آج نامور شاعر نظیرؔ اکبر آبادی کی برسی ہے ۔۔۔۔۔۔۔…

[ad_1] آج نامور شاعر نظیرؔ اکبر آبادی کی برسی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظیرؔ اکبر آبادی 1147ھ بمطابق 1735ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کا نام محمد فاروق تھا ۔ نظیرؔ سے پہلے ان کے بارہ بہن بھائی مر چکے تھے ۔ جب نظیرؔ پیدا ہوئے تو ان کے والد نے نظرِ بد سے بچانے کے لیے ان کے ناک اور کان چھید کر ان کا حلیہ لڑکیوں جیسا بنا دیا تھا ۔نظیرؔ کا اصلی نام ولی محمد تھا ۔
۔۔۔۔
نظیرؔ کے والد نے ان کی تعلیم کا اچھا انتظام کیا تھا ۔ پہلے قرآن شریف اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی ، عربی بھی پڑھی لیکن فارسی میں بہت قابلیت حاصل کی ۔ نظیرؔ نے اپنے شوق سےن سے بھی واقفیت حاصل کی ۔
اردو ، پنجابی ، بھاشا ، مارواڑی اور ہندی زبان سے بھی واقفیت حاصل کی
جب نظیرؔ نے ذرا ہوش سنبھالا تو اس وقت ملک ہندوستان کی سیاسی حالت خراب تھی ۔ خاص طور سے دہلی تباہی اور بربادی کا مرکز بن چکی تھی ۔ 1739ء میں نادر شاہ درانی نے دہلی پر حملہ کیا اور بہت کشت و خون ہوا ۔ اس وقت محمد شاہ رنگیلے بادشاہِ دہلی تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظیرؔ نے اپنے لیے پڑھانے کا پیشہ پسند کیا ۔ کچھ دنوں متھرا میں لڑکوں کو پڑھاتے رہے اور کچھ عرصے آگرے میں بھی معلم رہے ۔ نواب محمد علی خان کے بچوں کو بھی پڑھایا اور اس کے بعد راجہبلاس راۓ کے یہاں بچوں کو پڑھانے کی ملازمت اختیار کی ۔ ان کی عمر کا بڑا حصہ پڑھانے میں گزرا۔ شاگردوں کی فہرست میں بڑے بڑے قابل لوگوں کے نام نظر آتے ہیں ۔ بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ مرزا غالبؔ بھی نظیرؔ کے شاگرد تھے ۔ کیونکہ ان دنوں غالبؔ بھی آگرے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔
جوانی کے زمانے میں نظیرؔ بہت رنگین مزاج تھے ۔ ان کے کلام سے اس کا پتا چلتا ہے کہ کچھ بری عادتیں بھی تھیں جن کی جھلک ان کے اشعار میں نمایاں ہے مگر جوانی ڈھل گئی ، نظیرؔ نے بری عادتوں سے توبہ کر کے درویشانہ زندگی اختیار کی
۔۔۔۔۔
نظیرؔ جس زمانہ میں پیدا ہوئے یہ وہ زمانہ تھا کہ اکبرؔ و جہانگیرؔ کی عظیم الشان سلطنت ان کے نااہل جانشینوں کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی تھی اور اب موت و زندگی کی کش مکش میں مبتلا تھی ۔ ملک بھر میں لوٹ مار کا دور دورہ تھا ، صوبہ دار خودمختار بن بیٹھے تھے ۔
محمد شاہ ثانی برائے نام بادشاہ تھا ۔ اردو کے مشہور شاعر میر تقی میرؔ بھی ان دنوں دہلی میں تھے ۔ اسی زمانہ میں نادر شاہ درانی نے دہلی پر زبردست حملہ کیا اور اچھی طرح لوٹ مار ہوئی ۔ پھر 1757ء میں احمد شاہ ابدالی نے دلی پر چڑھائی کی ان دنوں نظیرؔ سنِ تمیز کو پہنچ چکے تھے ۔ ابدالی کے حملہ سے گھبرا کر لود دلی چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگ نکلے ۔ نظیرؔ بھی اپنی ماں اور نانی کی ہمراہی میں دلی سے آگرہ چلے گئے اور پھر آخر عمر تک وہیں رہے۔
۔۔۔۔۔۔
جب نظیرؔ نے ہوش سنبھالا تو دلی اور آگرہ میں شعر و شاعری کا چرچا ہر طرف تھا ۔ ملکی و سیاسی حالت خراب تھی ۔ لیکن شعراء کی روانی طبع پر اس کا کوئی اثر نہ تھا ۔ مٹتی ہوئی سلطنت کے مغلیہ تخت نشیں بھی شاعری کا ذوق رکھتے تھے اور لال قلعہ کے اندر برابر مشاعرے ہوتے تھے ۔ دلی کی تباہی کے باعث لکھنؤ علماء و شعراء کو سب سے بڑا مرکز بن رہا تھا مگر نظیرؔ نے اپنے اس مقولہ پر عمل کیا کہ :
” آگرہ ہم پر فدا اور ہم خدائے آگرہ”
اور لکھنؤ کا رخ نہیں کیا ۔ اس زمانہ میں میر تقی میرؔ کا دورِ عروج تھا ۔ ایک مشاعرہ میں نظیرؔ نے اپنا کلام سنایا میرؔ بھی موجود تھے بہت تعریف کی اور خوش ہوئے ، نظیرؔ کے بچپن میں اردو کے باکمال شعراء ۔ سوداؔ ، میر دردؔ ، شاہ نصیر وغیرہ کی ہر طرف شہرت تھی۔ نظیرؔ نے شاعری کے میدان میں قدم رکھا تو اپنے لیے ایک الگ راہ نکالی جس نے ان کو عوام میں زیادہ مقبول بنا دیا ۔
اپنے زمانے میں نظیرؔ کو بڑے شعراء اور تذکرہ نویسوں نے کویئ اہمیت نہ دی لیکن ان کے بعد ان کو عزت و اہمیت حاصل ہوئی جس کے وہ دراصل مستحق تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
نظیرؔ کی شادی دہلی کے ایک شریف خاندان میں ہوئی ۔ ان کے خسر کا نام محمد رحمٰن تھا ۔ نظیرؔ کی بیوی عبدالرحمٰن خاں چغتائی کی نواسی تھیں جو دلی کے ایک معزز آدمی تھے ۔ نظیرؔ کی بیوی کا نام تہور النساء بیگم تھا ان سے دو اولادیں ہوئیں ایک لڑکا گلزار علی اور ایک لڑکی امامی بیگم نظیرؔ نے اپنی شادی کے واقعات بڑے دلچسپ انداز میں نظم کیے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظیرؔ کا انتقال فالج کے مرض میں ہوا ۔ پہلی بار 1242ھ میں ان پر فالج کا حملہ ہوا لیکن علاج سے اچھے ہو گۓ ۔ دوبارہ 1246ھ مطابق16 اگست 1830 ء میں فالج گرا اور اسی میں نظیرؔ نے وفات پائی۔
۔۔۔۔۔۔
ان کے مکان کا صحن بہت کشادہ تھا اور اس میں بیر اور نیم کے دو درخت تھے جن کے سایہ میں بیٹھ کر بچوں کو پڑھاتے بھی تھے اور شعر و شاعری بھی کرتے تھے ۔ انتقال کے بعد انھیں دونوں درختوں کے سایہ میں ان کی قبر بنائی گئی ۔ ان کے انتقال پر آگرہ کے عوام نے بہت غم منایا ۔
۔۔۔۔۔۔۔
نظیرؔ نے اردو،فارسی دونوں زبانوں میں اشعار لکھے مگر ان کا سرمایہ شہرت اور عظمت اردو کلام ہے ۔ تقریباً تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے ، غزلیں ، قصیدے مثنویاں اور نظمیں سب ان کے یہاں موجود ہیں ۔ لیکن سب سے زیادہ زوردار اچ کی نظمیں ہیں اور ان میں نظم کی تمام قسمیں شامل ہیں کچھ خود ان کی ایجاد ہیں انھوں نے بہت سے واقعات اور کہانیاں نظم کی ہیں ۔ عام طور سے ان کی یہ خصوصیات مشہور ہیں اشعار میں سادگی اور روانی ہے ۔ مشکل ترکیبیں اور دقیق الفاظ کے بجاۓ عوزمرہ بول چال کے الفاظ اور سیدھی سادی ترکیبیں استعمال کرتے ہیں ۔ ایک غزل کے چند اشعار پڑھیئے جو سادہ بھی ہیں اور عبرتناک بھی ۔

جو تو کہتا ہے اے غافل ، یہ میرا ہے یہ تیرا ہے
یہ جس کا ہے اسی کا ہے ، نہ تیرا ہے نہ میرا ہے
تو یوں سوچ تو دل میں کہ تو ہے کون اور کیا ہے
نمازی ہے ، شرابی ہے ، اُچکا ہے ، لٹییرا ہے
تری کیا ذات ہے کیا نام ہے ، کیا کام کرتا ہے
مسافر بے وطن ہے یا ترا اس جا پہ ڈیرا ہے
جو ان چیزوں سے تو اپنے تئیں کچھ چیز ٹھہراوے
تو اس کے بعد پھر کہیو ! یہ میرا ہے یہ تیرا ہے
یہ چیزیں تو غرض کیا ہیں تو اپنا ہی نہیں مالک
تجھے او بے خبر ناداں ، یہ کس غفلت نے گھیرا ہے
تو کچے سوت کا دھاگا عبث بل پیچ کھاتا ہے
یہ سب وہم غلط ہے اور قصورِ فہم تیرا ہے
تو کیا جانے کہ تجکو کس نے کس چرخے میں کاتا ہے
تو کیا جانے کہ تجکو کس اٹیرن نے اٹیرا ہے
ترقی میں تنزل ہے ، تنزل میں ترقی ہے
اندھیرے میں اُجالا ہے اُجالے میں اندھیرا ہے
نظیرؔ اللہ اللہ ! اس زماں میں دم غنیمت ہے
کہاں ہم اور کہاں پھر تم کئی دم کا بسیرا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
المرسل :-: ابوالحسن علی(ندوی بھٹکلی)
[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo