جاں نثار اختر کی وفات Aug 19, 1976 جاں نثار اختر۔…

[ad_1] جاں نثار اختر کی وفات
Aug 19, 1976

جاں نثار اختر۔ نام سید جاں نثار حسین رضوی اور اختر تخلص تھا۔۸؍فروری۱۹۱۴ء کو گوالیار میں پیدا ہوئے ۔ ان کا آبائی وطن خیرآباد(یوپی) ہے۔جاں نثار نے ابتدائی تعلیم وکٹوریہ کالجیٹ ہائی اسکول گوالیار میں حاصل کی اور وہیں سے ۱۹۳۰ء میں میٹرک کا امتحان پاس کرکے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخلہ لیا۔۱۹۳۷ء میں بی اے (آنرز)اور ۱۹۳۹ء میں ایم اے (اردو) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ۱۹۴۰ء میں ان کا تقرر وکٹوریہ کالج ، گوالیارمیں اردو لکچرر کی حیثیت سے ہوگیا۔ ۱۹۴۳ء میں ان کی شادی صفیہ سے ہوگئی جو اسرار الحق مجاز کی حقیقی بہن تھیں۔ ۱۹۴۷ء میں ملک آزاد ہوا۔ گوالیار کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے اختر نے ریاست بھوپال میں سکونت اختیار کرلی۔ یہاں انھیں حمیدیہ کالج میں صدر شعبہ اردو وفارسی کی جگہ مل گئی۔ اس وقت صفیہ علی گڑھ میں پڑھاتی تھیں، وہ بھی اسی کالج میں لکچرر ہوگئیں۔ اختر ترقی پسند تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔ حکومت ہند نے کمیونسٹ پارٹی پر پابندیاں عائد کردیں۔ چوں کہ ترقی پسند تحریک بھی اس پارٹی کی سرگرمیوں کا ایک رخ تھا اس لیے اختر کونوکری سے استعفا دینا پڑا اور انھوں نے بمبئی کی راہ لی۔ صفیہ حمیدیہ کالج، بھوپال میں ملازم رہیں۔ صفیہ، اختر کی جدائی میں کڑھ کڑھ کرتپ دق کے موذی مرض میں مبتلا ہوگئیں۔ اختر اپنی عسیر الحالی کی وجہ سے ان کا خاطر خواہ علاج نہ کراسکے۔ صفیہ لکھنؤ میں انتقال کرگئیں۔ صفیہ کے خطوط کے دو مجموعے ’’حرف آشنا’’ اور ’’زیر لب‘‘ کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ جاں نثار اختر بمبئی میں فلموں کے گیت لکھنے لگے، اس سے آمدنی میں بھی اضافہ ہوا اور شہرت بھی ملی۔ انھیں عارضۂ قلب لاحق ہوگیا اور وہ ۱۸؍ اگست۱۹۷۶ء کو بمبئی میں انتقال کرگئے۔ جاں نثار نے شاعری کا ذوق وراثت میں پایا تھا۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز اور نشوونما علی گڑھ میں ہوئی۔ علی گڑھ کے دوران قیام یہ ’’انجمن اردوئے معلی‘‘ کے سکریٹری رہے اور ایک عرصے تک ’’علی گڑھ میگزین ‘‘ کی ادارت کی۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’’سلاسل‘‘، ’’تارگریباں‘‘، ’’نذر بتاں‘‘، ’’جاوداں‘‘، ’’گھر آنگن‘‘، ’’خاک دل‘‘، ’’پچھلے پہر‘‘۔ نومبر ۱۹۷۴ء میں انھیں ’’خاک دل‘‘ پر نہرو ایوارڈ کا تین ہزار روپے کا انعام ملا۔ اترپردیش حکومت نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں پانچ ہزار روپے کا عطیہ دیا۔ ان کی وفات کے بعد وزیر اعظم نے اپنے فنڈ سے دس ہزار روپے کا عطیہ ان کے خاندان کی امداد کے طور پر دیا اور اتنی ہی رقم حکومت مہاراشٹر نے دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رنج و غم مانگے ہے، اندوہ و بلا مانگے ہے
دل وہ مجرم ہے کہ خود اپنی سزا مانگے ہے
چپ ہے ہر زخمِ گلو، چپ ہے شہیدوں کا لہو
دستِ قاتل ہے جو محنت کا صِلہ مانگے ہے
تو بھی اک دولتِ نایاب ہے، پر کیا کہیے
زندگی اور بھی کچھ تیرے سوا مانگے ہے
کھوئی کھوئی یہ نگاہیں، یہ خمیدہ پلکیں
ہاتھ اٹھائے کوئی جس طرح دعا مانگے ہے
راس اب آئے گی اشکوں کی نہ آہوں کی
آج کا پیار نئی آب و ہوا مانگے ہے
بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی
ہر سکوتِ شبِ غم کوئی صدا مانگے ہے
لاکھ منکر سہی پر ذوقِ پرستش میرا
آج بھی کوئی صنم، کوئی خدا مانگے ہے
سانس ویسے ہی زمانے کی رکی جاتی ہے
وہ بدن اور بھی کچھ تنگ قبا مانگے ہے
دل ہر اک حال سے بیگانہ ہوا جاتا ہے
اب توجہ، نہ تغافل، نہ ادا مانگے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تو نیناں کجرارے اور اس پر ڈوبے کاجل میں
بجلی کی بڑھ جائے چمک کچھ اور بھی گہرے بادل میں
آج ذرا للچائی نظر سے اُس کو بس کیا دیکھ لیا
پگ پگ اُس کے دل کی دھڑکن اُتری آئے پائل میں
پیاسے پیاسے نیناں اُس کے جانے پگلی چاہے کیا
تٹ پر جب بھی جاوے ‘سوچے’ ندیا بھر لوں چھاگل میں
صبح نہانے جوڑا کھولے، ناگ بدن سے آ لپٹیں
اُس کی رنگت، اُس کی خوشبو کتنی ملتی صندل میں
چاند کی پتلی نوک پہ جیسے کوئی بادل ٹِک جائے
ایسے اُس کا گِرتا آنچل اٹکے آڑی ہیکل میں
گوری اس سنسار میں مجھکو ایسا تیرا روپ لگے
جیسے کوئی دیپ جلا ہو گھور اندھیرے جنگل میں
کھڑکی کی باریک جھری سے کون یہ مجھ تک آ جائے
جسم چرائے، نین جھکائے، خوشبو باندھے آنچل میں
پیار کی یوں ہر بوند جلا دی میں نے اپنے سینے میں
جیسے کوئی جلتی ماچس ڈال دے پی کر بوتل میں
آج پتہ کیا، کون سے لمحے، کون سا طوفاں جاگ اُٹھے
جانے کتنی درد کی صدیاں گونج رہی ہیں پل پل میں
ہم بھی کیا ہیں کل تک ہم کو فکر سکوں کی رہتی تھی
آج سکوں سے گھبراتے ہیں، چین ملے ہے ہل چل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے
یہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے
جو آنسووں میں کبھی رات بھیگ جاتی ہے
بہت قریب وہ آواز پا لگے ہے مجھے
میں سو بھی جاؤں تو کیا میری بند آنکھوں میں
تمام رات کوئی جھانکتا لگے ہے مجھے
میں جب بھی اس کے خیالوں میں کھو سا جاتا ہوں
وہ خود بھی بات کرے تو برا لگے ہے مجھے
دبا کے آئی ہے سینے میں کون سی آہیں
کچھ آج رنگ ترا سانولا لگے ہے مجھے
نہ جانے وقت کی رفتار کیا دکھاتی ہے
کبھی کبھی تو بڑا خوف سا لگے ہے مجھے
بکھر گیا ہے کچھ اس طرح آدمی کا وجود
ہر ایک فرد کوئی سانحہ لگے ہے مجھے
اب ایک آدھ قدم کا حساب کیا رکھیئے
ابھی تلک تو وہی فاصلہ لگے ہے مجھے
حکایتِ غمِ دل کچھ کشش تو رکھتی ہے
زمانہ غور سے سنتا ہوا لگے ہے مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھم نے کاٹی ھیں تری یاد میں راتیں اکثر
دل سے گزری ھیں تاروں کی باراتیں اکثر
عشق راہزن نہ سہی عشق کے ھاتھوں اکثر
ھم نے لٹتی ھوئی دیکھی ھیں باراتیں اکثر
ھم سے اک بار بھی جیتا ھے نہ جیتے گا کوئی
وہ تو ھم جان کے کھالیتے ھیں ماتیں اکثر
ان سے پوچھو کبھی چہرے بھی پڑھے ھیں تم نے
جو کتابوں کی کیا کرتئے ھیں باتیں اکثر
حال کہنا ھو کسی سے تو مخاطب ھے کوئی
کتنی دلچسپ ھوا کرتی ھیں باتیں اکثر
اور تو کون ھے جو مجھ کو تسلی دیتا
ھاتھ رکھ دیتی ھیں دل پر تری باتیں اکثر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو اسقدر مجھے اپنے قریب لگتا ھے
تجھے الگ سوچوں تو عجیب لگتا ھے
جسے نہ حسن سے مطلب نہ عشق سے سروکار
وہ شخص مجھ کو بہت بد نصیب لگتا ھے
حدود ذات سے باہر نکل کے دیکھ ذرا
نہ کوئی غیر نہ کوئی رقیب لگتا ھے
یہ دوستی یہ مراسم یہ چاہتیں یہ خلوص
کبھی کبھی مجھے سب عجیب لگتا ھے
افق پہ دور چمکتا ھوا کوئی تارہ
مجھے چراغ دیار حبیب لگتا ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ھے کہ تم ھو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
جب شاخ کوئی ھاتھ لگاتے ھی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
صندل سے مہکتی ھوئی پر کیف ھوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
اوڑھے ھوئے تاروں کی چمکتی ھوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سے سو جائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہو
کچھ نہ کچھ تیرا احسان اُتارا ہی نہ ہو
کُوئے قاتل کی بڑی دھوم ہے، چل کر دیکھیں
کیا خبر کُوچہء دلدار سے پیارا ہی نہ ہو
دل کو چُھو جاتی ہے رات کی آواز کبھی
چونک اُٹھتا ہوں کہیں تم نے پُکارا ہی نہ ہو
کبھی پلکوں پہ چمکتی ہے جو اشکوں کی لکیر
سوچتا ہوں تیرے آنچل کا کنارا ہی نہ ہو
زندگی اک خلش دے کے نہ رہ جا مجھ کو
درد وہ دے جو کسی صورت گوارہ (؟)ہی نہ ہو
شرم آتی ہے کہ اُس شہر میں ہم ہیں کہ جہاں
نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارہ ہی نہ ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo