ممتاز شاعر اور مترجم شہزاد احمد کی وفات Aug 01, 20…

[ad_1] ممتاز شاعر اور مترجم شہزاد احمد کی وفات
Aug 01, 2012

شہزاد احمد نے 16 اپریل 1932کو مشرقی پنجاب کے مشہور تجارتی اور ادبی شہر امرتسر کے ایک ممتاز خاندان کے فرد ڈاکٹرحافظ بشیر کے گھرانے میں جنم لیا، گورنمنٹ کالج لاہور سے 1952ءمیں نفسیات اور 1955ء میں فلسفے میں پوسٹ گریجوایشن کی اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ہوگئے۔ ’’صدف‘‘ 1958ء میں ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ ان کی غزلوں کے مجموعے ’’جلتی بھجتی آنکھیں‘‘ 1969ء پر آدم جی ادبی انعام دیا گیا۔ ’’پیشانی میں سورج’‘ پر انہیں ہجرہ(اقبال) ایوارڈ دیا گیا۔ 1997ء میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا گیا۔ طالب علمی کے زمانے میں بھی ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا رہا، انہیں 1952 میں گورنمنٹ کالج لاہور کے ’’اکیڈمک رول آف آنر‘‘ سے نوازا گیا۔ وہ 1949،50 کے دوران فلاسوفیکل سوسائٹی کے سیکرٹری بھی رہے۔
شہزاد احمد شعر و نقد شعر کے علاوہ نفسیات اور فلسفہ کے موضوعات پر انتہائی اہم مضامین سپرد قلم کر چکے ہیں اور متعدد اہم ترین سائنسی موضوعات پر معروف کتب کے تراجم بھی ان کے نام کے ساتھ یادگار ہو چکے ہیں۔ اسلام اور فلسفہ ان کا محبوب موضوع ہے اور اس سلسلے میں ان کی تصانیف اور تراجم پاکستانی ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ انہیں انجمن ترقی ادب کا بہترین مضمون نویسی کا ایوارڈ 1958ء، نقوش ایورڈ 1989ء اور مسعود کھدر پوش ایوارڈ 1997ء بھی مل چکا ہے۔ ’’بیاض‘‘ لاہور ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف کے طور پر ان کے نام سے معنون ایک خصوصی شمارہ بھی شائع کر چکا ہے۔ شہزاداحمد کا انتقال یکم اگست 2012 بمطابق 12 رمضان المبارک 1433ھ بروز بدھ شام چار بجے لاہور میں ہوا۔ مرحوم کی عمر 80 برس تھی۔ شہزاد احمد نے سوگواران میں دو بیٹے اور تین بیٹاں چھوڑی ہیں۔
انہوں نے شاعری کے علاوہ فلسفہ اور سائنس پر بہت کام کیا اور کتابیں لکھیں، مشہور کتابوں میں ”ادھ کھلا دریچہ“ ”پیشانی میں سورج“ جلتی بجھتی آنکھیں شامل ہیں۔ انہوں نے متعدد سائنس کتب کے ترجمے بھی کئے۔ سائنسی مضامین پر ان کی کتاب 1962ءمیں شائع ہوئی۔ وہ حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ گورنمنٹ کالج کے میگزین راوی کے ایڈیٹر بھی رہے

منتخب اشعار
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بهی بتا کر نہیں گیا
…………
یاد سے اُسکی نہیں خالی کوئی بھی لمحہ
پھر بھی ڈرتا ہوں کہیں بھول نہ جاؤں اُسکو
…….
گرچہ تیرا خیال ھی تھا ، وجۂ اِضطراب
لیکن تیرا خیال ، بُھلایا نہ جا سکا
…….
ہجر کی شب کے تارو تم کو ڈوب تو جانا ہے لیکن
میرے دل پر کیا گزری ہے ان کو خبر کرتے جانا
……
ہمارے شہر میں ہے وہ گریز کا عالم
چراغ بهی نہ جلائے چراغ سے کوئی
……
زیادہ تر تو ہم اپنی ہی خاک اُڑاتے رہے..
تمہارا روپ تو شعروں میں خال خال آیا..
……..
بجھ جائیں گی آنکھیں تو نکل آئے گا سورج..
دھندلائے ہوئے شہر کے انوار ملیں گے..

صحرا کا نہیں.. برف کی دوزخ کا سفر ہے..
اس راہ میں جلتے ہوئے اشجار ملیں گے..
……..
جانے میں کون سی پستی میں گرا ہوں شہزادؔ
اس قدر دور ہے سورج کہ دیا لگتا ہے
……
رات آئی تو طلب شمع نہیں کی دل نے..
دھوپ نکلی ہے تو سایہ نہیں مانگا تجھ سے..


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo