دنیا بولنے والوں کے ساتھ ہے – ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

زندہ دلانِ لاہور کے ثقافتی اور سماجی حلقوں میں ہر روز تقریبات انعقاد پذیر ہوتی رہتی ہیں۔ مگر گزشتہ روز ’’پائنا‘‘کا سیمینار اب بھی رنگ و نور کی آبشار میرے قلب و روح پر نثار کر رہا ہے۔ قومی مفادات کے لیے ایثار اور قربانی کی زندہ مثال محترم الطاف حسن قریشی جیسی شخصیت میں آپ تلاش کر سکتے ہیں۔ پائنا کے سیمینار کی کامرانی اور اس کے انعقاد کے عقب میں یہی وہ منصوبہ ساز ذہن کارفرما تھا، جس نے سیمینار کو بامِ عروج پر پہنچا دیا۔ ڈاکٹر مجاہد کامران کا اشتراک درحقیقت نصف کام کی کامیابی کا ضامن تھا اور پھر الطاف حسن قریشی جیسی شخصیت کو اپنے قومی کاز کے لیے تعاون کا ہاتھ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے دراز کر دیا تو اس سیمینار کی کامیابی یقینی ہو گئی۔ مجھے خوشی ہے کہ محترم الطاف صاحب نے پائنا کے اس سفر میں مجھے بھی بطور میڈیا کوارڈینیٹر شامل کرکے مجھے اعزاز بخش رکھا ہے، جس کے لیے میں ان کی مشکور ہوں۔ بلوچ قوم کی محرومیوں کو دور کرنے اور ان کے درد کا درماں ہمارے ملک کے محسن جناب الطاف حسن قریشی کے پاس وافر مقدار میں موجود ہے۔ ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر کی صدارت اور وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک کی موجودگی نے پنجاب یونیورسٹی کے الرازی ہال کو اعلیٰ پائے کے سامعین مہیا کیے۔ اور یہ وہ لوگ تھے جن کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن و تابناک آفتاب و ماہ تاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سیمینار کی کامرانی کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس میں ہر مکتبۂ فکر کے پیروجواں شریک تھے۔ ہر مقرر کی تقریر دلپذیر تھی اور وہ بلوچ قوم کی وفاداریوں کے گن گا رہے تھے۔ اس تقریب کے میزبان جناب الطاف حسن قریشی کا خطبۂ استقبالیہ بڑے ہی خاصے کی چیز تھا۔ ان کے حلق سے نکلی ہوئی بات بالواسطہ فلک تک جا رہی تھی اور ہر آنکھ ان کے چہرے پر جمی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے اپنے خطاب میں موجودہ و گزشتہ بلوچستان کی تصویر دکھائی اور کہا کہ اب بلوچستان سکون و آتشی کا گنجِ گراں مایہ ہے۔ رات پرسکون اور دن چہل پہل میں بدل گیا ہے۔ اس صاف فرق کو دنیا کو واقعی محسوس کیا ہے۔ مقررین کو لمبی فہرست کو میرِ نقابت نے جس طرح مکمل کیایہ بالکل انہی کا خاصا ہے۔ سجاد میر کا انداز ایسا تھا کہ وہ آنے والے مقرر کی پوری تقریر کا احاطہ اپنے ایک جملے میں کر لیتے۔ عالم لوگوں کو اتنی دیر سامعین کی صف میں بٹھا دینا یہ پائنا کے سیمینار میں ہی ہو سکتا ہے۔ ہر مکتبۂ فکر کے لوگ الطاف حسن قریشی اور ڈاکٹر مجاہد کامران کی اس قومی ذمہ داری کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ کچھ مقررین کی تقاریر آتش و آہن کا سماں باندھ رہی تھیں۔ فرخ سہیل گوئندی کا فلسفۂ پاکستان ایک دفعہ تو بالکل چھا گیا تھا۔ انہوں نے صوبوں کی ایک لمبی تاریخ بیان کی اور کہا کہ صو بوں نے ہی پاکستان کو بنایا تھا۔ صوبوں کی تاریخ پہلے تھی، پاکستان بعد میں بنا۔ مجیب الرحمن شامی نے آپ کے اس نظرئیے کو سامعین کے ذہنوں سے تو ختم کر دیا۔ انہوں نے دو قومی نظرئیے کی افادیت بیان کی۔ مجیب الرحمن شامی کی تقریر درد کے صحرا میں ڈوبی ہوئی تھی اور وہ اسی صحرا سے نخلستان کی نوید سنا رہے تھے۔ وہ نیشنل پارٹی کی حکومت کو بلوچستان میں مزید وقت دینے کے حق میں ضرور ہیں مگر اس کے لیے بلوچستان سے آواز اٹھنی چاہیے۔ عطاء الحق قاسمی نے جس طرح نیشنل پارٹی کو مزید وقت دینے کی پرزور سفارش کی ، یہی ہم سب کے دل کی آواز اور آرزو ہے۔ مجیب الرحمن شامی نے پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ بچوں کے حوالے سے ایک انتہائی مفید تجویز دی کہ ہماری وفاقی حکومت بلوچستان کے دس ہزار سے زائد طالب علموں کو پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں داخلہ دے کر ان کی تعلیم کو مکمل کر دینا چاہیے، جب تک وہاں یونیورسٹیوں کی عمارتیں تعمیر نہیں ہو جاتیں۔ غلام نبی مری نے حزب اختلاف کی خُو یہاں بھی نہ چھوڑی، انہوں نے پائنا کے پلیٹ فارم کو بلوچستان اسمبلی کے فلور میں بدل دیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے نقیبِ مجلس سجاد میر صوبائی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے پر فائز ہو گئے ہیں، گو انہوں نے سپیکر کے اختیارات کا استعمال تو نہ کیا البتہ ہمارے مری صاحب نے خوب دل کا غبار نکالا، اور تالیوں کی گونج ان کے لیے آکسیجن فراہم کرتی رہی۔ بریگیڈیئر نادر میر اور کوئٹہ سے آئے ہوئے عطاء الرحمن نے بھی خوب گفتگو کی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک کی شخصیت پورے وقار و افتخار سے مخالفانہ طرزِ گفتگو سے محظوظ ہوتی رہی۔ انہوں نے ایک لمحہ بھی بیزاری کا اظہار یا تاثر نہیں دیا۔ سابق نگران وزیراعلیٰ غوث بخش باروزئی کی تقریر بھی اپنے اندر ایک خصوصی پیغام لیے ہوئے تھی۔ نوجوان سیاستدان وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا انداز بھی دلنشیں تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ بلوچ قوم وفادار بھی ہے اور شائستہ اطوار سے ہمکنار بھی۔ ان کی عزت ہم سب پر لازم ہے، ہمارے دونوں وفاقی وزراء سعد رفیق اور احسن اقبال جنہیں خطابت کے بہترین شہسوار کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، انہوں نے ایسی دلپذیر گفتگو کی اور اس کے بعد اپنی مصروفیات کا جواز پیش کرکے ہال سے چلے گئے، حالانکہ ان دونوں کا آخر تک بیٹھنا انتہائی ضروری تھا، جس کا احساس ان دونوں کو تو شاید نہیں تھا مگر مہمانوں نے اس کو بہت محسوس کیا۔ آخر میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور بلوچوں کی وفاداریوں کے گن گائے۔ یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر مجاہد کامران کی یہ ملتِ پاکستانیہ کے لیے بہت بڑی کامرانی ہے کہ انہوں نے ایک ایسے مسئلے کو حل کر دیاجو بظاہر مشکل نظر آتا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کے بلوچ طالب علم رہنمائٓ اظہار حمید بلوچ نے اپنے تحریری کھلے خط میں بھی پنجاب یونیورسٹی میں بلوچستان کے طلباء و طالبات کے لیے پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے سہولتوں کا ذکر کیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی بلوچستان کے 300سے زائد طلباء و طالبات کو مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ 3ہزار روپے اعزازیہ بھی دے رہی ہے جو یقینا قابلِ صد لائق تحسین ہے۔ اور یہاں بلوچستان کے طلباء کو اپنے صوبے کی ثقافتی سرگرمیوں کی بھرپور اجازت ہے۔ اور وہ اس طرح دونوں صوبوں کی ثقافت کو بہت قریب لا کر دلوں میں اخوت و رواداری کے چمن آباد کر رہے ہیں۔ یہ سارا کریڈٹ ایک ایسے مجاہد کو جاتا ہے جس کے ہاتھ میں نہ کوئی بندوق ہے اور نہ ہی کلاشنکوف، جس کی کامرانیوں کا ضامن قلم ہے۔ میری مراد ڈاکٹر مجاہد کامران سے ہے جنہوں نے مولانا ظفر علی خان کے اس شعر پر پورا عمل کیا۔

قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو

تو مجھ سے سیکھ لے یہ فن اور اس میں بے مثال بن

واقعی لارڈ سالسبری نے غلط نہیں کہا تھا کہ دنیا آج بھی ان کے ساتھ ہے جو بول سکتے ہیں۔ پائنا کے سامعین سے لے کر سٹیج پر بیٹھے ہوئے مقررین تک سب بولنے والے ہی تھے۔ اس لیے دنیا بولنے والوں کے ساتھ ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo