#hamidnaved سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ حضرت سعد …

[ad_1] #hamidnaved
سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ

حضرت سعد کے والد کا نام مالک بن وہیب( اہیب) تھالیکن اپنی کنیت ابو وقاص سے مشہور تھے۔عبد مناف حضرت سعد کے دادا اور زہرہ بن کلاب پڑدادا تھے ۔ آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی والدہ آمنہ(بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ) اور حضرت سعد کے دادا ایک ہی تھے۔ان کے والد وقاص آمنہ کے ماموں زاد تھے۔ کلاب بن مرہ پر حضرت سعد کا شجرہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے سلسلۂ نسب سے مل جاتا ہے۔حضرت سعد کی والدہ کا نام حمنہ بنت سفیان بن امیہ تھا ،پانچویں پشت پرا ن کی والدہ کا شجرہ قصی سے جا ملتا ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بھی پانچویں جد تھے ۔ حضرت سعد کی کنیت ابو اسحاق اور نسبت زہری ہے۔
حضرت سعد۱۷(یا۱۹) سال کی عمر میں حضرت ابوبکرکی دعوت پر مسلمان ہوئے۔حضرت ابو بکر مشرف بہ اسلام ہونے کے فوراًبعد زبیر بن عوام، عثمان ،طلحہ اور عبدالرحمان بن عوف کے ساتھ حضرت سعد کو آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔آپ نے انھیں اسلام کی دعوت دی ،قرآن سنایااور اسلام کا حق ہونا ثابت کیاتو ان سب نے دین حق قبول کیا ۔اس حساب سے ان کا شمار پہلے ۸ مسلمانوں میں ہوتا ہے۔ حضرت سعدخودکہتے ہیں ،’’میں اسلام میں داخل ہونے والا تیسرا شخص تھا(پہلے دو خدیجہ اور ابو بکرتھے)۔سات دن گزرگئے اور میری یہی پوزیشن(کل مسلمانوں کا تہائی) برقرار رہی۔کسی نے مجھ سے پہلے اسلام قبول نہ کیا تھا،ہاں ایسے لوگ تھے جو اسی روزنعمت اسلام سے سرفراز ہوئے جس دن میں ایمان لایاتھا۔ ‘‘(بخاری: ۲۸۵۸،۳۷۲۷) ابن حجر کہتے ہیں، ہو سکتا ہے ، باقی مومنین اولین کا حال حضرت سعد سے مخفی رہا ہویا ان کی مراد ہو کہ ان سے پہلے محض ۲ آزاد بالغ مرد مسلمان ہوئے تھے۔دوسری روایت میں ہے،’’ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والا ساتواں مرد تھا۔‘‘(بخاری :۵۴۱۲)پہلے ۶ ابوبکر، عثمان، علی،زید بن حارثہ، زبیر اور عبدالرحمان بن عوف تھے۔ایک اور روایت کے مطابق حضرت سعد کو معلوم ہوا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پوشیدہ ر ہ کر اسلام کی د عوت دے رہے ہیں تو وہ کوہ اجیاد کی کسی گھاٹی میںآپ ﷺسے ملے اور اسلام قبول کیا۔ حضرت سعدبن ابی وقاص ’السابقون الاولون‘ (سورۂ توبہ : ۱۰۰)میں شامل ہوئے تو ان کی والدہ نے قسم کھالی کہ حضرت سعد سے بات کروں گی نہ کھاؤں پیوں گی حتیٰ کہ وہ اپنا دین چھوڑ دے ۔ حضرت سعد نے کہا،تو جانتی ہے، اگر تیری سو جانیں ہوتیں اور (میرے دوبارہ مشرک ہونے کی خواہش کرتے ہوئے )ختم ہو جاتیں تو بھی میں دین اسلام نہ چھوڑتا۔تین روز گزرے تھے کہ وہ بھوک سے بے ہوش ہو گئیں۔ان کے بیٹے عمارہ نے پانی پلاکر ان کی بھوک ہڑتال ختم کی۔سورۂ عنکبوت کی آیت: ۸ اسی موقع پر نازل ہوئی، ’’وان جاہدٰک لتشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعہما‘‘۔اور اگر یہ دونوں (ماں باپ)تیرے درپے ہوں کہ تم میرے ساتھ ایسا شریک ٹھہراؤ جس (کے خدائی میں شریک ہونے )کی تمہارے پاس کوئی علمی (و یقینی) اطلاع نہیں تو ان کی اطاعت نہ کرنا۔ ‘‘(مسلم:۶۳۱۷،مسند احمد: ۱۶۱۴)
اسلام کے ابتدائی دور میں اصحاب رسول ﷺمکہ کی گھاٹیوں میں چھپ چھپ کر نماز پڑھتے ۔ایک بار حضرت سعد بن ابی وقاص کچھ صحابہ کے ساتھ مل کر نماز ادا کر رہے تھے کہ مشرکوں نے دیکھ لیا او ر ان کو مارنے دوڑے۔ حضرت سعد نے ایک مشرک کو اونٹ کے جبڑے کی ہڈی دے ماری تو وہ زخمی ہو گیا ۔یہ شرک و اسلام کی کشمکش میں نکلنے والا پہلا خون تھا۔حبشہ ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو قریش کے اسلام لانے کی غلط خبر ملی تو انھوں نے مکہ واپسی کا عزم کیا۔یہ اطلاع غلط ثابت ہونے پر ان میں سے اکثر پلٹ گئے۔تاہم ،کچھ اہل ایمان مشرکین کی پناہ لے کر شہر مکہ میں داخل ہو گئے۔ابوحذیفہ بن عتبہ اپنے باپ کی حفاظت میں آئے ،عثمان بن مظعون کو ولید بن مغیرہ کی پناہ ملی لیکن انھیں ایک مشرک کی امان میں آناکھٹکنے لگا اس لیے اسے ٹھکرا دیا۔ایک مجلس جس میں لبید بن ربیعہ موجود تھے ، مغیرہ کے بیٹے نے حضرت عثمان کی آنکھ پر تھپڑ دے مارا۔تب حضرت سعد بن ابی وقاص اٹھے اورمارنے والے کی ناک پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
سب سے پہلے مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم نے مدینہ ہجرت کی اور اہل مدینہ کو قرآن پڑھانا شروع کیا ۔ان کے بعد حضرت بلال،حضرت سعد اور عمار مدینہ پہنچے پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ۲۰ صحابہ کی معیت میں مدینہ کا سفر کیا۔ (بخاری: ۳۹۲۵) حضرت سعد اور ان کے چھوٹے بھائی عمیرمدینہ جا کر اس گھر اور باغ میں قیام پذیر ہوئے جو ان کے مشرک بھائی عتبہ بن ابی وقاص نے قبیلۂ بنوعمرو بن عوف میں تعمیر کر رکھا تھا۔اس نے جنگ بعاث سے قبل مکہ میں کسی کو قتل کر دیا تھا اس لیے بھاگ کر یثرب چلا گیا اور بنو عمرو میں چھپ گیا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص اور مصعب بن عمیر میں مواخات قائم فرمائی۔دوسری روایت کے مطابق حضرت سعد بن معاذ ان کے انصاری بھائی تھے۔حضرت سعد اور عبداﷲ بن مسعودنے ایک تہائی پیداوار کے بدلے میں اپنی زمین ٹھیکے پر دے رکھی تھی۔ (بخاری: باب المزارعۃ بالشطرونحوہ، مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب البیوع والاقضیہ:۱۵۲)
حضرت سعد بن ابی وقاص کا شمار ان دس صحابہ میں ہوتا ہے جنھیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کی زندگی ہی میں جنت کی بشارت دے دی تھی۔آپ ﷺ نے فرمایا،’’ابوبکر جنت میں جائیں گے،عمر جنت میں ہوں گے،عثمان جنتی ہیں،علی جنت میں جائیں گے،طلحہ اہل جنت میں سے ہیں،زبیر جنتی ہیں،عبدالرحمان بن عوف جنت میں بسیرا کریں گے،حضرت سعد جنت میں ہوں گے،سعید جنتی ہیں اور ابو عبیدہ بن جراح کا حسن انجام جنتیوں کے ساتھ ہو گا۔‘‘ (ابو داؤد : ۴۶۴۹، ترمذی: ۳۷۵۶،مسند احمد:۱۶۲۹)عشرۂ مبشرہ میں سے چارحضرت سعد، طلحہ، زبیر اور علی ہم عمر تھے۔حضرت سعد ان چھ صحابہ میں بھی شامل تھے جن کو حضرت عمر نے اپنا جانشین چننے کے لیے نام زد کیا تھا۔ ایک باررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم حرا کے پہاڑ پر تھے کہ وہ ہلنے لگا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا، حرا ساکن ہو جا ،تم پرایک نبی ، صدیق اور شہید کے علاو ہ کوئی نہیں۔تب ابوبکر،عمر،عثمان،علی،طلحہ،زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ (مسلم: ۶۳۲۸) ایک بار نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسجد میں لگاتار تین رات نشست فرمائی اور دعا کی،’’اﷲ!اس دروازے سے ایسے بندے کو لانا جو تم سے محبت رکھتا ہو اور توبھی اس سے محبت کرتا ہو‘‘ تبھی اس میں سے حضرت سعد داخل ہوئے۔ (مستدرک حاکم:۶۱۱۷)جابر بن عبداﷲ کی روایت ہے ،ہم ایک بار رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ حضرت سعد آتے دکھائی دیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، ’’یہ میرے ماموں ہیں،کوئی اپنا ماموں تو دکھائے۔‘‘ (ترمذی: ۳۷۶۱)
حضرت سعد بن ابی وقاص نے تمام غزوات اور جنگوں میں حصہ لیا۔مدینہ تشریف آوری کے۷ ماہ تک نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے قریش کے مدینہ سے گزرنے والے قافلوں سے تعرض نہ کیا۔رمضان ۱ھ میں آپ ﷺ نے ابو جہل کی سربراہی میں شام سے مکہ لوٹنے والے قریش کے قافلے کو روکنے کے لیے حمزہ بن عبدالمطلب کی قیادت میں ۳۰ مہاجرین کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔ فریقین کے مابین صف آرائی ہو چکی تھی کہ مجدی بن عمرو نے صلح کرا دی۔ شوال ۱ھ میں آپ ﷺ نے عبیدہ بن حارث کی سربراہی میں ۶۰ یا ۸۰ افراد کا سریہ رابغ کی طرف روانہ فرمایا۔یہ جحفہ سے ۱۰ میل آگے احیا کے چشمے پر پہنچا تو ابوسفیان (یامکرز بن حفص )کے ۲۰۰ افراد پر مشتمل قافلے سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی۔ جنگ نہ ہوئی تاہم، حضرت سعدبن ابی وقاص نے تیر اندازی کی۔یہ راہ اسلام میں چلنے والا پہلا تیر تھا۔ذی قعد ۱ھ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو ۲۰مہاجرین کے ساتھ خرار بھیجا۔آپ ﷺ نے مقداد بن عمرو کو سفید پرچم عطا کیا۔ دن کو چھپتے اور رات کو پیدل سفر کرتے ہوئے یہ ۵ دن کے بعد خرار پہنچے تو معلوم ہوا، مشرکین کا قافلہ ایک روز پہلے یہاں سے جا چکا ہے ۔آپ ﷺنے خرار سے آگے نہ جانے کی ہدایت فرمائی تھی اس لیے یہ دستہ (سرےۂ حضرت سعد بن ابی وقاص)واپس لوٹ آیا۔ غزوۂ ابوا:ربیع الاول ۲ ھ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ودّان کا سفر کیا ،بنو ضمرہ کے سردار مخشی نے جیش نبوی ﷺ سے صلح کر لی اس لیے کوئی معرکہ پیش نہ آیا۔ربیع الثانی ۲ ھ میں آپ ﷺ ۲۰۰ صحابہ کے ساتھ۱۰۰افراد اور ۲۵۰۰ اونٹوں پر مشتمل قریش کے ایک تجارتی قافلے کا پیچھا کرنے کے لیے نکلے جو امیہ بن خلف کی سربراہی میں جا رہا تھا۔آپ ﷺ کا پرچم حضرت سعد بن ابی وقاص نے تھام رکھا تھا۔یہ غزوۂ بواط تھا ، اس میں بھی جنگ کرنا پیش نظر نہ تھا۔ جمادی الثانی ۲ھ میں رسول اکرم نے قریش کی سرگرمیوں کی خبر لینے کے لیے عبداﷲ بن جحش کی سربراہی میں ۱۲ مہاجرین کا ایک دستہ جس میں حضرت سعد بھی تھے، مکہ اور طائف کے بیچ واقع نخلہ کی طرف روانہ فرمایا۔حران کے مقام پرعتبہ بن غزوان کا اونٹ کھو گیاجس پر حضرت سعد بھی اپنی باری سے سفر کر رہے تھے تودو نوں اسے تلاش کرنے لگ گئے۔ابن جحش قافلے کو لے کر چلتے رہے اور نخلہ پہنچ گئے۔کشمش، کھالیں اور دوسرا سامان تجارت لے کر قریش کا قافلہ گزرا تو انھوں نے اس پر حملہ کر دیا۔واقد بن عبداﷲ نے تیر مار کر قافلے کے سردار عمرو بن حضرمی کو قتل کر دیااور عثمان بن عبداﷲ اور حکم بن کیسان کو قید کر لیا۔ نوفل بن عبداﷲ فرار ہو گیا ۔عبداﷲ بن جحش نے تاریخ اسلامی میں حاصل ہونے والے پہلے مال غنیمت کی اپنے تئیں تقسیم کرکے ۵؍۱ حصہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لیے رکھ لیا حالانکہ خمس کا حکم نازل نہ ہوا تھا۔قریش نے اپنے قیدی چھڑانے کے لیے فدیہ بھیجا تو آپ ﷺنے اس وقت تک قبول نہ فرمایا جب تک حضرت سعد اور عتبہ صحیح سلامت واپس نہ آگئے۔دوسری روایت کے مطابق یہ غزوہ رجب کی ابتدائی تاریخوں میں ہوا ۔مشرکین کی طرف سے حرام مہینے کی حرمت پامال کرنے کا الزام لگا توارشاد ربانی نازل ہوا ،’’ماہ حرام میں قتال کرنا بہت برا ہے لیکن اﷲ کی راہ سے لوگوں کو روکنا،اسے نہ ماننا، مسجد حرام کا راستہ بند کرنا اور وہاں کے رہنے والوں کو نکال باہر کرنا اس سے بھی بد تر ہے۔‘‘(سورۂ بقرہ:۲۱۷)
۲ھ میں بدر کے میدان میں کفر و اسلام کا فیصلہ کن معرکہ ہوا۔نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے جان نثار صحابہ کے ساتھ بدر کے کنووں کے قریب قیام فرمایا ۔ رات کے وقت آپ ﷺنے قریش کے لشکر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور میدان جنگ میں پانی کی موجودگی کا جائزہ لینے کے لیے علی بن ابوطالب، زبیر بن عوام اور حضرت سعد بن ابی وقاص کو بھیجا۔وہ قریش کے دو غلاموں اسلم اور عریض کو پکڑ لائے جو پانی بھر رہے تھے۔ان سے قریش کے لشکر کی تعداد،اس کی جنگی پوزیشنوں اور ذخیرۂ خوراک کے بارے میں اطلاعات ملیں۔ جنگ شروع ہوئی تو نُبیہ بن حجاج حضرت سعد اور حضرت حمزہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔حضرت سعد کے حصہ میں دو قیدی آئے۔اس بات کو عبداﷲ بن مسعود نے یوں روایت کیاہے ،جنگ بدر کے دن حضرت سعد اور عمار اور میں مال غنیمت میں ساجھی تھے ۔حضرت سعد دو مشرکوں کو قید کر لائے، عمار اورمیں کچھ نہ حاصل کر سکے۔(ابو داؤد:۳۳۸۸)حضرت سعدکے بھائی عمیر نے اسی روز شہادت پائی۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے کم عمر ہونے کی وجہ سے انھیں لوٹا دیا تھا۔ جب وہ رو دیے تو آپ ﷺ نے اجازت عطا فرما ئی۔تب حضرت سعد نے اپنی تلوار کی حمائل انھیں دے دی۔
جنگ احد میں حضرت سعد بن ابی وقاص نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو کر تیر اندازی کی۔آپ ﷺنے فرمایا، تیر پھینکو ، تم قوی نوجوان ہو۔آپ ﷺ اپنے ترکش سے تیرنکال کر انھیں پکڑاتے اور فرماتے ،’’تیر پھینکو ، میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔‘‘(بخاری:۴۰۵۵،ترمذی:۳۷۵۳) عائشہ بنت سعد اپنے والد کا قول بیان کرتی ہیں ،اس دن میں تیراندازی کرتا تو ایک خوب رو ،گورا چٹا شخص تیر مجھے واپس لا دیتا ۔ میں نے اسے نہ پہچانا، بعد میں مجھے خیال ہوا کہ وہ کوئی فرشتہ تھا۔ حضرت سعد خود روایت کرتے ہیں، جنگ احد کے دن نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھے فدیہ کی دعا (فداک ابی و امی،میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں) دیتے ہوئے اپنے والدین دونوں کا ذکر فرمایا۔ (بخاری:۲۵۰۹،۳۷۲۵، ۴۰۵۷)حضرت علی کہتے ہیں ،نبئ رحمت ؐ نے ان الفاظ میں حضرت سعد کے علاوہ کسی کو دعا نہیں دی لیکن ایک دوسری متفق علیہ روایت کے مطابق آپ ﷺنے خوش ہو کر زبیر بن عوام کے لیے بھی یہی کلمات ’’ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں‘‘ ارشاد فرمائے۔ (بخاری: ۲۸۴۶، ۳۷۲۰، مسلم :۶۳۱۲) ابن حجرکی وضاحت کے مطابق ہوسکتا ہے ، زبیر کاواقعہ حضرت علی کے علم ہی میں نہ ہو جو جنگ خندق میں پیش آیا یا ان کی نفی خاص جنگ احد کے ضمن میں ہو۔جنگ احد ہی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دایہ اور اسامہ بن زید کی والدہ ام ایمن انصار کی چند عورتوں کے ساتھ پانی بھر رہی تھیں۔ حبان بن عرقہ نے تیر پھینکا جو ان کے دامن پر لگا تو وہ ہنسنے لگ گیا۔آپ ﷺنے حضرت سعد بن ابی وقاص کو تیر پکڑا کر فرمایا،یہ پھینکو،تیر اسے جا لگا تو آ پ ﷺ مسکرائے اور فرمایا، حضرت سعد نے اس سے بدلہ لے لیا،اے اﷲ! حضرت سعد کی دعا قبول کر اور اس کا تیر نشانے پرلگا۔ایک مشرک نے مسلمانوں پر تیروں کی بوچھاڑ کر کے آگ سی لگا دی تو حضرت سعد نے اس کے پہلو کا نشانہ لے کر ایسا تیر دے مارا جس کا پھل نہیں تھا۔ اس کا تہ بند گر گیاتوآپ ﷺبے ساختہ مسکرانے لگے۔ (مسلم: ۶۳۱۶)حضرت سعد نے اس روز کم ازکم ایک ہزار تیر برسائے۔ان کی شجاعت کی وجہ سے انھیں’’ فارس اسلام‘‘(اسلام کا شہ سوار) کہا جاتا ہے۔
غزوۂ احد میں (ایک وقت ایسا تھا کہ )طلحہ اور حضرت سعد کے علاوہ آپ ﷺکے پاس کوئی نہ رہا تھا۔ (بخاری: ۴۰۶۰، مسلم: ۶۳۲۱) حضرت سعد کے بھائی عتبہ نے پتھر مار کر نب�ئ رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے کے دانت شہید کر دیے،آپ ﷺکا ہونٹ بھی پھٹ گیا۔حضرت سعد کہتے ہیں ،اس دن مجھ سے زیادہ عتبہ کے قتل کا کوئی حریص نہ تھا لیکن وہ میرے ہاتھ نہ آیا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ ارشاد میری تحریک کے لیے کافی تھا،اس شخص پر اﷲ کا غضب ٹوٹے گا جس نے اس کے رسول ﷺ کا چہرہ خون آلود کر دیا۔ عتبہ اسی سال جہنم رسید ہوا، آپ ﷺ کی بددعا کے مطابق اسے ایمان نصیب نہ ہوا۔حضرت سعدکہتے ہیں، میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دائیں بائیں سفید کپڑوں میں ملبوس دو شخص سخت جنگ میں مصروف دیکھے ۔ کچھ دیر پہلے وہ وہاں نہ تھے اور بعد میں بھی نظر نہ آئے۔(بخاری:۴۰۵۴)یہ جبرئیل اور میکائیل تھے۔(مسلم:۶۰۷۰)حضرت سعد مزید کہتے ہیں ،میں نے اور عبداﷲ بن جحش نے یوم احد کو جو دعائیں مانگی تھیں ،قبول ہوئیں۔میں نے اﷲ سے التجا کی تھی ، مشرکوں کا کوئی سورما میرے ہاتھوں مرے اور ایسا ہی ہوا۔ ابوسعد بن ابو طلحہ انھی کے ہاتھوں جہنم واصل ہوا۔
حضرت سعد بتاتے ہیں،ہم نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں حصہ لیا تو کھانے کو کچھ نہ تھا ۔ صرف جھاڑ اورببول کے پتے تھے جو ہم اونٹ بکریوں کی طرح کھا لیتے۔ ہم میں سے ہر کوئی حاجت بھی بکریوں کی مینگنیوں کی طرح کرتا۔ (بخاری : ۳۷۲۸،مسلم: ۷۵۴۳) عتبہ بن غزوان کی روایت ہے، ہم سات آدمی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمیں درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کوکچھ نہ ملاجن سے ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔ کوئی کپڑا نہ ملا تو میں اور حضرت سعد بن ابی وقاص نے ایک چادر لے کر پھاڑی اور آدھی آدھی لپیٹ لی۔ اب ہم میں سے ایک ایک بڑے شہر کاگورنر بنا ہوا ہے اور اﷲ کی پناہ! میں بھی اپنے جی میں بڑا اور اﷲ کے نزدیک چھوٹا ہو گیا ہوں۔ (مسلم:۷۵۴۵)سیدہ عائشہ کی روایت ہے،مدینہ آمد پر ایک باررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رات بھر سو نہ سکے تو فرمایا،کاش! میرے صحابہ میں سے کوئی بھلا انسان آج رات میری پہرے داری کرتا۔ عائشہ فرماتی ہیں، ہم اسی بے خوابی کی کیفیت میں تھے کہ اسلحہ جھنجھنانے کی آواز سنی۔آپ ﷺنے پوچھا ، کون ہے؟تو جواب ملا ، حضرت سعد ہوںیا رسول اﷲؐ!، آپ ﷺ کی پاسبانی کرنے آیا ہوں۔ آپ ﷺنے حضرت سعد کے لیے دعا فرمائی اور سوگئے حتیٰ کہ ہم نے آپ ﷺکے خراٹوں کی آواز سنی۔ (بخاری: ۲۸۸۵، مسلم :۰ ۶۳۱) ایک بار حضرت سعد کی موجودگی میں(کچھ لوگوں نے مانگا تو) آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان میں مال تقسیم کیا۔آپ ﷺنے ایک مہاجرصحابی (جعیل بن سراقہ) کو چھوڑ دیا جو حضرت سعد کے خیال میں ان سب سے زیادہ نیک اور شریف تھا۔ انھوں نے عرض کیا، یا رسول اﷲؐ! میرے خیال میں یہ مومن ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا،سعد!میں ایک شخص کو دیتا ہوں حالانکہ دوسرا مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس اندیشے کی بنا پر کہ اﷲ اسے دوزخ میں اوندھے منہ نہ گرا دے۔(بخاری:۱۴۷۸،مسلم:۲۹۶)حضرت سعد بن ابی وقاص نے ایک بار مال خمس میں سے ایک تلوارلا کر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو دکھائی اور کہا،یہ مجھے ہبہ کر دیں۔آپ ﷺنے انکار کیااور فرمایا،جہاں سے اٹھائی ہے وہیں رکھ دو۔ (مسلم:۴۵۷۸)آپ ﷺ کا انکار اس لیے تھا کیونکہ خمس عام اہل ایمان کے لیے نہیں ہوتا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص انصار سے بہت محبت رکھتے تھے۔یہ بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل تھی۔ان کے بیٹے عامر نے کہا، ابا جان! میں نے دیکھا ہے کہ آپ انصار سے ایسا بھلا سلوک کرتے ہیں جو کسی دوسرے سے نہیں کرتے تو انھوں نے پوچھا ،بیٹے!کیا یہ بات تمہیں کھٹکتی ہے۔عامر نے کہا، نہیں، میں تو آپ کے طرز عمل سے خوش ہوتا ہوں۔تب حضرت سعد نے یہ ارشاد نبویؐ سنایا، انصار سے محبت مومن ہی کرتا ہے اور ان سے بغض ایک منافق ہی رکھ سکتا ہے۔(بخاری:۳۷۸۳،مسلم:۱۴۹)حضرت سعد کی زندگی میں ایک واقعہ ایسا بھی گزرا ہے جب انھوں نے اس کے خلاف طرزعمل اختیار کیا،تب شراب کی حرمت کا حکم نازل نہ ہوا تھا۔ حضرت سعد انصار و مہاجرین کے ایک گروہ کے ساتھ بادہ خواری کے لیے کھجوروں کے ایک باغ میں گئے۔ اونٹ کی بھنی ہوئی سری بھی وہاں پڑی تھی۔حضرت سعد کہتے ہیں،میں نے ان کے ساتھ کھایا پیا ۔انصار و مہاجرین کا ذکر ہوا تو میں نے کہا، مہاجرین انصار سے بہتر ہیں۔ ایک شخص نے اونٹ کا جبڑا اٹھا کر مجھے دے مارا تو میرا ناک زخمی ہو گیا۔میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کوجا کر یہ واقعہ سنایاتو اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی،’’ یایہاالذین اٰمنواانما الخمروالمیسروالانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون‘‘،اے اہل ایمان! بلا شبہ شراب، جوا ، بت اور پانسے یہ سب شیطان کے ناپاک اعمال ہیں،ان سے بچتے رہو تاکہ نجات پاؤ۔(سورۂ مائدہ:۹۰) (مسلم:۶۳۱۷)حضرت سعد کہتے ہیں، سورۂ انعام کی آیت ۵۲،’’ولاتطرد الذین یدعون ربہم بالغدوٰۃ والعشی یریدون وجہہ،اے نبی! ان لوگوں کو اپنے سے دور نہ ہٹائیں جو اپنے رب کی خوشنودی چاہنے کے لیے صبح و شام اسے پکارتے ہیں۔‘‘ ہم چھ کے بارے میں نازل ہوئی،مشرک نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے مطالبہ کرتے تھے کہ ہمیں اپنے پاس نہ بیٹھنے دیں ۔انھوں نے ان میں سے تین کے نام نہیں بتائے ،باقی تین یہ تھے،سعد،عبداﷲ بن مسعود اور بلال۔ (مسلم:۶۳۲۰)
صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت علی نے معاہدہ کی تحریر لکھی۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس پر جن مسلمانوں کی گواہی ثبت کرائی ، حضرت سعد بن ابی وقاص ان میں سے ایک تھے ۔ان کے علاوہ حضرات ابوبکر،عمر،علی اور عبدالرحمان بن عوف نے دستخط کیے۔فتح مکہ کے موقع پر حضرت سعدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقرر کردہ ۳ پرچم برداروں میں سے ایک تھے۔ان کے پاس مہاجرین کا علم پرچم تھا۔ابوسفیان پر ان کا گزر ہواتو یوں قدح کی،آج (مشرکین)کی حرمتیں پامال ہوں گی۔ابوسفیان نے نبی صلی اﷲ علیہ سلم کو شکایت کی تو آپ ﷺ نے پرچم ان سے لے کر زبیر بن عوام کو دے دیا۔حضرت سعد کے بھائی عتبہ بن وقاص نے ان کو وصیت کر رکھی تھی ،زمعہ کی باندی کا بیٹا تم لے لینا کیونکہ وہ میری اولاد ہے ۔مکہ فتح ہوا تو حضرت سعد اس بچے کو پکڑ کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، عبد بن زمعہ بھی ساتھ تھا۔حضرت سعد نے کہا، یہ میرا بھتیجا ہے ،عبد نے اصرار کیا ، یہ میرا بھائی ہے کیونکہ میرے باپ زمعہ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آپ ﷺنے بچے کو بغور دیکھا،وہ عتبہ سے گہری مشابہت رکھتا تھا پھر بھی فرمایا،عبد بن زمعہ یہ تیرے پاس رہے گا کیونکہ اس نے تیرے باپ کے بستر پر جنم لیا ہے۔ آپ ﷺنے یہ اصول بھی ارشاد کیا،الولد للفراش وللعاہرالحجر،بچہ اسی کا ہو گا جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کو پتھر پڑیں گے۔آپ ﷺ نے ام المومنین سودہ بنت زمعہ کو اس کے سامنے جانے سے روک دیا کیونکہ وہ بچے کی عتبہ سے مشابہت دیکھ کر جان سکتی تھیں کہ وہ ان کا بھائی نہیں ۔ (بخاری:۲۰۵۳،۲۵۳۳)
حجۃ الوداع کے موقع پرحضرت سعد بن ابی وقاص شدید بیمار ہو گئے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم انھیں مکہ چھوڑ کرحنین روانہ ہوئے پھرجعرانہ سے عمرہ اداکرنے کے بعدان کی عیادت کے لیے تشریف لائے ۔حضرت سعددرد سے مغلوب ہو رہے تھے،انھوں نے پوچھا ، یارسول اﷲ! میں صاحب ثروت ہوں اور (اس وقت) ایک بیٹی کے علاوہ میرا کوئی وارث نہیں، کیا اپنے مال کا دو تہائی(۳؍۲) حصہ انفاق کر دوں؟آپ ﷺ نے فرمایا، نہیں ۔انھوں نے نصف(۲؍۱)کی اجازت مانگی تو بھی آپ ﷺنے نفی میں جواب دیا۔ پھر پوچھا تو کیا ایک تہائی(۳؍۱) دے ڈالوں؟آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں! ایک تہائی بہت ہے۔تم اپنے وارثوں کے لیے مال و دولت چھوڑ کر مرو،یہ اس سے بہترہے کہ ان کو محتاج چھوڑ جاؤ اوروہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ اﷲ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے تم جو انفاق بھی کروگے ،اس کا اجر پاؤ گے حتیٰ کہ اپنی اہلیہ کے منہ میں لقمہ ڈالو گے (تو وہ بھی کار ثواب ہو گا)۔(بخاری:۱۲۹۵،مسلم :۴۲۱۸)

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo