(سنجیدہ غزلیہ مشاعرہ کے اختتام پر سُنہری حلقہ کے س…

[ad_1] (سنجیدہ غزلیہ مشاعرہ کے اختتام پر سُنہری حلقہ کے سر پرست اور خِرَد وَر محترم جلیل عالی صاحب کے خِرد وَرانہ ارشادات ِ عالیہ پیش ِ خدمت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنہری حلقہ)

مجھے اِس بات کی خوشی ہے کہ ہمارے حلقہ کے اِس ” غزل مشاعرہ ” میں قریب قریب پانچ نسلوں کے نمایندہ شعراؑ کی غزلیں دس ماہ تک دوستوں کو پڑھنے کے لئے ملتی رہیں ۔ بِلا شُبّہ اِس مشاعرہ کی ہماری ادبی اور تہذیبی تاریخ میں اِس لحاظ سے ایک خاص اہمیّت بنتی ہے کہ اِنٹر نیٹ کی دُنیا میں اِس تخلیقی سطح کا سنجیدہ مشاعرہ منعقد کِیا گیا ۔ اور اس کا سہرا بجا طور پر پرویز ساحِر صاحِب کے سر جاتا ہے اس حوالے سے ان کی اَن تھک محنت پر ہم انہیں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں ۔ دیگر اراکین کو بھی اس کام یابی پر مبارک دی جاتی ہے ۔
اس مشاعرہ میں آپ نے جو غزلیں ملاحظہ فرمائیں اُن میں بیش تر معیاری غزلیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ غزل ایک زندہ و پایندہ صِنف ِ سخُن ہے ۔ جو ہر عہد کے تقاضوں کو بہ طریق ِاحسن پورا کرتی آ رہی ہے ۔ بے شکّ غزل کا ہئیتی تشخُّص اس قدر مستحکم ہو چکا ہے کہ کوششوں کے باوجود بھی اِس میں کوئی قابل ِ قبول تبدیلی مُمکِن نہیں ہو سکی ۔ مذید یہ کہ غزل اپنے اسلوب ‘ ‘ لب و لہجہ ‘ باطِنی رویّوں اور ویژن کی بدولت ہر عہد کا ساتھ دیتی چلی آ ہے ۔
غزل اردو شعری بوطیقا کی نمایندہ ترین صِنف ِ سخُن ہے ۔ اسی سبب ہمارا تخلیقی ادبی جینئس اپنی بہترین سطح پر غزل ہی میں منعکس ہوتا چلا آ رہا ہے ۔ اس کی زندہ دلیل یہ ہے کہ آزاد نظم جو غزل کے مقابل خود غزل کی ہئیت اور شعریّت کو مسترد کرنے کے زَعم میں آئی اور اُس نے قافیہ و ردیف کو بے دخل کر دیا تھا ۔ وقت گزرنے ساتھ اُسے اپنی شعریات سے جُڑنا پڑا ۔ آج بہترین آزاد نظموں میں قوافی و ردائف اُسی عظَمت و شان کے ساتھ جلوہ گر ہو رہے ہیں ۔ اسی خوبی نے نظموں کو مشاعرہ میں بھی سُننے سُنانے کے لائق بنا دیا ۔ ہم کسی صنف ِ سخُن کے مخالِف نہیں ۔ ہر تخلیق کار کی تخلیقی ذات اپنے بہترین اظہار کے لئے کسی نہ کسی صنف کو منتخَب کرتی ہے ۔ جو اُس کی اُپج سے مناسبت رکھتی ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ موضوعات کے اعتبار سے نظم اور غزل کی اپنی اپنی ” تحدیدات ” ہیں تو اِس سے بڑا مغالطہ کوئی نہ ہو گا ۔ ہم دیکھتے ہین کہ غزل سماجی ‘ سائنسی ‘ تہذیبی ‘ سیاسی ‘ ما بعد الطّبیعیاتی ‘ کائناتی ‘ رُوحانی ۔۔۔ اور ہر طرح کے فکری موضوعات کو اپنے اندر سمو لیتی ہے ۔ ہمارے کتنے ہی شعراؑ جن کے سوالات ہی سائنسی ‘ فکری اور کائناتی ہیں ۔ غزل میں تخلیقی ذات کی کُلّیت کے ساتھ بہ آسانی سانس لیتے ہیں ۔ شہزاد احمد جیسے سائنسی ‘ نفسیاتی اور فلسفیانہ شعور رکھنے والے شاعر ہی کو دیکھ لیں ۔ سوالات تو اس کے بھی وہی ہیں مگر اُس کی تخلیقی ذات آزاد نظم سے زیادہ غزل سے مناسبت رکھتی ہے ۔ اور وہ اپنے تمام بڑے سوالوں کے ساتھ اپنی غزل میں موجود ہے ۔ یہ درست ہے کہ غزل کے تمام اشعار کے پس ِ پردہ جو ” زیریں وحدت ” کار فرما ہوتی ہے ‘ اس کی شمُولیت کے ساتھ غزل کی کُلّی تحسین کا کوئی منہاج نہیں ۔
غیر معمولی اور معیاری غزلیں اپنی جامع تشریح و تعبیر کا مطالبہ کرتی ہیں ۔ غزل کو جو ایک اضافی امتیاز حاصل ہے وہ یہ کہ غزل پان سات یا اِس سے زیادہ معنوی اکائیوں کا ایک ایسا مجموعہ ہوتی ہے جو باہم زیریں ربط کے ساتھ ایک ” گشٹالٹ ” کی تشکیل بھی کر رہی ہوتی ہیں ۔ آج پوری نظم کو ایک ” نامیاتی وَحدت ” کی صورت میں دیکھا جاتا اور اُس کی تشریح و تعبیر کے لئے منطقی تسلسُل سے زیادہ اُس کے ” معنوی منطقے ” کی تفہیم کے لئے مختلِف حصّوں کو قاری و نقّاد خود باہم مربوط کرتا ہے ۔ یہی اصول مطالعہ و تحسین ِ غزل میں بھی پیش ِ نظر رہنا چاہییے ۔ اس خصوص میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہم عصر غزل اپنا کوئی ” اختصاصی نقّاد ” مانگتی ہے ۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم جو اپنی تخلیقی واردات کو ” مغربی تنقید ‘ کے پیمانوں سے سمجھنے کی کوشش کرنے میں لگے ہیں ۔ اس سے ہم اپنی ” تخلیقی واردات ” سے ” تخفیفی سلُوک ” کے مرتکِب ہو رہے ہیں ۔ جس زمانے میں ” در آمدی تحریکوں ” کے زیر ِ اثر پاکستان میں لسّانی تشکیلات کا شور و غوغا تھا ‘ افتخار جالب جیسے نقّاد کا دھیان بھی اردو غزل میں ہو چکی ” عظیم لسّانی تشکیلات ” کی نمایندہ کتاب ” بال ِ جبرائیل ” کی طرف نہیں گیا ۔ ہمارے دوست یہ بھول گئے کہ لسّانی تشکیل بڑی تخلیقی واردات خود کرتی ہے ۔ ظفر اقبال کی طرح میکانکی انداز میں ” گُلافتاب ‘ اور ” رطب و یابس ” کی صورت نہیں کی جاتی ۔ فارم ہی نہیں فکریاتی پہلوؤں سے بھی اس اصول کو ردّ نہیں کِیا جا سکتا کہ حقیقی تنقیدی پیمانے بڑے تخلیق پاروں کے اندر ہی سے اخذ ہوتے ہیں ۔ جو تنقیدی قالب میر ‘ غالب اور اقبال کی تہذیبی ‘ مابعد الطّبیعایتی فکریات سمیت کُلّی نقد و نظر کا فریضہ ادا نہ کر پائیں اُن کے ذریعے ہماری تخلیقی روایت اور تخلیقی عمل کی حقیقی تحسین کیسے ممکِن ہے ؟ ۔ آخر پر مجھے یہی کہنا ہے کہ غزل اپنی رَمزی و اِیمائی تَہہ داری اِس لئے ترک نہیں کر سکتی کہ کسی دوسری زبان میں اِس کی جامع ترجمانی کے ضِمن میں مترجمین کو مشکِلات کا سامنا کرتا پڑتا ہے ۔ اگر غزل کو” فِٹس جرالڈ ” نہیں ملتا تو کیا غزل اپنی لا محدُود رسائیوں سے دست کَش ہو جائے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جلیل عالی ( اسلام آباد ‘ پاک ستان )

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo