ایک زمین، ایک بحر، ایک ردیف 14 شاعر ” دیوار کے سات…

[ad_1] ایک زمین، ایک بحر، ایک ردیف 14 شاعر
” دیوار کے ساتھ ”
احمد فراز، قتیل شفائی، عدیم ہاشمی، قائم چاندپوری، ناز خیالوی، اطہر شاہ خان جیدی، آصف شفیع، سلیم صدیقی، مغیث الدین فریدی، ڈاکٹرمظفرحنفی، احمد حماد، خالد مصطفی، میر تقی میر
……
وے دن اب سالتے ہیں جن میں پھرے یار کے ساتھ
لطف سے حرف و سخن تھے نگہ اک پیار کے ساتھ
رو بہ پس یار کے کوچے سے جو خورشید گیا
عشق تھا اس کے مگر سایۂ دیوار کے ساتھ
دستے نرگس کے رکھیں گور پہ میری وارث
تا یہ جانیں کہ گیا میں غم دیدار کے ساتھ
واں کھنچی میان سے یاں سر کو جھکایا میں نے
گردن اپنی ہے بندھی یار کی تلوار کے ساتھ
عشق کے زار سے بولا نہ خشونت سے کرو
لطف سے بات کوئی کرتے ہیں بیمار کے ساتھ
تہمت عشق سے آبادی بھی وادی ہے ہمیں
کون صحبت رکھے ہے خوں کے سزاوار کے ساتھ
اب خوشامد انھیں کی آٹھ پہر کرتے ہیں
گفتگو میر کو جن لوگوں سے تھی عار کے ساتھ
میر تقی میر
_____________________________
کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ
جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ
رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے
جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ
مر گئے پر بھی کھلی رہ گئیں آنکھیں اپنی
کون اس طرح موا حسرت دیدار کے ساتھ
شوق کا کام کھنچا دور کہ اب مہر مثال
چشم مشتاق لگی جائے ہے طومار کے ساتھ
راہ اس شوخ کی عاشق سے نہیں رک سکتی
جان جاتی ہے چلی خوبی رفتار کے ساتھ
وے دن اب سالتے ہیں راتوں کو برسوں گذرے
جن دنوں دیر رہا کرتے تھے ہم یار کے ساتھ
ذکر گل کیا ہے صبا اب کہ خزاں میں ہم نے
دل کو ناچار لگایا ہے خس و خار کے ساتھ
کس کو ہر دم ہے لہو رونے کا ہجراں میں دماغ
دل کو اک ربط سا ہے دیدئہ خونبار کے ساتھ
میری اس شوخ سے صحبت ہے بعینہ ویسی
جیسے بن جائے کسو سادے کو عیار کے ساتھ
دیکھیے کس کو شہادت سے سر افراز کریں
لاگ تو سب کو ہے اس شوخ کی تلوار کے ساتھ
بے کلی اس کی نہ ظاہر تھی جو تو اے بلبل
دم کش میر ہوئی اس لب و گفتار کے ساتھ
میر تقی میر
________
وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ
ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ
میرؔ دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ
اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ
اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ
چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ
ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں
اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ
شہر کا شہر ہی ناصح ہو تو کیا کیجئے گا
ورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ
ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ
جو شرف ہم کو ملا کوچۂ جاناں سے فرازؔ
سوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ
احمد فراز
_____________________________
رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ
غم لگے رہتے ہیں ہر آن خوشی کے پیچھے
دشمنی دھوپ کی ہے سایۂ دیوار کے ساتھ
کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ
لفظ چنتا ہوں تو مفہوم بدل جاتا ہے
اک نہ اک خوف بھی ہے جرأت اظہار کے ساتھ
دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ
دو گھڑی آؤ مل آئیں کسی غالبؔ سے قتیلؔ
حضرت ذوقؔ تو وابستہ ہیں دربار کے ساتھ
قتیل شفائی
_____________________________
پھر بھی بیٹھی ہے خزاں باغ کی دیوار کے ساتھ
جبکہ پتاّ بھی نہیں ہے کوئی اشجار کے ساتھ
کچھ تعلق تو نہیں تھا مرا بیمار کے ساتھ
پھر بھی دل ڈوب گیا شام کے آثار کے ساتھ
کس نے چمکایا ہے سورج مری دیوار کے ساتھ
صبح ہوتی ہے مری تو ، ترے دیدار کے ساتھ
ایک ہے میری انا ، ایک انا کس کی ہے
کس نے دیوار بنا دی مری دیوار کے ساتھ
تم بڑے لوگ ہو ، سیدھے ہی گزر جاتے ہو
ورنی کچھ تنگ سی گلیاں بھی ہیں بازار کے ساتھ
مستقل درد کا سودا ہے، ذرا نرمی سے
کچھ رعایت بھی تو کرتے ہیں خریدار کے ساتھ
مرے اشکوں پہ تجھے اتنا تعجب کیوں ہے
تُو نے چشمے نہیں دیکھے کبھی کہسار کے ساتھ؟
اب تو میں صرف ” تعلق” کے عوض بیٹھا ہوں
اب تو ” سایہ” بھی نہیں ہے تری دیوار کے ساتھ
میرے شہکار کو اس پیار سے تکنے والے
کوئی فنکار کا رشتہ بھی شہکار کے ساتھ
میں نے پہچان لیا دور سے، گھر تیرا ہے
پھول لپٹے ہوئے دیکھے جہاں دیوار کے ساتھ
لفظ نشتر کی طرح دل میں اتر جاتے ہیں
خط محبت کا بھی لکھتا ہے وہ تلوار کے ساتھ
کوئی فنکار کی تنہائی کی جانب نہ گیا
لوگ جا جا کے لپٹتے رہے شہکار کے ساتھ
عدیم ہاشمی
______________________________
جی میں چہلیں تھیں جو کچھ سو تو گئیں یار کے ساتھ
سر پٹکنا ہی پڑا اب در و دیوار کے ساتھ
اک ہمیں خار تھے آنکھوں میں سبھوں کی سو چلے
بلبلو خوش رہو اب تم گل و گلزار کے ساتھ
خار مردود چمن مجھ کو کیا روز ازل
جن نے بھیجا ہے تجھے گونۂ گلزار کے ساتھ
میں دوانا ہوں صدا کا مجھے مت قید کرو
جی نکل جائے گا زنجیر کی جھنکار کے ساتھ
یارو کہتے تھے جو تم لالہ و گل ہے سو کہاں
سر پٹکنے تو نہ آیا تھا میں کہسار کے ساتھ
ہائے صیاد یہ انصاف سے تیرے ہے بعید
یاں تلک کیجے ستم اپنے گرفتار کے ساتھ
گرچہ بلبل ہوں میں قائمؔ ولے اس باغ کے بیچ
فرق کوئی نہ کرے گل کو جہاں خار کے ساتھ
قائم چاندپوری
_____________________________
احمد علی برقی اعظمی
کرتے ہیں وہ فریب یار کے ساتھ
ہم تو ملتے ہیں سب سے پیار کے ساتھ
ہیں رقیبوں کے ہم نشیں وہ ، مگر
’’ ہم تو جیتے ہیں ذکرِ یار کے ساتھ ‘‘
کردیا باغِ زندگی تاراج
آئی فصلِ خزاں بہار کے ساتھ
خار ہیں جس طرح گلوں کے بیچ
رنج و غم بھی رہے قرار کے ساتھ
کاش اس کا ہمیں پتہ ہوتا
ہم بسر کررہے ہیں مار کے ساتھ
ہو کے اب شرمسار روتے ہیں
وہ لِپَٹ کر مرے مزار کے ساتھ
خار و گُل کی طرح تھا اُن میں ربط
ظاہراَ جو تھے گلعذار کے ساتھ
صفِ اول میں اب ہیں ، پہلے جو
میر جعفر، تھے جاں نثار کے ساتھ
اس سے نا آشنا نہیں برقی
تھا رویہ جو خاکسار کے ساتھ
……………
مر بھی جاؤں اگر حسرت دیدار کے ساتھ
لگ کے بیٹھوں گا نہ لیکن تیری دیوار ک ساتھ
خوں پلایا ، کھلایا ہے جگر تیری قسم
ہم نے پالا ہے ترے غم کو بڑے پیار کے ساتھ
نے نواؤں کے مقدر میں ہے رلتے پھیرنا
کبھی گھر بار کی خاطر،کبھی گھر بار کے ساتھ
سر جھکایا ہے نہ دستار اترنے دی پے
یہ الگ بات کہ سر کٹ گیا دستار ک ساتھ
رازدار اپنا ہواؤں کو بنانا نہ کبھی
دوستی ان کی ہے ہر کوچہ و بازار کساتھ
پارساؤں کا تو کچھ ٹھیک سے معلوم نہیں
رحمتیں حق کی یقینا ہیں گنہگار کے ساتھ
وہی انداز ، وہی ناز ، وہی طور سبھی
کتنا ملتا ہے وہ ظالم مرے اشعار کے ساتھ
ناز خیالوی
______________________________
اُس نے اِقرار کِیا ہے مگر اِنکار کے ساتھ
سِلسِلہ جُڑ تو گیا حُسنِ طرح دار کے ساتھ
صاحبِ دِل ہیں کوئی رُت ہو بھرم رکھتے ہیں
اپنا رِشتہ ہے ازل سے رَسَن و دار کے ساتھ
اب کِسے تَن پہ سجائے گا کڑی دُھوپ میں پیڑ
ٹُوٹ کر پتّے لگے بیٹھے ہیں دیوار کے ساتھ
اِک ذرا دیر ٹھہر جا بُتِ خاموش مِزاج
نُطقِ زنجیر تو کر لُوں لبِ اِظہار کے ساتھ
عُمر بھر کِس نے اُصُولوں کو ترازُو رکھا
کون رُسوا ہُوا اِس شہر میں کِردار کے ساتھ
ایک لمحے کو کُھلا تھا درِ مقتل شب کا
رغبتِ خاص ہے ہر صُبح کو تلوار کے ساتھ
کِس نے ترتیب دیا ذروں سے عالم کا نظام
مہر و مہ کِس نے نُمائش کئے پرکار کے ساتھ
آنکھ پتھرا گئی تکتے ہُوئے رستہ لیکن
رُوح کا ربط ہے قائم رُخِ دِلدار کے ساتھ
میرا خالِق ہے مِرے فن کی ضمانت احمدؔ
حرف ترتیب سے چُنتا نہیں مِعیار کے ساتھ۔۔۔!
سید آل احمدؔ
______________________________
کچھ اندھیرا ابھی ضروری ہے غم یار کے ساتھ
اب دیا کوئی نہ رکھے میری دیوار کے ساتھ
میں جو اک عمر مسافت میں رہا، تب جانا
راہ بھی چلتی رہی ہے مری رفتار کے ساتھ
یہ تو وہ حسن عطا ہے کہ جو دیتا ہے سرور
نشہ کا کوئی تعلق نہیں مقدار کے ساتھ
خلعتیں جن کو ملیں، ان کو یہ معلوم نہیں
ایک مقتل بھی کھلا ہوتا ہے دربار کے ساتھ
ہم تو یوسف نہیں، بازار سخن میں اطہر
یوں ہی چل پڑتے ہیں ہر ایک خریدار کے ساتھ
اطہر شاہ خان جیدی
_______________________________
کار دنیا سے گئے دیدۂ بے دار کے ساتھ
ربط لازم تھا مگر نرگس بیمار کے ساتھ
قیمت شوق بڑھی ایک ہی انکار کے ساتھ
واقعہ کچھ تو ہوا چشم خریدار کے ساتھ
ہر کوئی جان بچانے کے لئے دوڑ پڑا
کون تھا آخر دم قافلہ سالار کے ساتھ
میں ترے خواب سے آگے بھی نکل سکتا ہوں
دیکھ مجھ کو نہ پرکھ وقت کی رفتار کے ساتھ
ظلم سے ہاتھ اٹھانا نہیں آتا ہے اگر
کچھ رعایت ہی کرو اپنے گرفتار کے ساتھ
قیمت حسن و ادا جان کی بازی ٹھہری
لوگ آئے تھے وہاں درہم و دینار کے ساتھ
حد سے بڑھ کر بھی تغافل نہیں اچھا ہوتا
کچھ تعلق بھی تو رکھتے ہیں پرستار کے ساتھ
آصف شفیع
______________________________
اتنی قربت بھی نہیں ٹھیک ہے اب یار کے ساتھ
زخم کھا جاؤ گے کھیلو گے جو تلوار کے ساتھ
ایک آہٹ بھی مرے گھر سے ابھرتی ہے اگر
لوگ کان اپنے لگا لیتے ہیں دیوار کے ساتھ
پاؤں ساکت ہیں مگر گھوم رہی ہے دنیا
زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے رفتار کے ساتھ
ایک جلتا ہوا آنسو مری آنکھوں سے گرا
بیڑیاں ٹوٹ گئیں ظلم کی جھنکار کے ساتھ
کل بھی انمول تھا میں آج بھی انمول ہوں میں
گھٹتی بڑھتی نہیں قیمت مری بازار کے ساتھ
کج کلاہی پہ نہ مغرور ہوا کر اتنا
سر اتر آتے ہیں شاہوں کے بھی دستار کے ساتھ
کون سا جرم خدا جانے ہوا ہے ثابت
مشورے کرتا ہے منصف جو گنہ گار کے ساتھ
شہر بھر کو میں میسر ہوں سوائے اس کے
جس کی دیوار لگی ہے مری دیوار کے ساتھ
سلیم صدیقی
_______________________________
مفت ہے خون جگر عظمت کردار کے ساتھ
اشک ملتے ہیں یہاں دیدۂ بیدار کے ساتھ
ہم نے مانگا تھا سہارا تو ملی اس کی سزا
گھٹتے بڑھتے رہے ہم سایۂ دیوار کے ساتھ
آج تو حضرت ناصح بھی لپٹ کر مجھ سے
رقص کرتے رہے زنجیر کی جھنکار کے ساتھ
دل برباد پہ ہے سایہ فگن یاد تری
سایۂ فضل خدا جیسے گنہ گار کے ساتھ
دل میں اس شہر کے کچھ عکس ابھی باقی ہیں
لٹ گئے ہم بھی جہاں گرمئ بازار کے ساتھ
ایسی بستی سے تو وہ دشت کہیں بہتر تھا
آبلے مل کے جہاں روتے تھے ہر خار کے ساتھ
اب تو اک خواب سی لگتی ہے حقیقت یہ بھی
ربط تھا ہم کو کسی یار طرح دار کے ساتھ
دل میں میرے بھی یقیں اور گماں ساتھ رہے
جیسے انکار ترے لب پہ ہے اقرار کے ساتھ
ایسے انمول نہ تھے ہم کہ نہ بکتے لیکن
دو قدم چل نہ سکے اپنے خریدار کے ساتھ
حاصل فن ہیں فریدیؔ وہی اشعار غزل
خون دل جن میں ہو رنگینئ افکار کے ساتھ
مغیث الدین فریدی
____________________________
یوں تو ساحل بھی بُلاتا رہا اصرار کے ساتھ
چھیڑخانی ہمیں اچھی لگی منجدھار کے ساتھ
سر بھی مزدور کا اُونچا ہوا دیوار کے ساتھ
تم اُسے دیکھ نہیں پاؤ گے دستار کے ساتھ
مجھ کو مٹی سے محبت ہے تجھے آندھی سے
میں قدم کیسے مِلاؤں تری رفتار کے ساتھ
ڈوبتے رہتے ہیں تاریک سمندر میں جہاز
روشنی لپٹی رہی خوف سے مینار کے ساتھ
اب زمانے میں نہیں نرم کلامی کا رواج
پھول پر اُوس بھی گرتی ہے تو جھنکار کے ساتھ
کِھلکھلاتی ہے کلی چاک گریباں ہو کر
لہلہاتا ہے چمن نرگس بیمار کے ساتھ
ڈاکٹرمظفرحنفی
___________________________
کہیں تلوار کے ساتھ اور کہیں پیار کے ساتھ
داستاں ایک ہی منسوب ہے دربار کے ساتھ
مت بڑھا اتنی بھی ارزانیِ دِل میرے سخی
ایک دِن تُو بھی کھڑا ہوگا طلبگار کے ساتھ
در بدر کرنا، قبیلے سے نکلوا دینا
ہم نظر آئے اگر تمغہِ سردار کے ساتھ
پھر نہ کہنا میرے سالار کہ، ‘معلوم نہ تھا’
طاقتِ رزم بھی درکار ہے للکار کے ساتھ
اب کے آئے گا تو پوچھیں گے کہ اے جانِ جہاں
ایسے کرتے ہیں کسی یارِ طرح دار کے ساتھ؟
غزنوی بھیج دے، یا آپ پروہت بن جا
لوگ بُت بن کے کھڑے ہیں تیری دیوار کے ساتھ
عاشقی مجھ کو ترے شہر میں لے جاتی ہے
کبھی حیلے سے، کبھی عشوہ و اصرار کے ساتھ
اے خدا! کیا تھا اگر اپنے خزانے سے اُسے
دِل بھی دے دیتا کہیں طاقتِ گُفتار کے ساتھ”
احمد حماد
____________________________
چل نہیں سکتے ہیں ہم وقت کی رفتار کے ساتھ
وقت نے ہم کو لگا رکھا ہے دیوار کے ساتھ
ہم ہی حالات سے سمجھوتا نہیں کر پاۓ
ورنہ انسان بدل جاتے ہیں ادوار کے ساتھ
ہم کو کر سکتی تھی مغلوب تیری ایک نظر
تونے دیکھا ہی نہیں ہمکو کبھی پیار کے ساتھ
تو معلق ہے فضاؤں میں زمیں گیر ہوں میں
کیا تقابل کروں اپنا تیرے معیار کے ساتھ
پاؤں پہ آۓ گی دستار جھکاؤ گے جو سر
سر کٹاتے ہیں جھکاتے نہیں دستار کے ساتھ
دکھ ہزیمت کا نہیں، ہاں مگر اس بات کا ہے
تونے کاٹا ہے مرا سر میری تلوار کے ساتھ
خالد مصطفی
_______
مُختلِف بَحر – اسی ردیف میں
ہائے سِتم ناچار معیشت کرنی پڑی ہر خار کے ساتھ
جانِ عزیز گئی ہوتی کاش اب کے سال بہار کے ساتھ

کِس آوارہءِ عِشق و جنوں کی اِک مٹھی اب خاک اُڑی
اُڑتی پِھرے ہے پسِ مَحمِل جو راہ کے گرد و غُبار کے ساتھ

وہ لحظہ نہیں جاتا جی سے آنکھ لڑی تھی جب اُس سے
چاہ نِکلتی تھی باتوں سے چِتوَن بھی تھی پیار کے ساتھ

جی مارے شبِ مہ میں ہمارے قہر کِیا مَشّاطَہ نے
بل کھائے بالوں کو دیے بل اُس کے گلے کے ہار کے ساتھ

کیا دِن تھے جو ہم کو تنہا کہیں کہیں مِل جاتا تھا
اب تو لگے ہی رہتے ہیں اغیار ہمارے یار کے ساتھ

ہم ہیں مریض عشق و جنوں سختی سے دِل کو مت توڑو
نرم کرے ہیں حرف و حِکایت اہلِ خِرَد بیمار کے ساتھ

دیدہءِ تر سے چشمہءِ جوشاں ہیں جو قریب اپنے واقع
تو ہی رود چلے جاتے ہیں لگ کر جیب و کِنار کے ساتھ

دیر سے ہیں بیمارِ محبّت ہم سے قطعِ اُمید کرو
جانیں ہی جاتی دیکھی ہیں ہم نے آخِر اِس آزار کے ساتھ

رونے سے سب سر بر آئے خاک ہمارے سر پر میرؔ
مُدّت میں ہم ٹک لگ بیٹھے تھے اِس کی دیوار کے ساتھ۔۔۔!
میر تقی میرؔ


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo