#hamidnaved “کالے ۔۔۔ ! سو جا اب ، بہت رات ہوگئی…

[ad_1] #hamidnaved

“کالے ۔۔۔ ! سو جا اب ، بہت رات ہوگئی ہے۔ صبح جلدی کام پہ جانا ہے، کل باجی کے بیٹے کی سالگرہ ہے”
رضیہ نے اپنے چھ سال کے بیٹے کو سونے کی ہدایت کی جس کے سوال ختم نہیں ہورہے تھے۔ رضیہ جن کے گھر میں کام کرتی تھی ، کل انکے بیٹے کی سالگرہ تھی جو لگ بھگ کالے کی عمر کا تھا۔
“اچھا آخری بات بتا دو، مجھے سب کالا کالا کیوں بولتے ہیں۔ باجی کا بیٹا تو مجھ سے بھی زیادہ کالا ہے اسے تو سب اچھے اچھے ناموں سے بلاتے ہیں” اس نے معصومیت سے ایک اور سوال کیا.
“بچے جب تو پیدا ہوا تھا تو اتنا گورا چٹا تھا، تمہارے ابّا نے تمہارا نام کالا رکھ دیا تاکہ تمہیں کسی کی نظر نہ لگے” رضیہ نے بیٹے کو صفائی دی.
“اچھا ! میں گورا چٹا تھا۔ ۔۔۔ ” ماں کی بات سن کے اسے بڑی خوشی ہوئی۔ تھوڑی دیر کے لیے خاموشی چھا گئی. رضیہ سمجھی سو گیا ہے اور اس نے بھی آنکھیں بند کرلیں۔ وہ پھر سے بولا
“امی ۔۔۔۔ !”
“سو جا بچے۔۔۔ صبح سکول نہیں جانا”
“بس آخری بات، پھر کچھ نہیں پوچھوں گا”
“اچھا۔۔ ! پوچھ”
“آپ لوگوں کے گھر میں جا کے کام کیوں کرتی ہیں؟ مامی تو نہیں جاتی کہیں کام کرنے، سارا دن گھر پہ رہتی ہیں”
“تمہاری مامی کو کام کرنے کی کیا ضرورت ہے، ان کے لیے تمہارے ماموں ہیں نا؟ اللہ لمبی زندگی دے انکو۔ تمہارے ابّا جی زندہ ہوتے تو مجھے بھی کام نہیں کرنا پڑتا”
رضیہ کی آنکھیں بھر آئیں، شوہر کی وفات کے بعد بھائی کے گھر آگئی تھی، خود دار تھی اس لیے بھائی پہ بوجھ بننے کی بجائے خود کام کرتی، جس سے اپنا اور اپنے بچے کا پیٹ پالتی تھی ۔
“آپ پریشان نہ ہوں، میں بڑا ہوجاؤں گا تو بہت پیسے کماؤں گا، پھر آپکو کام نہیں کرنا پڑے گا” کالے نے ماں کو تسّلی دی.
“اسی امید پہ تو زندہ ہوں، جس دن تو بڑا ہوگا اور کمانے لگے گا، تب ہمارے بھی دن پھر جائیں گے” رضیہ نے کالے کے ماتھے پہ بوسا دیا اور اسے سونے کی تاکید کی۔
صبح ہوئی تو رضیہ اپنے کام پہ چلی گئی، سالگرہ کا بہت سارا کام تھا۔ رات میں اسے گھر واپس آتے کافی دیر ہوگئی۔ رہ رہ کے اسے کالے کی بھی فکر ہورہی تھی کہ اس نے کچھ کھایا بھی ہوگا یا نہیں۔ باجی سے منت سماجت کرکے وہ تھوڑا سا کیک بھی ساتھ لے آئی۔ گھر پہنچی تو پتہ چلا کہ “کالا ” شام میں گھر سے نکلا تھا ابھی تک واپس نہیں آیا۔ رضیہ کی بھابی اس بات پہ الٹا رضیہ کو ہی ڈانٹنے لگی کہ کام پہ جاتے ہوئی اسے بھی ساتھ لے جائے ، وہ اس سے سنبھالا نہیں جاتا۔ بھابی کی بات کا کوئی جواب دیے بنا ہی وہ الٹے پاؤں واپس مڑی۔ گلی محلے کا ایک ایک گھر چھان مارا پر کالے کے خبر نہ آئی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسکی پریشانی بڑھتی جارہی تھی۔ مایوس ہوکے گھر واپس لوٹی اور بھائی کے پاؤں پڑ گئی اور التجا کی کہ کالے کا کچھ پتا نہیں چل رہا، کہیں سے اسے ڈھونڈ کے لائے ورنہ وہ مر جائیگی۔
دو گھنٹے مزید گزر گئے نہ تو کالا واپس آیا اور نہ ہی بھائی اسکی کوئی خبر لایا۔ رضیہ اس جانور کی طرح جسے کسی شکاری کے تیر نے گھائل کیا ہوا، اندر باہر کے چکر لگانے لگی۔ کبھی گلی میں نکل جاتی تو کبھی گھر آکے بھابی سے بھائی کا پوچھتی۔ تھک ہار کے وہ گھر کے دروزے کی ٹیک لگائے زمین پہ ہی بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر میں بھائی واپس گھر پہنچا، لیکن کالا اسکے ساتھ نہیں تھا۔ رضیہ نے بلکنا شروع کیا۔ بھائی نے آتے ہیں خبر دی کہ شہر میں کمسن بچوں کے اغوا کی کئی وارداتیں ہوئی ہیں۔ یہ بات سنتے ہی رضیہ نے اپنی چھاتی پیٹنا شروع کردی۔ اور فرش پہ گرتے ہی بے ہوش ہوگئی۔
رات کے کسی پہر کالے کے پکارنے کی آواز اسکے کانوں میں گونجی، اپنی باہیں پھیلائے وہ ہڑ بڑا کے اٹھ بیٹھی، اسکے چاروں طرف اندھیرا تھا اور ایک خوفناک سناٹا ۔ وہ جلدی سےاٹھی اور کمرے سے نکل کے گھر کے دروازے کی طرف بڑھی۔ سنسان گلیوں میں پھرتی رہی اور اپنے جگر کے ٹکڑے کو آوازیں دینے لگی۔ رات سے صبح ہوئی اور وہ چلتے چلتے نجانے کہاں پہنچ گئی تھی۔ صبح بھائی اور بھابی کو پتہ چلا تو اسے گھر لے آئے۔ تسلی دی کہ آج اسکا کچھ نہ کچھ پتا چل جائیگا۔
دو دن مزید گزر گئے، رو رو کے رضیہ کی آنکھیں سوج گئیں، غشی کے دورے پڑنے لگے۔ پولیس نے رضیہ کے بھائی کو تھانے بلایا۔ تھوڑی دیر بعد گلی کے بچے دوڑتے ہوئے رضیہ کے پاس آئے اور بتایا کہ کالا مل گیا ہے ۔ چار پائی سے اٹھ کر رضیہ کمسن بچے کے طرح دروازے کی طرف دوڑی۔ دروازے کی چوکھٹ سے پاؤں ٹکرایا اور وہ وہیں گر گئی۔ بنا اٹھے اسکی نظریں دور سے گلی میں آتے اسکے بھائی پہ پڑیں، جس نے اپنے دونوں ہاتھوں پہ کسی مقدس چیز کی طرح کچھ اٹھایا ہوا تھا۔ رضیہ کی آنکھیں دھندلا گئیں، چند عورتوں نے اس اٹھایا اور گھر کے اندر لے گئیں۔
رضیہ فرش پہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ اس سے چند قدم کے فاصلے پہ بھائی نے کالے کی لاش رکھی اور رضیہ سے کہا
“تیرا کالا واپس آگیا ہے ، آجا اب مل لے”
کسی معصوم بچے کی طرح رضیہ گھٹنوں اورکہنیوں کے بل خود کو گھسیٹتی ہوئی کالے کے پاس پہنچی اور فرش پہ ہاتھ مارنے لگی۔
“ہائے ہائے، کتنے ظالم لوگ ہیں، معصوم کی آنکھیں بھی نکال لیں اور دل بھی۔۔۔۔”
کہیں سے ایک بے درد صدا رضیہ کے کانوں میں پڑی، جو پہلے ہی اپنی بینائی کھو چکی تھی۔ فرش پہ ہاتھ مارتے مارتے اسکا ہاتھ کالے کے چہرے پہ پڑا ۔ آنکھوں کی روشنی گل ہوچکی تھی ، چہرہ ٹٹولتے ٹٹولتے اس نے اپنے جگر کے ٹکڑے کی پیشانی ڈھونڈ لی، اپنے لب اسکی پیشانی کے پاس لا کے ایک بوسہ دیا اور تب دل کی آخری دھڑکن نے بھی الوداع کہہ دیا۔…..!

ان سب ماؤں کے نام جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کو کھویا ہے۔ جن کی امیدوں کے چراغ بجھ گئے ہیں۔ جن کے جسموں سے انکی روح نکال لی گئی۔ گزارش ہے که اپنے بچوں کی حفاظت کریں..

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo