کل 16 اگست کو نامور استاد شاعر شیخ امام بخش ناسخؔ…

[ad_1] کل 16 اگست کو نامور استاد شاعر شیخ امام بخش ناسخؔ کی برسی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیخ امام بخش 10 اپریل 7 محرم بروز جمعہ فیض آباد میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔ ورزش کا شوق تھا۔ بدن کسرتی اور پھرتیلا تھا۔ فیض آباد کے ایک امیر محمد تقی کو ایسے بانکوں کی سرپرستی کا شوق تھا۔ محمد تقی نے ان کو بھی ملازم رکھا لیا اور ناسخ ان کے ساتھ لکھنؤ آ گئے۔ ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔
ناسخ کسی کے باقاعدہ شاگرد نہیں تھے۔ اودھ کے حکمراں غازی الدین حیدر نے ناسخ کو باقاعدہ ملازم رکھنا چاہا تھا مگر انھوں نے منظور نہ کیا۔ شاہی عتاب اور درباری آویزشوں کے سبب ان کو لکھنؤ چھوڑ کر الہ آباد، فیض آباد، بنارس اور کانپور میں رہنا پڑا۔ لیکن آخر لکھنؤ واپس آ گئے۔ نظام دکن کے دیوان، چندو لال نے کثیر رقم بھیج کر ناسخ کو حیدر آباد آنے کی دعوت دی لیکن وہ وطن چھوڑ کر نہیں گئے۔ ناسخ لکھنؤ اسکول کے اولین معمار قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان کی پیروی کرنے والوں میں لکھنؤ کے علاوہ دہلی کے شاعر بھی تھے۔ ناسخ اسکول کا سب سے بڑا کارنامہ اصلاح زبان ہے۔ لکھنؤیت سے شاعری کا جو خاص رنگ مراد ہے اور جس کا سب سے اہم عنصر خیال بندی کہلاتا ہے، وہ ناسخ اور ان کے شاگردوں کی کوشش و ایجاد کا نتیجہ ہے۔ ناسخ کے کلام کا بڑا حصہ شائع ہو چکا ہے۔ ان کے کلیات میں غزلیں، رباعیاں، قطعات، تاریخیں اور ایک مثنوی شامل ہے۔
شیخ اِمام بخش ناؔسخ اِس زمانے کے سب سے بڑے شاعر مانے جاتے ہیں۔ اُن کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں، کہا جاتا ہے کہ شیخ خُدا بخشؔ نے اُن کو پالا تھا اور اعلا تعلیم دِلائی تھی۔ ناسخؔ کے شاگردوں میں لکھنؤ کے بہت سے اُمراء تھے۔ آغاؔ میر جو وزیر تھے اور جن کی ڈیوڑھی مشہور ہے، فقیر محمد خاں گویاؔجورسالدار تھے،ناسخؔ ہی کے شاگرد تھے۔ اُن کے یہاں ادب اور شعر سے دِلچسپی لینے والوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ بادشاہ غازی الدّین حیدرؔ ناراض ہو گئے اِس لیے ناؔسخ کو بہت دِنوں تک کانپور اور الہ آباد میں رہنا پڑا۔ وہ پہلوان تھے اور اُن کا رنگ کالا تھا اِس لیے لوگ اُن پر چوٹیں بھی کرتے تھے اِ س زمانے کے دوسرے مشہور شاعر خواجہ آتشؔ سے اُن کی چوٹیں چلتی رہتی تھیں۔ ناسخؔ سے زیادہ تر غزلیں ہی کہی ہیں۔ ایک مثنوی بھی لِکھی ہے اور بہت سے اچھّے قطعات تاریخ لِکھے ہیں۔ اُن کی شاعری میں بناوٹ اور بے اثری بہت ہے، لفظوں کی صحت اور اصول شاعری کا بہت خیال کرتے تھے اور جذبات کی طرف توجّہ کم تھی، 1838 میں انتقال کیا۔
ناسخؔ کے شاگردوں میں رشکؔ اور وزؔیر بہت مشہور ہوئے۔ رشکؔ نے اُستاد کے کام کو جاری رکھا اور اُن کے اصولِ شاعری سے کام لیا۔ لُغت کی کِتابیں مرتّب کیں اور بہت سی غزلیں کہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اصلاح زبان کا ایک اہم مرکزلکھنؤ بھی رہا ہے جس کو دبستان لکھنؤ کے نام سے جانا جاتا ہے اس کے بنیاد گزاروں میں آتش و ناسخ و ان کے شاگردوں کا خاص طور سے نام لیا جاتا ہے ان لوگوں نے بھی نے اردو زبان کی تراش خراش میں اہم رول ادا کیا ۔انہوں نے فارسی اور عربی الفاظ کو ٹھیٹھ بول چال کے لفظوں پر ترجیح دی ناسخ نے ایسے بہت سے الفاظ کو متروک قرارددے دیا
امام بخش ناسخ کے بارے میں محمد حسین آزاد نے لکھا ہے کہ “انہیں ناسخ کہنا بجا ہے کیوں کہ طرز قدیم کو نسخ کیا ”
اس سے ایک فائدہ ضرور ہوا کہ زبان سنور گئی۔ فارسی کی قربت کی وجہ سے موضوع اور مضامین بھی اضافہ ہوا۔نقصان یہ ہوا کہ اردو ادب تیزی سے فارسی کے سحر میں آگیاہر چیز میں فارسی زبان و ادب ہی معیار بن گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلوان سخن(شیخ امام بخش ناسخ) کوابتدائے عمر سے ورزش کا شوق تھا۔ خود ورزش کرتے تھے، بلکہ احباب کے نوجوانوں میں جو حاضر خدمت ہوتے اور ان میں کسی ہونہار کو ورزش کا شوق دیکھتے تو خوش ہوتے اور چونپ دلاتے۔ 1297ڈنٹر کا معمول تھا کہ یاغفور کے عدد ہیں۔ یہ وظیفہ قضا نہ ہوتا تھا، البتہ موقع اور موسم پر زیادہ ہوجاتے تھے۔ انہیں جیسا ریاضت کا شوق تھا، ویسا ہی ڈیل ڈول بھی لائے تھے بلند بالا، فراخ سینہ، منڈا ہوا سرکھاردے کالنگ باندھے بیٹھے رہتے تھے، جیسے شیر بیٹھا ہے۔ جاڑے میں تن زیب کاکرتا، بہت ہوتو لکھنو کی چھینٹ کا دہرا کرتا پہن لیا۔ دن رات میں ایک دفعہ کھانا کھاتے تھے ظہر کے وقت دسترخوان پر بیٹھتے تھے اور کئی وقتوں کی کسر نکال لیتے تھے۔ پان سیرپختہ وزن شاہجہانی کی خوراک تھی۔ خاص خاص میووں کی فصل ہوتی تو جس دن کسی میوے کو جی چاہتا اس دن کھانا موقوف۔ مثلا جامنوں کو جی چاہا، لگن اور سینیاں بھر کر بیٹھ گئے، 5-4سیر وہی کھاڈالیں۔ آموں کا موسم آیا تو ایک دن کئی ٹوکرے منگاکر سامنے رکھ لیے، ناندوں میں پانی ڈلوالیا ، ان میں بھرے اور خالی کرکے اٹھ کھڑے ہوئے۔ بھٹے کھانے بیٹھے تو گُلّیوں کے ڈھیر لگادیئے اور یہ اکثر کھایا کرتے تھے۔ دودھیا بھٹے چنے جاتے۔ چاقوسے دانوں پر خط ڈال کر لون مرچ لگتا، سامنے بھنتے ہیں، لیموں چھڑکتے ہیں اور کھاتے جاتے ہیں، میوہ خوری ہرفصل میں دوتین دفعہ، بس۔ اور اس میں دوچار دوست بھی شامل ہوجاتے تھے۔ کھانا اکثر تخلیے میں کھاتے تھے۔ سب کو وقت معلوم تھا۔ جب ظہر کا وقت قریب ہوتا تھا تو رخصت ہوجاتے تھے۔ (رغمی سلمہ اللہ فرماتے ہیں) مجھے چند مرتبہ ان کے ساتھ کھانے کا اتفاق ہوا۔ اس دن نہاری اور نان تافتان بھی بازار سے منگائی تھی۔ پانچ چار پیالوں میں قورمہ کباب، ایک میں کسی پرندے کا کباب تھا۔ شلغم تھے ، چقندر تھے، ارہر کی دال، دھوئی ماش کی دال تھی اور وہ دستر خوان کا شیر اکیلا تھا ، مگر سب کو فنا کردیا، یہ بھی قاعدہ تھا کہ ایک پیالے میں سے جتنا کھانا ہے خوب کھالو اسے خدمتگار اٹھالے گا، دوسرا سامنے کردے گا۔ یہ نہ ہوسکتا تھا کہ ایک نوالے کو دوسالنوں میں ڈال کر کھالو، کہا کرتے تھے کہ ملا جلا کھانے میں چیز کا مزاجاتا رہتا ہے۔ آخر میں پلائو یا چلائو یا خشکہ کھاتے تھے۔ پھر دال اور 6-5نوالوں کے بعد ایک نوالہ چٹنی یااچار یا مربے کا کہا کرتے تھے کہ تم جوانوں سے تو میں بڈھا ہی اچھا کھاتا ہوں ، دستر خوان اٹھا تھا۔ تو خوان فقط خالی باسنوں کے بھرے اٹھتے تھے۔ قوی ہیکل بلونت جوان تھے۔ ان کی صورت دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ 5-4سیر کھانا کے لیے مال ہے۔ زمانے کی زبان کو ن پکڑ سکتا ہے؟ بے ادب گستاخ دم کٹے بھینسے کی پھبتی کہا کرتے تھے۔ اسی رنگ وروغن کی رعایت سے خواجہ صاحب نے چوٹ کی ؎ روسیہ دشمن کایوں پاپوش سے کیجئے فگار جیسے سلہٹ کی سپر پر زخم ہو شمشیر کا شیخ صاحب نے خود بھی اس کاعذر کیا ہے اور شاگرد بھی روغن قازمل مل کر استاد کے رنگ کو چمکاتے تھے اور حریف کے رنگ کو مٹاتے تھے فقیر محمد خاں گویا نے کہا تھا: ہے یقیں گل ہو جو دیکھے گیسوئے دلبر چراغ آگے کالے کے بھلا روشن رہے کیونکر چراغ میں گو کہ حسن سے ظاہر میں مثل ماہ نہیں ہزار شکر کہ باطن مرا سیاہ نہیں فروغ حسن پہ کب زورِ زلف چلتا ہے یہ وہ چراغ ہے کالے کے آگے جلتا ہے پہلوان سخن زورآزمائی کے چرچے اور ورزش کی باتوں سے بہت خوش ہوتے تھے رغمی سلمہ اللہ کے والد بھی اس میدان کے جوانمرد تھے۔ رغبتوں کے اتحاد ہمیشہ موافقت صحبت لے لیے سبب ہوتے ہیں اس لیے محبت کے ہنگامے گرم رہتے تھے۔ (’’آبِ حیات‘‘ از مولانا محمد حسین آزاد)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:نوٹ: ناسخ کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات میں تذکرہ نگاروں میں اختلاف پایا جاتا ہے. کچھ کے مطابق آپ کی تاریخ پیدائش 1771ء یا 1773ء تھی. اسی طرح وفات میں کہیں 15 اگست 1838ء تو کہیں 16،اگست 1838ء لکھا گیا ہے. واللہ اعلم

جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں
نام تیرا ہی لیا کرتے ہیں

چاک کرنے کے لیے اے ناصح
ہم گریبان سیا کرتے ہیں

ساغرِ چشم سے ہم بادہ پرست
مئے دیدار پیا کرتے ہیں

زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

سنگِ اسود بھی ہے بھاری پتھر
لوگ جو چوم لیا کرتے ہیں

کل نہ دے گا کوئی مٹی بھی انہیں
آج زر جو کہ دیا کرتے ہیں

تیرا کیا ذکر مرے داغوں سے
مہر و مہ کسبِ ضیا کرتے ہیں

خط سے یہ ماہ ہیں محبوبِ قلوب
سبزے کو مہر گیا کرتے ہیں

ملتے ہیں تلووں سے گلگشت میں گل
زر کو وہ خاک کیا کرتے ہیں

اُن سے ہیں مخفیِ عصیاں بہتر
جو عبادت میں ریا کرتے ہیں

دفن محبوب جہاں ہیں ناسخ
قبریں ہم چوم لیا کرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر قیامت زا ہوا ہلنا لب خاموش کا
پھر نظر آنے لگا موسم جنوں کے جوش کا
پھر مرے سر نے کیا ہے داغ سودا کو کلاہ
پھر لیا کام آبلوں سے پاؤں نے پاپوش کا
شوق عریانی نے پھر کیں پیرہن کی دھجیاں
پھر اُتروایا جنوں نے بوجھ میرے دوش کا
لگ گئی ہے پھر جو ان روزوں میں چُپکی سی مجھے
آگیا ہے دھیان پھر اک کافر خاموش کا
نعرہ زن جا جا کے گلزاروں میں پھرہوتا ہوں میں
برگ گل پر پھر گمان ہونے لگا ہے گوش کا
پھر پڑا رہتا ہوں میں بے ہوش بدمستوں کی طرح
پھر تصور بندھ گیا مجھ کو کسی مے نوش کا
آئے پھر ایام سرما پھر ہوا شوق وصال
چادر تربت سا پھر عالم ہے بالا پوش کا
کوبکو پھر دوڑتا پھرتا ہوں دیوانوں کی طرح
پھر کوئی انداز رم سیکھا ہے میرے ہوش کا
آگئی ہے یاد مجھ کو وصل کی پھر مے کشی
پھر ہوا میرے لہو میں طور مے کے جوش کا
کر گیا ہے پھر کوئی خالی مرے آغوش کو
پھر خیال آیا ہے مجھ کو گور کی آغوش کا
اُس مسیحا نے کیا پھر بام پر آنے کا قصد
پھر جنازہ بار ہوگا دوستوں کے دوش کا
پھر جدائی سے ہوئی منظور روپوشی مجھے
پھر ستاتا ہے نہ ملنا اک بت روپوش کا
ساحل دریا مرے رونے سے پھر آغوش ہے
رونا یاد آتا ہے پھر اک طفل ہم آغوش کا
پھر کھلونے کی طرح بیدم ہے میرا کالبد
کھیلنا یاد آیا پھر اک طفل ہم آغوش کا
پھر ہوا ضبط فغاں دشوار اے ناسخ مجھے
پھر قیامت زا ہوا ہلنا لب خاموش کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جسمِ زار بے حرکت پیرہن میں ہے
سب مجھ کو جانتے ہیں کہ مردہ کفن میں ہے

فرقت قبول رشک کے صدمے نہیں قبول
کیا آئیں ہم رقیب تری انجمن میں ہے

ہیں بے نصیب صحبت جاناں سے ایک ہم
پروانہ بزم میں ہے تو بلبل چمن میں ہے

دونوں کا کر چکا ہوں میں اے ناسخ امتحان
سید میں مہر ہے نہ وفا برہمن میں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا اسیری میں کریں شکوہ ترا صیاد ہم
واں بھی کچھ دامِ رگِ گل سے نہ تھے آزاد ہم

دام دودِ نالۂ بے جاں ہے، دانے اشک ہیں
یعنی اِن کافر پریزادوں کے ہیں صیاد ہم

آج کل سے کچھ نہیں اپنی زباں معجز بیاں
نطق عیسیٰ کی طرح رکھتے ہیں مادرزاد ہم

یہ زمیں ہے بے وفا، یہ آسماں بے مہر ہے
جی میں ہے اک اب نیا عالم کریں ایجاد ہم

روک لے اک بات کی بات اپنے دست و تیغ کو
دے لیں اے قاتل رقیبوں کو مبارک باد ہم

اُس نے تلواریں جڑیں فریاد پر جوں جوں ہمیں
ہر دہانِ زخم سے کرنے لگے فریاد ہم

قیدِ ہستی تک ہیں تیرے دامِ گیسو میں اسیر
تن سے سر آزاد ہو جائے تو ہوں آزاد ہم

جب سے دیکھی ہے گلِ رخسارِ جاناں کی بہار
ہو رہے ہیں صورتِ برگِ خزاں برباد ہم

خندہ زن ہوتا نہیں اپنا دہانِ زخم بھی
کوئی دنیا میں نہ ہو گا جیسے ہیں ناشاد ہم

پہلے تیشہ مارتے خسرو کو اے شیریں دہن
جی نہ کھوتے مفت اپنا ہوتے گر فرہاد ہم

پہلے اپنے عہد سے افسوس سوداؔ اٹھ گیا
کس سے مانگیں جا کے ناسخ اس غزل کی داد ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واعظ مسجد سے اب جاتے ہیں مے خانے کو ہم
پھینک کر ظرف وضو لیتے ہیں پیمانے کو ہم

کیا مگس بیٹھا بھلا اس شعلہ رو کے جسم پر
اپنے داغوں سے جلا دیتے ہیں پروانے کو ہم

تیرے آگے کہتے ہیں گل کھول کر بازوئے برگ
گلشن عالم سے ہیں تیار اڑ جانے کو ہم

کون کرتا ہے بتوں کے آگے سجدہ زاہدا
سر کو دے دے مار کر توڑیں گے بت خانے کو ہم

جب غزالوں کے نظر آ جاتے ہیں چشم سیاہ
دشت میں کرتے ہیں یاد اپنے سیہ خانے کو ہم

بوسہ خال زنخداں سے شفا ہو گی ہمیں
کیا کریں گے اے طبیب اس تیرے بہدانے کو ہم

باندھتے ہیں اپنے دل میں زلف جاناں کا خیال
اس طرح زنجیر پہناتے ہیں دیوانے کو ہم

پنجہ وحشت سے ہوتا ہے گریباں تار تار
دیکھتے ہیں کاکل جاناں میں جب شانے کو ہم

عقل کھو دی تھی جو اے ناسخ جنون عشق نے
آشنا سمجھا کیے اک عمر بیگانے کو ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون ہے وہ دل جو محوِ رخِ جاناں نہ ہوا.
کون آئینہ ہے جو دیدہءِ حیراں نہ ہوا.

پر لگائے مجھے وحشت نے اڑا پھرتا ہوں.
مجھ سا پامال کوئی خارِ بیاباں نہ ہوا.

پھٹ گئے لاکھ گریباں مری حالت پر.
صبح کا ہجر کی شب چاک گریباں نہ ہوا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)
[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo