ایک زمین ایک ردیف 8 شاعر، ” یا ہوگا ” کیفؔ بھوپالی…

[ad_1] ایک زمین ایک ردیف 8 شاعر،
” یا ہوگا ”
کیفؔ بھوپالی، شفیق خلش، مینا کماری ، قیصر صدیقی، ساغر اعظمی، کیفی اعظمی، نامعلوم، منصور قاسمی
_________________________
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک
کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا
اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل
تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا
دل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیرا شاید
ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا
گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو
آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا
کھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گے
چاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگا
کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں
اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا
کیفؔ بھوپالی
___________________________
پھر خیالِ دلِ بیتاب ہی لایا ہوگا
کون آتا ہے یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
خوش خیالی ہی مِری کھینچ کے لائی ہوگی
در حقیقت تو مِرے در وہ نہ آیا ہوگا
کیا کہیں ہجرکے ایّامِ عقوبت کا تمھیں
کیا ستم دیکھ کے تنہا نہیں ڈھایا ہوگا
مُمکنہ راہ پر کچھ حسرتِ دید اُن کی لئے !
یوں بھی بیٹھے تھے کہ، اِس راہ وہ آیا ہوگا
ہو گماں شک پہ حقیقت کا نہ ہاتھ آئے جب !
ہم جسے جسم سمجھتے رہے سایا ہوگا
سوچ کر اپنے ہی مکتوب پہ رشک آتا ہے
اپنے ہونٹوں سے وہ، مِلتے ہی لگایا ہوگا
بس یہی سوچ کے ہر روز خلِش جاتے ہیں
گُل کا موسم ہے، وہ گُل باغ میں آیا ہوگا
شفیق خلش
___________________________
آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا
ذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگا
پیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگا
مل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگا
خون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا
مینا کماری
_____________________________
میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہوگا
اس کے دروازے پہ اب تک مرا سایہ ہوگا
جب بھی آئینہ نے منہ اس کو چڑھایا ہوگا
کیسے خوابوں کی حقیقت کو چھپایا ہوگا
اس نے بھرپور نظر جس پہ بھی ڈالی ہوگی
چاند نے اس کو کلیجے سے لگایا ہوگا
کس طرح قتل کیا ہوگا مری یادوں کو
کتنی مشکل سے مجھے اس نے بھلایا ہوگا
جب چلی ہوگی کہیں بات کسی شاعر کی
اس کے ہونٹوں پہ مرا نام تو آیا ہوگا
جو مرے بارے میں سوچے گا ہر اک پہلو سے
وہ مرا اپنا نہیں ہوگا پرایا ہوگا
اس کی پلکوں کا تبسم یہ پتہ دیتا ہے
اس نے آنکھوں میں کوئی خواب سجایا ہوگا
سوچتا ہوں کہ وہ انسان بہ نام ہستی
کیسے انگاروں کی بارش میں نہایا ہوگا
زندگی اس کی سلگتا ہوا صحرا ہوگی
جو تری آنکھوں پہ ایمان نہ لایا ہوگا
تیری آنکھوں میں سمایا ہے جو رنگوں کی طرح
ہو نہ ہو میرے خیالات کا سایہ ہوگا
تم نے قیصرؔ مرے احساس کے ویرانے میں
میرے خوابوں کو تڑپتا ہوا پایا ہوگا
قیصر صدیقی
______________________________
دھوپ میں غم کی جو میرے ساتھ آیا ہوگا
وہ کوئی ا ور نہیں میرا ہی سایہ ہوگا
یہ جو دیوار پہ کچھ نقش ہیں دھندلے دھندلے
اس نے لکھ لکھ کے میرا نام مٹایا ہو
جن کے ہونٹوں پہ تبسم ہے مگر آنکھ ہے نم
اس نے غم اپنا زمانے سے چھپایا ہوگا
بے تعلق سی فضا ہوگی رہِ غربت میں
کوئی اپنا ہی ملے گا نہ پرایا ہوگا
اتنا ناراض ہو کیوں اس نے جو پتھر پھینکا
اس کے ہاتھوں سے کبھی پھول بھی آیا ہوگا
میری ہی طرح میرے شعر ہیں رسوا ساغر
کس کو اس طرح محبت نے سنایا ہوگا
ساغر اعظمی
____________________________
شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا
پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا
جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا
بانیٔ جشن بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں
کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا
بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی
سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا
اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے
ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا
کیفی اعظمی
_______________
زیست میں ایسا کوئی وقت بھی آیا ہوگا
خواب ہر ایک نے پلکوں پہ سجایا ہوگا
ہر طرف ہے یہاں فردوس بہ داماں منظر
کوئی جنت سے اتر کر یہاں آیا ہوگا
بَیر سایوں سے کہاں ہوتی ہے انسانوں کو
” آندھیو! تم نے درختوں کو گرایا ہوگا ”
وہ تو پتھر تھے پگھل کیسے گئے کیا معلوم
دل کے قریے میں کوئی چپکے سے آیا ہوگا
زندگی میں کوئی کھٹکا نہ رہا ہوگا اسے
راستا جس نے بھی لوگوں کو دکھایا ہوگا
کس میں جرأت ہے ترے سامنے گویائی کی
کوئی کم ظرف تری بزم میں آیا ہوگا
رنج و غم کو کسی دشمن سے نہ منسوب کرو
تم نے یہ اپنے ہی ہاتھوں سے کمایا ہوگا
وقت کے ساتھ بدل جانا سحر ٹھیک نہیں
ورنہ اپنا بھی کسی روز پرایا ہوگا
سحر محمود
____________
جس نے پودا کوئی نفرت کا اگایا ہوگا
خار چبھنے پہ سمجھ میں اسے آیا ہوگا
سب ہیں ہشیار اسے دیکھ درندوں سے سوا
کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا
تار ہرایک کترڈالے خرد نے صیاد۔۔۔۔۔۔۔
صید اس دام میں کوئی بھی نہ آیا ہوگا
ساتھ اس کےکئی ارمان ہوئےہوںگےخاک
ہوکے مجبور کوئی خط جو جلایا ہوگا
ہوگا فورا ہی رویہ سے ترے علم مجھے
دل میں اک تیرےذرا بال بھی آیا ہوگا۔۔۔
ان کی آہیں تمہیں برباد کریں گی اک دن
جن کو ارباب جفا تم نے ستایا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔
بن گیا صورت تصویر مجسم جو وہ۔۔۔۔
کچھ تو قاصد نے ابھی اس کوسنایا ہوگا
آج بھی اک اثر شدت وحشت اے قیس۔۔۔
وادئی نجد کے ذروں میں سمایا ہوگا۔۔
غم رضیہ ہے فقط اس کو ہی رسوائی ک
نام خود جس نےکہ محنت سےکمایا ہوگا
نامعلوم
___________________________
رنگ چہرے کا بہت اترا ہوا لگتا ہے
سرمئی شام نے پھر آج ستایا ہوگا
ہم نے بھی سنگ تراشے ہیں وفا کے کئی
اس نے بھی شیش محل کوئی بنایا ہوگا
قبر پر رات گئے آکے مرے قاتل نے
ہچکیاں لے کے کوئی دیپ جلایا ہوگا
منصور قاسمی
______________
بشکریہ بحر سے خارج


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo