#hamidnaved پہلے وقتوں کی بات کریں تو یقینا” لیک…

[ad_1] #hamidnaved

پہلے وقتوں کی بات کریں تو یقینا” لیکن آجکل بھی آپ کو ایسی بہت سی دکانیں نظر آجائیں گی جو محلے کے کسی گھر کے ایک کونے میں بنی ہوتی ہیں- کوئی عمر رسیدہ شخص اس دکان کو “رن” کر رہا ہوتا ھے- دکان کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات گاہکوں کے خیال سے نہیں بلکہ دوکاندار کے اپنے معمولات کے مطابق ہوتے ہیں- اب نماز کا وقت ہے تو دکان بند ہے- آج گرمی اور لو کچھ کم ہے تو دکان کھلی ہے- یہ دکانیں خالصتا” کسی کاروبار کی نیت سے نہیں کھولی جاتیں البتہ مصروف رکھنے کے ساتھ ساتھ گھر میں کچھ مالی معاونت کا سبب ہوتی ہیں- یہ دوکانیں ہمارے بچپن کی یادوں میں خاصی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ بچپن میں ٹافی، چاکلیٹ، بسکٹ اور نان خطائی وغیرہ خریدنے اور اس کے علاوہ گھر کی دیگر ضروریات کے لئے دن میں نہ جانے کتنی بار دکان کا چکر لگا کرتا تھا- بس گھر کے دروازے سے منھ نکال کر جھانکا اور پتہ چل گیا کہ اس وقت دکان کھلی ہے یا بند- آج یہاں کینیڈا میں جب میں ان دوکانوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے دل میں ان دکانداروں کے لئے انتہائی احترام ہوتا ہے جو اپنی سفید پوشی کو حتیٰ الامکان برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں- ورنہ گھر میں بیٹھ کر ہر وقت بلا جواز گھر کے مکینوں پر تنقید اور اعتراض کرتے ہوئے بھی دن گزارا جاسکتا ہے-
جیسا کہ میں نے اس کتاب کے کسی باب میں ذکر کیا ہے کہ ہم روز دوپہر اسکول سے آکر چچی کے گھر ان سے ناظرہ قرآن پڑھنے جایا کرتے تھے- ان کے محلے میں بھی اسی قسم کی ایک دوکان تھی جس طرح کی دوکان کا میں نے ابھی تذکرہ کیا ہے-میری دلچسپی ٹافی اور بسکٹ میں تو ہوا ہی کرتی تھی لیکن ان سب سے ذیادہ دلچسپی ایک آنے والی لاٹری پر ہوا کرتی- یہ ایک آنے والی
لاٹری کیا تھی- گتّے کے ایک بڑے سے بورڈ پر مختلف کھلونے اور دیگر تحائف آویزاں ہوتے اور ہر شے کے نیچے ایک نمبر لکھا ہوتا- آپ کے ایک آنے کی لاٹری خریدنے پر دوکاندار آپکو ڈبّے میں سے ایک کاغذ کی بند تھیلی اٹھانے کا اختیار دیتا جن میں دو چار چھوٹے چھوٹے بسکٹ ہوتے- اگر ان بسکٹ کے ساتھ کاغذ کی پرچی نکل آئے تو اس پر لکھے نمبر والا انعام آپ کو مل جاتا- میں اکثر اپنا جیب خرچ (ایک آنہ) لاٹری پر اس امید پر خرچ کرتا کہ شاید آج کوئی انعام نکل آئے لیکن صرف یہ پھیکے پھیکے بسکٹ ہی نکلتے ، نمبر کوئی نہ نکلتا-ایک مرتبہ بسکٹ کے ساتھ ایک گلابی کاغذ کی پرچی بھی نکلی جس پر ایک نمبر لکھا تھا- دل میں خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی- دھڑکتے دل سے نمبر پڑھا اور گتّے پر لکھے نمبر سے ملا کر انعام حاصل کر لیا- یہ انعام کچھ ذیادہ قیمتی نہ تھا اور مجھے پسند بھی نہ آیا – میں یہاں یہ بتانا بھول گیا کہ ان سارے انعامات میں سے ایک انعام انتہائی قیمتی بھی ہوا کرتا تھا جسے آپ ” جیک پوٹ ” بھی کہہ سکتے ہیں – میری نظر اس انعام پر رہتی- کتنی ہی بار اس امید پر لاٹری خریدتا کہ شاید اس بار اس بڑے انعام کی پرچی نکل آئے لیکن —- مجھے کسی نے بتایا کہ یہ انعام صرف لالچ دینے کیلئے لٹکایا ہوا ہوتا ہے ورنہ اس کا نمبر لاٹری کی پرچیوں میں شامل نہیں ہوتا- بس اب آپ اسے میرے بچپن کی شرارت کہہ لیجیئے یا بے ایمانی- ایک خیال ذہن میں آیا اور اگلے ہی دن اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا- وہ کس طرح کہ اس بڑے انعام کا نمبر اپنے گھر سے اسی طرح کے گلابی کاغذ کی پرچی پر لکھا اور جیب میں چھپا کر رکھ لیا- دوکاندار کو پیسے دیکر جب لاٹری خریدی تو چپکے سے جیب سے پرچی نکالی اور دوکاندار کو دکھاتے ہوئے کہا کہ میرا انعام نکل آیا- دوکاندار نے نمبر دیکھا اور وہ قیمتی انعام میرے حوالے کر دیا- خوشی کی انتہاہ نہ تھی- اس بات کا مطلق احساس نہ تھا کہ میں نے ایک غلط کام کیا ہے- بجائے احساس ندامت کے احساس تفاخر تھا کہ کس طرح میں نے اپنی عقلمندی سے یہ سب کچھ کیا
کتنی بار میں نے یہ حرکت کی مجھے یاد نہیں-دوکاندار بھی مجھ سے خوش ہوکر کہتے ” بیٹا! آج پھر- آپ تو ماشاءاللہ بڑے قسمت والے ہو” – پھر کچھ عرصے بعد اس دوکاندار نے لاٹری رکھنا ہی چھوڑدی- کیوں چھوڑ دی؟ شاید “بیلنس شیٹ” سے ان کو اندازہ ہوا ہوگا کہ اس لاٹری میں ان کو منافع نہیں- آپ سوچ رہے ہونگے کہ ان کو میرے اوپر شک کیوں نہیں ہوتا تھا- اس کی دو وجوھات تھیں -ایک تو عام سی وجہ تھی وہ یہ کہ اس زمانے میں لوگ سیدھے سادھے ہوا کرتے تھے اور وہ یہ گمان بھی نہ کرتے تھے کہ کوئی ایسی بے ایمانی کرے گا- دوسری وجہ جو خاص تھی وہ یہ کہ ایک بچہ جس کے سر پر ٹوپی اور ہاتھ میں سپارہ ہو بھلا وہ بے ایمان ہوسکتا ہے- دوکاندار تو بیچارہ مجھے لاٹری کھولتے ہوئے بھی نہ دیکھتا تھا-
ٹوپی اور سپارے سے میں نے اپنی بے ایمانی کو جس طرح سے “کیموفلاج” کیا -وہ کچھ میرا بچپن تھا اور کچھ اس دور کے لوگوں کی سادگی- لیکن کیا کیجیئے،
آج سارا معاشرہ ہی سر پر ٹوپی پہنے اور ہاتھ میں سپارہ لئے کھڑا ہے- مجھے پتہ ہے کہ نصف صدی پہلے والا بوڑھا دکاندار آج ڈھونڈنا بھی چاہوں تو نہیں ملے گا-کیاوہ جرم جو میں نے اس کے ساتھ کیا اس کا کفارہ صرف اس کی مغفرت کی دعا سے ادا ھوسکتا ھے؟

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo