شاعر ڈاکٹر سید وحید اختر کا یومِ پیدائش Aug 12, 1…

[ad_1] شاعر ڈاکٹر سید وحید اختر کا یومِ پیدائش
Aug 12, 1934

نام وحید اختر، ڈاکٹر اور تخلص وحید ہے۔؍12اگست 1934ء کو اورنگ آباد ،دکن میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۵۴ء میں جامعہ عثمانیہ سے بی اے کیا اور ۱۹۵۶ء میں ایم اے کیا۔ ۱۹۶۰ء میں خواجہ میر درد کے تصوف پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی پہلی نظم ۱۹۴۹ء میں شائع ہوئی۔ان کی طبیعت کا رجحان نظم کی طرف زیادہ ہے ۔ ان کی تخلیقات ہندستان اور پاکستان کے معیاری رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہے۔طالب علمی کے زمانے میں اورنگ آباد کالج کے رسالہ ’’نورس‘‘ اور مجلہ’’عثمانیہ‘‘ کے مدیر رہ چکے ہیں۔ رسالہ ’’صبا‘‘ کی ادارت کے رکن کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں صدر شعبۂ فلسفہ رہے۔ ’’پتھروں کا مغنی‘‘ کے نام سے ان
کا کلام چھپ گیا ہے۔ ان کے دیگر شعری مجموعوں کے نام یہ ہیں:’’زنجیر کا نغمہ‘‘، ’’شب کا رزمیہ‘‘

سید وحید اختر کا دہلی میں 13 دسمبر 1996 کو 61 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کو مانا تھا خدا کا پیکر نکلا
ہاتھ آیا جو یقیں وہم سراسر نکلا
اک سفر دشت خرابی سے سرابوں تک ہے
آنکھ کھولی تو جہاں خواب کا منتظر نکلا
کل جہاں ظلم نے کاٹی تھیں سروں کی فصلیں
نم ہوئی ہے تو اسی خاک سے لشکر نکلا
خشک آنکھوں سے اٹھی موج تو دنیا ڈوبی
ہم جسے سمجھے تھے صحرا وہ سمندر نکلا
زیر پا اب نہ زمیں ہے نہ فلک ہے سر پر
سیل تخلیق بھی گرداب کا منظر نکلا
گم ہیں جبریل و نبی گم ہیں کتاب و ایماں
آسماں خود بھی خلاؤں کا سمندر نکلا
عرش پر آج اترتی ہے زمینوں کی وحی
کرہء خاک ستاروں سے منور نکلا
ہر پیمب سے صحیفے کا تقضا نہ ہوا
حق کا یہ فرض بھی نکلا تو ہمیں پر نکلا
گونج اٹھا نغمہء کن دشت تمنا میں وحیدؔ
پاۓ وحشت حد امکاں سے جو باہر نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دختر لوح و قلم یا در غم کھلتا ہے
ہونٹ کھلتے ہیں تو اک باب ستم کھلتا ہے
حرف انکار ہے کیوں ناز جہنم کا حلیف
صرف اقرار پہ کیوں باب ارم کھلتا ہے
آبرو ہو نہ جو پیاری تو یہ دنیا ہے سخی
ہاتھ پھیلاؤ تو یہ طرز کرم کھلتا ہے
مانگنے والوں کو کیا عزت و رسوائی سے
دینے والوں کی امیری کا بھرم کھلتا ہے
بند آنکھیں رہیں میلا ہے لٹیروں کا لگا
اشک لٹ جاتے ہیں جب دیدہء نم کھلتا ہے
جان دینے میں جو لذت ہے بچانے میں کہاں
دل کسی سے جو بندھے عقدہء غم کھلتا ہے
ساتھ رہتا ہے سدا محفل و تنہائی میں
دل رم خوردہ مگر ہم سے بھی کم کھلتا ہے
دیکھو پستی سے تو ہر ایک بلندی ہے راز
جادہء کوہ فقط زیر قدم کھلتا ہے
قرض ادا کرنا ہے جاں کا تو چلو مقتل میں
کھنچ گئی باگ بجا طبل و علم کھلتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیوانوں کو منزل کا پتا یاد نہیں ہے
جب سے ترا نقش کف پا یاد نہیں ہے
افسردگی عشق کے کھلتے نہیں اسباب
کیا بات بھلا بیٹھے ہیں کیا یاد نہیں ہے
ہم دل زدگاں جیتے ہیں یادوں کے سہارے
ہاں مٹ گۓ جس پر وہ ادا یاد نہیں ہے
گھر اپنا تو بھولی ہی تھی آشفتگی دل
خود رفتہ کو اب در بھی ترا یاد نہیں ہے
لیتے ہیں ترا نام ہی یوں جاگتے سوتے
جیسے کہ ہمیں اپنا خدا یاد نہیں ہے
یہ ایک ہی احسان غم دوست ہے کیا غم
بے مہری دوراں کی جفا یاد نہیں ہے
بے برسے گزر جاتے ہیں امڈے ہوۓ بادل
جیسے انہیں میرا ہی پتا یاد نہیں ہے
اس بار وحیدؔ آپ کی آنکھیں نہیں برسیں
کیا جھومتی زلفوں کی گھٹا یاد نہیں ہے


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo