ کھانے، بھنے ہوئے گوشت، سے بھر رہا تھا۔ ایوی اپنے نائف اور فورک کے ساتھ ڈرم اسٹک کی طرح کھیل رہا تھا جبکہ اُس کی جڑواں بہن، اورلی، یہ حساب لگانے کی کوشش میں مصروف تھی کہ وہ کون سے کھانے کے اتنے نوالے کھا سکتی ہے جو کہ اُس کی روزانہ کے 650کیلیریز سے زائد نہ ہو۔ جینیٹ، جو کہ ایک مقامی کالج کے پہلے سال میں تھی، ڈبل روٹی پر کریم چیز لگاتے ہوئے، اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔ کھانے کی میز پر ڈیوڈ کی آنٹ ایستھر بھی موجود تھی، جو اپنا مشہور ماربل کیک بنا کے لائی تھی اور پھر اُن کے اصرار پر لنچ کرنے کے لیے رُگ گئی تھی۔ ایلا کو ابھی بہت سارے کام نپٹانے تھے، لیکن وہ یوں سب کے درمیان سے ابھی اُٹھ کر نہ تو جا سکتی تھی اور نہ ہی جانا چاہتی تھی۔ اُن سب کو بہت دن سے اکٹھے مل بیٹھنے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا اور آج کا لنچ سب کے ساتھ مل بیٹھ کر ایک دوسرے کی رُوداد سُننے کا ایک بہترین سنہری موقع تھا۔
’’آنٹ، کیا ایلا نے آپ کو خوشخبری سنائی؟‘‘ ڈیوڈ نے اچانک پوچھا، ’’اُسے بہت اچھی جاب مل گئی ہے۔‘‘
اگرچہ ایلا نے انگلش ادب میں بی اے کر رکھا تھا اور اُس کا رحجان فکشن کی طرف تھا، مگر اُس نے کالج کے بعد، خواتین کے چند رسالوں میں کچھ چھوٹی موٹی ایڈیٹنگ کا کام کرنے کے، اور کچھ بُکس کلب، اور کبھی کبھار کسی مقامی اخبار کے لیے کسی کتاب پر اپنا تبصرہ دینے کے علاوہ ، اس فیلڈ میں کچھ زیادہ کام نہیں کیا تھا۔ ایک وقت تھا کہ اُس کی خواہش ایک معروف تنقید نگار بننے کی تھی، لیکن پھر اُس نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ زندگی اُسے کہیں اور لے کر جا رہی ہے، تین بچوں کی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ نہ ختم ہونے والی گھریلو ذمہ داریوں نے اُسے مکمل طور پر ایک گھریلو خاتون میں بدل کر رکھ دیا تھا۔
ایسا نہیں تھا کہ اُسے اس طرزِ زندگی سے کوئی شکایت تھی۔ ایک ماں، بیوی، اور گھریلو ذمہ داریوں کے علاوہ اپنے پالتو کتے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نے اُسے بہت حد تک مصروف رکھا ہُوا تھا۔ ان تمام ذمہ داریوں کے ہوتے ہوئے اُسے گھر چلانے کے لیے ملازمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اگرچہ، اسمتھ کالج سے گریجوایٹ ہونے کے بعد، اُس کی کسی بھی سہیلی کو اُس کا یہ طرزِ زندگی پسند نہیں تھا، مگر وہ ایک گھریلو خاتون اور ایک ماں کے فرائض ادا کرتے ہوئے مطمئن بھی تھی اور شکر گزار بھی کہ وہ دونوں میاں بیوی ایسا کر سکنے کی حیثیت میں تھے۔ اُس نے اپنے مطالعے کے شوق کو ترک نہیں کیا تھا اور ابھی تک وہ خود کو ایک کتابی کیڑا ہی سمجھتی تھی۔
لیکن کچھ سال سے ، حالات بدلنا شروع ہو گئے تھے۔ بچے بڑے ہو رہے تھے، اور اب اُنہیں اُس کی اتنی ضرورت نہیں رہی تھی جتنی کسی وقت میں ہُوا کرتی تھی۔ بہت زیادہ فارغ وقت ہونے کی وجہ سے ایلا نے سوچا کہ کیوں نہ وہ کوئی ملازمت کر لے۔ ڈیوڈ نے اُس کے اس خیال کی حوصلہ افزائی کی، مگر وہ اس بارے میں صرف باتیں ہی کرتے رہے، اُس نے شاذ و نادر ہی کبھی ملازمت ڈھونڈنے کی کوشش کی ہو گی، اور جب اُس نے ملازمت ڈھونڈنا شروع کی تو یا تو کمپنیوں کو کم عمر لوگ درکار تھے یا پھر اُنہیں زیادہ تجربہ کار لوگوں کی ضرورت تھی۔ بار بار رد کیے جانے کے عمل نے اُسے مزید ملازمت ڈھونڈنے سے ہی روک دیا۔
پھر اچانک، مئی2008ء میں وہ ساری مشکلات، جنہوں نے اُسے اتنے سال ملازمت کی تلاش سے روک رکھا تھا، غیر متوقع طور پر غائب ہو گئیں۔ اُس کی چالیسویں سالگرہ سے دو ہفتے قبل ہی اُسے بوسٹن میں واقع ایک ادبی ادارے کی طرف سے ملازمت کی پیشکس ہوئی تھی۔ اُسے یہ ملازمت اُس کے شوہر نے اپنے ایک کلائنٹ کے توسط سے ڈھونڈ کر دی تھی۔۔۔ یا پھر اپنی کسی جاننے والی کے توسط سے۔
’’اوہ، یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے،‘‘ ایلا جلدی سے وضاحت دینے لگی۔ ’’میں تو اس ادارے کے ساتھ صرف پارٹ ٹائم ہی ملازمت کروں گی۔‘‘
لیکن ڈیوڈ کی یہ پوری کوشش تھی کہ وہ ایلا کو اُس کی نئی ملازمت کے بارے میں کسی بھی احساسِ کمتری کا شکار نہ ہونے دے۔ ’’ارے، ایسے کہو نا کہ یہ ایک نامور ادارہ ہے،‘‘ وہ بات کو کاٹ کر اُسے اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا، اور جب ایلا نے ایسا کچھ بھی کہنے کا ارادہ ظاہر نہ کیا، تو وہ خود ہی اپنی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہنے لگا، ’’یہ بہت اچھا ادارہ ہے، آنٹ۔ ہمیں دوسری باتوں کو بھی تو مدّ نظر رکھنا چاہئے! اس ادارے میں کام کرنے والے سبھی لوگ بہترین کالجوں سے پڑھے ہوئے ہیں۔ صرف ایلا ہی واحد ایسی ہے جو گریجوایٹ ہونے کے اتنے عرصے کے بعد ملازمت کر رہی ہے۔ اب، کیا یہ بہت بڑی بات نہیں ہے؟‘‘
ایلا سوچنے لگی کہ، شاید اُس کے شوہر کے دل میں کسی پچھتاوے کا احساس ہے کہ اُس کی وجہ سے وہ اپنا کیریئر نہیں بنا پائی، یا پھر اُس کے ساتھ بیوفائی کرنے کا احساس ہے ۔۔۔ اُس کے خیال میں صرف یہ دونوں باتیں ہی ایسی تھیں جن کی وجہ سے وہ اتنے جوش و خروش کا مظاہرہ کر رہا تھا۔
ڈیوڈ نے مسکراتے ہوئے اپنی بات ختم کی، ’’میں تو اسے ایک دلیرانہ عمل کہوں گا۔ہم سب کو اس پر فخر ہے۔‘‘
’’ایلا ہمیشہ خدا کی طرف سے ایک انعام رہی ہے۔‘‘ آنٹ ایستھر نے یوں جذباتی انداز میں کہا جیسے ایلا اُن کے درمیان سے اُٹھ کر جا چکی ہو۔
وہ سب اُسے ستائش بھری نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ حتیٰ کہ ایوی نے بھی کوئی طنزیہ بات کرنے سے گریز کیا، اور اورلی کے انداز میں بھی، چاہے ایک بار ہی سہی، کچھ پرواہ نظر آئی۔ ایلا نے ان مہربان لمحوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے خود کو مجبور پایا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُس نے ایک عجیب اعصابی تناؤ بھی محسوس کیا جس سے وہ پہلے کبھی نہیں گزری تھی۔ اُس نے دل ہی دل میں اس موضوع کے بدل جانے کی دعا مانگی۔
جینیٹ، اُس کی بڑی بیٹی، نے یقیناً اُس کے دل کی بات سُن لی تھی، تبھی وہ اچانک بولی،’’میرے پاس بھی ایک خوشخبری ہے۔‘‘
وہ سب منتظر نگاہوں سے اُس کی طرف دیکھنے لگے۔
’’سکاٹ اور میں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے،‘‘ جینیٹ نے اعلانیہ انداز میں کہا۔ ’’اوہ، میں جانتی ہوں آپ لوگ کیا کہیں گے! کہ ابھی ہم نے کالج بھی ختم نہیں کیا اور وغیرہ وغیرہ، لیکن آپ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم دونوں زندگی کا اگلا بڑا قدم اُٹھانے کے لیے خود کو تیار سمجھتے ہیں۔‘‘
میز پر موجود ہر شخص کو جیسے خاموشی نے ڈس لیا تھا، اُن کے درمیان تھوڑی دیر پہلے والی گرمجوشی جیسے بھاپ بن کر ہوا میں تحلیل ہو گئی تھی۔ اورلی اور ایوی نے ایک دوسرے کو خالی نظروں سے دیکھا، اور آنٹ ایستھر، اپنے ہاتھ میں پکڑے ایپل جوس کے گلاس پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرتی ہوئی، اپنی جگہ پر جیسے جم سی گئی۔ ڈیوڈ نے، اپنا فورک اپنی پلیٹ میں یوں رکھا جیسے اُس کی ساری بھوک مر گئی ہو، اپنی بھوری آنکھیں، جن کے گرد مسکراہٹ سے پڑنے والی گہری لائنیں بہت واضح تھیں، سُکیڑ کر جینیٹ کو دیکھنے لگا۔ مگر اس وقت اُس کے چہرے پر مسکراہٹ کے علاوہ سب کچھ محسوس کیا جا سکتا تھا۔ اُس کے چہرے پر برہمی کے واضح آثار تھے، جیسے اُس نے کوئی کڑوا گھونٹ پی لیا ہو۔
’’واہ! میں تو سمجھ رہی تھی کہ آپ لوگ میری خوشی میں شریک ہوں گے، مگر مجھے تو آپ لوگوں کی طرف سے یہ سرد رویّہ مل رہا ہے،‘‘ جینیٹ سب کی طرف دیکھتے ہوئے آہستگی سے بولی۔
’’تم نے ابھی کہا کہ تم شادی کر رہی ہو،‘‘ ڈیوڈ نے جینیٹ کو باور کروانے کے لیے یوں کہا جیسے جینیٹ لاعلم تھی کہ اُس نے کیا کہا ہے۔
’’ڈیڈ، میں جانتی ہوں یہ تھوڑا جلدی ہے، لیکن سکاٹ نے مجھے پروپوز کیا ہے اور میں اُسے ہاں کہہ چکی ہوں۔‘‘
’’مگر کیوں؟‘‘ ایلا نے پوچھا۔
جینیٹ نے جس طرح اُسے دیکھا، ایلا نے محسوس کیا کہ اُس کی بیٹی اُس سے اس سوال کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ ’’کیوں‘‘ کی بجائے وہ اُس سے ’’کب؟‘‘ یا ’’کیسے؟‘‘ پوچھ سکتی تھی۔ ان دونوں صورتوں میں وہ اپنی شادی کا جوڑا بنوانے کی تیاری شروع کر سکتی تھی۔ یہ سوال ’’کیوں؟‘‘ بالکل ایک الگ نوعیت کا تھا، جسے سُن کر اُسے غصہ آ گیا تھا۔
’’میرے خیال میں اس لیے، کیونکہ میں اُس سے محبت کرتی ہوں۔‘‘ جینیٹ قدرے اونچی آواز میں بولی۔
’’ہنی، میرا مطلب یہ تھا، کہ اتنی جلدی کیوں؟‘‘ ایلا نے وضاحت کی۔ ’’کہیں تم سے کوئی غلط حرکت تو نہیں سر زد ہو گئی یا پھر کوئی اور بات ہے؟‘‘
آنٹ ایستھرنے ، جس کے چہرے پر سختی اور تکلیف کے آثار واضح طور پر نمایاں ہو رہے تھے، اپنی کُرسی پر پہلو بدلا، اور اپنی جیب سے اینٹی ایسڈ کی گولی نکال کر منہ میں رکھ کر اُسے چبانے لگی۔
ایلا نے جینیٹ کا ہاتھ پکڑ کر اُسے ہلکے سے دبایا۔ ’’تم جانتی ہو نا کہ تم ہم سے ہر بات سچ بول سکتی ہو، ہے نا؟ کوئی بھی بات ہو، کچھ بھی معاملہ ہو، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘
’’مام، آپ یہ فضول باتیں کرنا بند کریں گی؟‘‘ جینیٹ نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا۔ ’’آپ ایسی باتیں کر کے مجھے شرمندہ کر رہی ہیں۔‘‘
’’میں تو صرف تمہاری مدد کی خاطر کہہ رہی تھی،‘‘ ایلا نے بظاہر پُرسکون لہجے میں جواب دیا، پچھلے بہت سارے دنوں سے اُسے پُرسکون کیفیت میں رہنا مشکل ترین محسوس ہو رہا تھا۔
’’یعنی میری توہین کر کے۔ صاف ظاہر ہے کہ آپ کو صرف یہی ایک بات سمجھ میں آئی ہے جس کی وجہ سے آپ سمجھتی ہیں کہ میں نے اور سکاٹ نے شادی کا فیصلہ کیا ہے!کیا آپ کو یہ بھی احساس ہُوا کہ ہو سکتا ہے، میں اس لیے اس شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے اس سے محبت ہے؟ ہم پچھلے آٹھ مہینوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔‘‘
جینیٹ کی اس بات نے ایلا کو طنزیہ لہجہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ ’’ اوہ، ہاں، جیسے کہ آٹھ مہینے کسی شخص کے بارے میں جاننے کے لیے کافی ہوتے ہیں! تمہارے ڈیڈ اور میری شادی کو تقریباً بیس سال ہو چلے ہیں، اور ہم ابھی تک یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم ایک دوسرے کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ اس تعلق میں آٹھ مہینے کا عرصہ کچھ معنی نہیں رکھتا! ‘‘
’’خدا کو یہ پوری کائنات بنانے میں صرف چھ دن لگے تھے،‘‘ ایوی نے چہکتے ہوئے کہا، مگر اُن سب کی سرد نظروں نے اُسے دوبارہ خاموش رہنے پر مجبور کر دیا۔
ڈیوڈ، پُر سوچ انداز میں اپنی بھنویں سکیڑے، اپنی بڑی بیٹی پر نظریں جمائے، ماحول میں بڑھتے ہوئے اس تناوُ کو محسوس کرتے ہوئے بولا،’’بیٹی، تمہاری ماں جو کہنا چاہ رہی ہے وہ یہ ہے کہ کسی کے ساتھ ڈیٹنگ کرنا الگ بات ہے، جبکہ شادی بالکل دوسرا معاملہ ہے۔‘‘
’’مگر، ڈیڈ، آپ کیا سمجھتے تھے کہ ہم ہمیشہ ڈیٹنگ ہی کرتے رہیں گے؟‘‘ جینیٹ نے پوچھا۔
ایلا ایک گہری سانس لیتے ہوے بولی، ’’سچّی بات کہوں تو، ہمیں تم سے کسی اچھے شخص کو منتخب کرنے کی توقع تھی۔ تم ابھی کسی بھی سنجیدہ قسم کے تعلق کے لیے بہت کم عمر ہو۔‘‘
’’مام، آپ جانتی ہیں، میں کیا سوچ رہی ہوں؟‘‘ جینیٹ بالکل اجنبی اور سپاٹ لہجے میں بولی۔ ’’میں سوچ رہی ہوں، آپ اپنے خدشات مجھ پر لاگو کر رہی ہیں۔ چونکہ آپ کی شادی بہت کم عمری میں ہو گئی تھی اور میری عمر تک پہنچنے پر آپ ایک بچے کی ماں بھی بن چکی تھیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں بھی وہی غلطی دہراوئں گی۔‘‘
ایلا کا چہرہ ایک دم سُرخ ہو گیا جیسے کسی نے اُس کے منہ پر تھپڑ مار دیا ہو۔ وہ دل ہی دل میں اپنے اُس پیچیدہ حمل کو یاد کرنے لگی جس کے نتیجے میں جینیٹ وقتِ پیدائش سے پہلے پیدا ہو گئی تھی۔ پہلے چھوٹی تھی، پھر تھوڑی بڑی ہوئی تو، اُس کی اس بیٹی نے اس کی ساری توانائی ختم کر دی، جس کی وجہ سے اُس نے اپنے دوسرے حمل میں چھ سال کا وقفہ دیا۔
’’بیٹی، ہم تمہارے لیے بہت خوش تھے جب تم سکاٹ سے ملی تھی،‘‘ ڈیوڈ نے، دوسرا طریقہ اپناتے ہوئے، محتاط انداز میں کہا،’’وہ ایک اچھا لڑکا ہے۔ مگر کیا پتا گریجوایشن کے بعد تمہارے ذہن میں کیا ہو؟ اُس وقت حالات بہت مختلف ہو سکتے ہیں۔‘‘
جینیٹ نے ہلکے سے اپنا سر ہلایا، جیسے وہ اس بات پر اپنی رضامندی ظاہر کر رہی ہو۔ پھر وہ بولی، ’’کیا یہ سب اس لیے ہے کیونکہ سکاٹ یہودی نہیں ہے ؟‘‘
ڈیوڈ نے بے یقینی کے انداز میں اپنی آنکھوں کو گھمایا۔ اپنے گھر میں مذہب، نسل، یا جنسی تعصّب سے متعلق کسی بھی قسم کی منفی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، اُسے ہمیشہ اپنے ایک کُھلے ذہن اور مہذّب باپ ہونے پر فخر رہا تھا۔
جینیٹ اس وقت کچھ بھی سمجھنے کی حالت میں نہیں تھی۔ وہ اپنی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی، ’’کیا آپ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ سکتی ہیں کہ اگر سکاٹ کا تعلق ایک یہودی فیملی سے ہوتا تو پھر بھی آپ کو یہ اعتراضات ہوتے؟‘‘
تلخی اور طنز سے بھری ہوئی جینیٹ کی آواز کسی سوئی کی مانند چُبھتی ہوئی تھی، اور ایلا کو محسوس ہُوا کہ اُس کی بیٹی کے رویّے میں یہ تلخی مزید بڑھ رہی تھی۔
’’میری جان، بھلے تمہیں میری بات پسند نہ آئے مگر میں پوری ایمانداری کے ساتھ سچی بات کہوں گی۔ میں جانتی ہوں کہ جوانی اور محبت کا احساس کتنا خوشگوار محسوس ہوتا ہے۔ یقین کرو، مجھے اس کا علم ہے۔ لیکن کسی ایسے شخص سے شادی کرنا جو بالکل ہی کسی دوسرے پس منظر سے تعلق رکھتا ہو، ایک بہت بڑا جوا ہے۔ اور تمہارے والدین کی حیثیت سے ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ جو کچھ تم کر رہی ہو وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔‘‘
’’اور آپ کو یہ کیسے معلوم ہے کہ جو آپ درست سمجھتی ہیں وہ میرے لیے بھی درست ہے؟‘‘
اس سوال نے ایلا کو مضطرب کر دیا۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر یوں اپنا ماتھا سہلانے لگی، جیسے اُس کے سر میں شدید درد ہو رہا ہو۔
’’میں اُس سے محبت کرتی ہوں، مام۔ کیا آپ کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت ہے؟ کیا آپ کو کہیں سے یہ لفظ سُنا ہوا لگتا ہے؟ مجھے اُس سے محبت ہے اور میں اُس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔‘‘
ایلا کو اپنی ہنسی سُنائی دی۔ اُس کا مقصد اپنی بیٹی کے جذبات کا مذاق اُڑانا ہر گز نہیں تھا، لیکن اُس کی ہنسی کو ایسے ہی لیا گیا جیسے وہ اُس کا مذاق اُڑا رہی ہو۔ ایک دم سے نجانے کیوں وہ بہت زیادہ گھبراہٹ محسوس کرنے لگی تھی۔ اس سے قبل بھی کئی بار جینیٹ کے ساتھ اُس کی تلخ کلامی ہو چکی تھی، لیکن آج یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آج اُس کا جھگڑا کسی اور کے ساتھ ہو رہا ہے۔
’’مام، کیا آپ کو کبھی کسی سے محبت نہیں ہوئی؟‘‘ جینیٹ توہین آمیز لہجے میں جواباً بولی۔
’’اوہ، خدا کے واسطے! یہ کُھلی آنکھوں سے خواب دیکھنا بند کرو اور حقیقت کی دنیا میں آؤ۔ تم کچھ زیادہ ہی ۔۔۔‘‘ ایلا کسی ڈرامائی لفظ کی تلاش میں کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی، جب تک کہ وہ لفظ اُسے یاد نہیں آ گیا “رومانوی!”
’’رومینٹک ہونے میں کیا برائی ہے؟‘‘ جینیٹ نے بُرا مانتے ہوئے پوچھا۔
واقعی، رومانوی ہونے میں کیا بُرائی ہے؟ ایلا سوچنے لگی۔ اُسے کب سے رومانس سے چڑ ہونے لگی تھی؟ وہ اپنے دماغ میں در آنے والے ان سوالوں کے جواب دینے سے قاصر تھی، وہ دوبارہ وہی بات کہنے لگی۔ ’’دیکھو، تم کون سی صدی میں رہ رہی ہو؟ تمہیں یہ بات کیوں نہیں سمجھ میں آتی کہ عورت اُس آدمی سے شادی نہیں کرتی جس سے وہ محبت کرتی ہو۔ اُسے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کون سا مرد ایک اچھا باپ اور قابلِ بھروسہ شوہر ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پیار، محبت جیسے جذبات جتنی جلدی اپنی گرفت میں لیتے ہیں اتنی ہی جلدی یہ ختم بھی ہو جاتے ہیں۔‘‘
بات ختم کرنے کے بعد، ایلا نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔ ڈیوڈ اپنے ہاتھوں کو اپنے سامنے رکھے، یوں اُسے دیکھ رہا تھا جیسے آج اُسے پہلی بار دیکھا ہو۔
’’میں جانتی ہوں آپ ایسا کیوں کر رہی ہیں،‘‘ جینیٹ نے کہا۔ ’’آپ میری خوشی اور کم عمری سے جلتی ہیں۔ آپ مجھے ایک ناخوش گھریلو عورت بنانا چاہتی ہیں۔ آپ مجھے اپنے جیسا بنانا چاہتی ہیں، مام۔‘‘
ایلا کو اپنا دل ڈوبتا ہُوا محسوس ہُوا، جیسے کسی نے اُس کے دل پر کوئی بھاری پتھر رکھ دیا ہو۔ کیا وہ ایک ناخوش گھریلو عورت تھی؟ اپنی ناکام شادی میں جکڑی ہوئی ایک پچاس سالہ ماں؟ کیا اُس کے بچوں کا اُس کے بارے میں یہ خیال تھا؟ اور اُس کا شوہر؟ دوست اور ہمسائے، وہ کیا سمجھتے ہوں گے؟ اچانک اُسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے وہاں موجود ہر شخص کو اُس سے ہمدردی ہو رہی ہے، اور اس گمان کا احساس اتنا شدید تھا کہ ایک دم ہی اُس کی سانس اُکھڑنے لگی۔
’’تمہیں اپنی ماں سے معافی مانگنی چاہئے،‘‘ ڈیوڈ نے جینیٹ کی طرف مڑتے ہوئے تیوری چڑھاتے ہوئے غصیلے لہجے میں کہا۔
’’رہنے دو، سب ٹھیک ہے۔ مجھے اُس کی معافی کی ضرورت نہیں ہے،‘‘ ایلا رنجیدگی سے بولی۔
جینیٹ نے اپنی ماں کو ناراض نظروں سے دیکھتے ہوئے، اپنی کرُسی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اپنا نیپکن ایک طرف پھینکا، اور کچن سے باہر نکل گئی۔
ایک منٹ کے بعد اورلی اور ایوی بھی خاموشی سے اُٹھ کر چلے گئے، یا تو اپنی بڑی بہن کے ساتھ غیر معمولی باہمی اتفاق کی بنا پر یا پھر وہ بڑوں کے درمیان ہونے والی ان تمام باتوں سے بور ہو گئے تھے۔ اس کے بعد آنٹ ایستھر بھی، منہ ہی منہ میں کوئی بہانہ بناتے ہوئے اور منہ میں رکھی گولی چباتے ہوئے، اُٹھ کر چلی گئی۔
ڈیوڈ اور ایلا میز پر اکیلے بیٹھے رہے، ایک گھمبیر خاموشی اُن دونوں کے درمیان سانس لے رہی تھی۔ ایلا کو دکھ تھا کہ اُسے ایسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، جس کا، جیسا کہ وہ دونوں جانتے تھے، تعلق نہ جینیٹ سے تھا اور نہ ہی اُن کے دوسرے بچوں سے تھا۔
ڈیوڈ اپنی پلیٹ میں کچھ دیر پہلے کا رکھا ہُوا فورک اُٹھا کر اُس کا معائنہ کرنے لگا۔ ’’تو کیا مجھے یہ سمجھنا چاہئے کہ تم نے اُس سے شادی نہیں کی جس سے تم محبت کرتی تھی؟‘‘
’’اوہ، پلیز، میرا یہ مطلب نہیں تھا۔‘‘
’’تو پھر تمہارا کیا مطلب تھا؟‘‘ ڈیوڈ نے پوچھا، جو ابھی تک اپنے فورک کو دیکھتے ہوئے بات کر رہا تھا۔ ’’جب ہماری شادی ہوئی تھی تو میں سمجھتا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔‘‘
’’میں تم سے محبت کرتی تھی،‘‘ ایلا نے کہا، لیکن یہ نہ کہہ سکی،’’اُس وقت۔‘‘
’’توکتنا عرصہ ہُوا تمہیں مجھ سے محبت نہیں رہی؟‘‘ ڈیوڈ نے پوچھا۔
ایلا نے حیرانی کے ساتھ اپنے شوہر کی طرف دیکھا، یوں جیسے وہ اُسے آئینہ دکھا رہا ہو اور اُس میں نظر آنے والا عکس اُس نے اس سے قبل کبھی نہ دیکھا ہو۔ اور اب، کیا اُسے اپنے شوہر سے محبت نہیں رہی تھی؟ یہ وہ سوال تھا جو اُس نے پہلے کبھی اپنے آپ سے نہیں پوچھا تھا۔ وہ جواب دینا چاہتی تھی لیکن چاہتے ہوئے بھی الفاظ نے اُس کا ساتھ نہیں دیا۔ اُسے اپنے دل میں اس بات کا اعتراف تھا کہ اُن دونوں کو ایک دوسرے کی پرواہ ہونی چاہئے، ان کے بچوں کو نہیں۔ لیکن اس کی بجائے وہ دونوں وہ کچھ کر رہے تھے جو وہ اپنی اپنی بساط کے مطابق سب سے بہتر کر سکتے تھے: ایک ہی جیسی روٹین والے دن گزار رہے تھے، اور ان سب نا گریز وجوہات کی بنا پر وقت گزرے چلا جا رہا تھا۔
اُس نے رونا شروع کر دیا، اس اداسی اور مسلسل اذیت کو اپنے اندر رکھنا اب اُس کے لیے مشکل ہو رہا تھا، یہ اُداسی لاعلمی میں ہی دھیرے دھیرے اُس کی شخصیت کا حصہ بنتی جا رہی تھی۔ ڈیوڈ اپنا چہرہ موڑ کر دوسری طرف دیکھنے لگا۔ وہ دونوں جانتے تھے کہ وہ نہ تو اُسے روتا ہُوا دیکھنا پسند کرتا ہے اور نہ ہی وہ اُس کے سامنے رونا پسند کرتی ہے۔ خوش قسمتی سے، اُسی وقت فون کی گھنٹی بجنے لگی۔
ڈیوڈ نے فون اُٹھایا۔ ’’ہیلو ۔۔۔ ہاں، وہ یہیں ہے۔ ایک منٹ رُکیے، پلیز۔”
ایلا نے خود کو سنبھالا اور بات کرنے لگی، اس کی پوری کوشش تھی کہ وہ اچھے انداز میں بات کرے۔ ’’جی، میں ایلا بات کر رہی ہوں۔‘‘
’’ہیلو، میں مشال بات کر رہی ہوں۔ میں ویک اینڈ پر آپ کو تکلیف دینے کے لیے معذرت خواہ ہوں،‘‘ ایک نوجوان لڑکی کی کھنکتی ہوئی آواز آئی۔ ’’دراصل مجھے کل ہی اسٹیو نے آپ سے بات کرنے کے لیے کہا تھا، مگر میرے ذہن سے نکل گیا۔ کیا آپ کو مسوّدے پر کام شروع کرنے کا موقع ملا؟ــ‘‘
’’اوہ۔‘‘ ایلا نے ایک گہری سانس لی، اُسے اب یاد آیا کہ اُس کو یہ کام کرنا تھا۔
ادبی ادارے کے ہاں اُس کو اپنی ملازمت کی پہلی مشق کے طور پر ایک غیر معروف یورپین مصنّف کا لکھا ہُوا ناول پڑھنا تھا۔ اور پھر اُس پر اُسے ایک تفصیلی رپورٹ لکھنا تھی۔
’’اُنہیں بتا دیجئے کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ میں پہلے ہی اُسے پڑھنا شروع کر چکی ہوں،‘‘ ایلا نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔ وہ مشال جیسی محنتی اور جی جان سے کام کرنے والی عورت کو اپنی پہلی ہی تحریری مشق سے مایوس کرنا نہیں چاہتی تھی۔
’’اوہ، یہ تو بہت اچھی بات ہے! تو آپ کو ناول پسند آیا؟‘‘
ایلا گڑبڑا گئی، اُسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اس بات کا کیا جواب دے۔ اُسے مسوّدے کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا، سوائے اس کے کہ وہ ایک تاریخی ناول تھا جو کہ مشہور صوفی شاعر رومی کی زندگی کے گرد گھومتا تھا، جسے’’مسلمانوں کا شیکسپئر‘ ‘کہا جاتا تھا۔
’’اوہ، وہ بہت۔۔۔ صوفیانہ ہے۔‘‘ ایلا نے مذاق کرتے ہوئے خوشگوار لہجے میں کہا۔
لیکن مشال صرف کام کو سمجھتی تھی۔ ’’ٹھیک،‘‘ اُس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ ’’سُنو، تم اس پر کام کرنا شروع کر دو۔ ہو سکتا ہے تمہاری توقع کے برخلاف ایسے ناول پر رپورٹ لکھنے میں زیادہ وقت لگے۔۔۔‘‘
فون پر سنائی دینے والے شور میں مشال کی آواز کٹ گئی تھی۔ ایلا نے تصوّر میں اُسے کئی کام ایک ساتھ کرتے ہوئے دیکھا۔۔۔ ای میل چیک کرتے، اپنے کسی مصنّف کا تجزیاتی مضمون پڑھتے، سینڈوچ کھاتے، اور ناخن پالش کرتے ہوئے ۔۔۔ یہ سب کام اُسے فون پر اپنے ساتھ باتیں کرنے کے دوران کرتے ہوئے دیکھ سکتی تھی۔
’’ہیلو۔۔۔ کیا آپ لائن پر موجود ہیں؟‘‘ مشال نے ایک منٹ کے بعد پوچھا۔
’’ہاں، میں موجود ہوں۔‘‘
’’اچھا، سُنو، یہاں بہت کام ہے اور مجھے جانا ہے۔ مگر یہ یاد رکھو کہ اس رپورٹ کی آخری تاریخ تین ہفتوں تک ہے۔‘‘
’’میں جانتی ہوں،‘‘ ایلا اُس کی بات کاٹ کر اُسے یقین دلانے والے انداز میں بولی،’’میں آخری تاریخ تک اسے مکمل کر لوں گی ۔‘‘
سچ تو یہ تھا، ایلا کو یقین نہیں تھا کہ وہ اس مسوّدے پر کام کرنا چاہتی ہے۔ شروع میں وہ پُر یقین تھی اور اس پر کام کرنا بھی چاہتی تھی۔ اُس کے لیے کسی غیر معروف مصنّف کا ناول، جو ابھی شائع بھی نہیں ہُوا تھا، پڑھنا اور اُس کی اشاعت کے سلسلے میں، بھلے چھوٹاسا ہی سہی، لیکن ایک کردار ادا کرنے کی سوچ ہی بہت ولولہ خیز تھی۔ لیکن اب اُسے اس کا یقین نہیں تھا کہ وہ تیرہویں صدی کے پُرانے تصوّف جیسے موضوع پر، جس کا اُس کی ذاتی زندگی سے کوئی سروکار نہیں تھا، کوئی توجہ دے سکتی ہے۔
مشال نے شاید اُس کی ہچکچاہٹ محسوس کر لی تھی۔ ’’کیا کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ اُس نے پوچھا۔ جب کوئی جواب نہیں ملا تو وہ دوبارہ بولی۔ ’’سُنو، تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو۔‘‘
کچھ دیر خاموشی کے بعد، ایلا نے اُسے سب کچھ سچ سچ بتانے کا فیصلہ کر لیا۔
’’ایسا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ آج کل جو میری ذہنی کیفیت ہے میں اس تاریخی ناول پر توجہ کے ساتھ کام کر سکتی ہوں۔ میرا مطلب ہے، مجھے رومی میں دلچسپی تو ہے، پھر بھی یہ موضوع میرے لیے بالکل ہی ایک ہٹ کر موضوع ہے۔ اگر ممکن ہو تو آپ مجھے کوئی دوسرا ناول دے دیں، کوئی ایسا ناول جس کو میں آسانی سے سمجھ سکوں اور جس کے ساتھ میرا ذہنی رابطہ آسانی سے جُڑ سکے۔‘‘
’’یہ تو بڑا فضول سا طریقہ کار ہے، ‘‘ مشال نے کہا۔ ’’تم سمجھتی ہو کہ اُن کتابوں پر زیادہ بہتر کام کر سکتی ہو جن کے متعلق تمہیں کچھ علم ہو گا؟ بالکل بھی نہیں! تم چونکہ اس ملک میں رہتی ہو، تمہیں صرف اُن ناولوں پر کام کرنے کی توقع نہیں رکھنی چاہئے جن کا تعلق اس ملک سے ہو، ہے نا؟‘‘
’’میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔‘‘ ایلا بولی، اور اُسے فوراً ہی احساس ہُوا کہ یہ جُملہ آج وہ بہت بار دہرا چکی ہے۔ اُس نے ایک نظر اپنے شوہر کی طرف دیکھا، یہ جاننے کے لیے، کیا اُس کو بھی یہ بات محسوس ہوئی تھی، لیکن ڈیوڈ کے تاثرات سے کچھ بھی جاننا مشکل تھا۔
’’زیادہ تر، ہمیں ایسی کتابوں کا مطالعہ کرنا ہوتا ہے جن کا ہماری ذاتی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ ہماری ملازمت کا حصّہ ہوتا ہے۔ ابھی اسی ہفتے میں نے ایک ایسی ایرانی مصنّفہ کی کتاب پر کام ختم کیا ہے جو تہران میں ایک کوٹھا چلاتی تھی اور اُسے اپنا ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔ کیا مجھے اُس سے یہ کہنا چاہئے تھا کہ وہ اپنا مسوّدہ ہمارے ادارے کی بجائے کسی ایرانی ادارے کو دے؟‘‘
’’نہیں، بالکل بھی نہیں،‘‘ ایلا شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔
’’کیا دور دراز اور دوسری تہذیب کے لوگوں کے ساتھ ذہنی طور پر جڑنا عمدہ ادب کی طاقتوں میں سے ایک طاقت نہیں ہے؟‘‘
’’بالکل ہے۔ سُنیں، میں نے جو بھی کہا برائے مہربانی اُسے نظر انداز کر دیں۔ آپ کو آخری تاریخ سے پہلے اپنی میز پر اس کی رپورٹ مل جائے گی،‘‘ ایلا پُر یقین لہجے میں بولی، اسے مشال پر غصہ آ رہا تھا وہ اُس کے ساتھ اس طرح برتاؤ کر رہی تھی جیسے ساری دنیا میں سب سے زیادہ احمق وہی ہو اور خود پر بھی غصہ آ رہا تھا کہ اُس نے اپنے ساتھ ایسا ہونے دیا۔
’’زبردست، یہ ہوئی نا بات،‘‘ مشال نے اپنی چہکتی ہوئی آواز میں بات ختم کرتے ہوئے کہا۔ ’’مجھے غلط مت سمجھو، لیکن میرا خیال ہے تمہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو تمہاری اس ملازمت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اور اُن میں زیادہ تر لوگ تم سے آدھی عمر کے ہیں۔ میرے خیال میں یہ بات تمہیں کام کرنے کی تحریک دلاتی رہے گی۔‘‘
ایلا نے جب فون بند کیا تو ڈیوڈ سنجیدگی کے ساتھ اُسے دیکھ رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا وہ اپنی بات کو، جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا، وہیں سے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن وہ اپنی بیٹی کے مستقبل کے بارے میں مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی، اگر وہ اسی لیے پریشان تھا تو۔
غروبِ آفتاب کا وقت تھا جب وہ باہر پورچ میں اپنی پسندیدہ کُرسی پر بیٹھی، نارنجی اور سُرخ رنگوں میں گھرے ڈوبتے سورج کو دیکھ رہی تھی۔ اُسے میلوں وسیع آسمان اپنے اتنے قریب محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ہاتھ بڑھا کر اُسے چھو سکتی ہو۔ اُس کا ذہن یوں خاموش تھا جیسے اُس کے اندر بپا شور سُنتے سُنتے تھک چُکا ہو۔ اس مہینے کے کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی، اورلی کے کھانا ٹھیک سے نہ کھانے کی عادت، ایوی کے خراب گریڈز، آنٹ ایستھر کے اداسی بھرے کیک، اُس کے کتے سپرٹ کی گرتی ہوئی صحت، جینیٹ کی شادی کا پلان، اُس کے شوہر کا رویّہ، اس کی اپنی زندگی میں محبت کی عدم موجودگی ۔۔۔ ایک ایک کر کے وہ تمام باتیں اُس کے دماغ میں گھومنے لگیں جنہوں نے اُس کے ذہن کو جکڑ رکھا تھا۔
یہی سب سوچتے ہوئے، ایلا لفافے میں سے مسوّدہ نکال کر اپنے ہاتھ میں یوں تولنے لگی جیسے اُس کے وزن کا اندازہ کر رہی ہو۔ ناول کا عنوان اُس کے پہلے صفحے پر نیلی روشنائی سے لکھا تھا: شیریں کُفر۔
ایلا کو بتایا گیا تھا کہ ہالینڈ میں رہائش پذیر مصنّف، عین۔ ز۔ زاہرہ، کے بارے میں کسی کو کچھ زیادہ علم نہیں ہے۔ ناول کامسوّدہ اس ادبی ادارے کو، لفافے میں بند ایک پوسٹ کارڈ کے ہمراہ، ایمسٹرڈیم سے بھیجا گیا تھا۔ پوسٹ کارڈ کے سامنے والے حصّے پر کِھلتے گلابی، پیلے، اور جامنی رنگوں کے گلِ لالہ کے کھیت کی تصویر تھی، اور پچھلے حصّے پر ہاتھ سے لکھی گئی ایک خوبصورت تحریر تھی:
ڈیر سر؍ میڈم،
ایمسٹرڈیم سے سلام۔ میں آپ کو جو کہانی بجھوا رہا ہوں یہ تیرھویں صدی کے ایشیا میں واقع قونیہ کی کہانی ہے۔ لیکن میری مخلصانہ رائے کے مطابق یہ ممالک اور اُن کی تہذیب دوسری صدیوںسے آگے کی بات ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ یہ کہانی شیریں کُفر پڑھنے کے لیے وقت نکالیں گے۔ یہ ایک تاریخی اور تصوّف پر مبنی ناول ہے جو رومی، اسلامی تاریخ میں ایک قابلِ تعظیم روحانی راہنما اور ایک بہترین شاعر ہو گزرے ہیں، اور شمس تبریز،ایک معروف اور غیر معمولی درویش جس کی زندگی حیرت انگیزواقعات سے بھری پڑی ہے، کی غیر معمولی رفاقت اور تعلق پرمبنی ہے۔
دعاگو ہوں محبت آپ پر ہمیشہ مہربان اور سایہ فگن رہے۔
عین۔ ز۔ زاہرہ
ایلا سمجھ گئی تھی کہ پوسٹ کارڈ کی تحریر نے ادبی ادارے کے تجسّس کو اُبھارا ہو گا۔ لیکن اسٹیو کے پاس اتنا وقت کہاں تھا کہ وہ نئے لکھاریوں کا کام پڑھتا۔ لہذا اُس نے یہ لفافہ اپنی سیکریٹری، مشال، کو دے دیا، جس نے آگے اپنی نئی سیکریٹری کو بڑھا دیا۔ اس طرح شیریں کُفر ایلا کے ہاتھوں تک پہنچ گیا۔
اُسے اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ ناول کسی بھی دوسری عام کتاب کی طرح ثابت نہیں ہو گا، بلکہ ایک ایسی کتاب ثابت ہو گا جو اُس کی زندگی ہی بدل ڈالے گی۔ اس کو پڑھنے کے دوران، اُس کی زندگی نئے سِرے سے مرتّب کی جائے گی۔
ایلا نے پہلا صفحہ کھولا۔اُس پر مصنّف کے متعلق ایک تحریر تھی۔
عین۔ ز۔ زاہرہ جب دنیا کے سفر پر نہیں ہوتا تو وہ ایمسٹرڈیم میں اپنی کتابوں، بلیوں، اور کچھوؤں کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ شیریں کُفر اس کا پہلا اور غالباً آخری ناول ہے۔ اس کا ناول نگار بننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس نے یہ کتاب صرف اور صرف ایک عظیم مفکّر، صوفی اور شاعر رومی اور اس کے روحانی مُرشد شمس تبریز کے لیے اپنی محبت اور عقیدت میںلکھی ہے۔
صفحے پر اُس کی نظریں اُوپر سے نیچے آتے ہوئے اگلی سطر پر رک گئیں۔ ایلا کو وہاں کچھ انوکھا اور خاص لکھا ہُوا پڑھنے کو ملا:
’’چاہے لوگ کچھ بھی کہتے ہوں، محبت آسانی سے طاری ہونے اور ختم ہو جانے والے جذبے کا نام نہیں ہے۔‘‘
جیسے ہی اُسے یہ احساس ہُوا کہ یہ جملہ اُس کے اپنے کہے گئے جملے کے بالکل برعکس ہے جو آج اُس نے باورچی خانے میں اپنی بیٹی کو کہا تھا تو وہ ایک لمحے کے لیے بالکل سُن سی ہو گئی، وہ یہ سوچ کر کانپ اُٹھی کہ اس کائنات میں کوئی پُراسرار طاقت، یا پھر یہ مصنّف، یا وہ جو کوئی بھی ہے، اُس کے بارے میں جانتا ہے۔ غالباً یہ کتاب لکھنے سے پہلے اُس کے علم میں ہو گا کہ اسے سب سے پہلے کیسا شخص پڑھنے والا ہے۔ اس مصنّف نے اپنے ذہن میں اُسے قاری کی حیثیت سے رکھا ہو گا۔ کسی وجہ سے، ایلا کو یہ خیال پریشان بھی کر رہا تھا اور اُسے اچھا بھی لگ رہا تھا۔
اکیسویں صدی کسی لحاظ سے بھی تیرھویں صدی سے مختلف نہیں تھی۔ تاریخ میں یہ دونوں صدیاں ایسے ادوار کے طور پر رقم کی جائیں گی جن میں مذہبی ٹکراؤ، تہذیبی غلط فہمیاں، اور غیر محفوظ ہونے اور دوسروں سے خوفزدہ ہونے کے احساس جیسی بے شمار بیماریاں ہوں گی۔ اس طرح کے حالات میں، محبت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گی۔
اُس کے رُخ پر قدرے تیز چلتی ٹھنڈی ہوا درختوں سے گرے پتّوں کو صحن میں بکھیرے جا رہی تھی۔ غروبِ آفتاب کا حُسن مغربی اُفق کی طرف ڈھل رہا تھا اور فضا ایک دم پھیکی اور بے جان محسوس ہو رہی تھی۔
کیونکہ محبت زندگی کی بہت اہم ضرورت اور مقصد ہے۔ بقول رومی، یہ ہر ایک پر اپنا وار کرتی ہے، اُن پر بھی جو محبت سے گریز کرتے ہوئے اس سے بچ کر چلتے ہیں، اور اُن پر بھی جو ’رومان‘ جیسے لفظ سے بھی انحراف کرتے نظر آتے ہیں۔
ایلا یوں حیران پریشان تھی جیسے اُس نے یہ پڑھ لیا ہو، ’’محبت ہر ایک پر اپنا وار کرتی ہے، حتیٰ کہ نارتھ ایمپٹن میں رہنے والی درمیانی عمر کی ایک گھریلو عورت ایلا رابن سٹائن پر بھی۔‘‘
اُس کی چھٹی حس اُسے متواتر کہہ رہی تھی کہ وہ مسوّدہ واپس رکھ دے اور مشال کو فون کر کے کہے کہ وہ اس ناول پر رپورٹ نہیں لکھ سکے گی۔ مگر ایسا کرنے کی بجائے وہ ایک گہری سانس بھرتے ہوئے صفحہ پلٹ کر ناول کو پڑھنا شروع ہو گئی۔
(جاری ہے)

دوسری قسط 29 دسمبر 2017ء کو پڑھیے۔


بشکریہ

ناول کا انتخاب نمبر 2ناول: محبت کے چالیس اصول (قسط نمبر1)مصنف: ایلف شفق (ترکی)مترجم: ناہید ورک (امریکہ…

Posted by Yasir Habib on Monday, December 25, 2017

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo