گولڑہ شریف سو سال پہلے کی بات ہے کہ ایک قصبہ جس …
سو سال پہلے کی بات ہے کہ ایک قصبہ جس کا نام گولڑہ شریف ہے وہاں ایک بزرگ تھے جن کا نام تھا حضرت پیر مہر علی شاہ ان کے ایک بیٹے تھے ان کا نام تھا بابوجی اس وقت ان کی عمر نو یا دس سال تھی انگریز نے گولڑہ شریف سے نئی نئی ٹرین چلائی بابو جی روزانہ ٹرین کو دیکھنے ریل کی پٹڑی کے پاس چلے جاتے ان کے مریدوں نے بابو جی سے پوچھا آپ یہاں کیوں آتے ہیں
تو انہوں نے جواب دیا مجھے ٹرین کے انجن سے محبت ہو گئی ہے
انہوں نے پوچھا کیوں محبت ہو گئی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟
انہوں نے کہا اس کی پانچ وجوہات ہیں
“پہلی وجہ ٹرین کا انجن ٹرین کو منزل تک لے کر جاتاہے،
دوسری وجہ آخری ڈبے کو بھی ساتھ لے کر جاتا ہے
، تیسری وجہ آگ خود کھاتا ہے ڈبوں کو نہیں کھانی پڑتی،
چوتھی وجہ صراط مستقیم پر یعنی سیدھا چلتا ہے
اورپانچویں وجہ یہ ڈبوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ ڈبے اس کے محتاج ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
اس دنیا میں کچھ لوگ انجن کی طرح ہے تو کچھ ڈبے کی طرح ۔۔ہر کوئی انجن نھیں بن سکتا
لیکن جو انجن بن جائے اس کو چاہئے کے ڈبوں کو بھی ساتھ لیکر چلے..!!